بلوچوں کی تحریک ابھی تک نوخیز ہے:برطانوی رکن پارلیمنٹ جان میکڈونل

جمعہ 8 مئی, 2015

بلوچوں کی تحریک ابھی تک نوخیز ہے ، دنیا میں انکے بہت سے اتحادی موجود ہوسکتے ہیں لیکن ابتک یورپی ممالک تک ان پر گذرنے والے مظالم کی وہ کہانیا ں نہیں پہنچی ہیں جن سے وہ گذر رہے ہیں
برطانوی رکن پارلیمنٹ جان میکڈونل کا ہمگام کو خصوصی انٹرویو
جان میکڈونل 1951 میں پیدا ہوئے ، انہوں نے بریونل یونیورسٹی سے گورنمنٹ اور سیاسیات میں گریجویشن کی ، اسکے بعد انہوں نے اپنی ماسٹرز بربک کالج سے سیاسیات اور سماجیات میں کی ۔جان میکڈونل برطانیہ کے لیبر پارٹی کے رکن ہیں اور 1997 سے سے رکن برطانوی پارلیمنٹ ہیں ۔ وہ ان چند ایک رکن برطانوی پارلیمنٹوں میں سے ایک ہیں جو ہمیشہ سے اپنے اصولوں پر عمل پیرا رہے اور کئی مواقعوں پر اپنے پارٹی قیادت سے بھی اختلافات رکھتے رہے ہیں ۔ جان وہ واحد انگریز رکن پارلیمنٹ تھے جو کھلم کھلا آئرش ریپبلکن آرمی کی مسلح جدوجہد کی حمایت کرتے تھے ۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’’ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان لوگوں کی قدر کریں جنہوں نے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ یہ بوبی سینڈز جیسے لوگوں کی قربانی اور گولیوں و دھماکوں کی آواز ہی تھی جس نے برطانوی حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ مذاکرات کے ٹیبل پر بیٹھے، آج ہمیں جو امن نصیب ہے وہ آئی آر اے کی مرہونِ منت ہے‘‘
ہمگام : مغرب میں زیادہ تر لوگ بلوچستان کے بارے میں نہیں جانتے ہیں ، آپ پہلی بار
بلوچستان اور اسکے سیاسی حالات سے کیسے آشنا ہوئے ؟
جان: مجھے پہلی بار بلوچستان کے بارے میں اس وقت پتہ چلاجب میرے حلقہ انتخاب کے کچھ ووٹرز جو اس بارے میں خدشات رکھتے تھے مجھ سے رابطہ کرکے میری توجہ اس جاری استحصال ، اس میں پاکستان کا کردار اور برطانوی پالیمنٹ میں اسے آشکار کرنے کی ضرورت پر دلانی چاہی کیونکہ اس مسئلے کو برطانوی میڈیا میں بہت کم کوریج حاصل تھی اور لوگوں میں اس بابت آگاہی بھی بہت کم تھی ۔
ہمگام:سنہ 2007 میں آپ برطانوی پارلیمنٹ میں واحد شخص تھے جنہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے پر اپنے پارٹی کیخلاف صدائے احتجاج بلند کی، آپ نے اس عمل کے خلاف کیوں احتجاج کیا اور ایک سیکیولر مزاحمتی تنظیم پر پابندی لگانے کے پیچھے برطانیہ کے کونسے مفادات پوشیدہ ہوسکتے ہیں ؟
جان :میں نے اپنے خدشات کا اظہار اسلئے کیا کیونکہ مجھے لگاپاکستانی حکومت کے کہنے پر ہی برطانوی حکومت ایک ایسے تنظیم پر پابندی لگارہی ہے جو اپنے بنیادی حقوق اور حق آزادی کیلئے لڑ رہی ہے ، مہم چلارہی ہے اور جدوجہد کررہی ہے۔ اسلئے میں نے سوچا کہ یہ کھلی ناانصافی ہے، میں نے یہ اہم محسوس کیا کہ کم از کم اس اقدام کیخلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آواز بلند کی جائے ۔ آج اگر لوگ برطانوی جمہوریت کا احترام کرتے ہیں تواسکی وجہ یہی ہے کہ ہم کسی بھی ایسے شخص و گروہ پر پابندی نہیں لگاتے جو اپنے سماجی آزادی کیلئے جدوجہد کررہا ہوتا ہے۔ اس اقدام کے پیچھے برطانوی حکومت کا واحد مفاد پاکستان کو خوش کرنا تھا ، اسی طرح برطانوی حکومت ایسے کئی تنظیموں کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دیکر ان پر پابندیاں لگاتا آیا ہے جواپنے ملکوں میں اپنے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اسکی وجہ بھی صرف اپنے اتحادیوں کو خوش کرنا ہے ، میرے خیال میں یہ برطانوی حکومت کی سیاسی کوتاہ بینی ہے ۔
