بلوچستان میں ایرانی فوج کو کاروائی کی اجازت

اتوار 21 دسمبر, 2014

تہران(ہمگام نیوز) حال ہی میں ایران اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت اسلام آباد نے تہران کو بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیئے بلوچستان کی سرزمین میں داخل ہونے اور انہیں قتل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

 یہ دعویٰ ایران کی جوڈیشل اتھارٹی کی ویب سائیٹ ’’میزان‘‘ پر شائع ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ایرانی قومی سلامتی وخارجہ کمیٹی کے رُکن محمد حسن اصفری کا ایک بیان بھی شامل ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ علحیدگی پسند بلوچ عسکریت پسند ایران میں کارروائی کرکے مشرقی بلوچستان کی حدود میں فرار ہو جاتے ہیں۔ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سیکیورٹی تعاون کا ایک نیا سمجھوتہ طے پایا ہے جس میں ایران کو بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے بلوچستان کی سر زمین میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ  ایران کے صوبہ مقبوضہ سیستان بلوچستان میں سنی عوام کے حقوق کے لیے کئی عسکری گروپ سرگرم ہیں۔ ان میں جنداللہ، جیش العدل اور جیش النصر جیسے گروپ خاص طور پر شامل ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ گروپ ایرانی بارڈر سیکیورٹی فورسز اور پاسداران انقلاب پر حملوں میں ملوث ہیں،

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0