بلوچ طلبا کو تعلیمی و سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی کوشش ہورہی ہے:ڈاکٹر ابابکر

جمعہ 2 جنوری, 2015

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کو اپنے تعلیمی مسائل کو اجاگاہ اور ان کے حل کے لیئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بلوچ اسٹوڈنٹس کے لیئے بے شمار مسائل پیدا کئے گئے ہیں جن کا مقصد اسٹوڈنٹس کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنا ہے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ ، میرین یونیورسٹی اوتھل ، انجینیئرنگ یونیورسٹی خضدار، آئی ٹی یونیورسٹی کوئٹہ ، بولان میڈیکل کالج سمیت تمام تعلیمی اداروں بلوچ اسٹوڈنٹس کے حقوق پامال کیئے جارہے ہیں بلوچستان یونیورسٹی کو مخصوص لابی کے نظر کردیا گیا ہے جو براہراست بلوچ دشمن اقدامات میں مصروف عمل ہے میرٹ کے دعویدار کھلم کھلا میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ، میرین یونیورسٹی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے ، بولان میڈیکل کالج میں سیلف فائینینس اسکیم متعارف کردیا گیا ہے جبکہ آئی ٹی یونیورسٹی میں بلوچ دشمن اقدامات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں دوسری جانب بنیادی تعلیمی ادارے مکمل طور پر زبو حالی کا شکار ہیں بلوچستان کے کالجوں میں اب تک سائنس کی سہولیات مہیسر نہیں کی گئی ہیں اور وہ سائنسی اساتذہ سے محروم ہیں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کوئٹہ پچھلے ۵ سال سے بندش کا شکار ہے جس کی وجہ سے بلوچستان خود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز پیدا کرنے سے محروم ہے جس کی وجہ سے دوردراز کے علاقے شدید صحت کی سہولیات سے محروم ہیں ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے مزید اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں نجی تعلیمی اداروں کے سرگرمیوں کو متاثر کردیا گیا ہے جبکہ انہیں براہراست دھمکیاں دی جارہی ہیں اور بلوچ اسٹوڈنٹس کو لاپتہ کرنے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھیکنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے دوسری جانب بلوچ ڈاکٹرز کے لیئے بھی عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے پنجگور سے گزشتہ روز ڈاکٹر شبیر احمد بلوچ کو لاپتہ کردیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر باقر شاہ کو تربت اور ڈاکٹر منوج کمار کو پہلے ہی کوئٹہ سے لاپتہ کیا جاچکا ہے ڈاکٹر دین محمد بلوچ اور ڈاکٹر اکبر مری پچھلے چار سال سے لاپتہ ہیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0