بلوچوں کے سلطان یا قومی تحریک کا امام مہدی تحریر: اسلم بلوچ

جمعہ 31 اکتوبر, 2014

ڈاکٹر الله نذر کے سلیمان داود کے خلاف بیان میں تو تو میں میں کے سوا صرف ایک ہی بات مجھے نظر آیا جس کا خلاصہ کیا جاسکتاهے وه هےآخری مثال جسمیں گوادر کا شے اور امام مہدی کوتسلیم نہ کرنےوالی بات هے میرے خیال سے یہی مثال زیادہ غور طلب هے .اس مثال کے نفسیاتی پہلو پر اگر غور هو تو اصل بات صاف هوتا دکھائی دیتا هے کہ اصل مسئلہ کسی کے حیثیت سے بغاوت کاهے اس مثال کے تناظر میں امام مہدی کا نام سیدھی طرح سے عطا کی گئی حثیت وعہده کو ظاہر کرتا هے قطع نظر اس کے کہ امام مہدی کا ظہور پہلے سے ہی اپنے حقیقت کو لیکر عقائد کے بیچ متنازعہ هے یعنی بات عطا کی گئی عہده ومقام کے طرف اشارہ کرتا هے اور ڈاکٹر اللہ نذر اسکو تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دے رهے ہیں اس پر ضرور غور کریں کہ اس وقت تک سلیمان داود کو امام مہدی جیسا واقعی کچھ عطا کیا جارهاهے یا مستقبل قریب میں اس کے امکانات دیکهائی دے رهے ہیں ؟
گر ہم باریک بینی سے غور کریں تب بهی نہ تو ہمارے فہم میں،نہ زمینی حقائق میں، اور نہ ہی بلوچستان کے سیاسی حالات میں،اورنہ ہی بین الاقوامی حالات میں کئی بهی ایساکچھ دیکهائی دیتا هے جسکو لیکر ہم کہہ سکیں کہ سلیمان داود کو تحریک کا امام مہدی یا پهر سے بلوچوں کا سلطان مقرر کیا جارها هے جس پر تحفظات کا اظہار هو سکے جب حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تو ڈاکٹر اللہ نذر کے طرف سے سلیمان داود کے خلاف یہ سب کچھ کیوں؟ ؟
میرے ناقص رائے کے مطابق یہ اس نفسیاتی خوف اور خواہش کو بھی ظاہر کرتا هے جو کسی بھی حوالے سے ڈاکٹر اللہ نذر نے بہت پہلے سے اپنے ذہن میں بیٹهائے رکها هے کہ بلوچوں کا سلطان کون بلوچ قومی تحریک کا امام مہدی کون ؟؟ بات جب امام مہدی کی جائے تو صاف طور پر نامزد سلطانی حثیت اوراعلی مقام جس پر آنکهیں بند کرکے یقین ایمان کا حصہ هوگا
خیربذات خود میں ان حالات میں اس سوال کو قبل از وقت غیر حقیقی اور بے بنیاد کہوں گا.کیونکہ جن مراحل سے گذر کر بلوچ قومی تحریک کے حقیقی سلطان یا امام مہدی کا ظہور هوناابهی باقی هے( اپنی چهوٹی چهوٹی دنیا میں مست درجنوں امام مہدی زیر بحث نہیں ) ان میں سے تو ابهی تک کئی مرحلے شروع بهی نہیں هوئے اور مجھے اتنا یقین هے کہ اس مرتبہ بلوچوں میں کسی کے لیے بهی عطا کی گئ کوئی بهی حثیت و عہده هرگز قابل قبول نہیں هوگا اور نہ ہی روایتی سیاسی گٹهیا حربوں سے کوئی اپنے سر بلوچوں کےسلطان یا قومی تحریک کے امام مہدی کا تاج سجاسکے گا…
.
