بلوچستان اور زرد صحافت

اتوار 23 نومبر, 2014

بلوچستان میں جاری بد امنی اور ریاستی دہشگردی کا تقابل اگر کشمیر ، فلسطین ، جنوبی سوڈان وغیرہ سے کیا جائے تو بلوچستان کو کسی طور مذکورہ علاقوں سے زیادہ پر امن نہیں کہا جاسکے گا ، گذشتہ چھ دہائیوں سے بالعموم اور گذشتہ دس سالوں سے بالخصوص بلوچستان میں جس طرح سے ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم رکھا گیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی ، پاکستانی خفیہ ادارے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ سیاسی کارکنان اغواء کرکے لاپتہ کرچکے ہیں جن میں سے سینکڑوں کی مسخ شدہ لاشیں مختلف علاقوں میں انتہائی تشدد زدہ حالت میں سامنے آتی رہی ہیں ، جن میں سے 169 لاشیں صرف خضدار کے علاقے توتک سے ایک اجتماعی قبر سے برآمد ہوئیں یہ بھی واحد علاقہ نہیں جہاں سے اجتماعی قبر برآمد ہوا ہے بلکہ خضدار کے ہی علاقے فیروز آباد اور باڈڑ ی میں اسی طرز کے اجتماعی قبروں کی خبریں گردش کررہی ہیں لیکن پاکستانی خفیہ ادارے ان علاقوں کو عام لوگوں کیلئے ’’ نو گو ایریا ‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ اسکے علاوہ خفیہ اداروں کے سر پرستی میں کام کرنے والے جرائم پیشہ افراد اور مذہبی شدت پسندوں کے جتھے جنہیں پاکستان فخریہ انداز میں ڈیتھ اسکواڈ کہتا آیا ہے مکمل چھوٹ کے ساتھ اسلحہ کی نمائش کرتے ہوئے بلوچستان میں ہر جگہ آزادی کے ساتھ فوج کے سرپرستی میں گھومتے ہیں اور نہ صرف کئی بلوچ آزادی پسند سیکولر سیاسی کارکنان کو دن دیہاڑے شہید کرچکے ہیں بلکہ ان سیاسی کارکنان کے اہلخانہ حتیٰ کے خواتین کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ پاکستانی جیٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی بلوچ سول آبادیوں پر بمباری ، فوجی دستوں کی مدد سے بلوچ علاقوں پر چڑھائی ، لوٹ مار ، بلوچوں کے گھروں کو جلانا اب روز کا معمول بن گیا ہے ۔ صرف گذشتہ دس ماہ کے دوران پاکستان فوج گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ڈیرہ بگٹی ، سوئی ، نصیر آباد، صحبت پور ، کاہان ، بارکھان ، کوہستان ،نیو کاہان ، کوئٹہ شہر ، مستونگ ، جوہان ، اسپلنجی ، قابو ، نوشکی ، خاران ، قلات ، دشت گوران ، پنجگور ، پروم ، مشکے ، آواران ، جھاو ، شاپک ، سامی ، کلگ ، ہیرونک ، پیدارک ، تمپ ، گومازی اور پسنی سمیت کوئی اور علاقوں پر بڑے پیمانے کی فوجی آپریشن کرچکا ہے جن میں سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ لاپتہ اور درجنوں شہید کیئے جاچکے ہیں، لیکن اسکے باوجودبلوچستان کا مسئلہ عالمی و علاقائی طور پر کماحقہ توجہ حاصل نہ کرسکی خاص طور پر جس طرح کی توجہ فلسطین ، کشمیر وغیرہ جیسے مسئلے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں ’’ میڈیا بلیک آوٹ ‘‘ ہے۔
