بلوچ خواتیں اور بچوں کی اغوا کے واقعات کاونٹر انسرجنسی کا حصہ ہیں۔ بلوچ گہارموومنٹ

پیر 24 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک بیاں میں ڈیرہ بگٹی سے مبینہ طور پر چھ بلوچ خواتین کی جبری طور پر اغواءکو ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہاکہ ریاست بلوچستان میںانسانی حقوق کی بدترین پائمالیوں میں ملوث ہے اس سے قبل ہزاروں نوجوانوں کو اغواءکرکے دوران حراست شہید کردیا گیا اور آج بھی ہزاروں کے تعداد میں بلوچ فرزند ان کی تحویل میں ہے اور انہیں شدید جسمانی اور زہنی ازیت سے گزارا جارہا ہے ترجمان نے کہاکہ ڈیرہ بگٹی سے خواتیں اور بچوں کی اغواءاور عام شہری آبادیوں پر دھاوا بولنے کے واقعات کاﺅنٹر انسرجنسی کا حصہ ہے ریاستی ادارے بلوچ قومی کی آزادی کی جدوجہد اور آزادی کے لئے عوامی شعور و بیداری کے سلسلہ کو روکنے کے لئے اس طرح کے مجرمانہ ہتکھنڈے استعمال کررہے ہیں بنگلہ دیش میں بھی یہی ریاست نے جنگی جرائم پر مبنی کاروائیاں کی 30لاکھ سے زیادہ بنگالی فرزندوںکو شہید کیا گیا اور ہزاروں خواتین کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بناکر بے آبرو کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیااور آج ریاست بلوچ وطن میں بھی وہی عمل دہرا کر اپنی روح کو سیاہ کرکے بلوچ نسل کشی کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے نہتے بلوچ آبادیوں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنارہی ہے تاکہ عوامی سطح پر ایک خوف کا سماں پیدا کیا جاسکے لیکن ریاست کہ یہ ہتکھنڈے جس طرح بنگلہ دیش میں ناکام ہوگئے یہاں بھی ناکام ہوں گے بنگلہ دیش میں اسی ریاست نے طاقت اور تشدد کے زور پر بنگالیوں کی قومی غیرت اور جزبہ آزادی کو کمزور نہ کرسکا انہیں بلوچستان سے نکلنے میں بھی دیر نہیں ہوگی ترجمان نے کہاکہ ریاست بلوچ فرزندوں کو شہید کرنے اور بلوچ خواتین کو حراست میں لے کر قومی آزادی کی جدوجہد کو تشدد اور خوف و ہراس کے مکروہ کوششوں سے نہیں روک سکتی اور نہ ہی دہشتگردی اور جارحیت کے بے پناہ کاروائیوں سے آزادی کی تحریکوں کو روکا جاسکتا ہے آج بلوچ قوم کے ماں بہن بھائی اور تمام رشتہ مل کر آزادی کے صفوں کو مضبوط کرکے اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے پیچھے ہٹنے کے لئے کوئی راستہ نہیں راستہ صرف وہی ہے جو مقصد آزادی ہے اور آج یہی شعور اور بیداری دشمن کو نفسیاتی طور پر شکست سے دوچار کردیا ہے اور وہ اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے جرائم پر جرائم کررہی ہے لیکن تاریخ ایسی کوئی مثالی پیش نہیں کرتی کہ جرم کو کو جرم کے زریعہ مٹایا جائے بلکہ اس سے ریاست کے خلاف عوام میں نفرت مزید تیز ہورہی ہے اور بلوچ فرزند ایک کے بعد ایک اپنی بھائیوں کے گرتے لاش کے ساتھ ساتھ تحریک کو اپنی صلاحیتوں سے بلوچ کاز مزید تازہ دم کرکے قوت فراہم کررہی ہے ترجمان نے بلوچ فرزندوں کی حراستی قتل عام اور بلوچ خواتین کی جبری اغواءکے خلاف اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خاموشی کو تعجب خیز قرار دیتے ہوئے ان کی زبان بندی اور میڈیا کی خاموش تماشائی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں جاری ریاستی جارحیت پران کے نیت صاف ظاہر ہے کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف جاری بلوچ نسل کشی اور خونریزی میں کہاں کھڑے ہیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0