بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد تربت زون کا جنرل باڈی اجلاس

منگل 18 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد تربت زون کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر مہمان خاص مرکزی سینئر وائس چیئرپرسن کریمہ بلوچ منعقد ہو ا جس میں سیکڑیری رپورٹ، مرکزی سرکولر،تنظیمی امور،تنقید برائے تعمیر،سوال جواب،عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے مندر جہ ذیل ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد مرکزی سینئر وائس چیئرپرسن کریمہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوتیں اپنی معاشی اور سیاسی مقاصد کیلئے ہر دن اپنے پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے گرد گھومتے ہیں آج دنیا میں اچانک رونماء ہونے والی سیاسی حالات نے امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کو اپنے پالیسیوں پر غور کرنے کو مجبور کردیا امریکہ اور اسرائیل نے کرد ستان کی آزادی کی حمایت کا اعلان بھی اُس وقت کیا جب دنیا کو داعش جیسے مذہبی شدت پسند گروہ کا سامنا رہا ۔داعش کی عراق اور شام میں بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور کردستان کی آزادی کی جنگ لڑنے والے کرد آزادی کی فوج کا اُنکے سامنے دیوار کی طرح کھڑا ہوکر کرد سرحدوں کی حفاظت کی جنگ لڑنے والوں کی حکمت عملیوں نے دنیا کو کرد تحریک کی حمایت پر مجبور کردیا ۔کریمہ بلوچ نے کہا کہ آج اسی طرح کی مذہبی شدت پسندی کے نام پر بلوچ تحریک کوبھی مسخ اور ختم کرنے کا جو منصوبہ عملی طور پر بلوچستان میں رونماء ہورہا ہے وہ بھی بلوچ تحریک کیلئے ایک بہت بڑی چیلنج ہے جس کا خاتمہ اگر بلوچ جہد کاروں نے ابھی سے نہیں کیا تو شائد کل اس کی جڑے بلوچستان میں بہت مظبوط ہو جاہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچ لیڈر شپ اور اداروں کو چایئے کہ وہ اتحاد کے عمل میں تیزی لائے مشترکہ حکمت عملی سے سامراجی قوتوں کا سامنا کریں انہوں کہا کہ بی ایس او آزاد کی ہمیشہ کوشش رہی کہ تمام بلوچ تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم میں لائے اور جدوجہد کو آگے لے جائے تنظیمی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایس او آزاد کے کئی ساتھیوں کی شہادت اور اغواہ نما گرفتاریوں کے باوجود آج بھی بی ایس او آزادمنزل کی طرف رواں دواں ہے جوکہ بی ایس او آزاد کی کارکنان کی ہمت اور محنت کا نتیجہ ہے ہم امید کرتے ہیں کہ بی ایس او آزاد کے حقیقی دوست اسی طرح تنظیم کی فعالی کیلئے دن رات ایک کرتے رہینگے کیوں کہ کچھ لوگ دوست بن کر دشمن جیسی حرکتیں کررہے ہیں بی ایس او آزاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے بی ایس او آزاد سے تعلق نہ ہونے کے باجود بی ایس او آزاد کی ادارہ جاتی معاملات میں مداخلت کرکے بی ایس او کے کارکنوں سے رابطہ بڑا کر انہیں گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں بی ایس او آزاد کیخلاف سوشل میڈیا میں محاز آرائی کرکے اور اس حد تک گئے ہیں کہ جھوٹ اور سچ کے بیچ کے فرق کو بھی مٹا چکے ہیں فریب اور غیر سیاسی طریقوں پر اتر آئیں ہے جو نہ صرف بی ایس او آزاد بلکہ پوری بلوچ قومی تحریک کیلئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے ایسے وقت میں بی ایس او آزاد کے کارکنوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں سیاسی تعلیم کو عام کریں تاکہ بلوچ عوام سچ اور جھوٹ کے فرق سے واقف ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ بی ایس او آزاد کو ٹکروں میں تقسیم کرنے کا عمل دوستانہ نہیں بلکہ پاکستانی پالیسیوں کا حصہ ہوسکتا ہے ۔کریمہ بلوچ نے کہا کہ جو لوگ وطن دوستی کی آڑ میں بی ایس او آزاد کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں انہیں چاہیے ہیں کہ وہ اپنی قوت اپنے لوگوں کے نہیں بلکہ دشمن کیخلاف استعمال کریں انہوں نے کہا کہ جہاں یہ افسوس کا مقام ہے وہاں میں یہ بھی کہوں گی کہ نوجوان ایسے میں مایوس نہ ہوں کیوں کہ حقیقی انقلابی اور نوجوانوں کی سیاسی تربیت یافتہ قوت کچھ بھی ممکن بناسکنے کا حوصلہ رکھتی ہے نوجوان ان تمام تر چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے سیاسی تعلیم کو عام کریں کیوں کہ سیاسی و نظریاتی تعلیم ہی غلامی اور اندورانی سرمایہ دارانہ سوچ کو مٹا سکتا ہے اور یہی تعلیم ہی آنے والے آزاد بلوچستان میں جمہوریت اور انصاف کا ضامن بن سکتا ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0