بلوچ اب پاکستانی میڈیا کا محتاج نہیں رہا

پیر 9 اکتوبر, 2017

تحریر: وارث بلوچ

اگر ہندوستان کی میڈیا سے پاکستان کی تعریف سننے کی خواہش خود فریبی ہے۔ پاکستان کی حمد و ثنا ہندوستانی میڈیا کرے یہ بھی ناممکن ہے۔ چینی میڈیا کی امریکہ کے لئے ہمدردی، روسی میڈیا کی زبانی امریکہ کی تعریف اور شمالی کوریا کی صحافیوں کا امریکہ کی تعریف کے پل باندھنے کی خواہش رکھنا احمقی ہو ۔ تو پھر بلوچستان میں ریاستی مظالم پر پاکستانی (پنجاب پرست) میڈیا کی قلم اور سیاہی سے سچ اگلنے کی توقع کرنا بھی اتنا ہی احمقی ہے۔ کیونکہ دو دشمن ملک ایک دوسرے کے لئے کبھی بھی مثبت، غیر جانبدار رپورٹنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لہذا ہم بلوچوں کو بھی اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستانی (پنجاب پرست) میڈیا سے بلوچ آزادی پسندوں کی تعریف کے الفاظ ادا ہونگے یہ ناممکن ہے۔ اب جب یہ چیز ناممکن ہے تو پھر سوال اٹھتا ہے ہمیں ایک مشترکہ قومی طاقت کےذریعے پاکستانی میڈیا کا مقابلہ کرنے کے لئے کون روک رہا ہے۔؟ جنگی حالات میں میڈیا کا غیرجانبدار رہنا ناممکن رہتا ہے ۔اور جب دو ملک آپس میں نبرد آزما ہوں تو پھر یہاں صحافت اور صحافیوں کا غیر جانبدار رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ برستی گولیوں کے مابین گرتی لاشوں کے اثنا میں غیر جانبدار رہنا اس ملک کے صحافیوں کا اپنے ملک کے ساتھ غداری گردانا جاتا ہے۔ اس دوران غیرجانبداری ، آزادی صحافت، اور انسانیت کی خدمت جیسے بھاشن وہاں دفن کردیئے جاتے ہیں۔ ایسا ہونا ناممکن ہے۔ جب ہندوستان اور پاکستان کی جنگ چل رہی ہو اور آپ مذکورہ ممالک کی میڈیا پر تعریفی مضامین اور تبصرے پڑنے، سننے اور دیکھنے کی آس لگائیں۔ بالکل اسی طرح پاکستان اور بلوچستان بھی گذشہ کئی دہائیوں اور روز اول سے حالت جنگ میں ہیں۔ اس جنگی حالات میں ہم مقابلے کی بجائے دشمن فریق سے اپنی آواز بلند کرنے کی توقع کررہے ہیں۔ یہاں پاکستانی میڈیا کو ہم (بلوچ) دشمن نہیں کہہ رہے ۔بلکہ وہ اپنی اعمال اور کردار کی وجہ سے دشمن قرار پاتا ہیں۔ وہ اپنے تبصروں، تجزیوں میں بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کھلے عام ترغیب دے رہی ہیں۔ بلوچ نےکبھی بھی قلم کے بدلے بندوق نہیں اٹھائی۔ لیکن دوسری جانب پاکستان نے ہمارے قلم کاروں، شاعروں، ادیبوں، اساتذہ، وکلا، صحافیوں طلبا اور مفکرین کو بے دریغ نشانہ بناکر بلوچ نئی نسل کو تعلیم کی زیور سے محروم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ آج بھی بلوچ قوم کو پاکستانی میڈیا کا مقابلہ قلم سے کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہم جنگی حالات میں بھی عالمی جنگی قوانین اور اقوام متحدہ کے طے شدہ عالمی چارٹر کی پابندی کرکے ایک ذمہ دار قوم کے طور پر اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچ قوم آج اگر دنیا میں ایک معتبر مقام رکھتی ہے تو وہ اپنی شفاف پالیسیوں (مذہبی، لسانی ،شدت پسندی سے پاک پالیسی، علم دوستی، قلم دوستی) آج ہم پر دنیا شدت پسندی، علم دشمنی،دہشتگردی ، تعلیم دشمنی، انسان کشی کا لیبل نہیں لگا سکتا۔ بلوچ کے خلاف پاکستانی میڈیا ٹرائل کے باوجود عالمی دنیا آج بلوچوں کی مدد اور حمایت کو خطے کی امن کے لئے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ جیسے کہ اس جدید دور میں ٹی وی، اخبارات اور ریڈیو اسٹیشنز سب ہی سوشل میڈیا کی بیساکی پر چل رہے۔ اور بلوچ قوم اس وقت سوشل میڈیا پر دسترس رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ کی اس جدید دور میں بلوچ قوم کا اب مزید اپنے دشمن پاکستان کی میڈیا پر انحصار ختم ہونا چاہیے۔ آج جو خبر پاکستانی ٹی وی نشریاتی اداروں کو ہم ارسال کرکے ان کو نشرکرنے پر منت سماجت کرتے ہیں ۔اس خبر کو ہم سینکڑوں کے اندر اپنے ہی سوشل میڈیا (فیس بک ، ٹوئٹر، انسٹاگرام وغیرہ) کے پلیٹ فارم کے اندر نشرکرکے پھیلا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے قومی معاملات کی نشر و اشاعت کے بابت کسی پاکستانی میڈیا کا محتاج ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا جس طرح سے سکڑ کر ایک گلوبل محلے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ انٹرنیٹ نے عالمی دنیا کو ایک کوزے میں بند کرکے رکھ دیا ہے۔ اب ایک ہی کلک پر ہم دنیا کے کسی بھی ادارے کو اپنے آہ و پکار پہنچانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ہم پاکستانی میڈیا پر تکیہ کئے بغیر اپنی قومی فرض کے تحت یکجا ہوکر بلوچ قومی مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ اٹھائیں۔ پاکستانی اجرتی صحافیوں، لفافہ پرست تجزیہ نگاروں اور بکے ہوئے میڈیا کے ہر پوسٹ، کمنٹ اور پروپیگنڈے کا مل کر جواب دیں۔ تو بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بلوچ رہنماوں کو عالمی اداروں سے بلا ناغہ رجوع کرکے وہاں اپنا مدعا پیش کرنا چاہیے ۔ کئی ملین بلوچ اپنی الگ پہچان زبان اور ثقافت رکھنے کے باجود کیوں اپنی آواز عالمی سطح تک پہنچانے کے لئے صحافتی پلیٹ فارم سے محروم ہیں۔؟ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچ کی ثقافت الگ زبان اور تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچوں کو بی بی سی ، وائس آف امریکہ، ڈی ڈبلیو ڈوئچے ویلے جرمنی اور دیگر خطے میں سنے جانے والے ریڈیو نشریات میں حصہ دار بنائے ۔تاکہ بلوچ اپنی قومی آواز کو بلا روک ٹوک دنیا کے دوسرے کونوں تک پہنچا سکے۔ اسی طرح بلوچ مخیر و مالدار حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بلوچ قومی مفادات کی خاطر کردار ادا کرنے کے لئے آگے آئیں ۔اور ایک عالمی معیار کی ٹی وی چینل کی اجراء کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں ۔ مجھے یقین ہے کہ بلوچ تعلیم یافتہ نوجوان ایک ٹی وی چینل کو چلانے کے لئے درکار تجربے سے لیس ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0