بلوچ شہدا کے خون کا وارث بلوچ عوام ہیں، بلوچ عوام کو کسی صورت شکست نہیں دیا جا سکتا۔بی ایس او آزاد

جمعرات 6 اگست, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے 14اگست کو بی ایس او آزاد کی مرکزی سیکرٹری جنرل شہید رضا جہانگیر بلوچ ، شہید امداد بجیرکی دوسری برسی اور شہدائے اگست کی یاد میں مرکزی سیمینار اور تمام زونوں میں ریفرنسز منعقد کرنے کی کال دیتے ہوئے کہا کہ سال کے دوسرے مہینوں کی طرح ماہِ اگست میں بھی ہزاروں معلوم و گمنام شہیدوں نے قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ شہید رضا جہانگیر، شہید امداد بجیر، نواب اکبر خان بگٹی، شہید ڈاکٹر خالد سمیت تمام شہدا کی لازوال قربانیوں سے ہی قومی تحریک آزادی کا پیغام ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔بلوچ عوام اپنے شہید رہنماؤں کی عظمت و جدوجہد پر فخر کے کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی قربانیوں سے رہنمائی لے رہے ہیں۔ شہدا کے فکر سے شعوری وابستگی ہی کی وجہ ہے کہ تمام ریاستی مشینری مقامی دلال و کاسہ لیسوں کی مدد و کمک کے باوجود بلوچ عوام کو تحریک سے دور کرنے میں نہ صرف ناکام ہوئی ہے، بلکہ اب انتہائی مایوسی کے عالم میں بلوچ عوام کی نسل کشی کی کاروائیوں میں شدت لائی ہوئی ہے۔ تاکہ بلوچ عوام کا خاتمہ کرکے بلوچ سرزمین کو اپنے مزموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ جس طرح قومی شہدا فخر کی علامت سمجھے جاتے ہیں، بلوچ قوم سمیت تمام مہذب دنیا ایسے ثپوتوں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے جنہوں نے قومی برابری و انسانی آزادی کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ ہزاروں سالوں پر محیط بلوچ قومی تاریخ میں ایسے ہزاروں قابلِ فخر کرداروں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے قومی آزادی و سرحدوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے جدوجہد کو ترجیح دی اور خود کو قربان کر کے ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے۔ شہدائے اگست سمیت تمام بلوچ شہد ا نے بلوچ تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے جانوں کی قربانی دی، جنہیں تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ سے یاد رکھا جائے گا۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ قابض ریاست بلوچ نوجوانوں کو شہید کرکے بلوچ وسائل کے لوٹ مار کی تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن قابض کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ بلوچ شہدا کے خون کا وارث بلوچ عوام ہیں، بلوچ عوام کو کسی صورت شکست نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست آج اپنے کاسہ لیس سرداروں و پیشہ ور غنڈوں کے ذریعے بلوچ عوام کی قتل عام میں مصروف ہے، لیکن تاریخ ایسی ہزاروں داستانوں کا گواہ ہے کہ عوامی قتل عام نہ کسی قوم کو جھکا سکی ہے اور نہ ہی اپنی سرزمین سے دستبردار کرسکی ہے۔ ترجمان نے مشکے، آواران، قلات، و نوشکی سمیت بلوچستان بھر جاری میں ریاستی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز آبادیوں پر فضائی بمباری سے نہتے خواتین و بچے شہید ہو رہے ہیں،پاکستانی فضائیہ آبادیوں پر بمباری کرکے نہتے خواتین و بچوں کو شہید کررہی ہے، جبکہ زمینی فوج بلوچ عوام کی گھریلو قیمتی سامان کو مالِ غنیمت سمجھ کر لوٹنے کے بعد گھروں کو جلانے میں مصروف ہے، طاقت کے وحشیانہ استعمال سے ریاست بلوچ عوام کو خاموش کرکے تحریک سے دور کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔لیکن ان تمام کے باوجود بلوچ عوام کی قومی تحریک سے وابستگی اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچ عوام قبضہ گیر کے لئے اپنی سرزمین کو تر نوالہ بننے نہیں دے گی۔ بلکہ ہر محاز پر اپنے سرزمین و قومی شناخت کی بقاء کے لئے جدوجہد کرے گی۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0