بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا ضلع لسبیلہ میں تعلیم اداروں بارے رپورٹ جاری

جمعرات 15 جنوری, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے ضلع لسبیلہ کے384 تعلیمی اداروں رپورٹ جاری کر کے کہا ہے کہ کے ضلع میں تعلیمی ادارے زبو حالی اور حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے مکمل طور پر ابتر ہوچکے ہیں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج لسبیلہ اور گورنمنٹ گلز ڈگری کالج لسبیلہ میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے اساتذہ کی غیر حاضری، سائنسی لیبارٹریز کی خسطہ حالی، لائیبریری سمیت کالج مخلتف مسائل سے گرا ہوا ہے جبکہ ضلع کے 6بوائز ہائی اسکول اور دو گلز ہائی اسکول بھی اس زبو حالی کا شکار ہیں ترجمان کے مطابق 4مڈل بوائز اسکول، 3گلز مڈل اسکول جبکہ46بوائز پرائمری اسکول اور 38گلز پرائمری اسکول بھی حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی غیر حاضری کی وجہ سے اپنے معیار میں پورا نہیں اترتے، جبکہ اوتھل کا واحد انٹر کالج ، دو مڈل بوائز اسکولز اور ایک گلز مڈل اسکول سمیت 32بوائز پرائمری اسکولز اور28گلز پرائمری اسکول بھی کتابوں ، اساتذہ سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہے ترجمان کے مطابق وندر میں انٹر کالج سمیت بوائز ہائی اسکول وندر ، گلز ہائی اسکول وندر جبکہ 18بوائز پرائمری اسکول اور 16گلز پرائمری اسکول بھی اساتذہ کی غیر حاضری، کتابوں کی کمی سمیت بنیادی سہولیات سے مکمل طور پر محروم ہیں جبکہ لسبیلہ کے صنعتی شہر حب کا واحد کالجِ ، 4بوائز ہائی اسکول ، 3گلز ہائی اسکول جبکہ 23بوائز پرائمری اسکول، 18گلز پرائمری اسکول بھی انہی مسائل سے دوچار ہیں ۔ ترجمان کے مطالبق ضلع لسبیلہ کے علاقے درہ جی کا واحد بوائز ہائی اسکول اور گلز ہائی اسکول ، 3بوائز مڈل اسکول ،2گلز مڈل اسکول، 20بوائز پرائمری اسکول،13گلز پرائمری اسکول جبکہ لاکرہ اور گڈانی کے 4بوائز ہائی اسکول 3گلز ہائی اسکول جبکہ 13بوئز مڈل اسکول، 9گلز مڈل اسکول،32بوائز پرائمری اسکول،27گلز پرائمری اسکول بھی زبو حالی کا شکار ہیں جہاں طلبا وطالبات کو معیاری تعلیم دینے کے کیئے حکومت نے کئی عرصے سے کوئی انقلابی اقدامات نہیں کیئے ہیں تمام تعلیمی اداروں کے مسائل یکساں ہیں جبکہ محکمہ تعلیم میں سفارش ، کرپشن اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ان تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات اعلی تعلیمی اداروں میں داخلوں سے محروم ہیں جبکہ بیشتر اسٹوڈنٹس ان اداروں سے مایوس ہو کر تعلیم کو خیر باد کررہے ہیں ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور ان ضلع لسبیلہ کے 384تعلیمی اداروں کی زبو حالی کا نوٹس لے کر ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کریں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0