بلوچ جہد اور بلوچ لیڈر شپ حسن جانان

منگل 6 جنوری, 2015

انگریز غلامی سے چھٹکارے کے بعدقریب نو مہینے کی آزادی اور پھر غلامی کی زنجیروں کا طوق نصیب ہونا کوئی اچنبے کی بات نہیں کیونکہ غلام ہونا یا غلام بنانا دونوں آپ سے عقلیت پسندی کا تقاضہ کرتے ہیں کہ آپ کتنے معاملہ فہم ہے اور حالات و واقعات کی نوعیت کو کس طرح سمجھتے ہیں اور آپ میں وہ صلاحیتیں موجود ہیں جو اپنے سے قابل ،لائق و ذہین شخص ملک و قوم کے منصوبوں کو سمجھ سکھیں، اگر سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو یقیناًغلامی آپ کا مقدر ہو گا۔ اور یہی حال بلوچ قوم کے ساتھ ہے۔ ہنری پوٹنگر کے سیاحی دور ے سے لیکر تین عشرے کے بعد انگریزوں کی آمد و بلوچ وطن کی غلامی کا جو سبق ہمارے سامنے ہے۔ وہ ہماری اپنی نااہلیت کا ہی ثبوت ہے ۔ اور بلوچ بحیثیت قوم جنگجوہانہ مزاج ہے اور تاریخ کے اوراق میں دشمن سے بہادر ی کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے ہیں اور ہر وقت و ہر واقع کی نوعیت کو لیڈر شپ کے حوالے سے باریک بینی سے دیکھا جائے تو ہر واقعہ کی نوعیت لیڈرشپ کی کمزوری و نابودی سے ثابت ہوگا۔ فردی واقعات سے ہٹ کردیکھا جائے تو ہر فرد اپنی بساط کے مطابق اس جنگ کا حصہ بن کر اپنے فرائض سے اس حد تک چشم پوشی نہیں کی ہے لیکن لیڈر شپ کی نااہلی و انکے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہمیشہ شکست بلوچ کا مقدر بنی ہے۔ اور بلوچ بحیثیت قوم نصیر خان نوری کے دور سے لیکر آج تک انھیں حالات کا شکار ہے اور نصیر خان نوری کے تشکیل کردہ بلوچ ریاست پر اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو افغان ریاست کی تشکیل جس میں احمد شاہ ابدالی اور نصیر خان کے قریبی تعلقات اور بلوچ وطن کے دفاع اور افغان وطن کی توسیع پسندی میں بلوچ ازل سے افغان قوم کے شانہ بشانہ ایک ہمدرد برادر کی حیثیت سے ان کے ساتھ رہے ۔ مرہٹوں کے ساتھ احمد شاہ کی لشکر کشی سے لیکر شہزادہ عبدالکریم کی بغاوت تک ہر وقت افغان و بلوچ ایک دوسرے کے کمک کار رہے ہیں۔ لیکن بلوچ ہمیشہ سے لیڈر شپ کے حوالے سے کمزور ہی رہا ہے اسی بناء پر ہمیشہ سے دیگر اقوام کے منصوبوں کی تکمیل میں سپاہی کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور ایک جنگجو قوم کی حیثیت سے اپنی پہچان بنا سکا ہے۔ اگر تاریخی اوراق کو الٹ پلٹ کر باریک بینی سے دیکھیں چاہے تو بلوچ وطن پر آباد بلوچ کبھی بھی دنیا کے ساتھ ہم قدم نہ ہو سکے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان و ایران کے ساتھ ہم قدم نہ ہوسکے۔ وجہ لیڈر شپ کی کمی پر آر کر رکتی ہے کیونکہ لیڈر ہی قوم کی رہنمائی کرتا ہے اور فتح سے ہمکنا ر کرسکتا ہے۔ لڑنے و مرنے کے لیے دنیا کے تمام اقوام لڑے اور مرے ہیں لیکن کامیابی ان قوموں کی نصیب میں آئی ہے جو حالات کا اداراک رکھتے تھے اور جو بے غرض ہو کر اپنے وطن کے لیے بہادری سے لڑتے تھے ان میں یہ صلاحیتیں لیڈروں کی کوششوں سے ہی آتے ہیں۔ دلیری وراثتی نہیں بلکہ یہ آپ کے سماجی حالات کے تحت آپ کا سماجی شعور ہوتا ہے جو کوئی آپ کو دیتا ہے۔ افغان سے لیکر آسڑیلیا کے آبارجنیز تک سب لڑتے رہے ہیں اور سب ایک سوچ کے تحت لڑے ہیں۔ جب اس سوچ کے مقاصد کا تعین صاف و واضح ہونے کے ساتھ آپ کے قومی مزاج و حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا ۔تو کامیابی آپ کے ہاتھوں میں ہوگی اور یہ کامیابی سے ہمیشہ لیڈروں کے ذریعے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔مارکس کے تھیوری میں حالات کے ساتھ تبدیلی لانے کے بعد ہی لینن نے روس کو سپر پاور بنانے میں کامیاب ہوا۔ہوچی من کے ذہنی صلاحیتوں نے ویت نام کو نئی زندگی دی۔ نیلسن منڈیلا کی فکر و فلسفے نے جنوبی افریقہ کے سیاہ فاموں کو معاشرے میں برابری کا درجہ دینے میں کامیاب ہوا ڈاکٹر چی و فیڈل کاسترو کے فکر نے کیوبا کو نئی زندگی دی۔ ماوزے تنگ ہو یا کہ کم ال سنگ ہویا عمر مختار ہو سبھی اپنے قوموں کو زندہ کرنے کے ساتھ انھی دنیا کے ساتھ ہم قدم کر کے چلے گئے۔ ان کے قربانیوں کے بعد جو حالات انکے وطن کی ہے یا آنے والے وقتوں میں ہوگی یہ تو وقت حاضر کے رہبر وں پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک باصلاحیت لائق و فائق ہیں کہ دنیا کے ساتھ چل کر اپنے وطن کو نئے حالات کے ساتھ معاشی سیاسی ثقافتی ترقی دے سکیں گے گزرے ہوئے کرداروں نے تو اپنا حق ادا کیا اب وقت حاضر کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے قوم و وطن کو کس ڈگر پر لے جائے گا۔جوکامیاب ہوئے یا جو کامیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ان سے بھی وقت و حالات قوم و وطن دوراندیش معاملہ فہم مخلص ایماندار نیک نیت ہونے کا تضاضہ کر رہا ہے اگر ان میں یہ خوبیاں نہ ہونگیں۔،تو کامیابی ناممکن ہے کیونکہ تحریک زندہ و متحرک لوگوں کے بیچ ہی زندہ رہ سکتا ہے اور اگر ان متحرک لوگوں میں خوبیوں سے زیادہ خامیاں ہونگے تو یہ ممکن ہے کہ وہ کامیابی کا سورج نہ دیکھ سکیں، جس طرح ریڈ انڈینز و ابارجنیز ہے جنکی قومی شناخت تباہی کے آخری مرحلے میں ہے ۔ چیف سیٹل و مارٹر لوتھر کنگ کے لیڈر شپی نے آج ریڈ انڈینز کو موت و زیست کی زندگی دی ہے نہ کہ آج وہ اس مرحلے میں بھی نہ ہوتے ،اسی تناظر میں بلوچ قومی جہد ہے جو ابھی تک مختلف مراحل سے گذر رہی ہے انگریزکی غلامی سے آزادی کے بعد نصف صدی سے آزادی کی تحریک کامیابی حاصل نہ کرسکی اسکی دنیا کے حالات و سوچوں میں تبدیلی کے علاوہ سب سے بڑی کمزوری یہ رہی، کہ بلوچ جہد کو باصلاحیت لائق و فائق لیڈر نہ ملے ، جو لیڈر بنے یا بنائے گئے، وہ اس لائق نہیں تھے کہ اپنے وطن کو آزاد کر سکے۔