بلوچستان بھر میں پاکستانی جارحیت تیزی سے جاری ہے۔بی آر ایس او

ہفتہ 12 ستمبر, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان حمدان بلوچ نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی مظالم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے کوئٹہ ، مستونگ،پنجگور، آواران، ڈیرہ بگٹی سمیت پورے بلوچستان میں پاکستانی جارحیت تیزی سے جاری ہے جس میں بڑی تعداد میں گزشتہ دنوں بلوچ فرزندوں کو اغواء بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے جبکہ ریاستی خفیہ داروں کا بگٹی مہاجرین پر حملے بدستور جاری ہیں گزشتہ دنوں ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے افغانستان کے علاقے اسپین بولدک میں بگٹی مہاجرین کے کیمپ پر حملہ کرتے ہوئے بلوچ ری پبلکن پارٹی سوئٹزرلینڈ چیپٹر کے صدر شیر باز بگٹی کے چچا زاد بھائی پائند خان بگٹی کو شہید کر دیا جبکہ حملے میں عورتیں اور بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔اس سے پہلے بھی پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکار سندھ اور افغانستان میں بگٹی مہاجرین پر حملے کرتے رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اور اسکے خفیہ ادارے لفظِ بلوچ سے شدید نفرت کرتے ہیں اسی لیے ان بے گھر بگٹی بلوچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا جو پاکستان سے باہر بیٹھتے ہوئے پنا گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نواب اکبر خان کی شہادت کے بعد ڈیرہ بگٹی میں انکے ہم فکر و ہم خیالوں کا رہنا ما ممکن بنا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے سندھ اور افغانستان کا رخ کیا لیکن ریاستی اہلکار وہاں بھی انکا پیچھاکرتے ہوئے پہنچ چکے ہیں ۔حمدان بلوچ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے اداروں کو بلوچستان کے حالات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے شام، فلسطین، عراق اور باقی ممالک کی طرح بلوچستان بھی ایک جنگ ذدہ مقبوضہ ملک ہے جہاں پاکستان کے جنگی جرائم کی داستان بہت پرانی اور طویل ہے جو بین القوام میڈیا،بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کی نظروں سے اوجھل رہا ہے ۔حمدان بلوچ نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے تمام اداروں سمیت بین القوامی میڈیا سے درخواست کر تے ہوئے کہا کہ وہ اپنا انسانی فریضہ انجام دیتے ہوئے بلوچ قوم کو اس طویل ظلم و جبر سے نجات دلانے کے لیے اپنا موثر عملی کر دار ادا کرتے ہوئے انسانیت کو بچانے میں ہمارہ ساتھ دیں وگرنہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی انتہاء پسندی پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0