بلوچ سیاسی گروپس اور عسکری دھڑے دولائین کی اخباری رپورٹ کے سائے تلے ، قومی آزادی کا خواب دیکھتےہیں۔ صورت خان مری

اتوار 21 ستمبر, 2014

 بلوچ دانشور واجہ صورت خان مری
انٹرویو ۔ میر مبارک علی
سوال۔ بلوچ سیاست سے آپکی وابستگی زمانہ طالب عملی سے رہی ہے۔ اس بارے میں آپ کچھ بتانا چائیں گے؟
صورت خان مری۔ بلوچ طلبا تنظیم کی ابتداء بالخصوص اس وقت کے سیاسی مدوجذر ، اتار چڑھاؤ کو بہتر انداز ،میں،سمجھنے کے لئے بلوچ سیاسی پس منظر کا ادراک لازم ہے۔بلوچ ایک قوم ہے ، اسکی سات لاکھ مربع کلومیٹر رقبہ کی گل زمین اور اپنی الگ مخصوص جغرافیائی حیثیت کی سر زمین ہے۔ تہذیبی لحاظ سے نہ اس کا براہ راست ہڑپہ تہذیب سے تعلق ہے اور نہ ہی موسیپوٹینیا ایرانی تہذیب سے متعلق ہے، سماجی طور پر ایک غلط فہمی اور پروپیگنڈہ کا ازالہ لازم ہے وہ یہ کہ بلوچ کو قبیلہ اور قبائلیت کا شکار بتایا جاتا ہے اہمیت کا حامل یہ ہے کہ جو لوگ بلوچ کو قبیلہ اور قبائلیت کی گالی دینا پسند کرتے ہیں ان کے محدود ذاتی اور گروہی مفادات ہیں وہ انگریز اور پاکستانی سامراج کے پروپیگنڈہ تلے بہتے تیرتے چلے جارہے ہیں۔یا پھر وہ \”قبیلہ \”TRIBE\” کے صحیح سما جی معنوں سے نابلد ہیں۔قطع نظر انتھراپالوجی کا علم ، اگر ڈکشنری میں بھی TRIBEکے معنی دیکھی جائے تو شرم کے مارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں انتھرا پالوجی اور سماجیات کی رو سے انسانی نسلی ارتقاء دو طرح کی ہے اول نسلی یا ہومو جئین سوسائٹی، جو ایک مخصوص شخص ، اسکی اولاد ، خاندان ، ٹکرCLAN، قبیلہ اور قبائلیت کے تعصبات کا مارا قوم ، اس سماج کی تحقیق کے لئے ایک فیملی ٹری \”FAMILY TREE\” بنایا جانا کافی ہے،اس طرح کے قوم میں نہ غیر شامل ہو سکتا ہے اور نہ ہی نکلی یا نکالا جا سکتا ہے ، اس قوم کی قومی خصلت یا نیشنلزم کو لسانی ETHNIC نیشنلزم کہتے ہیں ، خصوصیت میں بادشا ہت ،MONARCHY ، جبر، تعصب ، محنت وغیرہ گنوائے گئے ، چنانچہ ان قباحتوں سے چٹکارا پانے لے لئے برطانوی انگریز نے سولہوں صدی کے آخر ہی میں تحریک چلائی اور ہیٹرو جئین سوسائٹی کی خصوصیات و نیشنلزم جو کہ CIVICنیشنلزم ہے ، اپنانے کے لئے کوشش شروع کیں، ان اقوام یعنی سیاسی یا استعماری یا ہیٹرو جینیں کی خصوصیات دیگر کے علاوہ سوسائٹی کی وفا قیت (یاد رہے ، وفاقیت سوسائٹی کی خاصیت ہے،ریاستی بنیاد کا جواز نہیں ہوسکتا ) خود اختیاری یا اٹانومی ، ہیرار کی ، برابری، مشاورت (رائے عامہ کی بالا دستی یا جمہوری لائحہ عمل )وغیرہ، یہ قوم اور سوسائٹی کئی نسلوں کے اشتراک ، مذہبی تعصب سے آزاد کسی بھی مذہب کا ،فرد قوم کا برابر کا حقدار ہوتا ہے ، کسی بھی زبان نے تعلق رکھتا ہو ، کسی علاقہ سے ہو ، وہی عمومی اعلان کے ساتھ قوم کا فرد بن سکتا ہے ، اس سیاسی اتحاد پر قوم کی وحدیت ، اسکی نیشنلزم اور حْب الوطنی ہے۔ بلوچ ہیٹروجنئیں سوسائٹی کی قوم ہے ، اس کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے ، قومی وحدت اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے اس نے بے شمار جنگیں لڑیں، صرف برطانوی سامراج کے خلاف چار سو سے زائد جنگیں بلوچوں نے لڑیں تھیں،پاکستان نے مارچ 1948کو بلوچستان پر فوجی قبضہ کیا،اور آج 2014 تک بلوچ اپنی قومی آزادی کے لئے پاکستان ، ایران کے خلاف بر سرِ پیکار ہے سیاسی طور پر جب 1948 کے دوران پاکستان کی طرف سے الحاق کے حوالے سے شدید دباؤ ڈالاگیا ، تو بلوچ ریاست ، ریاستِ قلات کے دونوں ایوانوں نے متفقہ طور پر الحاق کی تجویز کو رد کیا۔ خود قائد پاکستان ، محمد علی جناح اورعالمی شہرت کے دیگر وکلاء نے جون 1946 کے برطانوی کابینہ مشن کو قائل کیا تھا۔ وہ یہ کہ بلوچستان ایک آزاد خود مختیار مملکت ہے ، اس کے برطانوی مملکت کے ساتھ\”معاہدات\” ہیں۔ اب برطانیہ چھوڑ چھاڑ کر واپس ہو رہے تھے، تو وہ تمام معاہدات منسوخ ہو جاتے ہیں اور ما قبل معاہدات یعنی 1840 کا بلوچ ریاست یعنی دریا ئے سندھ کے بام ،کرمان ، بحیرہ بلوچ (عرب) سے دریائے ہلمند تک بشمول بلوچ کاریڈور جو ترکمانستان بلوچ آبادی تک پھیلا ،بلوچ آزاد خود مختیار ریاست بلوچستان تھی،برٹیش بلوچستان ،جس میں معاہدات کے تحت پشتون علاقے افغانستان سے الگ کر کے شامل کئے گئے ،۔ چنانچہ جب برٹیش بلوچستان کا بلوچ ریاست سے الگ کوئی حیثیت نہیں،سندھ سمیت بلوچ آبادی علاقوں کی حیثیت کی بابت پوچھا گیا تو بلوچ نمائندوں نے کھل کر ریاست قلات کے بلوچوں کے ساتھ اپنی رائے کے حق کے ادراک کا اعلان کیا تھا۔
