بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایساارادہ ہے ، حیربیار مری

جمعہ 19 ستمبر, 2014

لندن، ہمگام نیوز ۔۔ بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے کہا کہ بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں   ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘” انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیا گیا اور نہ ٹارچر کیا گیا لیکن بلوچستان میں تو جو آزادی کا صرف نام لیتے ہیں ان سے تو اس دنیا میں رہنے کا حق بھی چین لیا جاتا ہے۔‘

حیر بیار مری کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ اور بلوچستان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام صدیوں سے اپنی مرضی سے برطانوی یونین کا حصّہ ہیں اور اب اگر آزادی مانگ رہے تھے تو انہیں ان کا جمہوری حق دیا گیا لیکن بلوچستان کے عوام تو1947 سے پاکستان کے ساتھ نہ تو رہنے کے حق میں تھے اور نہ اب ہیں، تو ہم ریفرینڈم کا مطالبہ کیوں کریں؟
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان پر قبضہ ختم کیا جائے اور پھر اس کے بعد بلوچ عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
تو کیا بلوچ عوام سرداروں اور نوابوں کے ماتحت زندگی گزارنا پسند کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں حیربیار مری کا کہنا تھاکہ بلوچ عوام کا ماضی میں استحصال ضرور ہوا ہے لیکن ان کے پیش کیےگئے بلوچستان لبریشن چارٹر کے تحت سردار اگر بلوچستان نیشنل اسمبلی کا ممبر بننا چاہے گا تو اسے سرداری سے مستعفیٰ ہونا پڑے گا، آزاد بلوچستان میں سردار ہو یا کہ عام بلوچ وہ ایک ہی ووٹ استعمال کر کے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں گے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0