بلوچستان بھر میں 20اور 21جولائی کوپہیہ جام شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگئی،بی این ایف

اتوار 19 جولائی, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے آواران میں پچھلے دو دنوں سے جاری خونی آپریشن اور اس کے نتیجے میں ہونے والی درجنوں نہتے شہریوں کی شہادت و زخمی کرنے کے خلاف 20 اور 21 جولائی بروز پیر و منگل دو روزہ پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا کہ قابض فورسز بلوچ آبادیوں پر وحشیانہ طاقت کے مظاہرے میں مصروف ہیں۔ پچھلے دو دنوں سے قابض فورسز کے جنگی جہاز، ہیلی کاپٹرز اور زمینی دستے آواران و کولواہ کے مختلف علاقوں میں کئی دیہاتوں کو ملیامیٹ کرکے درجنوں لوگوں کو شہید کر چکے ہیں۔ جبکہ مذکورہ علاقے تاحال فورسز کے گھیرے میں ہیں۔ راستوں کی ناکہ بندی اور لوگوں کی متاثرہ علاقوں میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود زخمی خواتین و بچوں اور بزرگوں تک رسائی ممکن نہیں ہو پارہی ہے۔ ریاستی فورسز آپریشن کے سلسلے میں وسعت لاتے ہوئے مختلف علاقوں تک پھیلا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والے چینی معاہدوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے ریاستی فورسز وحشیانہ جنگی طاقت کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہا پسند گروہوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ آواران میں جاری آپریشن میں مذہبی گروہوں کے کارندے فورسز کے ساتھ مل کر بلوچ عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔بلوچستان بھر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور شہری آبادیوں پر اندھا دھند بمباری کے باوجود عالمی میڈیا و انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں کی خاموشی ایک مجرمانہ فعل ہے۔ ان اداروں کی خاموشی ریاستی جرائم میں روز بہ روز شدت لانے کا سبب بن رہے ہیں۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ ریاستی جرائم اور بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں کے خلاف 20اور21 جولائی بروز پیر و منگل بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپریشن کا سلسلہ جاری کرکے فورسز نے بلوچ عوام کی نسل کشی کا سلسلہ برقرار رکھا تو ہڑتال میں مزید شدت لاکر غیر معینہ مدت تک کے لئے جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بلوچ عوام، تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کے دوران اپنی سرگرمیاں بند رکھ کر ریاستی دہشتگردی کے خلاف اپنی نفر ت کا اظہا رکریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0