یہاں ہم قلات نیشنل پارٹی اور بعد ازیں پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کے بلوچ رہنماؤں کے سودا بازیو ں اور اعتراف کی تفصیلی کا درازی داستان کے بنا گریز کرتے ہوئے فقط بلوچستان سٹیشین یونین کے قیام میں ان رہنماؤں کی تابع حکم شرکت اقتدار کی لالچ کا اشارہ کرتے ہوئے ، ون یونٹ کے قیام اور جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے بناء \” زیرزمین \” سیاسی تگ و دو کا مختصر ذکر کریں گئے ، جو بلوچ طلباء تنظیم \”ورنا وانندہ گل\” (بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کا سبب بھی بناتھا۔ اور یہی سیاسی تگ و دو ہی نے آگے چل کر بلوچ طلباء تنظیم کو دھڑے بندی کا شکار کیا تھا،بلوچ نیشنلزم کے تحت طلباء کا قومی شعور پاکستان یا پاکستانی سامراجی مظالم سے قبل ، برطانوی سامراج میں بھی یکساں موجود تھا۔ ہمارے پاس 1931 کی ایک اصل ORIGINAL بلوچ اسٹوڈنٹس ایسیوسیشن سنڈیمن ہائی سکول گروپ فوٹو گراف موجود ہے، جس میں اس وقت کے بیس بلوچ طلبا شامل ہیں، اب ان میں سے کوئی شخصیت بقیہ حیات نہیں،آخری شخصیت میر نصیر احمد زئی گزشتہ دنوں وفات پا گئے، دیگر میر گل خان ، میر لعل بخش مینگل ، میر عبدالواحد، میر محمد بخش لہڑی، میر فاضل خان محمد شہی، میر صالح محمد مری وغیرہ تھے،اس کے بعد 1950 کی دہائی کے وسط میں امان گچکی وغیرہ نے \” ورنا وانندہ گل\” کے نام سے تنظیم بنائی، اس کے چند اجلاس بھی ہوئے، بعد ازاں بستی کے ایک آدھ \” پڑین\” نیم پشتون نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، وہ یہ کہ بلوچ تنظیم میں انکی شمولیت اغیارت ہے ، چنانچہ تنظیم آگے نہ بڑھ سکی،جیسے کہ اوپر ذکر آیا ، جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے ابتدا ئی سالوں کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں بہت سختی برتی گئی، بلوچ سیاسی قائدین نے \” کراچی منگوپیر\” کے سردار اعطاللہ کے رہائش گا ہ پر ایک میٹنگ کی تھی،جس میں زیر زمین بلوچ نیشنلزم کی بنیاد پر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بعد میں ان سرگرمیوں کو وسعت دی گئی، یاد رہے ، جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف نواب نوروز خان کی سرکردگی میں بغاوت اور 1960 کی دہائی کے دوران مری بگٹی اور جھلاوان کے بغاوتوں کے بنیادی مقاصد میں بڑی حد تک یکسانیت تھی،البتہ نواب نوروز خان ، خان قلات کی سرکردگی میں خانیت کی ریاست قلات کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ البتہ 1960 کی بلو چ انسرجنسی جمہوری بلوچ قومی آزادی کے لئے تھا، جس کو سرکار پاکستان سرداریوں کی بحالی کے لئے جنگ سے تشبیہ دینا چاہ رہا تھا، اسی دوران 1962 کو بلوچ قائدین کوئٹہ میں موجود تھے ،اور کوئٹہ کے سیاسی کارکنوں نے انہیں استقبالیہ دیا تھا جس میں ہم بلوچ کچھ طلباء بھی شامل تھے۔ چنانچہ اس میل ملاقات میں بلوچ طلباء کو منظم کرنے کی تجویز دی گئی تھی،جو بلوچ نیشنلسٹ تحریک کا ہی بازو رہیگا، چنانچہ جون 1962 کو بلوچ طلباء کے ایک اجلاس میں کوئٹہ میں بلوچ طلباء تنظیم \” ورنا وانند گل\” بلوچ نام اور \”بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن \” کا اعلان کیا گیا جس کی صدارت کے لئے عبدالکریم بلوچ کو چنا گیا۔ بعد میں حالات و واقعات کے تناظر میں وہ یہ کہ تحریک کے تسلسل کے حوالے سے ایک \”ہائی کمان \” بھی
