بلوچستان کی آزادی خطے کی امن کے لئے ناگزیر تحریر: صوبدار بلوچ


پاکستان تیس لاکھ بنگالیوں کا سرقلم کررہی تھی. عورتوں ، بچیوں کی عصمت دریاں کررہی تھی ، گھروں کو اجاڑ رہی تھی، پیر و جوان مرد و زن کو بلا تفریق قتل کروا رہی تھی، مزہب کے لبادے میں الشمس اور البدر جیسے بدنام زمانہ ڈیتھ سکواڈز کی پشت پناہی کررہی تھی جنہوں نے چن چن کر بنگالی قوم کے پڑھے لکھے اور شعوری لوگوں کو کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے نکال کر ایک ایک کرکے قتل کردیا تب بھی پاکستان یہ نعرہ لگارہا تھا کہ بنگالی خوش ہیں، بنگلادیش پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، بنگالی قوم آزادی کو قائم نہیں رکھ سکتے، کالے رنگت اور چھوٹے قد کے بنگالی نالائق ہیں، ان کو فوج میں، بیورکریسی میں اور دیگر شعبوں میں ملازمت پر نہیں رکھا جاسکتا لیکن پھر بنگالیوں نے اپنی مصمم ارادوں، اپنی قومی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیس لاکھ لوگوں کی قربانی دے کر دیگر کروڑوں بنگالیوں کو اس پاکستانی بدترین غلامی سے نجات دی۔
ان چھوٹے قد والے، کالے اور نظر انداز بنگالی قوم نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ آزادی اگر خون مانگتا ہے تو بنگالی قوم کے پاس خون کی کوئی کمی نہیں ہیں۔

گذشتہ ستر سالوں سے پاکستانی فوج اور ان کی مقتدرہ قوتیں بلوچ قوم پر اپنی دہشت گردی کا بازار گرم کی ہوئی ہے، پاکستان کا لب و لہجہ، طریقہ واردات مختلف نہیں ہاں بنگالی کے خلاف استعمال ہونے والے اسلحہ کو پاکستان نے اپ گریڈ یعنی جدید ضرور بنایا ہے۔

آج بلوچوں کو بڑے ہتھیاروں سے مار رہی ہے، ان ہتھیاروں میں نفسیاتی ہتھیار، لالچ، ڈر اور تقسیم کرو حکومت کرو کی پالیسی شدت سے جاری ہے۔

پاکستان کے پاس ظلم کے علاوہ اور کچھ ہے بھی نہیں اور بلوچ قوم اپنی محدود وسائل کی موجودگی سے اس ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا ہمت و حوصلہ سے مقابلہ کررہی ہے۔

خوش آہند بات یہ ہے کہ آج بلوچ قوم اکیلا نہیں ہے، پشتون اور سندھی اقوام بھی اپنی غلامی کے خلاف اور اپنی گلزمین کی آزادی کے لئے میدان میں اترے ہیں۔

پاکستانی فوج اور پنجابی مقتدر قوتیں آج نہ صرف بلوچ، پشتون اور سندھی اقوام کے خون کا مقروض ہیں بلکہ پورے خطے میں پیھلائی گئی دہشت گردی کا بھی سرغنہ کی حیثیت سے عالمی امن اور ہمسایوں کے لئے درد سر بن چکی ہے۔

آج دنیا امن چاہتی ہیں ، دیرپا ترقی چاہتی ہے اور محفوظ مستقبل کا خواہاں ہے اور یہ سب پاکستان کے ہوتے ہوئے گذشتہ ستر سالوں کے دوران حاصل نہ ہوسکا ۔ اب عالمی برادری اور خطے میں بلوچستان کے ہمسایہ ممالک کو اچھی طرح سے معلوم ہوگیا ہیں کہ پاکستان جیسے ناسور سے چٹکارا پانے کے لئے آزاد بلوچستان ، آزاد پشتونستان اور آزاد سندھو دیش کا قیام ناگزیر ہے۔

اب یہ بلوچ، سندھی اور پشتون اقوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنی بکھری ہوئی قومی طاقت کو کس طرح یکجا کرنے میں کامیاب ہونگے۔ دنیا پاکستان سے نہ صرف مایوس ہے بلکہ نالاں ہے اور پاکستان سے ان کی دہشت گردی کا حساب و کتاب لینے کا بھی فیصلہ کرچکی ہے۔

پاکستان اور ایران خطے میں اپنی اجارہ داری اور ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کے طور پر استعمال کررہے ہیں، وہ بڑی چالاکی سے بلوچ و پشتون اقوام کو مذہب ، اور فرقوں اور کلاسوں میں تقسیم کرکے آزادی کے مطالبہ اور قومی تحریک کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ ایک کمزور پاکستان ایک منتشر ایران کے مترادف ہے اور ایک بکھرا ایران ناکام پاکستان ثابت ہوگا۔

پاکستان اس وقت بلوچستان، سندھو دیش اور پشتونستان پر بزور بازو قابض ہیں، اور اگر یہ مذکورہ محکوم اقوام اپنی سرزمین کی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے توایران اس قابل نہیں رئیگا کہ اپنے دشمنوں (بلوچ آزادی پسندوں) کو پاکستان کے ہاتھوں مروانے میں مدد کرسکے۔ لہذا پاکستان اور ایران ہرگز نہیں چاہیں گے کہ بلوچ تحریک آزادی توانا اور مضبوط ہو۔

بلوچ قوم نے اپنی سرزمین کے لئے کئی دہائیوں سے قربانیاں دی ہیں اور قربانیوں کا یہ لازوال سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے، بلوچ تحریک کے مخلص قیادت اپنی تحریک آزادی کو ہائی جیک کرنے اور ایران و پاکستان کی گٹھ جوڑ سے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے، بلوچ عظیم شہدا کے لہو کی صحیح ترجمانی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہم مل کر ایران اور پاکستان کی ناپاک عزائم (بلوچ قوم کو تقسیم و تحریک کو کمزور کرنے) والوں کو خاک میں نہ ملائیں۔

بلوچ تحریک آزادی پر پوری دنیا کی نظریں ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی ذاتی ، گروہی مفادات پس پشت ڈال کر یکجا ہوکر قومی طاقت اور زندہ قوم کی شکل میں چین، پاکستان اور ایران کی معاشی، فوجی اور سفارتی جارحیت کا مل کر مقابلہ کریں۔