بلوچ آزادی پسند عالمی قوانین اور جنیوا کنوینش کے مطابق جدوجہد کررہے ہیں

جمعہ 26 ستمبر, 2014

ہمگام (خصوصی رپورٹ)
بلوچستان میں بڑھتے متشددانہ واقعات اس امر کا متقاضی ہیں کہ ان مصائب ، بربریت اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا انسانی بنیادوں پر جلد از جلد کوئی حل نکالا جائے جن کا سامنا بلوچوں کو ہے۔ حال ہی میں صحافی وینیزا تھیوٹسن اور مونو میتا ریکسٹ نے انٹرنیشنل وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سے منسلک سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے بلوچستان کے مسئلہ حق خودارادیت کے بابت بات چیت کی ۔ تحفظ کے خدشات کے باعث ان کارکنوں کے نام ظاہر نہیں کئے گئے ۔اس سوال کہ آپ بلوچ آزادی کیلئے اتنی کوشاں کیوں ہیں کہ جواب میں ان سیاسی کارکنوں نے جواب دیا کہ’’ بلوچ اس خطے کی قدیم ترین اقوام میں سے ایک ہے ، ہم ہزاروں سال سے اس سر زمین پر آباد ہیں ،1839 میں برطانوی قبضے کے وقت تک ہمارا اپنا ریاست تھا ۔ پہلے بلوچستان پر برطانوی اور بعد میں ایرانی و پنجابی مسلمانوں کا قبضہ سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے ۔بلوچ وہ تمام حقوق محفوظ رکھتے ہیں جو کسی بھی قوم کو حاصل ہیں جیسے کہ غلامی سے نجات اور اپنے حالات و مستقبل کے تعین کا حق ۔ آزادی ہمارا فطری اور پیدائشی حق ہے ۔ اس کی غیر موجودگی میں یہاں کبھی بھی تحفظ ، استقامت اور جمہوریت نہیں پنپ سکتی اور نا ہی اس سے یہ خطہ خوشحال ہوسکتا ہے ‘‘ اس استبدادیت اور بلوچوں پر ہونے والے مظالم میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے بارے میں پوچھنے پر ان بلوچ سیاسی کارکنوں نے جواب دیا کہ ’’جس دن سے مشرقی بلوچستان پر پاکستان نے قبضہ کیا ہے اس دن سے ہی بلوچستان پر پنجابی آرمی اور آئی ایس آئی کا بلا واسطہ کنٹرول ہے ۔ 70 کے دہائی میں بلوچ قومی جدوجہد کو کچلنے کے بعد ان خفیہ اداروں نے بلوچستان کے اندر اپنے قوت اور اختیار میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ آئی ایس آئی بلوچستان میں کھلے عام کام کرتی ہے ۔ بلوچستان میں اپنے قوت کے مظاہرے کی خاطر یہ خفیہ ادارہ دن کی روشنی میں جسے چاہے اٹھا کر غائب کرتے ہیں ، جہاں چاہتے ہیں وہاں لیجاتے ہیں اور جب چاہے شہید کردیتے ہیں ۔ ان ہی وجوہات کے بنا پر پاکستانی آرمی کبھی بھی آزاد میڈیا کو بلوچستان میں جانے نہیں دیتی اور کسی کو بھی بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر تحقیق کرنے نہیں دیتے ۔ پاکستان کے اپنے ہائی کورٹ نے بلوچوں کے جبری گمشدگیوں میں آئی ایس آئی کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن پاکستانی ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں ایجنسیوں کے آگے بے بس ہے ۔ بلوچستان میں ایک نہیں بلکہ کئی خفیہ ادارے متحرک ہیں جن میں قابلِ ذکر آئی ایس آئی ، ایم آئی ، انٹیلیجنس بیورووغیر ہ ہیں ۔ حال ہی میں پاکستان کے اپنے وزیر داخلہ چوھدری نثار نے پارلیمنٹ میں ایک تقریری کے دوران یہ کہتے ہوئے کہ’’ بلوچستان میں اتنی زیادہ ایجنسیاں ہیں اور ان کے پاس اتنے وسائل ہیں پھر بھی اگر وہ حالت کو قابو نہیں کرسکتے تو پھر حکومت انہیں اور کیا مہیا کرے ‘‘ ایجنسیوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے ‘‘۔ جب ان سیاسی کارکنوں سے یہ پوچھا گیا کہ تشدد پسند بلوچ علیحدگی پسند گروپ بی ایل اے اور بی آر اے کیا ان سے منسلک ہیں یا انکی مدد کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’ ہمیں تشدد پسند علیحدگی پسند جیسے جملے پر اعتراض ہے ۔ پہلی بات یہ کہ بلوچ علیحدگی پسند نہیں ہیں ۔ بلوچ اور بلوچستان یہاں ہزاروں سالوں سے وجود رکھتے ہیں ، 1666 سے 1839 تک ہمارا اپنا آزاد و خود مختار ریاست ہوا کرتا تھا ، اس کے بعد برطانوی سامراج نے بلوچستان پر قبضہ کرلیا اور بعد میں اسے تین حصوں میں تقسیم کردیا اس کے بعد ایرانی اور پنجابی حملہ آوروں نے بالترتیب 1920 اور 1940 کے دہائی میں بلوچستان کے مختلف حصوں پر قبضہ کرلیا ۔ دنیا میں کسی نے بھی فرانسیسیوں ، ولندیزیوں ، چیک اور پولش اقوام کے جرمن فاشسٹ کے خلاف تحریک آزادی کو تشدد پسند علیحدگی کی تحریک نہیں کہا ۔ بلوچستان میں ایسے بہت سے آزادی پسند گروہ ہیں جو عالمی قوانین اور جنیوا کنوینشن کے عین مطابق جدوجہد کررہے ہیں ۔ دنیا میں آباد ہر انسان اور قوم کو یہ حق حاصل ہے کے وہ دفاع اور بقا کیلئے جدوجہد کرے ۔ یہ حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ ہمارا ان گروہوں سے کوئی تعلق نہیں لیکن جب تک وہ عالمی قوانین کے مطابق جدوجہد کرتے ہیں ہم انکی حمایت کرتے رہیں گے ۔