ہمگام:بلوچ قومی لیڈر حیربیار مری کو بھی لیبر پارٹی کے دور حکومت میں گرفتار کرکے بند رکھا گیا تھا ، آخر اسکی وجہ کیا ہے کہ لیبر
پارٹی کی حکومت نے پاکستان کے خفیہ اشتراک سے ایک مقبول بلوچ لیڈر کے خلاف یہ قدم اٹھایا ؟
جان:برطانوی حکومت ہمیشہ سے بہت محتاط رہی ہے کہ اسے کبھی دہشتگردوں کی حمایت یا انکے پرورش سے نہیں جوڑا جائے ، اسلئے یہ پاکستان جیسے ملکوں کیلئے آسان بن چکا ہے کہ وہ کسی بھی شخص یا تنظیم کے بابت من گھڑت جھوٹ گڑھ کر برطانوی حکومت کو قائل کریں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث ہے یا انکی جدوجہد تشدد و دہشت آمیز ہے ۔ بنیادی طور پر ایسے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں جن میں برطانوی حکومت نے دوسرے ممالک کے مہیا کیئے گئے جعلی معلومات کے بنیاد پر جلد نتیجہ اخذ کرکے مختلف افراد کے خلاف کاروائی کی ہے جس کے نتیجے میں مختلف لوگوں کو انصاف کے تقاضے پورے کیئے بغیر جیل میں بند کیا گیا ہے جس کے ذمہ دار وہ اتحادی ممالک ہیں جنہوں نے جعلی معلومات مہیا کی ہوتی ہیں۔
ہمگام:برطانوی حکومت نے عراق ، شام سمیت مختلف ممالک میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے لیکن
بلوچستان میں پاکستان کے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر کیوں برطانیہ خاموش نظر آتی ہے ؟
جان:برطانوی حکومت مسلسل انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے میں محتاط اور منتخب رویہ رکھتا آیا ہے ، اور اس محتاط و منتخب رویے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے ممکنہ اتحادیوں کو دیکھ رہا ہے ۔ برطانوی حکومت پاکستان کو اس خطے میں اپنے ایک اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے خلاف کوئی ایسا بیان نہیں دے رہا یاایسا کوئی قدم نہیں اٹھا رہا جس کی وجہ سے انکے تعلقات خراب ہوں۔ میرے خیال میںیہ برطانوی حکومت کی کوتاہ بینی ہے اس کے اثرات کے نتیجے میں یہ پاکستان کو مدد اور حوصلہ فراہم کرے گی کہ وہ بلا خوف و خطر بلوچ قوم کے خلاف انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو ۔اس بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کے برطانوی حکومت سے ایک بنیادی غلطی ہورہی ہے ۔
ہمگام: پاکستان کو 2011 سے 2015 کے دوران برطانوی حکومت کی جانب سے 1.17 بلین پاونڈ کا امداد ملے گا، جو باہمی امداد کے مد میں ایک خطیر رقم ہے ۔ کیا آپ اس امر کی حمایت کرتے ہیں کہ پاکستان جیسے مذہبی اور کرپٹ ریاست جو مسلسل انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں میں ملوث رہا ہے اسکی مدد برطانیہ کے عام لوگوں کے ٹیکس سے کی جائے ؟