کیونکہ لیڈر اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر قومی رہنمائی کے حق دار ٹھہرے لیکن اس قابل نہ تھے کہ وہ کسی قوم کی رہنمائی کر سکیں بلکہ وہ قبائلی رہبر کے طور پر بلوچ جہد کا حصہ بن کر اپنے قبیلے کی حمایت پر لیڈر قرار پائے،سردار عطااللہ سے لیکر نواب خیر بخش و شہید نواب اکبر خان بگٹی تک سارا سفر اسی سلسلے کا رہا، اسی بنیاد پر ادارے اس سطح پر تشکیل ہی نہیں پائے جو سیاسی حوالے سے قومی ہو سکیں بلکہ وہ ہمیشہ سے ہی قبائلیت کے زیر اثر رہے ، اگر اداروں میں کبھی کوئی اختلافی رائے سامنے آتا تو اس رائے کو قبائلی اپروچ کے تحت دبایا جاتا، اور سیاسی اداروں کا گلہ گھونٹ دیا جاتا،اور قبائلی اپروچ و روایتی سوچ کے تحت ہی ہر قومی مسئلے کا حل ڈھونڈنا جاتااور دوستی قبائلی سوچ کے تحت ہی سامنے آتا ‘وقت و حالات کے ساتھ نہ اداروں کو ترقی دی گئی اور نہ اپنے سوچ میں تبدیلی لائی گئی بلکہ جو روایتی سیاست کا حصہ تھے وہ اسی طرح روایتی انداز فکر کے ساتھ اپنی جہد کرتے رہے اسی بنیاد پر جہد کی شکل کو تبدیل ہی نہ کرسکے،یہ تو قبائلی سوچ سے منسلک لوگ تھے جبکہ دیگر جو قبائلی نہ تھے وہ لیڈر شپ زیادہ تر بی ایس او کے پلیٹ فارم سے سامنے آیا، وہ ایوب جتک سے ڈاکٹر اللہ نظر تک سبھی سیاسی سوچ کے ساتھ سامنے آئے، ان میں قبائلیت اپروچ نہ ہونے کے برابر تھا ۔ لیکن یہ اپنی صلاحیتوں سے زیادہ قبائلی اشخاص کے ساتھ تعلقات کے تحت لیڈر بنے، اور کسی قبائلی رہنما یا معتبر سے نزدیکی کی بنیاد اور اسکے سوچ کے حمایتی کے طور رہنما قرار پائے، بی ایس او سے ایک حلقہ اینٹی سردار کے طور پر بلوچ جہد میں کافی عرصے تک متحرک رہا اور پھر یہی سوچ قومی جہد کا حصہ بنکر سیاسی پارٹی کی صورت میں سامنے آیا،اور موجودہ وفاق پرست پارٹی کی صورت میں موجود ہے، بی ایس او کے تمام گروپوں سے منسلک سیاسی ورکراں و بی ایس او کے لیڈراں وقت کے ساتھ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہے ‘سوائے کچھ کے جو کہ قومی جہد آزادی کے ساتھ اسی طرح منسلک رہے باقی سبھی وفاق پرست بنے یاریاستی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے کے بعد بلوچ جہد سے ہی انکاری رہے۔ اگر حقیقی بنیاد پر نظر ڈالیں تو 1967 ء کے بعد سے لیکر بی ایس او کے پالیسی ساز ادارہ سینٹرل کمیٹی و کابینہ ممبران کی تعداد شمار کی جائے تو وہ ہزاروں کی حساب میں ہوگی، تو پھر یہ سارے لوگ گئے کہاں؟ جو آزادی کے دعویدار تھے کیا وہ حقیقی طور آزادی کے لیے جہد کررہے تھے یا وہ حادثاتی تھے یا وہ مفاد پرست تھے۔ انھیں مفاد پرست کہیں موقع پرست جو بھی نام انھیں دیا جائے ، اس سے کوئی انکار ہی نہیں کرسکے گا۔