بلوچ طلبہ مسائل، پاکستان اور ہمارے سیاست کے رجنی کانت،تحریر:داد شاہ بلوچ


ہم محض طبعی یا ظاہری طور پر قابض کے غلام ہی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی اسی ہی کے لے پالک ہیں، زبانی جمع خرچ تک تو ہم قابض سے چھٹکارا پانے کی بنیادی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن سے ہم ابھی تک نکل نہیں سکے، وہ ہم پر صرف قابض ہوتا تو شاید بات کچھ اور ہوتی وہ ان غلامی کے سات دہائیوں میں ہم میں ناسور کی طرح سرایت کرچکی ہے، رگِ جان اور زہنوں کے پاتال تک گھس چکی ہے، غلامی سے نجات پانے کے لئے ان تمام حرکی قوتوں کا سب سے پہلے انہی رجحانات سے آزاد ہونا ہی شرط ہے کہ جن رجحانات کو بنیاد بنا کر وہ تابعدار و فرمانبردار غلام کی حیثیت سے زندگی جینے کے بجائے اپنی کھوئی ہوئی آزاد تشخص کے حصول کے حوالے کوشاں رہیں، ہم سب لیڈر سے کارکن تک، شوقیہ آنے والے سے سنجیدہ طبع تک، اور پیراشوٹ لیڈر سے سپر اسٹار و رجنی کانت نما ایکشن ہیرو رہنماؤں تک، ہم سب بزعم خود یہ سمجھتے ہیں کہ ہم آزادی پسند ہیں مگر رجحانات و ترجیحات کی اس میدان میں کتنے کردار ایسے ہیں جو کردار و عمل کے حقیقی جہتوں سے کوسوں کیا بلکہ میلوں دور ہیں، اور ہماری نام نہاد سوچ کی ارفع مقام کا اندازہ محض بلوچ آزادی پسند سیاست کی گدھ نما رجحانات سے کرکے دیکھ لیں اس سوال پر دل کو روح سمیت شرطیہ اطمینان ہوگی کہ پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کی جو موقع پرستیاں قلابازیاں ٹامک ٹوئیاں اور بھڑک بازیوں کے نرالے انداز ہیں وہ سب بدرجہاے اتم ہم میں اور ہمارے صفوں کے اندر شامل نام نہاد خدائی صفات کے حامل لوگوں میں موجود ہیں، ہر مسئلے پر ہماری رائے، ہماری تنقید، ہماری طرف سے مذمت، ہمارے نظریے کا گھسیڑ، ہماری سوچ و فکر اور کھلے ڈھلے الفاظ دستیاب ہوتی ہیں گو کہ اس رائے زنی کی بے فائدہ، بے محل و بے موقع ہونے پر کوئی دو رائے نہیں، بلوچ و پاکستان کی رشتے کو یہ سب لوگ لامحدود بار اپنی باتوں تحریروں و تقریروں کے زریعے ظاہر کرنے اور ثابت کرنے کی کوشش کرچکے ہیں جو کہ ایک فطری رشتہ ہے قابض اور مقبوضہ کی، ایک غاصب ہے تو دوسرا مظلوم ایک جارح ہے تو دوسرا اپنی دفاع پر مجبور، ایک طرف تسلط ہے، ظالمانہ روش ہے، تشدد ہے، نسل کشی ہے، آبادیوں کی انتقال پر مجبور کرنے والی دشمن کی حکمت عملیاں ہیں اور دوسری طرف کیا ہے، دوسری طرف ہم جیسے ایک غلام قوم کی طرف سے محض ایک ہی نظریہ سوچ فکر استقلال و استقامت اور بس ایک ہی دلیل ہے کہ ان سب کا علاج اور ان سب کا حل ایک آزاد اور خودمختار ریاستی بندوبست کی حصول میں مضمر ہے، ان سب خوبصورت لفظوں کی آپ کتنا ہی تعظیم و تقدیس کریں لیکن مسئلہ ایک لفظ کا ہے، اور وہ لفظ “حصول” ہے، ایک آزاد ریاست کی حصول اور حصول کے راستے و طریقے، وہ ریاست موجودہ ریاست کی اگر نہیں تو کم از کم اس ریاست کی