تشدد اور استحصال ہم پر پاکستانی قابض آرمی ، اس کے جہادی طفیلی گروہوں نے مسلط کی ہوئی ۔ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنا دفاع کریں اور ان حملہ آوروں کو اپنے زمین سے نکال دیں ‘‘۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری ہمارے پیدائشی اور جمہوری حقوق کو تسلیم کریں ۔ انہیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہمارے سرزمین پر بیرونی حملہ آوروں نے قبضہ کیا ہوا ہے ، ہمیں یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ ہم اپنے مستقبل کا تعین خود کریں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے تحقیقات کیلئے تحقیقاتی ٹیم بھیجیں‘‘ ۔ جب ان سیاسی کارکنوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ بلوچستان کے تنازعہ کو کیسے ختم ہوتا دیکھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’بلوچستان کے مسئلہ کا سب سے بہتر انسانی اور جمہوری حل چیکو سلواکیہ طرز کا حل ہوسکتا ہے ۔ یعنی ہر قوم کو اپنے راستے چلنے دیا جائے اور بعد میں آزاد قوموں کی حیثیت سے باہمی احترام اور مفادات کی خاطر ایک دوسرے کی مدد کریں ‘‘ انہوں نے انڈیا اور کسی بھی اور ملک کی طرف سے امداد کی باتوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر کوئی انکی مدد کررہا ہوتا تو وہ اب تک آزاد ہوچکے ہوتے ‘‘ بلوچستان کے مسئلہ میں ایرانی اور چینیوں کے مفادات کے بابت انہوں نے کہا کہ ’’ پاکستانی اور ایرانی ریاستیں بلوچوں کو کچلنے کے نقطہ پر ایک ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں مثال کے طور پر ایران کے خفیہ اداروں نے ایک بلوچ سیاسی کارکن محمد یونس کو ا غواء کرکے پاکستانی خفیہ اداروں کے حوالے کردیا جسے بعد میں پاکستانی خفیہ اداروں نے تشدد کے بعد شہید کردیا ، اسی طرح پاکستانی حکومت نے عبدالحمید ریکی کوپکڑ کر ایران کے حوالے کردیا جسے بعد میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔ اسی طرح بلوچ وسائل کے لوٹ کھسوٹ کیلئے چین نے پاکستان کے ساتھ کئی معاہدات پر دستخط کیئے ہیں کوئی نہیں جانتا کہ وہ معاہدات کیا ہیں کیونکہ انہوں انتہائی خفیہ طریقے سے ترتیب دیا گیا ہے ۔ چین اس وقت بھی بلوچستان میں کئی استحصالی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہے جن میں قابلِ ذکر سیندک اور کچاچی پروجیکٹ ہیں ‘‘ ۔ کردوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ کرد نسلی طور پر ہمارے قریب
ترین رشتہ دار ہیں بلوچ اور کرد سیکیولر اور جمہوری تحریکوں میں بہت مماثلت موجود ہے ‘‘ جب بلوچستان میں تشدد کے تازہ لہر اور ارشاد مستوئی جیسے صحافیوں کے قتل کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ بلوچستان میں ہمیشہ سے تشدد کا بازار گرم ہے اور ارشاد مستوئی مارے گئے پہلے صحافی نہیں ہیں بلکہ اس سے پہلے قریباً 24 بلوچ صحافی پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکار مار چکے ہیں ۔ اس وقت پاکستانی قابض فورسز بلوچ بچوں کے تعلیم سے بھی خوفزدہ ہے خاص طور پر انگریزی تعلیم سے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ بلوچ جتنے زیادہ تعلیم یافتہ ہونگے انہیں اپنے حقوق کے متعلق اتنی ہی آگاہی ملے گی اس لیئے وہ اسکولوں کو جلا کر بلوچوں کو تعلیم سے بھی دور رکھنا چاہتے ہیں ‘‘اس سوال کے آج عراق کی حالت اور داعش کے پیش قدمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا آزادی کے بعد بلوچستان کا مستقبل یہی نہیں ہوگا کہ جواب میں بلوچ سیاسی کارکنوں نے کہا کہ ’’ اس کا سادہ جواب نہیں ہے ، بلوچستان کو اس وقت پاکستان اور ایران سے ہی بنیادی خطرہ ہے ، جب بلوچ آزادی ہونگے تو یہ طفیلی گروہ پاکستانی اور ایرانی قابضوں سے مدد نا پاکر خود ہی کمزور ہوجائیں گے‘‘ ۔مذہبی شدت پسندی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں اس خطے میں پیدا ہونے والے مذہبی شدت پسندی کو پاکستان کا پیدا کردہ قر ار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ پاکستان اسلامی انتہاء پسندی کو اس خطے پر اپنا اجارہ داریت قائم کرنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔ بلوچ قومی اقدار اس شدت پسندی کے سامنے ایک بہت بڑ ی رکاوٹ ہیں ، اسی لیئے پاکستان اپنی پوری قوت استعمال کرکے بلوچ قوم میں شدت پسند خیالات پروان چڑھانا چاہتا ہے ۔ اسکولوں کا جلانا اور مدارس کو چندے دینا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔

بشکریہ ’’ دی ڈپلومیٹ ‘‘

http://thediplomat.com/2014/09/interview-baloch-activists/

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0