بلوچ خواتین کا پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغواء

پیر 23 نومبر, 2015

بلوچ قومی تحریک جسے کسی زمانے میں تین سرداروں کی تحریک کا نام دیکر دشمن ہمیشہ اسکی اہمیت اور وسعت گٹھانے کی کوشش کرتا تھا ، گذرتے وقت کے ساتھ اپنی ہیت مکمل طور پر بدل کر آج مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کا ایک مربوط جدوجہد بن چکا ہے ۔ مینگل ، مری اور بگٹی تینوں کے نواب بشمولِ باقی تمام بلوچ قبائل کے سردار آج قابض سے ہم کوپہ ہیں لیکن اس کے باوجود یہ تحریک امیر و غریب ، خواندہ و نا خواندہ ، جوان و بوڑھے ، عورت و مرد کے تفریق کے بغیر اور سب کے مربوط جدوجہد سے آگے کی جانب گامزن ہے ۔ موجودہ قومی تحریک میں بلوچ جدوجہد کے تاریخ کے کسی بھی مرحلے سے زیادہ بلوچ خواتین کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔ بلوچ خواتین کے اس کردار سے خائف پاکستان فوج گذرتے وقت کے ساتھ اپنے جبر و بربریت کا رخ بلوچ خواتین کی طرف موڑ رہا ہے ، جیسے گاہے بگاہے بلوچ خواتین کا اغواء ، خواتین کے اسکولوں کو بلوچستان میں اپنے لے پالک مذہبی شدت پسندوں کے ذریعے سے بند کرنا اور بلوچ بچیوں کے چہروں پر تیزاب پاشی کرنا وغیرہ ۔ اب اسی تسلسل میں شدت لاتے ہوئے گذشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے بولان میں بڑے پیمانے کے ایک فوجی آپریشن کے دوران جہاں درجنوں بلوچ مرد اغواء کے لاپتہ کردیئے گئے وہیں 40 سے زائد بلوچ خواتین کو بھی اغواء کیا گیا جو تادم تحریر 15 دن گذرنے کے باوجود لاپتہ ہیں ۔
اہل علاقہ کہتے ہیں کہ اغواء کیئے گئے خواتین کی تعداد درجنوں میں ہیں لیکن بکھرے آبادیوں اور جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے اب تک نا پہاڑی علاقوں تک کسی کی مکمل رسائی ہوسکی ہے اور نا ہی وہاں سے خبر کا کوئی ذریعہ ہے لیکن اسکے باوجود مغوی بلوچ خواتین کے مندرجہ ذیل تفصیلات جمع ہوچکے ہیں، اغواء ہونے والوں میں در بی بی زوجہ وشو چلگری مری ،گل پری زوجہ دلوش مری تین بیٹیوں سمیت بخت بی بی زوجہ دلوش مری ایک بیٹے و تین بیٹیوں سمیت بی بی زر بخت زوجہ رحم دل مری چار بیٹوں سمیت بی بی زرمیدو زوجہ گزو مری ،ھتا بی بی زوجہ علی مری دو بیٹوں و دو بیٹیوں سمیت جار بی بی زوجہ کالو مری سترہ سالہ بیٹی بان بی بی اور چھ معصوم بچوں سمیت بی بی وائری زوجہ علی مری گل بی بی زوجہ تنگو مری دو بچوں سمیت جان بی بی زوجہ لال محمد مری، بی بی حانی زوجہ علی بخش مری 1 بیٹی سمیت بی بی نور بانو زوجہ ملا نظر محمد دو بچوں سمیت شامل ہیں اس دوران وشو مری کے 80 سالہ معذور والدہ بی بی ساھتو کو اغواء کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بناکر شہید کرکے اسکی لاش وہیں پھینکی گئی ۔ بلوچ خواتین کے اغواء کے یہ واقعات زیادہ تر بولان کے علاقے لکڑ ،گوزو،پلکڑ، سہر کمب ، بزگر وغیرہ میں ہوئے ہیں۔
بلوچ خواتین کے اغواء کے یہ واقعات انسانی حقوق اور عالمی جنگی اصولوں کی بدترین خلاف ورزیاں ہیں ہی ساتھ ساتھ یہ بلوچ روایات کی بھی بدترین پامالی ہیں۔ بلوچ سماج میں خواتین کو ایک بہت بڑی اہمیت اور عزت حاصل ہے ، خاتون یا بچے دشمن کے ہی کیوں نا ہو لیکن دوران جنگ بلوچ حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ انہیں کسی قسم کی کوئی گزند نا پہنچے ، لیکن جس طریقے سے ان با عزت بلوچ خواتین کو پاکستانی فوج نے گھروں سے اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے اس نے بلوچ سیاست و بلوچ سماج میں ایک شدید غم و غصہ پیدا کردیا ہے ۔ بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس واقعے کے ردعمل میں اعلان کیا کہ جس طرح سے بلوچ روایات کو روند کر بلوچ خواتین کو اغواء کیا گیا اس کے بدلے میں اب بلوچ لبریشن آرمی بھی دوران جنگ دشمن کے عورتوں و بچوں کا خیال رکھے بغیر ان پر حملہ کرے گا ، بی ایل اے کے اس دھمکی کے دو دن بعد احمد وال میں ایف سی کیمپ جس میں ایف سی اہلکاروں کے خواتین و بچے بھی موجود تھے پر چاروں طرف سے حملہ کیا گیا جس میں درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے ، اس کے علاوہ تمام بلوچ سیاسی جماعتوں نے اس عمل کی شدید مذمت کی اسی مد میں جرمنی اور برطانیہ میں بی بی سی کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاھرے ہوئے ۔ اس واقعے کے اثرات پورے بلوچ سماج میں سراسیمگی اور غم و غصے کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر ایک بڑے تحریک کی صورت اختیار کرنے کو ہیں ۔ بلوچ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ سماجی رابطے کے ویب سائٹوں پر #SaveBalochWomen کے نام سے ایک بھرپور تحریک چلارہے ہیں جسے نا صرف بلوچ عوام بلکہ عالمی برادری کی طرف سے بھی توجہ حاصل ہورہا ہے ۔
ایک طرف بلوچستان میں سیاسی و سماجی سطح پر شدید بے چینی و اضطراب پایا جارہا ہے لیکن دوسری طرف اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں ، حقوقِ نسواں کے تحریکوں اور عالمی میڈیا کی مجرمانہ حد تک خاموشی بھی مایوس کن رہی ہے ۔ جس سے تمام بلوچ سیاسی جماعتیں نوٹس لینے اور خاص طور پر بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی دورہ کرنے کا اپیل کرچکا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0