آج کے آڑ وجنجال پر اگر غور کیا جائے تو صاف طور پر ہمیں قومی تحریک میں ایک نا جائز اور بے بنیاد دوڈ نظرآئےگا جس کےپیچھے اسی ناجائزخواہش اور بے بنیاد خوف کا پورا عمل دخل هے کہ بلوچوں کا سلطان کون قومی تحریک کا امام مہدی کون ؟ اس نا جائز خواہش اور بے بنیاد خوف کو قبل از وقت پروان چڑھانے میں ڈاکٹر اللہ نذر کا بہت بڑا ہاتھ هے کیونکہ شروع دن سے ڈاکٹر اللہ نذر نے اس سوچ کو غیر محسوسانہ انداز میں نہ صرف پروان چڑھایا بلکہ اس کےلئے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مقابلہ بازی کا رجحان بهی پیدا کیا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر اللہ نذر نے قبائلی اور سیاسی کا بے بنیادتصوردیا.سردار اور متوسط طبقے کا پرچارکیا، مقدس ادارے اور شخصیت کا گمراہ کن پروپیگنڈہ کروایا اورتواورڈاکٹر اللہ نذرنے بیرون ممالک بیهٹے بلوچ قوم دوست ساتهیوں سے بلا وجہ اپنا موازنہ بهی شروع کردیا اور یہ تاثر دینے کی کوشیش کی کہ میں پہاڑوں میں هوں اس لیے بہتر هوں ان لوگوں سے جو بیرون ملک پر آسائش زندگی گذار رہے ہیں( کیا کوئی بهی هوش مند شخص ایک فوجی کمانڈر اور ایک سفارتکار کے ذمہ داریوں اور انکو درپیش مختلف حالات کا آپس میں موازنہ کرکے کسی کو اعلی اور کسی کو ادنی ثابت کرنے کی کوشش کر سکتا هے ؟؟
اگر کرئے گا بهی تو سوال پیدا ہوتا هے آخر کیوں؟ اس کیوں کا جواب صرف اورصرف ان حالات میں بلوچوں کے سلطان اور قومی تحریک کے امام مہدی تناظر میں نظر آئے گا ) اور اخبارات کی حد تک اس کا اظہار بهی کیاکہ میں خلیج اور یورپ نہیں جاوں گا یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا هے کہ آپ کو یورپ یا خلیج جانے کی دعوت کس نے دی ؟؟
کہ آپ کے لیے یہ وضاحت ضروری هوا کہ میں نہیں جاوں گا اگر اسی ایک نقطے پرغیرجانبداری سے غور کیا جائے تو دوسری طرف مقدس اداروں کے حوالے سے بهی شکوک پیدا هوتے ہیں دن رات ادارہ اور اداروں کا کوئی دعویدار انفرادی ذاتی طور پراس طرح بیباک اظہار کرسکتا هے کہ میں کیا کروں گا کیا نہیں؟ ؟؟ تو کیا اس طرح کےاظہار سے از خود اداروں کی حیثیت مشکوک نہیں هوگا؟ اور یہ جائز اور بنیادی سوال نہیں هوگا کہ فیصلہ ادارے کرتے هیں یا افراد..؟ ؟ تو یہاں یہ بات بهی ثابت هوجاتا هے کہ اداروں اور شخصیت کے فرق کے نام پر جس طرح سے بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا اسکی بهی کوئی حقیقی بنیاد نہیں تهی بہت سے بے بنیاد اور غیر حقیقی باتوں کو جواز بنا کر بلوچ نوجوان کو گمراہ کرنے کا مقصد صرف اور صرف قومی تحریک کے سلطان یا کہیں امام مہدی کے لیے انقلابی عمل سے متصادم روایتی سیاسی طرز پر راه ہموار کرنا تها اسی تسلسل کو اگر زیر غور لائیں تو معمولی سی سوجھ بوجھ رکهنے والا سیاسی طالب علم یہ جانتا هے کہ حقائق کے بنیاد پر کرداروں کے بیچ کسی ایک کے بہترهونے کےلیے موازنہ کیسے کیا جاتا هے کیونکہ اگر جنگی محاذ کو لیکر قومی تحریک میں کرداروں کے بیچ کسی بهی طرح کے موازنے کی ضرورت پیش آئے بهی تو وه جنگی کمانڈروں کے بیچ هوگا یا سرمچاروں کے بیچ هوگا ناکہ سیاسی محاذ کے کسی ساتهی سے یا سفارتی کردار ادا کرنے والے کسی ساتهی سے موازنہ کرنے سے هوگا