جان: ہمیں شدید تحفظات ہیں کہ برطانوی امداد کسی ایسے ملک کو ملے جو انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہو اور پاکستان ایسی ہی ایک ریاست ہے ، اب برطانوی ارکان پارلیمنٹ تواتر کے ساتھ پاکستان کو ملنے والی امداد پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور خاص طور پر ہم اس امداد کے استعمال اور تقسیم کے بارے میں شدید خدشات رکھتے ہیں ۔ یہاں کرپشن کے مسئلے کہ ساتھ ساتھ بنیادی مسئلہ یہ کھڑا ہوجاتا ہے کہ آخر ایسے ملک کی امداد کیوں کی جائے جو انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور اپنے وسائل کا بھی زیادہ تر حصہ اپنے فوج پر خرچ کررہا ہے ، اور وہی فوج بعد میں بلوچوں کے انسانی حقوق کے خلاف استعمال ہوتا ہے ، تو یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور برطانوی امدادکے باہم تعلق کے بنیاد پر حقیقی خدشات وجود رکھتے ہیں ۔ یہ ان مسئلوں میں سے ایک ہے جسے تواتر کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے، یہاں اس بابت یہ مسئلہ بھی وجود رکھتا ہے کہ آیا یہ امداد ایک ریاست سے دوسری ریاست کو ملنی چاہئے یا پھر وہ امداد مختلف اداروں اور سول سوسائٹی کے ذریعے خرچ کی جائے ۔

ہمگام: جبری گمشدگیاں ان ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جو پاکستان بلوچوں کو دبانے کیلئے زور و شور سے استعمال کررہا ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اعداد کے مطابق 14000 سے زائد بلوچ اس وقت پاکستانی فوج نے اغواء کرکے لاپتہ کیا ہے ان میں سے 1500 سے زائد کو قتل کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاچکی ہیں ۔ مغربی ممالک اس طرز کے مسئلوں کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے جیسا کے ارجنٹینامیں دیکھا گیالیکن جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے نا ہم یورپ اور نا ہی امریکہ کی طرف سے کوئی خاطر خواہ ردعمل دیکھ رہے ہیں ، آپ کیا خیال میں اس نظر اندازی کے پیچھے کونسے علاقائی و بین الاقوامی محرکات کارفرما ہیں ؟
جان:پاکستان کے عدم استحکام اور افغانستان میں واضح جنگ کی وجہ سے برطانیہ کے موقف کا بنیاد یہ رہا ہے کہ وہ پاکستان کو طالبان کے خلاف جنگ میں ایک اتحاد ی کے طور پر ساتھ رکھے گا ، اس لئے وہ کسی قیمت پر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا، اس وجہ سے وہ پاکستان کے حکومت اور فوج کے ان انسانی حقوق کے جرائم پر چشم پوشی اختیار کیئے ہوئے ہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ ایسے خبروں کی بازگشت نا برطانوی پارلیمنٹ اور نا ہی برطانوی میڈیا میں سنائی دیتی ہے اور نا ہی کبھی گمشدہ بلوچوں یا مسخ شدہ لاشوں کا کوئی تعداد ہمیں پتہ چلتی ہے ۔اب یہ مجھ جیسے ارکان پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والے وقت میں ایسے مسئلو ں کو برطانوی پارلیمنٹ میں لائیں ، اور میں بذاتِ خود پارلیمنٹ کے آنے والے اجلاسوں میں اس مسئلے پر سوال اٹھاوں گا تاکہ اس مسئلے پر ایک بحث کا آغاز ہوسکے ، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے پاکستان اور برطانوی حکومت دونوں ان حقائق کو عام لوگوں سے چھپا رہے ہیں، میرے خیال میں برطانوی عوام اس مسئلے پر سنگین خدشات رکھیں