بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا ضلع نوشکی کے تعلیمی اداروں کی زبوحالی پر تشویش کا اظہار

بدھ 14 جنوری, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے ضلع نوشکی کے تعلیمی اداروں کی زبو حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے یہاں جاری ہونے والے ایکشن کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوشکی کے علاقے عیسی چاہ میں ایک ہائی اسکول تین پرائمری اسکول ایک مڈل اسکول، زور آباد میں ایک مڈل اسکول اور ایک پرائمری اسکول ، غریب آباد میں دو ہائی اسکول اور دو پرائمری اسکول، قاضی آباد میں تین پرائمری اسکول ، آسیا بان میں دو ہائی اسکول، بازار میں دو ہائی اسکول، صاحبزادہ میں دو ہائی اسکول، مینگل آباد میں دو ہائی اسکول پانچ مڈل اور پرائمری اسکول، شرید خان میں دو ہائی اسکول، بادینی میں دو ہائی اسکول، درزی چاہ میں ایک مڈل اور پرائمری اسکول، بدل کاریز میں ایک مڈل اور پرائمری اسکول، عمر شاہ میں ایک مڈل اور پرائمری اسکول، قادرآباد میں تین مڈل اور دو پرائمری اسکول، اسٹیشن میں ایک مڈل اور دو پرائمری اسکول، احمد وال میں پندراں پرائمری اسکول چار مڈل اسکول اور تین ہائی اسکول ، نوک جوہ میں دو پرائمری اسکول، نیام درگی میں ایک ہائی اور پرائمری اسکول، انجیرا میں ایک پرائمری اسکول ، ریکو میں ایک پرائمری اسکول،زریں جنگل میں ایک پرائمری اسکول جبکہ کلی ابراہیم میں ایک پرائمری اسکول مکمل طور پر تعلیم کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان اداروں مین اساتذہ کی کمی ، سائنسی لیبارٹریز اور کمپیوٹر سمیت فرنیچر کی شدید قلت ہے کئی عرصے سے ان اداروں کو محکمہ تعلیم نے مکمل طور پر محروم رکھا ہوا ہے بیشتر تعلیمی ادارے کتابوں سے محروم ہیں جبکہ لائیبریری کا بھی خاص انتظام نہیں ہے جبکہ کئی اسکولز اساتذہ موجود نہیں ہیں ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر ان تعلیمی اداروں سائنسی سہولیات سمیت تمامسائل کا نوٹس لے تعلیمی ایمر جنسی کو حقیقی معنوں میں رائج کرے تاکہ بلوچستان کے طالب علم اس جدید سائنسی دور میں دیگر اقوام کے ساتھ کھڑے ہوسکیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0