ترتیب دی گئی تھی، جس کا چیئرمین راقم الحروف تھے۔ طلباء تنظیم کا ایک ادبی سرکل \” لبزانکی دیوان \” بھی منظم کیا گیا، جس کے ہفتہ وار ادبی اجلاس ہوتے تھے ،کوئی مہمان اجلاس کی صدارت کرتا تھا، تنظیم کا جنرل سیکریٹری راقم الحروف اور جوائنٹ سیکریٹری کریم دشتی مرحوم تھے۔ کچھ عرصہ بعد غالباَََ ستمبر 1962 کو کراچی کے بلوچ طلباء نے بلوچ اسٹوڈنٹس ایجو کیشن آرگنائزیشن کی تنظیم کاری کی، کوئٹہ اور کراچی دونوں تنظیمو ں نے اعلانیہ کسی پاکستانی پارلیمانی پارٹی کا بازوں بننے سے انکار کیا،جہاں پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کو غلط فہمی تھی، پارٹی بلوچ طلبا کو اپنی پارلیمانی مقاصد کی تکمیل میں استعمال کریگی ،طلباء تنظیموں نے جنرل باڈی ، کابینہ اور ہائی کمان کی عمومی اتفاق سے اعلان کیا تھا ، کہ وہ صرف اور صرف بلوچ قومی کاز سے وفادار ہیں، اسی کے لئے کام کرتے رہیں گے،یہاں اس زمانے کے یعنی 1960 کی دہائی کے وسط میں تین اہم سیاسی پیش رفتوں کا ذکر کریں گے،جو آگے چل کر نہ صرف قلات نیشنل پارٹی کے 1948 ، بلوچ قومی آزادی کے اپنے قول و قرار سے منحرف ہونے اور خاص کر کراچی منگوپیر دوبارہ بلوچ مٹی کی قسم کو توڑ کر ایک اور انحراف کا شکار ہو کر پوری طرح آشکارہ EXPOSEہوا ،اور مفادات اور تابع حکم شرکت اقتدار کے لئے سودابازیوں میں لگ گئے،اہمیت کی حامل پہلی سیاسی پیش رفت جو بلوچ سیاست اور طلباء تقسیم اور نظریاتی اختلاف کا سبب بنی، وہ سرکار اور پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کے مابین مذاکرات کا ایجنڈا تھا،جیسے کہ بیان کیا گیا 1960 کی دہائی کے اوراوائل بلوچ انسرجنسی جونہی تھکاوٹ کا شکار ہوئی ، سرکار پاکستان نے انسرجنسی کے مقاصد سرداریوں کی بحالی قرار دیا، یاد رہے ایوبی مارشل لا ء نے ناراض ہو کر نواب مری ، نواب بگٹی اور سردار مینگل کی سرداریاں سرکاری سطح پر ختم کردی تھیں، مذاکرات کا ایجنڈا سرداریوں کی بحالی اور بلوچستان میں امن و امان کی ذمہ داری قرار دے کر ، اپنی تین سرداروں کے ساتھ مذاکرات کاایجنڈا طے پانے لگا، بلوچ سیاسی کارکنوں ، دانشوروں اور طلباء کے ایک گروپ نے موقف اختیار کیا۔ انسرجنسی بلوچ نیشنلزم اور قومی آزادی کے لئے تھا،سرکار کے ساتھ مذاکرات اگر کرنے ہی ہیں ،تو \”وقفہ\” کی اہمیت تلے بجا،البتہ جو بھی ایجنڈا ہو،مذاکرات سیاسی بنیادوں پر ہوں اور مذاکراتی ٹیم میں سیاسی نمائندگی لازم ہے،بیشک میر غوث بخش بیزنجو ہی کو شامل کیا جائے۔ بات بگڑتی چلی گئی، انجام کار خضدار ایک جلسہ میں سرداروں کی موجودگی میں گورنر مغربی پاکستان نے سرداروں کی بحالی کا سرکاری اعلان کیا۔ یوں بلوچ سیاست اور بلوچ طلباء تقسیم کا شکار ہوئے، دوسری پیشرفت ، ایوبی مارشل لا کی سیاسی سرگرمیوں میں نرمی کے باعث پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کی بلوچ قیادت کا پارلیمانی سیاست مراجعت کا تھا، اب ترجیح پارلیمانی سیاست ووٹ ، الیکشن اور تابع حکم شرکت اقتدار اور مفادات کو حاصل ہونے لگا، یوں محسوس ہوتاتھا ماضی قریب جب سیاسی کھلے عام سرگرمیوں پر پابندی تھی تو پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کا بلوچ قیادت کی بلوچ نیشنلزم وابستگی نمائشی اورسیاسی تسلسل اور عوامی رابطوں کے بابت ہی تھی آگے چل کر پاکستان نیشنل عوامی پارٹی نے بھر پور الیکشن لڑے، ماضی کے بلوچ نیشنلزم کی شہادتوں اور قربانیوں کو کیش کیا گیا، مشرقی پاکستان ، بنگالیوں کی نسل کشی پر آنکھیں موندھی گئیں، بھٹو کے ساتھ سیاسی سودا بازی کی گئی ،تابع حکم شرکت اقتدار کی خاطر بلوچ وسائل آئینی طور پر پنجاب کے حوالے کئے گئے، آئین سادہ پارلیمان میں متفقہ منظور ہوا، البتہ خود فریبی کے طور پر آئین پر بلوچ اکثریتی نمائندوں نے دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔
تیسرا اہم واقعہ جو بلوچ نیشنلزم تحریک کے دل پر آخری مہلک چھرا گھونپنے کا سبب بنا تھا ، وہ پاکستان نیشنل پارٹی کے ایک باقاعدہ اجلاس