موجودہ بندوبست کی ضد ضرور ہوگی، تو پھر کسی ایسی واضح اور بھرپور جد و جہد کی بنیادی ستونوں پر کھڑے تحریک کے حوالے سے ہونے والی ان طفلانہ رویوں اور حرکتوں کا کیا اثر ہوگا، اس میں انسانی حقوق کے بارے تواتر سے ابھرنے والی کہانیاں نہ نئی ہیں اور نہ ہی آج کی ہیں نہ ہی یہ صرف ہم اور ہماری قوم سے متعلق ہیں، دنیا میں غلامی کے خلاف چلنے والی تحریکیں دیکھ لیں وہاں انسانی حقوق کی پائمالیوں کو اس جبر کے تسلسل کے طور پر لیا گیا کہ جو جبر قبضے کی صورت سرے سے ہی موجود اور چلی آرہی تھی اسکو کسی نئے سانچے اور پوشاک میں ڈال کر پیش کرنے کی کوششیں نہیں ہوئیں وہاں ہر چیز کو اسی نظریے سے دیکھا گیا، غلامی کی نفسیات اس سے در آنے والے اثرات اور بن جانے والے ماحول کو سیاسی پروگرامنگ کے زریعے ہی سماج اور لوگوں کے دل و زہن سے بتدریج کم کرکے نکالا گیا، نہ اس طرح سیاسی مہم جوئی سے مطلب نکالنے اور پیراشوٹ سے چھلانگ لگا کر سوشل میڈیا کے سہارے سیاسی بساط پر چھا جانے کی کوششیں ہوئیں.
اسی مذمتی بیان بازی و بھڑک بازیوں کے سلسلے کو دیکھو تو یہ بات آج کی نہیں بلکہ سالوں اور عشروں پر محیط ہے، بہت ہی پہلے شاید ستر اسی کے عشرے کی ایک پریس ریلیز نظر سے گزری جہاں اس وقت کے ایک سیاسی دگج، یا شعبدہ باز ریاستی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کچھ اسی طرح فرما رہے تھے جو آج کل فرمایا جارہا ہے یا جاتا رہا ہے، بالکل نہیں معلوم ہو سکتا تھا کہ کہ یہ آج کی مڈل کلاسی بیانیہ ہے یا قریباً چالیس سال پرانی ہے اگر اس میں موصوف کا نام نہ ہوتا، آج بھی دیکھ لو بلوچ سماج و سیاسی روایات و انکی لوازمات و مطلوبہ ضروریات سے فرار کی صورت بس یہی ایک بیان بازی و بھڑک بازی ہی رہ گئی ہے، کہیں سے کوئی بھی طالب علم اگر لاپتہ کردیا جائے اور ریاستی اداروں کی جانب سے اسکو گرفتار کرکے لاپتہ کیا جائے یا پھر بسا اوقات کی صورت کسی طلبہ کی لاش پھینکی جائے تو چونکہ اسکے مخالف بیانیے کی صورت میں ان نام نہاد مڈل کلاسی چورن بیچنے والوں کے پاس کچھ لائحہ عمل ہوتا نہیں تو ایک آدھ بیان داغ دیتے ہیں تاکہ اسکول کی نالائق شاگرد کی طرح کچھ سیکھنے کی بجائے حاضری لگا رہے اور دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے، تحریکی زمہ داریوں کو ایک فرض کی طرح نبھانے کی بجائے خانہ پری سے کام چلانے کی کوششوں میں مصروف یہ مڈل کلاسی و سوشل میڈیائی گروہ کیا اس قوم کے سامنے کھڑی ان دیوہیکل و مصائب و مشکلات کی اہمیت و نوعیت کو سمجھتی بھی ہے، کہیں سے کوئی بھی مسئلہ ہو چاہے اس میں کوئی سیاسی عوامل شامل ہو کہ نہ ہو چاہے وہ خالص ایک عوامی یا خاندانی مسئلہ ہو لیکن سیاسی گدھ اس سیاسی مسئلے کی میت پر فاتحہ خوانی کے لئے صرف اس نیت کی بنیاد پر آتے ہیں کہ اس سماجی، سیاسی، معاشی یا خاندان و قبائلی مسئلے کی لاش سے بوٹیاں نوچیں گے اور اپنی نکمے سیاست