مثلا اگر ایک جنگی محاذ کاسرمچار سیاسی محاذ کے کسی کارکن سے اس بات کولیکر اپنا موازنہ شروع کردے کہ میں دن رات پہاڑوں میں تکلیف دہ جدوجہد کررها هوں اور سیاسی محاذ کا ساتهی اپنے گهر میں بیٹھے پر آسائش زندگی میں صرف ایک جلسے میں شریک هوتا نعرے لگاتا هے یا صرف ایک رات چاکنگ کرتا هے چار کتابیں تقسیم کرتا لہذا میں اس سے بہتر هوں یا بلکل اسی طرح سیاسی محاذ پر موجود کوئی کارکن یہ کہے کہ میں تو دن رات خطرے میں هوں دشمن کے قریب سرعام کام کرتا هوں میرے حفاظت کےلیے نہ تومیرے پاس کوئی ہتیهار هے اور نہ مورچہ لہذا میں بہتر هوں یا میرا کردار موثر هے اس جد کار سے جو پہاڑوں میں ہتیهار بند مورچہ زن هے.
تو کیا ان دونوں رائے کو کوئی حقیقی قرار دے گا ؟؟ میرے ناقص رائے کے مطابق هرگز نہیں
قطع نظر قومی تحریک میں ممکنہ محاذوں کی پہچان اور انکے حوالے سے ذمہ داریاں نبهانے کے حقیقت سے کیونکہ کسی بهی جہد کار کےلیے اتنا علم رکهنا تو ضروری هے کہ وه یہ سمجھ سکے کہ دشمن کے خلاف جتنے بهی محاذ سرگرم عمل ہیں هر ایک کی اپنی اہمیت هے الگ الگ هونے کے باوجود هر ایک دوسرے سےنتائج کے حوالے سے مربوط هوتا هے.
انسانی جسم میں اگر آنکھوں کاموازنہ ناک سے کریں تو کیسا هوگا ہاتھوں کا موازنہ پیروں سے هو دل کا گردوں سے یا جگر کا آنتوں سے تو کیا یہ حقیقی موازنہ کہلائے گا اور اسکے نتائج بدتر اور بہتر کو لیکر صیح کہلائیں گے؟ ؟ میرے خیال سے هرگز نہیں کیونکہ ایک تندرست دل کا موازنہ ایک تندرست دل سے ہی ممکن هوگا اور ایک مضبوط دماغ کا موازنہ ایک مضبوط دماغ سے ہی ممکن هوگا یہاں جس جانب میں اشارہ کرنا چاہتا هوں وه بہت زیادہ غور طلب هے کہ ہمیشہ سے ڈاکٹر اللہ نذر ہی اپنا موازنہ دیگر ساتهوں سے کرتے آئے ہیں ایک اہم سوال یہاں پیدا هوتا هے کہ اندرون ملک بیرون ملک کے بے بنیاد فلسفے کی بنا پر ایک جنگی محاذ کے کمانڈر یا مسلح تنظیم کے سربراہ کو سفارتکاری کے فرائض انجام دینے والے ساتهیوں سے اپنا موازنہ کرنا چاہئیے یا نہیں؟ اگرکوئی کہے ہاں تو سوال یہ پیدا هوتا هے کہ کیوں اور کس لیے ؟؟ اس بات کی ضرورت کیوں پیش آئی سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری هوجاتا هے
اگر کوئی بهی شخص کسی بهی وضاحت کے بغیر مختلف محاذ پر مختلف ذمہ داریوں کو لیکر مختلف حالات میں کام کرنے والے دوستوں کا آپس میں موازنہ کرئے گا اور اس میں بهی مقصد حب الوطنی ذہنت قابلیت کے ساتھ ہی ساتھ الگ ذمہ داریاں اورانکے بابت فرائض ان سبکو نظر انداز کرکے صرف اور صرف مقام اور حالات کے بنیاد پر موازنہ کرکے کسی کو یا اپنے آپ کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرئے گا تو یہ عمل از خود مشکوک هوکر بہت سے سوالات کو جنم دے گا