گے حتیٰ کے میرا خیال ہے کہ برطانوی عوام اس مسئلے پر شدید غم و غصے کا اظہا ر کریں گے کہ برطانوی حکومت اس پاکستان سے کیوں تعلقات رکھتا ہے اور جڑا ہوا ہے جو اس وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے ، اگر ہم اس مسئلے کو برطانوی عوام کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہمیں شدید ردعمل دیکھنے کو ملے گا اور برطانوی حکومت پر بہت دباو ہوگی کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت بدل دے اور اور پاکستان پر دباو ڈالے ۔ اس بابت ہر شہادت اور ہر گمشدگی کے بارے میں تحقیقات ہونا لازمی ہے ۔ ہمیں اس وقت ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ یا کوئی اور عالمی ادارہ غیر جانبدار طریقے سے ان گمشدگیوں اور شہادتوں کی تحقیقات کرکے صحیح تعداد ہمارے سامنے لائے اور ذمہ داروں کا بھی تعین کرے ۔ بہر حال ہم یہی چاہتے ہیں کہ انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔
ہمگام:پاکستان ، افغانستان اور ایران میں اب تک خواتین کا استحصال جاری ہے اور ان کی سیاسی اور سماجی حقوق کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور دوسری طرف ہم دیکھیں بلوچستان وہ خطہ ہے جہاں بلوچ خواتین بلوچ قومی جدوجہد میں ایک منفرد اور اہم کردار ادا کررہے ہیں ، آپ کیا کہتے ہیں یہ امر اور آزاد بلوچستان خطے کو مستقبل میں کیسے متاثر کرے گا ؟
جان : بلوچستان کی تحریک آزادی شروع دن سے ہی بنیادی طور پر انسانی اور جنسی برابری کے جدوجہد کا اظہار ہے ۔ بلوچ قومی تحریک از خود اور اس میں خواتین کا کردار اس بات کا مظہر ہے کہ یہ حقیقی معنوں میں آزادی کیلئے ہے جس کی بنیاد برابری پر رکھی گئی ہے ، اور بلوچ خواتین تحریک میں جو مثالی کردار ادا کررہی ہیں وہ ثابت کرتی ہے کہ ایک خاتون ہمارے سماج میں کیا کردار ادا کرسکتی ہے ، بلوچ قومی تحریک ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہے کہ خواتین کس طرح اپنی طاقت سے ایک تحریک کو جلا بخش سکتی ہیں ۔ یہ ظاھر کرتی ہے کہ مستقبل کے آزاد بلوچستان میں خواتین سماجی اور سیاسی سطح پر مساوی حقوق رکھیں گے ۔ ہمیں ان بلوچ خواتین کو خراج تحسین پیش کرنا پڑے گا جنہوں نے جدوجہد کا راستہ اپنایا اور بلوچ تحریک میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ۔
ہمگام : آپ آزادی پسند سیاسی کارکنان اور بلوچ عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
جان :سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ابتک انکی تحریک نوخیز ہے ۔ دنیا میں انکے بہت سے اتحادی موجود ہوسکتے ہیں لیکن ابتک یورپی ممالک تک ان پر گذرنے والے مظالم کی وہ کہانیا ں نہیں پہنچی ہیں جن سے وہ گذر رہے ہیں، لیکن میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ میں جتنا کرسکا ضرور کروں گاتا کہ پاکستان کے ان مظالم اور استحصال کو دنیا کے سامنے آشکار کردوں اور بتا دوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچوں کو آگے لانا پڑے گا تا کہ وہ سامنے آئیں اور اپنے مستقبل کا تعین خود کریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] انٹرویوز. RSS 2.0