بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف بی ایس او کا کراچی میں ریلی

اتوار 23 نومبر, 2014

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے زیر اہتمام بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے چھ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور بلوچستان بھر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیخلاف آرٹس کونسل تا کراچی پریس کلب احتجاجی ریلی نکالی گئی
کراچی (ہمگام نیوز )بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے زیر اہتمام بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے چھ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور بلوچستان بھر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیخلاف آرٹس کونسل تا کراچی پریس کلب احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں نوجوان، خواتین و بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے رکھے تھے جن پر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیو ں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں اور بلوچستان بھر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیخلاف شدید نعرے بازی شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں نے کہا کہ گذشتہ روز ڈیرہ بگٹی کے علاقے سے فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چھ بلوچ خواتین کو جبری طور پر اغواہ کرکے لاپتہ کردیا فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکار وں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر عام آبادیوں پر حملہ آور ہوگئے آبادیوں پر شلنگ اور تشدد کرتے ہوئے گھروں میں گھس کر ننگ و ناموس کو پامال کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایابلوچستان میں ریاستی فورسز اور خفیہ اداروں کی جانب سے بلوچ خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے عام آبادیوں میں کاروائیوں کے دوران اکثر بیشتر خواتین ہی نشانہ بن جاتے ہیںبلوچ خواتین کی قتل و جبری گمشدگیوں کے ساتھ خواتین کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے اسکولوں پر حملے اور تیزاب پاشیوں کے بڑھتے واقعات میں تشوویشناک حد تک اضافہ انتائی سنگین مسئلہ ہے ریاستی ادارے ایک منصوبے کے تحت بلوچ خواتین کو نشانہ بنارہی ہیں جس کی سب بڑی وجہ سیاسی سرگرمیاں ہے بلوچستان میں جاری بلوچ قومی حقوق کی جدوجہد میں بلوچ خواتین سیاسی میدان میں موثر و نمایاں کردار اداکررہے ہیں بلوچ سماج کے حوالے سے ریاستی ادارے ہر وقت غلط بیانی اور منفی پروپیگنڈے کرتے تھے کہ بلوچ سماج میں عورتوں کو اپنے حقوق حاصل نہیں ہے لیکن بلوچ خواتین کی تیزی سے قومی تحریک میں شمولیت اور برابری کی بنیاد پر سیاسی جدوجہد میں کردار ادا کرنے سے ریاستی اداروں کی نیندے اُڑ گئی ہے بلوچ خواتین کی سیاسی جدوجہد اس بات کو واضح کرتی ہے کہ بلوچ سماج میں خواتین و مردوں یکساں حقوق حاصل ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ بلوچ قومی تحریک طبقہ،نسل ،قبائیل ، مذہب سے بالاتر امن ، انصاف اور آزادی کی ترقی پسند تحریک ہے رہنماوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے واقعات میں روز بہ روز شدت کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے بلوچ خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعا ت تسلسل کے ساتھ جاری ہے مگر اس کے باجود اس تمام تر صورتحال میں اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کے تنظیموںاور مہذہب و انسان دوست ممالک واقوام کی خاموشی ہمارے لمحہ فکریہ ہے ایک انسانی سماج میں انسان جانوروں کی طرح قتل ہورہے ہیں لیکن انسانیت کے نام نہاد علمبرداروں نے خاموشی کا روزہ رکھا ہے ہم کئی مرتبہ واضح کرچکے ہیں کہ عالمی ممالک کی امداد کو ریاست بلوچ نسل کشی میں استعمال کررہا ہے ایک طرف ریاست بلا کسی خوف کے خطرناک حد تک بلوچ نسل کشی میں مگن ہے تو دوسری طرف وہ ممالک بلوچ نسل کشی کیلئے زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کررہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کے وہ ممالک جو ریاست کو امداد کررہے ہیں وہ بھی بلوچ نسل کشی میں برابر کے شریک ہے رہنماوں نے آخرمیں کہا کہ ہم دنیا کے وہ تمام انسانیت دوست اور انصاف پر مبنی سماج اوردنیا کو امن کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھنے کے خواب رکھنے والے اقوام سے اپیل کرتے ہیں کہ جو ریاست کو معاشی و عسکری امداد فراہم کررہے ہیں وہ ریاست کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے اپنی امداد کو بلوچ نسل کشی کیخلاف استعمال نہ ہونے سے مشروط کریں اور اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں سمیت تمام مہذہب ممالک بلوچستان میں بلوچ خواتین کے نشانے بنانے اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیکر بلوچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں عملاً کردار ادا کریں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0