کیونکہ ان دونوں یعنی فوجی کمانڈر اور سفارتکار کے ذمہ داریوں کا موازنہ آپس میں هو ہی نہیں سکتا اگر کوئی اس کے باوجود بهی ایسا کرئے گا تو ان حالات میں یہ صاف هوجاتا هے کہ اس کے ذہن میں ایک طرف بلوچوں کے سلطان یا قومی تحریک کے امام مہدی هونے کی ناجائز خواہش هے اوردوسری طرف کسی اور کے سلطان یا امام مہدی هونے کا بے بنیاد خوف گردش کررها هوگا میرے خیال سے اصل میں یہی وه محرکات ہیں جنکی وجہ سے ڈاکٹر اللہ نذر کے طرف سے کیے گئے تمام اقدامات نے آج قومی سیاست کو اس نہج پر پہنچا دیا مجھے ذاتی طور پر ڈاکٹر اللہ نذر پر ترس اس لیے بهی آتا هے کہ وه اب اتنے خوفزدہ هوچکے هے کہ سلیمان داود کے محدود کردار جس میں معمولی سفارتی کوشیشوں کے سوا اور کچھ بهی نہیں هے سلیمان داود کی انہی کوشیشوں کی نفی کرنے کے لیے برائے راست خود میدان میں کود پڑا هے. اور مسلسل گٹهیا سیاسی حربے استعمال کررها هے.
سب سے قابل افسوس پہلو توشروع سے ہی یہی رها هے کہ بلوچوں کےسلطان اور قومی تحریک کے امام مہدی بننے کی خواہش کو لیکر کیا کچھ نہیں کیا گیا. جلسوں میں اسٹیج پر سجائے گئے تصاویر میں حقیقی اور غیر حقیقی لیڈران کی بے بنیاد اور غیر ضروری فرق کو لیکر نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا معمولی سی جلسہ کی صدارت کرنے کے لیے تنازعات کهڑے کیے گئے .اخباری بیانات کے ذرئعے از خود اپنے آپ کو وژنری لیڈر قرار دیا گیا. مقدس اداروں کا بے بنیاد نعره لگایا گیا.اسی طرح کے بے بنیاد اور غیرحقیقی فرق نے بی این ایف کوجس انجام سے دوچار کر دیا BNM کی جو حالت کی. بی ایس او کو جس بحران سے دوچار کردیا تمام آزادی پسند گروپس کے بیچ جو خلیج پیدا کی چارٹر اور ہتکہ 13 نومبر شهیداء ڈے کو جس طرح سے متنازعہ بنایا وه کسی سے ڈھکی چھپی نہیں هیں . مجھے لگتا هے کہ یہاں حب الوطنی کے معیار کو ہی سیاسی گٹهیا حربوں سے سوچ سمجهکر مسخ کیا جارها هے شاہد اسلئے کہ ہم حب الوطنی کے معیار سے ہی نا واقف ہیں شاہد سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئیے کہ حب الوطنی کا معیار کیا هے اپنے اپنے طاقت شعور فہیم فہراست اور قربانی کے جذبے کے تحت کردار ادا کرنا بعد کی بات هے حب الوطنی کا معیار هرگز وہ نہیں جو ڈاکٹر اللہ نذر تسلسل سے اپنے اخباری بیانات میں بیان کرتے آرهے ہیں سلیمان داود کو باپ داد کے کردار کی تعریف کرنے کا طعنہ دے کر مسترد کرنا اور ایک ہی سانس میں اپنے باپ اور بهائی کی تعریف کرنا بهی کچھ سمجھ میں نہیں آنے والی بات هے ویسے خان فیملی میں حب الوطن شخصیات کا کردار تاریخ کا حصہ ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس فیملی میں مصلحت پسند بزدل بکاو اور سازباز