علاقائی سطح پر جتنے بھی بلوچ اخبارات، رسائل و جرائد ہیں خاص طور پر وہ جو بلوچستان کے حالات کو من و عن پیش کرتے ہیں انہیں بے انتہاء مسائل کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ خفیہ اداروں کی دھمکیاں اور ان اخباروں پر حملے ہیں ، ان مصائب کی وجہ سے یا تو زیادہ تر اخبارات بند ہوچکے ہیں یا پھر اپنا پالیسی بدل کر بلوچستان کے حالات سے چشم پوشی برت رہے ہیں ، ان حالات میں صرف ایک اخبار روزنامہ توار بلوچستان کے حالات کو صحیح معنوں میں پیش کررہا ہے اسے بھی پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے سخت مشکلات کا سامنا ہے ، اس کے دفاتر دو سے زائد مرتبہ جلائے جاچکے ہیں اور مذکورہ اخبار سے منسلک چھ صحافی پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں ۔آن لائن بلوچ اخبار جن میں قابل ذکر بلوچ ورنا ہے کو پی ٹی اے نے پاکستان میں بلاک کیا ہوا ہے ۔اسی بابت اگر پاکستانی میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو وہ بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے زرد صحافت کی اعلیٰ مثال قائم کررہے ہیں ۔ پاکستان کے تمام میڈیا ہاوسز بلوچستان میں ہونے والے بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں اور قتل عام کو مکمل نظر انداز کررہے ہیں اور اس پر بھی مستزادیہ وہ خفیہ اداروں کے دباو میں آکر بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی بڑے واقعے جیسے کے اجتماعی قبروں کے دریافت کو صحافتی بددیانتی کا شکار بناتے ہوئے اس کی اہمیت کم کرنے اور حالات و واقعات کو مسخ کرکے پیش کرتے ہوئے پاکستانی آرمی کے انسانیت سوز کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کا بھی کام کررہے ہیں ۔ حتی ٰ کے بلوچستان سے شائع ہونے والے کئی اخبارات جو مذہبی شدت پسند گروہوں کے بیانات اور موقف کو سرخیوں میں پیش کررہے ہوتے ہیں ، کسی بھی قوم پرست سیکولر بلوچ جماعت کے بیانات اور موقف یکسر چھاپنے سے اجتناب کرتے ہیں ۔ پاکستانی میڈیا کے اسی زرد صحافت کے خلاف بلوچ آزادی پسند قوتیں کئی بار احتجاج کرچکے ہیں لیکن ظاہری اسباب منکشف کررہے ہیں کہ ان میڈیا ہاوسز کو صحافت جیسے مقدس پیشے کے اصولوں سے کئی گنا زیادہ منافع ، اشتہارات اور ریٹنگ عزیز ہے ، جو یقیناًغیر جانبدار صحافت کی توہین کے زمرے میں آتا ہے ۔ جہاں تک سوال ہے عالمی میڈیا کا وہ کسی بھی خبر یا کہانی کیلئے ہمیشہ علاقائی میڈیا پر انحصار کرتا ہے اور علاقائی میڈیا کے بد دیانتی کی وجہ سے عالمی میڈیا بھی بلوچستان کے اندرونی حالات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرتا ہے اور جتنی تھوڑی بہت معلومات ان تک پہنچتی ہے اسکا بھی سب سے بڑا ذریعہ بلوچ تارکین وطن اور سوشل میڈیا ہوتا ہے جو یقیناًناکافی ہے ، اسکے علاوہ پاکستانی حکومت اور خفیہ ادروں نے کسی بھی عالمی میڈیا ہاوس یا کسی غیر ملکی صحافی کیلئے بلوچستان میں داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی لگایا ہوا ہے ۔
ایک طرف پاکستانی میڈیا کی زرد صحافت ، دوسری جانب عالمی میڈیا پر پابندی اور ساتھ میں بلوچ میڈیا کو ریاستی اداروں کی جانب سے نشانہ بنانے کی وجہ سے بلوچستان میں جاری بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور ریاستی دہشتگردی دنیا کے سامنے نہیں آرہی اور پاکستانی اسی امر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بلوچ نسل کش پالیسوں میں روز بروز شدت لاتی جارہی ہے ۔ اب وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور صحافیوں کی عالمی تنظمیں پاکستانی میڈیا کی زرد صحافت اور بلوچستان کو غیر ملکی صحافیوں کیلئے نو گو ایریا بنانے کے خلاف آواز بلند کریں اور عملی اقدامات اٹھائیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0