بلوچ سیاست پر بیرونی اثرات ،تحریر :تبریز بلوچ


بلوچ جہد اپنی تمام خوبیوں و خامیوں کے ساتھ کھبی منزل کی طرف تو کھبی انجانے صحرا کی جانب اپنے قدم موڑ دیتا ہے نہ جانے اسکے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں غور کرنے پر اندازہ بھی نہیں ہوپاتا کہ کیا ہورہا ہے اور آنے وقت میں کیا ہونے کا گمان رہے گا یا ہوگا بہرحال ہر طرف ایک عجیب و غریب ماحول پھل پھول رہی ہے. کھبی ایک دوسرے کے خلاف تلوارزنی کھبی ایک دوسرے کے لیے ہمدردی تو کھبی ایک دوسرے کے غم میں شراکت داری تو کھبی ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے نہ جانے یہ خود بلوچ کے اندرونی مسائل کے سبب پیدا ہوتے ہیں یا اسکے پیچھے کسی مضبوط طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے کسی کو موڑ کر تحریک میں ہیجانی کیفیت پیدا کر کے بلوچ جہد میں مایوسی کو مزید بڑھانے کا کام کر کے بچی کچی ساکھ کو تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچانے کا ذمہ اٹھا لیا ہے یا شاید بلوچ سیاسی سرکلوں و جماعتوں کی شعوری پختگی یہی ہے کہ وہ کسی چیز کو اسکے حقیقی رخ میں سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور منزل سے زیادہ اپنے ہی گروہی دنیا میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں. حقیقت کیا ہے ابھی حقیقی صورت میں آنکھوں سے اوجھل ہے جو کوئی جو کچھ دیکھنا یا سننا چاہتا ہے اسے وہی دیکھنے و سننے کو ملتا ہے اس سے سے زیادہ اسکی اوقات نہیں ہوتی. وہ یہی ہے کہ حیر بیار مری اتحاد مخالف ہے اس سے قطع نظر کہ حیر بیار مری نے ڈیڈھ سال پہلے اتحاد کے حوالے سے دو شرائط رکھ کر اتحادی کمیٹیاں بنائے. اب اچانک اتحاد و اشتراک کی تیر چلائی گئی ہے حالانکہ پوچھنے و معلومات کرنے پر پتہ چلا ہے کہ یہ اشتراک بی ایل اے نے نہیں کی ہے بلکہ بی ایل اے کے ایک کمانڈر نے تمام تنظیمی اصولوں کو روند کر بی ایل ایف کے ساتھ اتحاد کا یہ کھیل کھیلا ہے لیکن پھر بھی بی ایل اے خاموش ہے شاہد اس بیچ کچھ ہو تو رہا ہے کہ ایک کمانڈر باغی بن رہا ہے آیا اس پر تنظیمی اصول اتنے گراں گزرے یا وہ خود اپنے اعمال و اپنی باتوں کو اصول سمجھتے ہیں ویسے بھی انسان جب کافی عرصے تک ایک پوزیشن پر رہے تو وہ اپنے اندر ایک ایسی خود ساختہ خود اعتمادی کا چادر اوڑھ لیتا ہے کہ پھر وہ اپنے علاوہ کسی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ وہ خود ہی سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھتا ہے اسی طرح دوسرے تنظیموں کے سربراہاں کا حال جو وہ سوچتا ہے وہی درست، جو وہ کہتا وہی حقیقت. اب حقیقت و حقائق کو جو اپنے شعور کے پیمانے میں دیکھتا ہے اسے وہی نظر آتا ہے جو اسکے شعور کا معیار ہے اور وہ اسی کو حقیقی ماں کر اس معلومات پر اکتفا کرے گا نہ کہ وہ مزید حقائق و حقیقت تک پہنچنے کی مزید کوشش کرے گا آاب زرا کھل کر بات کرتے ہیں ڈاکٹر اللہ نظر نے 1 اکتوبر 2016 کو سنگر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی ملک مدد و کمک کرے ہم لینے کو تیار ہیں چاہے وہ سعودی عرب ہو. اب یہی بات حیر بیار مری نے سعودی عرب کے حوالے کی ہے تو وہ گردن زنی کے لائق ٹھہرے جبکہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ملک کی ماضی کی تیس