بلوچ خواتین و بچوں کی پاکستان کےہاتھوں اغوا گمشدگی کی تسلسل ہیں :حیربیار مری


لندن (ہمگام نیوز) بلوچ قوم دوست رہنماء حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نام نہاد مذہبی قومیت کی بنیاد پر بننے والی پاکستان کی جبر و استبداد اور مذہبی انتہاء پسندی پر مبنی پالیسیاں نہ صرف مذہبی رجعت پرستی و شدت پسندی کو ہوا دینے کا موجب ہیں، بلکہ اسلامی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے مذہب کی آڑھ میں پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیاں اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کیلئے دنیا میں ایک گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ بلکل اسی طرح کا ایک گھناؤنا کھیل سوشلزم کی بنیاد پر ابھرنے والی سوشلسٹ اصولوں کے دعویدار چین کے مقتدرہ و حکمران کمیونزم کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے دنیا میں اپنے معاشی مفادات اور توسیع پسندانہ عزائم کے تحت کھیل رہے ہیں۔ حیر بیار مری نے کہا کہ جناح کی زیر قیادت سامراجی حربوں و مفادات کے تحت اسلام کے نام پرجس پاکستان کو وجود میں لایا گیا۔ وہ آج پوری دنیا کیلئے ایک ناسور بن چکا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک ملٹری اسٹیبلشمنٹ و حکمران اسلام کے نام کو اپنے مفادات و مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اور مذہبی دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔ طالبان اور دوسرے گروہ، جو پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔اس تناظر میں اگر گزشتہ چند مہینوں کی پاکستانی سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیا جائے تو کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ ضیاء کے دور میں پاکستانی آئین میں شامل کئے گئے اسلامی شقوں میں تبدیلی کی بات کر نے پر پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی ایماء پر جماعتہ الدعوت جیسی جہادی تنظیم نے امریکہ اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ان شقوں کے تحفظ کیلئے سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی دیوبندی، بریلوی اور جماعت اسلامی والے میدان میں کود پڑے۔ جبکہ پاکستانی مفادات کے پیش نظر اس ملک کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں کے ساتھ ان سب اسلامی تنظیموں کو چین کے ایغور مسلمانوں پر جبر و استبداد اور مذہبی عبادات پر پابندی لگانے، زبردستی نماز و قرآن پڑھنے سے روکنے کے عمل پر سانپ سونگھ جاتا ہے۔ جو پاکستان کے دوغلے پن کا کلم کھلا اظہار یے۔ جبکہ یہی چینی حکمران ایک جانب سنکیانگ صوبے میں مسلمانوں پر جبر کرتے ہیں، اور دوسری جانب اقوام متحدہ میں جیش محمد اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے والے انڈیا کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلکل اسی طرح 1949 میں ماوزے تنگ کی زیر قیادت جس سوشلسٹ چین کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1979 کے بعد چین سوشلزم کے بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر سرمایہ دارانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی راہ پر گامزن ہوا۔ اور آج ”ون بیلٹ، ون روڈ” منصوبے کے ذریعے چین اقتصادی طور پر ایشیاء، یورپ اور افریقہ کا مرکز بننے کی تگ و دو میں ہے۔ میری ٹائم سلک روڈ میں چین ایشیاء افریقہ اور یورپ میں بندرگاہوں اور جہاز رانی کا نیٹ ورک قائم کر رہا ہے۔ اور اپنے جنوبی ساحل کو وسطی ایشیاء، مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملانے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ بھی اِسی میری ٹائم سلک روڈ کا حصہ ہے۔ جو چینی سوشلزم کے دوغلے پن کا پول کھول رہا ہے جبکہ دوسری طرف حیربیار مری نے سعودی عرب کی معتدل اسلام کی واپسی کی کوششوں کو خطے کے لیے مثبت قرار دیا انھوں نے کہا کہ بلوچوں کی بڑی تعداد خلیجی ممالک میں زندگی بسر کررہے ہیں اور ان ممالک کا تاریخی طور پر بلوچوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں انھیں خود قابض قوتوں نے ایک قوم ہوتے ہوئے کئی ممالک میں تقسیم کیا ہوا ہے اس لیے خلیجی ممالک ایرانی اور پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بلوچوں کی اخلاقی سفارتی مدد کریں کیونکہ پاکستان ،ایران اور چین خطے میں اپنے مفادات کی خاطر اسلامی اور سوشلزم کے لبادے میں اصل میں اپنی نوآبادیاتی عزائم کی تکیمل کر رہے ہیں۔ سوشلزم کا نظام استحصالی سسٹم کے خلاف لایا گیا تھا لیکن جہاں تک چین میں سوشلزم کا تعلق ہے تو وہ صرف اقتدار اور حکمرانی کے لیے ہے اور اقتصادی طور پر چین ایک سامراجی ملک ہے ۔ چین سوشلزم کو خطے میں اپنی توسیع پسندی اور قبضہ گیریت کو دوام دینے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر لاطینی امریکہ سے لے کر افریقہ اور اشیا تک بالواسطہ اور بلاواسطہ استحصال کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ اسی طرح پاکستان اسلامی ملک ہونے کا دعویدار ہو کر بلوچ اور دیگر اقوام پر زبردستی قابض ہے ۔ حیربیار مری نے کہا کہ یہی دونوں دوغلے پن کے شکار ممالک مل کر بلوچ سرزمین پر گرفت مضبوط کرنے اور بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے کیلئے بلوچ کی نسل کشی کر رہے ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچوں کے خواتین اور کمسن بچوں کی پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا اور گمشدگی اس سلسلے کی تسلسل ہیں جہاں پاکستانی خفیہ ایجنسیاں بلوچ قومی تحریک آزادی سے بوکھلا کر اب بلوچوں کے کمسن بچوں کو اٹھا کر غائب کر رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ یہ بچے بڑے ہوکر پاکستان اور چین کے لیے بلوچستان کی زمین تنگ کردیں گے۔

چین پاکستان سے گٹھ جوڑ کے ذریعے سی پیک کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ جو کہ کاشغر سے شروع ہوکر گوادر کی بندرگاہ پر ختم ہوگا۔ جس سے میری ٹائم سلک روڈ منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح بلوچ سرزمین کو ہڑپ کرنے کے درپے ہے۔ اور پاکستان اپنے مفادات کے تحت اس سلسلے میں بلوچ کی مرضی کے بغیر سب کچھ چین کی جھولی میں ڈال رہا ہے۔ جو بلوچ قوم کو قابل قبول نہیں ہے۔ اسی لئے پاکستان انسانی حقوق کی سنگین پامالی کرتے ہوئے چین کی گٹھ جوڑ سے بلوچ قوم پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے