بلوچ اور ہزارہ تارکین وطن کیس فیصلوں پر ایک ہی عبارت لکھ کر کیس رجکٹ کیے جاتے ہیں

منگل 19 ستمبر, 2017

ہمگام نیوز:-جرمنی میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم GfbV نامی ایک تنظیم کی ڈائریکٹر اُلرش ڈیلیوس کا کہنا ہے کہ بی اے ایم ایف کے اہلکار پناہ کی درخواستوں پر درست فیصلے کرنے کی صلاحیت اور مختلف ممالک کے زمینی حقائق کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔ ڈیلیوس کے مطابق، ’’جب ایتھوپیا کے اورومو، بلوچستان کے بلوچ تارکین وطن اور ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ کرتے ہوئے بی اے ایم ایف کے اہلکاروں کی طرف سے قانونی وجوہات کے طور پر ایک ہی طرح کی عبارت استعمال کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دفتر کے حکام نے پناہ کی ہر درخواست پر انفرادی جائزوں کے بعد فیصلے کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی۔‘‘

یوں مختلف تارکین وطن کی درخواستیں ایک ہی انداز میں مسترد کیے جانے کے بعد مسترد درخواست گزاروں کی تعداد تو بڑھی ہے لیکن اسی تناسب سے اپیلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

انتظامی عدالتوں کی جانب سے اپیلیں نمٹانے کی رفتار میں اضافہ تو ضرور ہوا ہے مگر اب بھی اپیلوں کی بڑی تعداد پر فیصلے کرنا باقی ہیں۔ رواں برس کی پہلی ششماہی کے دوران اڑتیس ہزار سے زائد اپیلیں نمٹائی گئیں جب کہ پچھلے پورے برس کے دوران اکہتر ہزار تارکین وطن کی اپیلوں پر فیصلے کیے جا سکے تھے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0