میں بلوچ قیادت کی تجویز کی منظور ی وہ یہ کہ ، پارٹی بلوچ طلباء میں سیاسی کام کریگی، یہ واقعہ ایک چشم دید سیاسی کارکن اور سینئر صحافی جناب اکبر اچکزئی نے بتائی اور مجھے یاد پڑتا ہے ،اس موقع پر ڈاکٹر مالک اور بلوچی رسا لہ کے مدیر واحد بندگ بھی موجود تھے چنانچہ نیشنل عوامی پارٹی کی بلوچ قیادت نے کنوینشن کے نام پر کراچی میں کوششیں شروع کیں، جس کی تفصیل ہم نے اور دیگر بلوچ دانشوروں نے مختلف مواقع پر بیان کئے،جب کہ طلباء کھل کر دو دھڑوں میں تقسیم ہوئے اور اس کے بعد بلوچ نیشنلزم کے مقابلہ طلباء کی تنظیمیں پاکستانی سیاست کے پارلیمانی گرپوں کے دست و بازو زیادہ رہے۔ کوئی ڈاکٹر مالک گروپ ، دوسرا سردار عطااللہ ، تیسرا برہمداغ ، چوتھا حیر بیار پانچواں ڈاکٹر اللہ نظر اور اب سیاسی تقسیم تعلیم کی طرح بلوچ طلباء بھی درجنوں تقسیم ہیں، اور اسی بنا پر سرکار کے آسان شکار بھی ہیں۔
سوال۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آپ کی کوئی تحریر سامنے نہیں آئی ہے۔ کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟
صور خان مری ۔ اس سوال کے جواب کو معروضی انداز میں سمجھنے کے لئے ہمیں پاکستان اسٹبلشمنٹ کی طرف سے بلوچ اور بلوچستان کے حوالہ سے بحث مباحثہ اور تحریروں کی بابت رویے میں نظر ڈالنا ہو گا،جہا ں تک میرے لکھنے پڑھنے کا سوال ہے، جس کے پسِ منظر میں سرکار پاکستان کے رویے کا بھی انداز ہ ہو سکتا ہے،میں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی \”بلوچی\” میں لکھنا شروع کیا تھا،ابتدا ئی ایک آدھ افسانوں کی موضوع کے علاوہ ، افسانوں اور دیگر تحریروں کا موضوع بلوچ نیشنلزم ہی تھا، افسانوں میں \” پروش ءِ سوب\” \” بوئے بوئے آدمی\”\”کپ ء ِ پل\” وغیرہ براہ راست سرکار پاکستان کے بلوچوں پر انسان سوز مظالم اور بلوچ مزاحمت کے موضوع لئے ہوئے تھے ، دلچسپ یہ کہ بیشتر افسانے اور تحریریں سرکاری رسالہ اول میں ہی چھپے، ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر اس بابت لازم ہے۔ نام لینا مناسب نہیں۔ ایک بلوچ شخصیت \”ریڈیو\” پاکستان ملنے آئے۔ تو فخریہ بولے \” ہمارا یہاں سرکاری ادارہ آنے پر آپ لوگوں پر بْرا اثر تو نہیں پڑیگا\” یہ زمانہ 1960 کی دہائی کے بلوچ انسرجنسی کا تھا، میرے سامنے اس دن شام بلوچی کے پروگرام کے \”ٹیپ \” رکھے تھے۔ پروگرام تفصیل کے ساتھ وہ ٹیپ اٹھا کر اس شخصیت کو ٹیپ ریکارڈر کے پاس لے گیا ، اور وہ مخصوص \” انٹرویو \” سنایا۔ جو بلوچ سرمچاروں کے بارے میں توصیفی اشعار پر تھا۔ اس شخصیت کو مخاطب کر کے کہا\” جائیے ! ان اشعار اور اس مناسبت کی باتیں سر عام کیجیے جس طرح شام کو یہ \” انٹرویو \” عام سننے والوں کے لئے سنوایا جائیگا۔
آج اکیسویں صدی کا \”کھلا پن ، گلاسنو سٹ \” اور نجانے کیا کچھ دعوے لئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر مالک اور نیشنل پارٹی کی سرکار ہے۔ کتاب خانوں پر چھاپے کے دوران انگریزسرکار کے عہد کے 1902 کے لالہ ہتھو رام کی تاریخ بلوچستان ضبط کی جاتی ہے۔ یعنی آج بلوچ اور بلوچستان ، نام ، قابل نفرت قرار دیا گیا،فرق یہ ہے ، ایوبی مارشل لا ء ، بھٹو یا دیگر بلوچوں پر مظالم کے تمام عہد میں بلوچ ، بلوچوں کے خلاف \” سلطانی گواہ \” مقصود تھے۔ اور آج سلطانی گواہ بر سر اقتدار اور خواہش اقتدار رکھنے ہیں۔( جتنا بڑا سرکار پاکستان کا وفادار اور سلطانی گواہ ہو گا ، اسی حساب سے اس کے ترتیب کا سرکار یقین کرتا ہے۔ کسی کو محض لیویز کے سپاہیوں کے گھوسٹ تنخواہ پر پالتا ہے ، کسی کو دیگر حوالوں سے نوازتا ہے ، کسی کو ایم پی اے ، سینٹر ، وزیر اور چیف سینٹر ، وفاقی وزیر یہاں تک کہ وزیر اعظم اور صدارت پرمطمئن کرتا ہے ، بلوچستان کو