سالہ پالیسیوں پر نقطہ چینی کرنے کے ساتھ ملک میں اصلاحات کرنے کا اعلان کیا ہے اور سعودی عرب کو انتہا پسندی کے چنگل سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا ہے اور اس حوالے سے اسے عوامی حمایت کے ساتھ مغربی ملکوں کی حمایت بھی حاصل ہے اور سعودی اس وقت اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ انتہا پسندی کے خلاف سرگرم عمل قطر و ایران کے حوالے سے سختی سے اپنے موقف پر ڈٹا ہے خصوصا داعش کے حوالے سے اور ساتھ ساتھ اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی رہا ہے اور گزشتہ پچاس سالوں سے سعودی و امریکہ اتحادی رہے ہیں اب ایک طرف ایک مذہبی ملک امریکہ کا اتحادی ہے اور دوسری طرف وہ انتہا پسندی کے خلاف اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہے اور تیسری طرف اپنی ملک کے اندر متعدل اسلام کی تشہیر کر رہے ہیں جہاں تمام مذاہب کو برابری کے ساتھ انسانی حقوق و فنون لطیفہ سمیت دنیا کی مادی ترقی کے ساتھ سعودی عرب کو اسی ڈگر پر لے جارہا ہے اور انتہا پسندی کی پرچار کرنے والے ملک قطر کی ایران کے ساتھ شراکت داری پر سعودی سمیت عرب امارات اکٹھے ہو کر اسکے خلاف کمر بستہ ہیں اور لبنان کے وزیراعظم کا مستعفی ہونا اور ایران پر الزام عائد کرنا کہ وہ خطے میں بدامنی کے ذمہ دار ہے اس بیچ ایران کی انتہا پسندی جو وہ ایک طرف طالبان کو فیڈ کر رہا ہے تاکہ دنیا میں انتہا پسندی کو بڑھاوا دیکر خود کو محفوظ کر سکے پاکستان کے بعد دنیا کا واحد ملک ہے جو ہر خطے میں کچھ نہ کچھ کرنے کے درپے ہیں حزب اللہ ہو یا طالبان ہو وہ ہر طرف جنگ کے بادل منڈلانے پر ہر وقت تیار ہے وہ عرب خطے میں اپنے اثر رسوخ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش میں رہا ہے بحرین میں بغاوت ہو یا لبنان ہو اس کا ہاتھ ضرور رہا ہے اب ان حالات میں ڈاکٹر اللہ نظر یا کہ بی ایل ایف ایران کی پالیسی کا حصہ بن چکے بلکہ اس سے پہلے بھی تھے اب اس تصویر کی دھندلاہٹ اب کم ہو رہی ہے اب وہ اختلافات جو پہلے گراونڈ و وطن میں طریقہ کار انتظامی حوالے سے پیدا ہوئے تھے اب انکی شکل و صورت کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ ایک دشمن کا دشمن دوست قرار پایا جارہا ہے اور یہ سلسلہ اس سے پہلے گراونڈ پر قبائلی معتبرین کے حوالے سے اپنایا جا چکا ہے اور مذہبی لوگوں سے نزدیکی کا ایک کھیل بی ایل اے کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے گروپ کا ہے اور دوسری طرف بی آر اے کا ایک مخصوص گروپ ایران کے خلاف سرگرم عمل جیش العدل کے خلاف پالیسیاں ہیں اور انکے خلاف مکمل جنگ کا اعلان اور یہاں تک کہ انکے بندوں کو پکڑ کر ایران کے حوالے کرنا ایک طرح سے اس گیم کی حقیقت کو آشکار کر رہا ہے کہ قومی جہد کے حوالے سے جو صف بندی بن رہی ہے وہ صف بندی قومی مفادات کی تحفظ سے زیادہ گروہی مفادات کی تحفظ تک ہے کیونکہ بغیر سوچے سمجھے حیر بیار مری کے بیان کے ردعمل میں جو ٹویٹ ڈاکٹر اللہ نظر نے کی وہ کسی ڈکٹیشن کی نشاندہی کر رہا ہے کیونکہ حیر بیار مری نے جس نقطے کا ذکر کیا تھا وہ یہ ہے” سعودی عرب کی معتدل اسلام کی واپسی کی کوششوں کو خطے کے لیے مثبت قرار دیا انھوں نے کہا کہ بلوچوں کی بڑی تعداد خلیجی ممالک میں زندگی بسر کررہے ہیں