جہدکے کارواں میںیہ سارے لوگ جو آج نیشنل پارٹی بی این ایم عوامی بی این پی مینگل یا دیگر سرکاروں اداروں میں سرکاری فرائض سرانجام دے رہے ہیں،انھوں نے وقتی فاہدے حاصل کرنے کے بعدجہد سے کنارہ کش ہوئے اور ساتھ ساتھ جہد کے خلاف پروپیگنڈہ بھی کرتے رہے،اور جہد کو آج بھی ڈی کریک کرنے کی کوششوں میں ہے۔ اگر جہد کی ان کمزوریوں کا اسی وقت ادرا ک ہوتا تو آج بلوچ جہد کے حالات ہی مختلف ہوتے، یہ اداراک لیڈر شپ کا ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں سے چار قدم آگے دیکھ سکتا ہے اور انکی رہنمائی کر سکتا ہے جب رہنما ہی چور ہو توقومی جہد کی حالت ہی نیم مردہ حالت میں ہوگی، سٹوڈنٹ لیڈر شپ سے لیکر موجودہ جہد کی حالت بھی قابل تعریف نہیں۔ کیونکہ جو لوگ جہد میں بحیثیت رہنما اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ بھی انھی اداروں سے نکلے ہیں اور ان میں آج وہی روایتی عناصر موجود ہیں،اور ابھی بھی جہد کو اسی روایتی ڈگر پر لے جانے کی کوششوں میں ہیں۔ نئے خیالات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ‘کھلم کھلا بحث و تنقید سے انکاری یہ افراد آزادی کے اس سوچ کی نفی کر رہے ہیں جس پر وہ عمل پیر اہیں۔ اس طرح بھی نہیں کہ یہ لوگ اتنے ناسمجھ ہیں۔ آزادی کے فکر سے وابستہ یہ لیڈر شپ جس سوچ کے ساتھ جہد میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ بھی بی ایس او سے منسلک لیڈر شپ رہی ہے اور اینٹی سردار گروپ سے ان کے رشتے رہے ہیں۔ میرا اشارہ ڈاکٹر اللہ نظر کی طرف ہے۔اور دوسری طرف اپنے دادا نواب اکبر خان کے پوتھے براہمدغ بگٹی ہے جو کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد ہی بلوچ سیاست میں حادثاتی طور نمودار ہوئے۔ اور تیسری طرف حیر بیار مری جو نواب خیر بخش مری کے صاحب زادے ہیں۔ اور بیسوی صدی کے آخری عشرے میں اس جہد کی شروعات کا سہرا بھی ان کے سر سجتا ہے۔ اور مڈل کلاس لیڈر شپ سے نکلے زیادہ تر لوگ ریاستی اداروں میں ملازم و وفاقی سیاستدان بنے ۔دونوں طبقوں سے لیڈر شپ میں آئے لوگ قابل تعریف نہیں رہے۔ لیکن بیسوی صدی کے آخر میں شروع کرنے والے جہد میں جس انداز سے روایتی انداز کو تبدیل کرکے نئے خیالات و اداروں کے نئے شکل کو ترتیب دی گئی تو اسی وقت بھی روایتی جہد کے حمایتی افراد نے اسکی مخالفت کی تھی۔ انھیں وقت و حالات کے تحت سنبھلنے کا موقع دیا گیا کہ ان کو تحریک کی بھٹی میں کھلم کھلا چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ اپنے صلاحیتوں کے تحت کردار و عمل سے اپنے آپکو ثابت کرسکیں۔ جب مکمل ان صلاحیتوں و انکی قابلیت کو قومی تحریک نے پرکھا تو وہ زیرو کے زاویے پر آگئے جو ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ انھیں وہی روایتی احترام و معتبری کے جانے اندیشہ رہا کہ موجودہ سوچ کے عامل افراد کے ساتھ ٹکراو میں آگئیں ۔ اور اسی سوچ نے انھی ایک علیحدہ خیال سے ہم آہنگ کر لیا۔ اور وہ پرانے تجربہ کار لیڈر کے طور اپنی پہچان بنانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ اور اسی طرح مڈل کلاس جس کے بارے میں لینن نے کہا تھا۔ کہ یہ مفاد پرست طبقہ ہے ‘‘اور اس طبقے نے خود کو مضبوط کرنے کے بعد اپنی علیحدہ حیثیت کے لیے میدان میں ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ کیونکہ ان کی فطرت قومی نہیں بلکہ انکی فطرت میں مفادپرستی کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوتی ہے اور حادثاتی لیڈر شپ اپنے بزرگوں کے قربانیوں کے ذریعے بلوچ جہد میں اپنی علیحدہ دنیا بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اسطرح بلوچ لیڈر شپ تین حصوں میں اورجہد بھی تین حصوں میں منقسم ہوئی۔ ایک حادثاتی۔ ایک مڈل کلاس اور ایک غیر روایتی۔ اسطرح حادثاتی و مڈل کلاس لیڈر شپ آج تک انھی طریقوں پر کاربند ہیں جو بلوچ جہد میں ابتداسے موجودرہے ہیں۔ آج پارٹی پالیٹکس جلسے جلوس سے لیکر لیڈروں کی تصاویر کی نمائش تک سب بلوچ جہد کی اس روایت کا حصہ ہیں۔ جو کہ پچاس سال سے بلوچ لیڈر شپ ختم نہ کرسکی۔ اور ختم نہ کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ انکی لیڈر ی انھی روایت پسندی سے چلتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف روایات کے منافی عمل کرنے والے لیڈرشپ نے شروع سے ہی انھی اعمال کو مدنظر رکھا تھا اور جہد کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی تھی۔ اسی وجہ سے تما م روایات کو وقت کیساتھ اپنے اداروں سے آہستہ آہستہ نکالتے رہے جو روایت پسند تھے وہ غیر روایتی سیاست سے علیحدہ ہو کر مفاد پرستی و گروہیت کا حصہ بن گئے۔ اور تحریک کے مشکلات پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے لگے۔ جبکہ غیر روایتی سیاست سے تعلق رکھنے والے شروع سے ہی اپنے لیڈر شپ سے لیکر اداروں تک سب کو مخفی رکھا ،تاکہ جہد میں پھر روایتی سیاست کا اثر نہ رہے کیونکہ جب لیڈرشپ و اختیار تقسیم ہونگے تو اختیار و لیڈر ی کا شوق بھی اپنے ساتھ منفی اعمال کو جگہ دے گا، اس بنیاد پر تمام ادارے اپنی مضبوط شکل کے ساتھ موجود رہے لیکن انکی لیڈرشپ مخفی رہی اورلیڈر شپ بھی وقت کے ساتھ بدلتا رہا بلکہ قابلیت و صلاحیت کے بنیاد پر اوپر نیچے ہوتے رہے اور تحریک میں دیگر سے زیادہ کم نقصان اٹھائے اور کامیابی بھی حاصل کرتے رہے اور اس سوچ کے ساتھ اس طرح جہد میں تین طرح کے سوچیں میدان میں آگئے ہیں۔ اور انکی شکل بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی۔ بلوچ جہد کو روایت پسند طرز سیاست سے علیحدہ کر کے نئے شکل کے ساتھ سامنے لانا بھی کوئی باصلاحیت کردار ہی کرسکتا ہے نہ کہ کمزور اعصاب کے مالک لیڈر یہ نہیں کرسکتے۔ اب اگر ہم اپنے جہد میں موجودہ منظر نامے کو دیکھیں۔ تو سوچیں مختلف شکلیں اختیار کر چکی ہیں۔ اور آگے کوئی اور شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ جس طرح بی این پی مینگل کی خودارادیت و نیشنل پارٹی کے صوبائی خودمختاری ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جو آزادی کے دعویدار تھے اور جہد کار رہے تھے ۔ تحریک آزادی کی شدت نے بھیڑکی کال میں بھیڑیے کی صورت کو ظاہر کردی ہے۔ اب ہم اپنے آزادی پسندوں کے بیچ کے اصل روح کو دیکھیں۔ تو روایتی و غیر روایتی طرز سیاست و جہد میں بھی وہی عمل دیکھنے کو ملے گا۔ کسی بھی قومی پروگرام پر اپنے روایتی طرز سیاست کو عاوی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح بلوچستان لبریشن چارٹر کے حوالے سے باربار یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک فرد نے بنایا ہے کوئی ادارہ نہیں‘کیونکہ ان کے خیال میں صرف ادارے کا نام میڈیا میں آنے سے ہی وہ ادارہ قرار پاتے ہیں۔ وہ آزادی حاصل کرنے کے لیے بھی انھی روایات پر کے چلنے کی کوشش میں ہے جو کہ پارلیمانی طرز سیاست کے طریقہ کار ہیں۔ اسی بنا ء پر بی ایس او سے لیکر بی این ایم و بی آرپی کبھی اپنے سیشن و پروگراموں کو عوامی سطح پر کرنے کے اعلانات کرتے ہیں لیکن بعد میں انڈر گروانڈ ہو جاتے ہیں۔ وہ اس سراسمیگی کا شکار ہے کہ وہ کریں تو کیا۔ جس طرح بی ایس او آزاد نے سیشن کے بعد اپنی پوری لیڈر شپ کو انڈرگروانڈ کردیا لیکن کچھ مہینے کے بعد انکی لیڈر شپ خود بخود نمودار ہوتی گئی انھیں یہ تک نہیں معلوم تھا۔ کہ کس قسم کے جہد کی کوشش میں ہے ۔ اگر کسی طلباء تنظیم کا یا کسی مسلح یا کسی غیر مسلح تنظیم کے لیڈر و ورکر کو جب اپنے جہد کا ہی ادراک نہ ہو تو وہ کس طرح لیڈری کا اہل قرار پاسکتا ہے یا وہ کس طرح حقیقی جہد کرسکتا ہے۔ لازم ہے وہ وہی کرے گا جو اس کا دل چاہے گا۔ اور لطیف جوہر کے بھوک ہڑتال سے لیکر ڈاکٹر اللہ نظر کے اپنے سرمچاروں کی تعداد بتانے تک سب اسی روایتی سوچ کا حصہ ہے کہ انھیں ابھی اپنے دشمن کی طاقت و اپنے جہد کے طریقہ کار تک کا اندازہ نہیں۔اسی بنیاد پر بی این ایم و بی ایس او آزاد سے لیکر بی آرپی تک سبھی پارٹیاں غیر مسلح محاذ میں بھی کچھ کرنے کے لائق نہیں رہے۔ یہاں تک کہ اپنے پارٹی کے گرفتار کارکنان تک کچھ نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان کے فیملی والے اپنے لوگوں کے لیے علامتی بھوک ہڑتا ل کررہے ہیں۔ جب پارٹی یا تنظیم کی لیڈر شپ کی حالت اس سطح تک ہو تو وہ کسی بھی صورت آزادی حاصل کرنے کے لائق نہیں رہیں گے بلکہ سیلاب کے بہاو میں بہہ کر کسی لکٹری کا سہار ا لیکر کنارے پر اپنی دنیا آباد کرے گا۔ جس طرح ماضی کے آزادی پسندوں نے کیا۔اب تحریک کو کوئی مضبوط قابل و لائق شخص ہی خط مستقیم پر لے جا سکتا ہے اور یہ کام روایتی سیاست سے انکاری اور سائنسی اصولوں پر چلنے والا کوئی ادارہ ہی کرسکتا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0