1948 فوج نے فتح کیا۔ اس فتح کے حوالے سے آج تک بلوچستان کی اصلی حاکمیت فوج اور فوجی اداروں کی ہے ، آج فوجی کمانڈر کھل کر کھلے عام اپنی حاکمیت کی نمائش ہم اپنی کھلے آنکھوں دیکھ رہے ہیں) نتیجہ آپ کے سامنے ہے روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹر نے ایک کالم میں حاصل خان کے حوالے شاعر غالب کی بات دہرائی تھی۔ \” ہم بھی پیٹ رکھتے ہیں\” روزنامہ توار کے نیوز ایڈیٹر زکا اغواء اور لاش ، کس گنا ہ کے لئے سزا تھا۔ 2007 کے او آخریا 2008 کے اوائل ، بغیر کسی حجت کے ایم آئی کے کرنل حفاظت نامی شخص کھل کر مجھے فون پر دھمکانے کی کوشش کرتا ہے، اس پسِ منظر میں اخبارا ت کے مالکان اور مدیروں پر کیا گزری ہو گئی ،اور روزنامہ استمان ، روزنامہ آساپ ، کئی رسائل کو بند کیا گیا۔ وسائل محدود کئے گئے۔ آج بمشکل بلوچ اور بلوچستان پر کوئی معروضی بحث مباحثہ میڈیا میں ممکن ہے۔گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ کے سینئر صحافی اور جیو ٹی وی چینل کے اینکرپرسن حامد میر پر قاتلانہ حملہ مبینہ طور پر اس بنا کر ہوا تھا کہ انھوں نے بلوچ مسنگ پرسن کے بارے میں پروگرام کئے تھے اور لکھا تھا، چنانچہ اکثر و بیشتر اخبارات اور رسائل نے بلوچ اور بلوچستان کی بابت تحریروں کو چھاپنے سے انکار کیا۔ اس کے علاوہ بلوچ سیاسی تنظیموں اورعسکری تنظیموں کے اختلاف بھی معروضی بحث مباحثہ کی راہ میں حائل ہیں، بر حال ایسابھی نہیں کہ ہم نے لکھنا اور بحث و مباحثہ چھوڑ دیا،البتہ بلوچستان یا پاکستان کے اخبارات چھاپنے سے معذور ہیں،الیکٹرانک میڈیا یا دیگر میڈیا \” کمرشل \” اور کاروباری ہیں،لہذا بلوچ اور بلوچستان پر معروضی بحث و مباحثہ پاکستان میں تقریباَََ نا ممکن ہے۔ جب اردو میں لکھنا ممکن نہ ہوا ، تو ہم نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا۔ لاہور کراچی کے ایک روزنامہ نے شروع میں چھاپے اور انڈیا کے نکلنے والے \” ساوتھ ایشا منیٹر \” نے اس روزنامہ سے کئی مضامین نقل بھی کئے۔ البتہ \” ہزارہ برادری \” پر ایک تحریر متنازعہ بن گئی تھی۔ تو لاہور کراچی انگریزی روزنامہ نے چھاپنا بند کردیا۔ ساوتھ ایشا منیٹر نے ڈاکٹر مالک حکومت اور زیارت قائد پاکستان عمارت کی تباہی کے بارے میں لکھنے کو کہا، ایسی معلومات کے مطابق کوشش کی تھی ، صحیح اور معروضی بات کریں،بی آر پی کے پسِ منظر میں \” بگٹی پالیٹکس\” اور بلوچ نیشنلزم اہم نظر اندازیاں ، کمزوریاں \” کے عنوان سے ایک طویل تحریر بھی قابل اشاعت قرار پائے۔ البتہ یہ تمام فیس بک پرhttp//Suratkmarri@log.com موجود ہیں ۔ ایک مقامی ادارہ نے تمام انگریزی مضامین کو کتابی صورت میں چھاپنے کا کہا ، پیش نظر بھی عرصہ ہوا لکھ کر بھیج چکا کتاب کا نام \”THE SERVILE BALOCH RESISTANCE\” تجویز ہے ، اب دیکھیں کب چھپے گا۔۔

سوال ۔ بحیثیت سیاسی نقاد کے آپ کی بلوچ سیاست پہ گہری نظر ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
صورت خان مری ۔سیاسی نقاد یا نقاد ، تنقید نگار مناسب ترکیب مجھے اچھا نہیں لگتا ، نقاد ، ادیب اور شاعر کیلئے لازم نہیں اسکا کوئی معروضی قومی وابستگی اورکمنٹمنٹ ہو، مجھے یاد ہے عطا شاد کی پہلی برسی پر ان کے قریبی ملنے والوں کو اکٹھا کیا گیا، مقامی روایتوں کے ماتحت مرحوم کی جاو بجا تعریفیں کی جاتی ہیں۔ میں نے عبدالکریم بلوچ ، جس نے عطا شاد پر پہلی کتاب لکھی تھی ، مخاطب کر کے پوچھا ، عطاشاد کی وابستگی اور کمیٹمنٹ
کیا تھی ؟ حکیم بلوچ نے فوراََ کہا \” کچھ بھی تو نہیں\” وہ پاکستان سرکار سے تین تعریفی تمغے حاصل کرنے والے تھے۔ سلیم احمد کے پورا آدمی اور شاعری اور اردو شاعروں سے متاثر انہی کے ہاں قبولیت کے
خواہاں رہے۔ انہیں سیاسی وابستگی سے نفرت تھی اور انہوں نے تحریری طور پر اظہار بھی کیا تھا ، جو بلوچی مضامین کے ایک مجموعہ میں موجود ہے۔چنانچہ میں سمجھتا ہوں ، ہماری بلوچ نیشنلزم کی وابستگی ہے ، 2004 کو بیس سالوں بعد اورغالباََوہ نواب خیر بخش کی آخری عوامی پلیٹ فارم پر خطاب تھا۔ انہوں نے کھلے عام دو مرتبہ کہا تھا، صورت خان نے بلوچ نیشنلزم کے بارے میں جو بحث مباحثہ شروع کیا ہے ، چاہیے یہ تھا ، ہم اپنی سیاست کے ابتدا ، ایسی بحث مباحثہ سے وابستگی نکالتے۔ بلوچ قومی تحریک کی بابت کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔ بی ایل اے نے 2001/2000 میں معروضی طور پر تحریک کی نئی ابتدا کی تھی۔ معروضیت ہی کی بنا ء پر دنیا چونک گئی تھی۔ بلوچ معاملات سے دلچسپی رکھنے والے عالمی شہرت سے ماہرین کی تحریریں اور بحث مباحثہ ریکارڈ پر ہے۔ جن میں تحریک کو معروضی اور منظم اور عوامی فتح قرار دیا تھا۔ البتہ فوری طور پر بلوچ پارلیمانی سیاست کے منحرقین بالخصوص نیشنل پارٹی ، ڈاکٹر مالک نے کافی سے زیادہ سر گرمی دیکھائی اور بلوچستان نیشنل پارٹی ، سردار عطااللہ خان لندن سے سامان لپیٹ کر واپس پہنچ گئے تھے ، دوسری طرف گیس کی بابت 1953 کا پچاس سالہ معاہدہ ختم ہونے کو آرہا تھا،جے ڈبلیو پی ، نواب اکبر خان بگٹی ایک قابل قبول نئے معاہدہ کے لئے سرگرم ہو چکے تھے، چنانچہ اس نے چار جماعتی اتحاد کے نام سے بی ایل اے کی قومی آزادی تحریک کے رخ کو بدلنے اور سبوتاژ کی بابت سر توڑ کوششیں شروع کیں۔ قومی آزادی کی بجائے ، قومی محرومی ، ساحل و وسائل ، پروپگنڈہ شروع کیا اور اسٹیبلیشمنٹ سے مذاکرات کی خواہشات کے لئے سر گرم عمل ہوئے۔ آج جس تقسیم در تقسیم اور نا کامی کا جو دور دورہ ہے ، اس پر بھی متعدد بار ہم تحریری اظہار خیال کر چکے۔ اور بین الاقوامی انقلابی تحریکوں کی تقسیم در تقسیم اور ناکامی کے حوالے یہاں تک لکھ چکے تھے۔ وہ یہ کہ آگے چل کر یہ گروپ آپس میں ٹکرایں گے اور (توبہ نعوذ باللہ) اگر اللہ تعالیٰ بھی درمیان میں آجائے تو اس باہمی کشیدگی اور ٹکرائے جانے کو روک نہیں سکیں گے، یہی بات ہم نے نواب خیر بخش مری کے ساتھ ایک بات چیت میں دورائی تھی، آج جس رخ پر بلوچ قومی تحریک کے نام پر سرگرمیاں ہیں وہ باعث فخر نہیں، کینچا تانی کی ابتدا چھپائے نہیں چھپائی جا سکتی۔ اور پھر عالمی سطح پر اجتماعی بلوچ قومی تحریک کو \” نچلی سطح \”LOW INTENSITY\” کی انسرجنسی بتائی جاتی ہے، عالمی ماہرین کا اتفاق ہے ، وہ یہ کہ نچلی سطح کی انسرجنسی ایک حکومت بدلنے کی سکت نہیں رکھتی، اور قومی آزادی ، ایک عوامی مقبولیت کی انتہائی منظم جدوجہد چاہتی ہے ، ایک بے انتہا سر گرم عمل طلسماتی رہنما اور قیادت ضروری ہوتا ہے ، یہاں بلوچ قومی آزادی کا پیغام صوبہ بلوچستان سے باہر پنجاب سندھ کے بلوچوں تک نہیں پہنچائی جاسکتی ، ایران افغانستان اپنی جگہ پر ، ہم نے ایک انگریزی تحریر \”BALOCH NATIONALISM ; NEGLECTS\” کے عنوان سے کوشش کی تھی ۔ جن نکات کو قومی سطح پر نظر انداز کیا جاتا رہا ، ان پر بحث کرسکیں کہیں چھپ نہیں سکا ، فیس بک پر موجود ہے ہم میں کئی کمزوریاں رہیں ، مواقع ملے تو رد نہیں کیے گئے ، نمائشی اور ذاتی جلسوں کو فوقیت دی گئی، ہم جب مظاہروں ، سیمیناروں ، ریلیوں اور انفرادی رہنما یا نہ خواہشوں کی مخالفت کرتے تھے ، تو ناراضگیوں کا اظہار ہوتا رہا۔ اندازہ کیجئے ، میڈیا اور مقامی پریس بلوچ نیشنلزم کی باعث تحریریں چھپانے سے انکاری تھے۔ انفرادی بیانات جو تکرار ہی ہوتے ہیں ، یا مظاہرے
وغیر ہ کی بھر پور کوریج ہوتی ہے ، یہی حال ہڑتالوں کی ہے۔ ایک مرتبہ واجہ خلیل سے اس بابت بات ہوئی تو بتانے لگے کہ پاکستان کی معیشت پر ضرب لگانا مقصود ہے ،(گوادر ، سیندک ، ریکوڈک ، گیس ، چمالنگ ، وغیرہ زیر بحث نہیں) مختصراََ یہ کہہ سکتے،علمی بلوغت اور معروضیت کی اولیت کو وہ مقام نہیں دے سکے ، جس کی قومی انقلابی تحریکوں کے لئے لازم ہیں۔
سوال۔بلوچ جْہد آزادی کا آپ ماضی اور حال کے تناطر میں کس طرح تجزیہ کریں گے؟
صورت خان مری۔ اس سوال کا جواب کافی طویل ہے ، اگر ممکن ہو تو فیس بک سے BALOCH NATIONALISM ; NEGLECTS\” لیکر الگ سے چھاپ لیں، دیکھے ، یہ جو کہتے ہیں،قومی آزادی (دیگر مساولات) کا حصول اتنا مشکل نہیں جتنا اس کو معروضیت کے ساتھ بر قرار رکھنا مشکل ہے، بلوچ قومی ریاست کی آزاد حیثیت میں حاکموں اور منارکی نے اپنی حاکمیت کو اولیت دی تھی ، مغلوں اور دیگر بادشاہوں کی مانند گھریلو اور خاندانی مناقشیں رہیں ، یہاں تک ایک مقام پر دفاع (مزاحمت ) کے حوالے سے \”فوج\” تک نہ رہا اور 1948 قومی مزاحمت نہ ہو سکی ( سیاسی قیادت کا انحراف زیر بحث نہیں) اور جب مارچ 1948 پاکستان نے حملہ کیا۔ تو ایک دو دن کے اندر خان قلات احمد یار خان نے ہتھیار ڈال دیئے اور الحاق کے کاغذات پر دستخط کئے،آغا عبدلکریم کی بغاوت کا قدرت نیشنل پارٹی کی سیاسی قیادت کے منحرقین نے ساتھ نہیں دیا۔ نواب نوروز خان ریاست قلات کی بحالی چاہتے تھے،1960 کی دہائی کی ابتدا نواب خیر بخش ، شیر محمد ، سردار عطااللہ خان اور دیگر سیاسی کارکنوں ، دانشوروں اور طلباء نے قومی آزادی کے نام سے کی ، آگے چل کر سیاسی مفادات کی شکار ہوئی۔ 1970 کی انسرجنسی پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کی بحالی ، بلوچ قومی آزادی سوشلسٹ انقلاب کے تشکیل کے گرد گومتی رہی۔ بی ایل اے نے 2000/2001 میں معروضی طور پر قومی آزادی کی تحریک شروع کی ، آج آپ خود تحریک اور قیادت کے اختلافات کی پوچھ رہے ہیں،وہ جو کہاوت ہے \” کوہی کہے ، ہم بتائیں کیا \” انفرادی سیاسی خواہشات ، نمائش ، گروہی مفادات ، ہم نہیں کہہ سکتے ، عالمی سیاسی تجربات اور تاریخ کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہم افغانستان کے حوالے سے سوویت یونین کے خلاف جہادی تنظیموں (سنی ، شعیہ) کوئی ڈیڈھ درجن گروپ تھے اب تحقیقاتی کتابیں موجود ہیں،ہر گروپ کی سر پرستی کوئی اور کرتا رہا ، اب بلوچ گروپس سیاسی اور عسکری ڈیڑ ھ درجن سے زیادہ ہیں، اللہ خیر کرے یہاں تک کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف تک کوئی نہیں بچایا جاسکا؟
سوال ۔ بلوچ سیاسی اکابرین کے درمیان اختلافات اور قومی تحریک میں تضادات کے حوالے سے آپ نے اپنی تحریروں میں بہت کچھ لکھا ہے۔ قومی تحریک کے موجودہ دور بھی آزادی پسند رہنماوٗں اختلافات اور بعض امور پر تضادات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کیا تجزیہ کریں گے؟
صورت خان مری ۔اردو محاورہ ہے \” چھوتا منہ ، بڑی بات \” نہیں کہہ سکتا ، علمی بلوغت کا فقدان ہے ، معروضیت ، تاریخی تجربات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ، اور پھر کبھی کبھار ذاتی گروہی مفادات آنکھوں پر پردہ ڈالتا ہے ، کھلی آنکھوں سے پارلیمانی سیاست کی پاکستان ایجنٹوں کے تابع
حکم ، جو جس قدر سرگرم عمل ہے ، اسی قدر\” دست دعا \” پا رہا ہے، بلوچ طلباء کی تقسیم در تقسیم کی وجوہات پر نظر ڈالیں۔ بڑی حد تک قومی سطح کے نفاق کی طرف نظر جاسکے ، خدا کرے ایسا نہ ہو ، اگر کل کلاں بوجوہ سامراج کی قومی تقسیموں پر نظر ڈالیں،عالمی طاقتیں اگر چاہیں تو عرب دنیا کی طرح جہاں ہر انتظامی یونٹ کو ایک الگ مملکت بنا کر قوم عرب کو تقسیم کیا گیا، اور اگر بلوچ ہر عسکری گروپ کے زیر اثر ایک سیٹلائیٹ مملکت بنوائی جانا مقصود ہو۔کونسی قوت روکے گی،آج بلوچ قوم جس مظالمانہ فوجی آپریشن سے گزر رہی ہے،خواتین ، بوڑھے اور معصوم بچے نشانہ بن رہے ہیں، سادہ لباس میں ملبوس ایجنسیاں جس طرح سیاسی کارکنوں کو اغوا کر کے غائب کر رہے ہیں ( یہاں سیادہ لباس میں سیاسی کارکنوں کے کرنے کے حوالے سے ہم نے مزاحمت نہ کرنے پر ، مری اتحاد کے پریس ریلیز اور پروپیگنڈہ پر شدید تنقید کی تھی۔ رحم دلی کا احساس ابھارنے کے لئے وہ بیان کرتے تھے ، کہ گاڑی میں سادہ لباس فورسز آتے ہیں ، جس سے ورنہ بھاگ کر پہاڑ وں کے دامن چھپ جاتے ہیں ، خواتین بچے اور بوڑھے ان مظالم اور تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، تو ہم پوچھتے تھے ، سادہ لباس کی مزاحمت کیوں نہیں ہو گی، البتہ المیہ یہ ہے ، کسی قومی منظم سیاسی تنظیم کے فقدان کے بنا پر کوئی پالیسی بھی تو نہیں، بچارے عام کارکن کیا معروضی فیصلہ کر سکیں گئے) چنانچہ بلوچوں کے خلاف روز بروز بڑھتے فوجی آپریشن ، قتل وغارت گری ، اغواء اور لاشوں کے پھینکے جانے ، اجتماعی قبریں ، موجودہ حکومت کا اعلانیہ نام نہاد \” شر پسند \” کے خلاف بھر پور کاروائیوں کا اعلان ، یہ تما م بلوچ سیاسی و عسکری قیادت کے گروپ بندی ، چپکلش اور نفاق پر قابو پانے اور آنکھیں کھولنے سے اگر قاصر ہے ، تو نہ جانے وہ کس اسرافیل کے سور پھونکنے کا انتظار کر رہے ہیں، فقط اخبارات کے دو لائین رپورٹ کیلئے زندہ رہنا مقصد نظر آنے لگا ہے، ایک بی این ایف بنا تھا۔ بعد میں نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ بعض کو نکالا گیا،یا خود نکل بھاگے، اب بی این ایم کاایک دھڑا اور بی ایس او آزاد کا ایک دھڑا ہی تو بلوچ نیشنل (قومی ) فرنٹ ہے ؟ (اگر یہی حالت بر قرار رہی ، تو مایوس کن ہی کہلایا جائیگا۔ ایسے میں کون کم بخت عالمی حمایت کی توقع کریگا، اور ہم سمجھتے ہیں ، یہی نفاق اور گروپ بندی ہے کہ تمام تر انسانی حقوق کی پائمالیوں کے با وصف عالمی رائے عامہ ٹھس سے مس نہیں ہوتا،اخباری رپورٹوں پر تکیہ ہے ، اقوام متحدہ بلوچ نمائندگی (کس گروپ کی) عالمی انسانی حقوق تنظیم بلوچ قوم کی نمائندگی ، سوال پیدا ہوتا ہے ، کیا عالمی تنظیمیں اورعالمی طاقتیں اندھے اور بہرے ہیں جو بلو چ سیاسی پیش رفت سے واقف نہیں ، کل کلاں عالمی سطح پر مذاکرات \”یا\” بلوچ مسئلہ سمجھنے کی بابت پیش رفت ہو۔ کون قوم بلوچ کی نمائندگی کا حقدار ہو گا ، ہم آخر میں پھر دہراتے ہیں ، اختلافات اور گروہ بندی کی وجوہات کیا ہیں؟، کیوں سر گرداں بلوچ عوام کو اعتماد میں نہیں کہتے؟ اور اختلافات کے وجوہات نہیں بتاتے ؟)
سوال۔بلوچ سیاست میں خصوصاً آزادی پسندوں کے درمیان اختلافات
کو مدنظر رکھ کر اگر جائزہ لیا جائے، تو بلوچ اتحاد و یکجہتی کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
صورت خان مری۔ غالباََ علمی سیاسی بلوغت کی کمی ہے، اور تاریخ تجربات پر نظر نہیں رکھی جارہی ، ایک طرف انیسوی صدی کی گلاسنوسٹ اور کھلا پن ہے ، دوسری طرف شتر مرغ کی مانند \” سر جھاڑی میں دبا کر سمجھاجاتا ہے ، اس کو کوئی نہیں دیکھ رہا ہے حالانکہ ہر کسی کو اسکا پورا دھڑا
نظر آرہا ہے ، بلوچ سیاسی گروپس اور عسکری دھڑے دولائین کی اخباری رپورٹ کے سائے تلے ، قومی آزادی کا خواب دیکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ، یہی گروپس اور دھڑے ، سیاسی کارکنوں کے اغوا اور ویرانوں میں پھنکے لاشوں اور دیگر مظالم کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ وہ یہ کہ یہ قیادت معروضی رہنمائی کے قاصر رہا ، خود فریبی اور نمود و نمائش قومی آزادی نہیں دلا سکتے ، آپ کے تحفظات بجا ہیں۔
سوال۔ عالمی سیاسی و معاشی مفادات اور معروضی حالات میں بلوچ گل زمین نے ایک اہمیت کے حامل خطے کی حیثیت اختیار کی ہے۔ آج افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ، چین کی گودار میں براجمان ہونے ، ایران کی سیاسی و معاشی حوالے سے اقدامات اور پاکستان کے بلوچ سرزمین پر اپنی تسلط کو برقرار رکھنے کے پیش نظر صورتحال دن بہ دن ایک پیچیدہ صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس صورتحال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
صورت خان مری۔ قوم اور قومی گل زمین ، بلوچ کا ہو ، یا کسی دیگر کا ، یکساں اہمیت کے حامل ہیں،آپ نے اکبر بیربل کا قصہ سنا ہوگا ، خوبصورت ترین بچوں کا مقابلہ ، سب سے زیادہ ماں باپ جس بچے کو لپٹ لپٹ کر بے انتہا پیار کر کے خوبصورت ترین قرار دے رہے تھے ، حاضرین کی نظرمیں سب سے میلا کچیلا اور بد صورت ترین بچہ تھا، ماں باپ کی حد نظر آسمانوں کی بلندی اور سمندروں کی گہراہی کی وابستگی کے بنا \” بیربل\” نے اس کو سب سے خوبصورت قرار دیکر بادشاہ کے سامنے پیش کر کے \”جواز \” بھی بیان کیا۔ آزادی ایک قومی وابستگی کا انسانی بنیادی حق ہے۔ حب الوطنی ، ماں باپ کا بچہ کے لئے قدرتی اور فطری و ارفتگی ہے ، جس قدر بلوچ اپنی گل زمین کی وابستگی اور وارفتگی رکھتا ہے ، وہی پشتون ، ازبک ، یورپی ، امریکی ، افریقی ، کوئی اور بھی ہورکھتا ہے ، وائے وطن ہشکیں دار، ملک ء منان اوماہین ،
دل ار ماہین ، ہر قوم کے لئے یکساں ہے ، قومی آزادی کا حصول کسی ریفرنیڈم یا رائے کا محتاج نہیں ، ہم عموماََ انسانی زندگی کے حق کے مشاہبہ ، قومی آزادی کے حق کو قرار دیتے ہیں،جہاں انسانی زندگی کے حق او ر قدر کولے کر \” قَتل رَحم دلی \” تک کو ناجائز قرا ر دیا جاتا ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] انٹرویوز. RSS 2.0