اور ان ممالک کا تاریخی طور پر بلوچوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں انھیں خود قابض قوتوں نے ایک قوم ہوتے ہوئے کئی ممالک میں تقسیم کیا ہوا ہے اس لیے خلیجی ممالک ایرانی اور پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بلوچوں کی اخلاقی سفارتی مدد کریں” اب اس پر ڈاکٹر اللہ نظر کو کہاں انتہاپسندی کی بھنک لگ گئی کہ حیر بیار مری انتہا پسندوں کی حمایت کر رہا ہے سعودی میں جو نئی حکومت بنی ہے وہ سعودی کی تاریخ میں کئی نہیں ملتی اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے انٹرویو میں کھل کر دنیا سے مدد مانگی ہے اور سعودی کے تیس سالہ خارجہ پالیسیوں کو غلط قرار دے چکے ہیں اب ڈاکٹر اللہ نظر و میر عبدالنبی اسکی مکمل وضاحت بھی ساتھ ساتھ کرتے کہ حیر بیار مری کس طرح انتہا پسندوں کی تعریف کر رہے ہیں جبکہ مغربی ممالک نے سعودی عرب کے اس فیصلے کو سراہا ہے اس سے ظاہر ہے کہ سعودی اپنے پالیسی میں مکمل تبدیلی کا خواہاں ہے جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے ہو سکتا ہے ڈاکٹر اللہ نظر و میر عبدالنبی بنگلزئی کو یہ پسند نہیں کہ سعودی اپنے پالیسیوں میں تبدیلی لائے کیونکہ سعودی پالیسی کے تبدیل ہونے کا تعلق پاکستان کے مدرسوں کی فنڈنگ سے لیکر ایران کے خلاف جارحانہ عمل کی صورت میں آئے گا جو کہ انتہا پسندی کو روکنے میں اہم پیش رفت کی صورت میں آئے گا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہی سعودی عرب قائم و دائم رہے جو جرنل ضیا الحق کے دور میں رہا ہے یا پھر سعودی کی ایران کے حوالے سے پالیسی سخت ہونے کا گمان ہے جو بی ایل ایف کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے یہ مسلہ انکے اتحادیوں کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے ایران کی مخالفت یا حمایت قومی مفادات کے رو سے کرنا بری بات نہیں لیکن جب وہ قومی مفادات کے بدلے گروہی یا تنظیمی مفادات کا لبادہ اوڑھ کر بڑھے تو نقصانات کئی گناہ زیادہ بھیانک ہونگے جہاں تک بلوچ جہد آزادی کی تحریک ہے وہ نقطہ نہ سوشلزم ہے نہ کہ سیکولر و نہ کہ بادشاہت بلکہ بلوچ آزادی کا نظریہ صرف پاکستان سے علیحدگی ہے نہ کہ صرف ایک طبقے کی حکمرانی. آج بھی بلوچ جہد میں مذہبی لوگوں سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگ جہد کا حصہ ہیں وہ صرف بلوچ وطن کی آزادی پر اکٹھے ہوئے ہیں نہ کہ سوشلزم و اسلامی نظام کے لانے کے لیے. وہ فیصلہ آزادی کے بعد بلوچ عوام کرے گا کہ ملک میں کونسا نظام رائج ہوگا لیکن بلوچستان لبریشن چارٹر آزاد بلوچستان کا روڈ میپ ہوگا جس میں تمام مذاہب سمیت تمام طبقہ فکر کے لوگوں کو آزادی ہوگی اس طرح ممکن نہیں کہ بلوچ وطن میں کوئی اپوزیشن نہ ہو اور نہ کسی اور طبقے یا پارٹی کا وجود ہو بلکہ ملک کے سارے لوگ ایک ہی فکر کے ہوں یہ ممکن نہیں بلکہ بلوچ وطن میں ہر طبقہ و ہر فکر کے لوگ اپنے لوگوں کی نمائندگی کے لیے الیکشن سے منتخب ہونگے یا ہمارے صاحباں یہی سوچتے ہیں کہ جو ہماری طرح سوچتا ہے وہ ٹھیک باقی سب کو جلاوطن یا قتل کرینگے ویسے یہ خود انتہا پسندی ہی ہوگی اسطرح موجودہ صورتحال میں جو صف بندی دیکھنے کو مل رہی ہیں اسکے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں سب سے