کرنے والےافراد بهی تاریخ کے صفحات پر سامنے آچکے ہیں اس حقیقت کو جهٹلایا نہیں جاسکتا اس تاریخی حقیقت سے قطع نظر اگراس بیان بازی کو لیکر بات کی جائے تو آج غور سلیمان داود کے کردار پرکیا جائے گا کہ سلیمان داود کل کس ڈگر پرچل رهے تهے یا آج کس ڈگر پر چل رهے ہیں کیا سلیمان داود کے کسی بهی عمل سےبلوچ قومی مفادات کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچ رها هے اگر ہاں تو اس عمل کی نشاندہی اور اس سے پہنچنے والے نقصانات کی وضاحت ضروری هو جاتا هے ناکہ خاندان اور تاریخ کو اوپر نیچے کرنے سے کچھ حاصل هوگا.بلکل اسی طرح بلوچ وطن پرستوں کے دستیاب تاریخ کو اگر دیکها جائے تو وه ڈاکٹر صاحب کے اخباری بیان سے مماثلت رکھ سکے گا یا نہیں کیونکہ ڈاکٹر اللہ نذر اپنے بیان میں اپنے بهائی اور والد صاحب کے کردار کا ذکر ایسے کرتے نظرآئے جیسا کہ انکا کوئی مثالی کردار هوا هو لیکن حقیقی دستیاب تاریخ کو ٹٹولنے سے ایسا کچھ سامنے آئے یا نہیں اس سے قطع نظراصل بات ڈاکٹر اللہ نذر کے اپنے کردار کی هوگی کہ وہ کس ڈگر پر چل رهے ہیں اسکے سوچ اور عمل سے قومی تحریک پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں ڈاکٹر اللہ نذر کے سوچ اور کردار سے قومی تحریک قومی مرکزیت کے حوالے سے منظم مضبوط اور وسعت اختیار کر رها هے یا قومی مرکزیت گریز خیالات کو لیکر گروپ در گروپ کمزور اور محدود هوتا جارها هے قومی یکجہتی فکری ہم آہنگی کو لیکر ادارے مضبوط اور مستحکم هوتے جارهے ہیں یاگرویت شوق لیڈری پارٹی بازی جیسے موذی رجحانات پروان چڑھ رهے ہیں. اب دادا نے کیا کیا یہ تاریخ کا حصہ بن چکا هے یہ نہ اخباری بیانات سے اور نہ ہی تعریف وطعنہ زنی سے بدلیں یا مسخ کئے جاسکیں گے اہمیت اس بات کی هے کہ آج کون کیا کررها هے کس سوچ کو پروان چڑھا رها هے کس سوچ کی نمائندگی کررها هے وه سوچ قومی اجتماعی مفادات سے میل کهاتا ہے کہ نہیں اور اس سوچ کو لیکر انکے اعمال کے نتائج قومی حوالے سے مثبت آرهے ہیں یا منفی
سلیمان داود هو یا ڈاکٹر اللہ نذر یا کوئی اور سب کو یہ بات جلد از جلد سمجھ لینا چاہئیے کہ آج کا بلوچ نوجوان حقائق کو لیکر اتنا شعور ضرور رکهتا هے کہ اپنے عوام کی رہنمائی کرسکیں هو سکتا ہے بہت بڑی تعداد میں نہ هو لیکن اتنا ضرور ہیں کہ حقائق سے پردہ اٹھا سکیں اور بلوچ عوام کو گمراہ کرنے والوں کے سامنے رکاوٹ بن سکیں .تو سب کے لئے ضروری یہ هے کہ گمراہ کن خیالات کا پرچار چهوڑ کر جلد از جلد قومی اور اجتماعی سوچ کو اپنا کر زمینی حقائق بابت اپنا قومی کردار ادا کریں.کیونکہ یہ تو طے هے کہ قومی تحریک کے سلطان یا امام مہدی کا ظہور جب بهی هوگا اسکے فہم وادراک کو لیکر اس کے قومی کردار کی بنیاد پر هوگا اس طرح سے غیر اخلاقی اور روایتی سیاسی حربوں کے بنیاد پر هرگز نہیں هوگا .

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0