پہلے مفادات ہیں جو گروہی ہیں کہ ایران کا بلوچ آزادی پسندوں کے ساتھ نرم رویہ ہے. دوسرا انتہا پسند( طالبان) جن کو ایران کی مدد حاصل ہے جسکے خلاف ڈاکٹر اللہ نظر جنگ کر رہے مطلب طالبان یا داعش وغیرہ تیسرا حیر بیار مری کے خلاف محاذ کھول کر بلوچ سیاست کے سیاہ و سفید کا مالک بننا ہے جبکہ ایک طرف ایران سے ہمدردی جبکہ ایران کے دوسرے پراکسی طالبان کے خلاف جنگ دو متضاد نقاط ہیں طالبان کے امیر ملا اختر منصور ایران سے آتے ہوئے دالبندین کے قریب امریکی ڈارون حملے میں مارے گئے اور جیش العدل و جند اللہ کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان لیکن طالبان کے لیے نرم رویہ سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ میر عبدالنبی سے معذرت کے ساتھ کہ وہ جن سرکلوں یا جن لوگوں کے ساتھ کئی سال گزار چکے ہیں جنکے ساتھ اس نے دعوتیں اڑائی ہیں انکے ہمرکاب رہے ہیں وہ کون تھے اور ہیں جو بلوچستان میں کن انتہا پسندی کے کن واردات کے کرتا دھرتا ہیں؟ کیا میر صاحب کو سعودیہ کے شہزادہ کے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے خوش آئند اقدام پر حیر بیار مری کے موقف کو کنڈم کرنا ہے تو اس سے پہلے اپنے گھر کے پہلو میں دیکھ لیتے کہ آپ کیا کررہے ہیں اسطرح تو نہیں کہ ایران کی خوشنودی میں آپکو کہنے کیلئے کچھ کہا گیا اور آپ نے کہہ دیا ایسی بہت سی باتیں اور اعمال ہیں جو وقت کے ساتھ سامنے آتے رہیں گے اس سے ظاہر ہے بیان مسلہ نہیں بلکہ مسلہ حیر بیار مری ہے جو آپکی ناپختہ سیاست کے پول کھول رہا ہے تاکہ بلوچ سیاست کو پراکسی سے بچایا جا سکے کیونکہ ایران میں بلوچستان کا جو ٹکڑا ہے وہ ھر ھال میں بلوچ کا رہے گا لیکن اگر اس کو بلوچ سیاست دان اپنی پالیسی کا حصہ نہیں بنائیں گے لیکن وہاں پر موجود آزادی پسندوں کے راستے میں روہڑے نہ اٹکائے کیونکہ ایرانی بلوچستان میں شعیہ سنی تضاد وہ بنیادی نقطہ ہے کہ جو وہاں کے بلوچوں کو متحد کر سکتا ہے اور اسی نقطہ نظر سے وہ خود کو متحد کرتے رہے ہیں جہاں تک بات انکے نظریاتی وابستگی کی ہے وہ یہی کہتے آرہے ہیں کہ ایران میں تاریخی تضاد جو ایران و بلوچ کے ساتھ رہا ہیں اس پر ایران نے انتہائی باریک بینی سے کام کر کے ختم کر دیا ہے بلوچ ایرانی سیاسی کلچر کے نیچے دب چکے ہیں اور وہ ایران سے وابستگی پر فخر کرتے ہیں اور ایرانی سیاست میں اپوزیشن کی حد تک آپکو اٹھنے کا موقع نہیں ملتا اور حکومت لوگوں کو استخبارات میں بھرتی کر کے بلوچ کو بلوچ کو کاٹنے کے لیے استعمال کر رہا ہے جسطرح داد شاہ کے دور میں کیا گیا اب انکے لیے عوام کو اپنے نظریات سے جوڑنے کا آسان طریقہ وہ تضاد ہے جوانھیں ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے بقول انکے کہ وہ اس تضاد کو بنیاد بنا کر لوگوں سے جڑ کر انکی قومی سوچ کے تحت تربیت کر سکتے ہیں اور اسکی مثال جنداللہ کے نام کی تبدیلی کی صورت میں آئی لیکن بلوچ سیاسی رہبراں کا ایرانی بلوچوں سے دوری اس خلا کو مزید بڑھا کر انھیں علیحدہ جہد کرنے کی راہ دکھا رہے بلکہ یہاں تک انکے خلاف جنگ کرنے پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں اب اس بیچ جو اتھل پتھل دیکھنے کو مل رہی ہیں اسکے اثرات انتہائی بھیانک ہونگے اور بلوچ سیاست اس کے مضر اثرات پڑینگے.