کی اس فربہ و چرب وجود کو مزید زندگی مہیا کرکے اسے اور توانا بنا دیں گے، کسی کا دن دہاڑے اغواء ہونا، کسی کا لاش گرنا کسی کا ریاستی آلہ کاروں کے ہاتھوں لاپتہ ہوجانا یا پھر کسی بلوچ کا ریاستی آلہ کار بن کر اپنے بلوچ بھائیوں پر وار کرنا اور ان جیسے دیگر کئی اس طرح کے مسئلے ان لوگوں کے لیے نام کمانے، نام بڑھانے، دام لگانے اور بولیاں چڑھانے جیسے خالص کاروباری منفعت بخش مواقع ہوتے ہیں، رکنے اور رک کر پیچھے مڑ کر سوچنے اور سمجھنے کی سعی نہیں کی جاتی، پالیسی ہوتی نہیں اگر ہوں بھی تو ان میں خاطر خواہ تبدیلی یا کانٹ چھانٹ نہیں کی جاتی بلکہ “ہم کبھی غلط نہیں ہوسکتے” جیسے نظریوں پر پروان چڑھنے والے یہ لوگ جنگ کو تحریکی لوازمات و قابض کی طرف سے اسباب و علت کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے اسے اپنے لئے اپنی نوچ کھانے اور گدھ جیسی سیاست کے لئے اساس کے طور پر مان چکے ہیں، جنگ ہی زندگی ہے اور جنگ میں چاہے وہ اپنے بھائی کا خون بہائے، بے گناہ کا بہائے، بلوچ آزادی کے بنیادی نظرئیے سے ہٹ کر بہائے، بس جنگ اور جنگ کی ایندھن بن جانے والوں کی روحوں پر کھڑی انکی یہ سیاسی عمارت ہر گرتے لاش اور لاپتہ ہوتے فرزند بلوچ اور ہر اس بلوچ کہ جس پر ریاست و ریاستی اداروں و آلہ کاروں کی طرف سے جبر تشدد کی فضا طاری ہے، ان سب کی بنیاد پر یہ پراگندہ سیاسی بساط کھڑی ہے.
حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی کے بلوچ و پشتون طلبہ پر جس طرح سے وحشیانہ تشدد کیا گیا اور اس میں جماعت اسلامی جس انداز سے نمایاں رہی وہ ماضی کہ تمام زخموں پر نمک چھڑکنے اور روحوں کے جھنجھوڑنے کے برابر تھا، یہ ہوتا رہا ہے، یہ ہو رہا ہے اور یقین مانیے یہ ہوتا رہے گا، بلوچ ہو، سندھی ہو یا سرائیکی ہو، پشتون ہو، ہزار وال ہو یا پھر خود پنجاب کا دریدہ لباس باسی ہی کیوں نہ ہو(اکاڑہ کے مزاراعین و پاک ہندوستان دوستی کے پرچارک رضا خان سمیت بہت سارے دیگر پنجابی) وہ سب پٹنتے رہیں گے اور انکے سروں سے خون پھوار کے مانند بہتا رہے گا جب تک اس ریاست کی بنیادی تضاد کی سیاسی سائینس کے بنیاد پر حل نہیں نکلتا، ہم اور ہمارے یہ نام نہاد مڈل کلاسی چاپلوسی کے شاہ و بادشاہ اپنی مذمتی سیاسی و موقع پرستانہ بیانوں سے نہیں بلکہ بلوچ و بلوچستان کے حوالے ہونے والی اصل جد و جہد کی حقیقی بنیادوں پر ہی اس تضاد کو ایک آزاد ریاست کی حصول کے صورت حاصل کرسکتے ہیں، ماجرہ کیا ہے آخر، آزادی کی مانگ تو یہ نام نہاد مڈل کلاس بھی کرتی ہے، جد و جہد تو وہ بھی آزادی کے حصول کے لئے ہی کرتے آرہے ہیں، پھر یہ تنقید کیسی؟ ڈاکٹر کہور سے ڈاکٹر عبدالمالک تک سب نے آزادی کا مطالبہ کیا تھا کئیوں نے تو اسکے حوالے عملی میدان بھی کچھ عرصے تک ناپا تھا مگر نتائج کیا رہے صفر، کیوں نتائج بے ثمر رہے وہ اس لئے کے جد و جہد کے طریقوں کو غلط خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں ہوئیں، سب مڈل کلاسی آزادی پسند ماضی میں بلوچستان کی سرزمین کو آزاد کرتے کرتے شالکوٹ میں بنے ریاست پاکستان کے فیڈریشن کے نشانی پارلیمنٹ میں پہنچ کر ہی دم لئیے، اور اب کی بار قربانیاں دے کر، جد و جہد کرکے سالوں پر محیط اس قربانی کے سیلِ رواں کو منطقی انجام سے پہلے منزل دینے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں،منزل کی حصول لیڈری کی صورت میں، منزل کی حصول پارٹی و پرسنل کلٹ کی شعبدہ بازیوں میں، یا پھر بیرون ملک بلوچ سرزمین کے بانٹنے والے دشمنوں کو دوست گردان کر انکے گود میں بیٹھ جانے کی سنگین غلطی کی صورت میں، منزلیں کئی محاذوں پر ڈھونڈنے کی کوششیں جاری ہیں، چونکہ ایران نے بلوچستان کے جس حصے پر قبضہ کیا ہے اس مقبوضہ مجموعی سرزمین کے بڑے ٹکڑے پر میرے گھر کی دیواریں کھڑی نہیں ہیں، میرے دالان اور صحن کو جانے والے رستے اس زمین پر سے نہیں گزرتے، اس لئے مجھے اس حصے کی پرواہ نہیں اور ہوگی بھی نہیں، جلے نصیب دشمنان کہ میری جد و جہد کی روح پر شک کرکے مجھے پراکسی کہتے ہیں، اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف زاتی عناد، لالچ، حرص، تمنا، خواہش اور کاوش کو پورا کرنے کے واسطے ہی کی جارہی ہے تاکہ بلوچ سرزمین کی آزادی کی اصل ایجنڈے کو تلے کرکے محض ایک ٹکڑے پر ہونے والی جد و جہد میں کسی اور راہنما و باکردار شخص یا اشخاص کے برابری کرنے کے واسطے خود کو دشمن کے ہاتھوں اس ادا سے بیج دیا گیا کہ خریدار بھی عش کرکے اٹھے کہ دام لگے بھی تو لگے کتنے سستے، یہ پراکسی اور دشمن کا آلہ کار بننے کا عمل اپنے پیچھے کئی محرکات رکھتا ہے، یہ وہی لالچ ہے، شوق لیڈری و حرص قوت ہے جو آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ جہاں اپنوں کے خون کے دھبوں کو دشمنوں کے دامن سے مٹانے پر ہم فخریہ انداز میں اسے ایک سیاسی تدبر و حکمت سے تعبیر کررہے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ کل ایرانی ملا رجیم کے بلوچوں کو پھانسی چڑھانے والے کرینوں کے لیور کھینچنے والے ہاتھ لکیر کے مشرقی جانب کے ہوں اور نیچے کی جانب ڈھلتے اور سرکتے ہوئے بے روح گردنیں لکیر کے مغربی جانب کے ہوں، یہ ایک صریح بددیانتی و کامل بدقسمتی ہے کہ ہم قوم، قومی نصب العین، زمین اسکی عظمت اور افتخار سے ہٹ کر لکیروں کی مشرق و مغرب میں بٹ چکے ہیں اور بانٹنے والے مکروہ کردار جد و جہد کے دعویدار.
یہی وہ شوق و طمع و لالچ کی لامتناہی سلسلہ ہے جو اتنی بار گراں قوم کے کاندھوں پر گرانے کے باوجود کم یا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، طلبہ سیاست کی بلوچ سماج سے بیخ کنی جہاں دشمن کی بربریت و لامحدود طاقت و وسائل کی وجہ سے ہوئی وہیں خود اپنوں کی نالائقیاں بھی کہیں کم نہیں رہیں، طلبہ سیاست کیا ہے اسکے حدود و قیود کیا ہیں، کیا یہ سمجھنے یا سمجھانے کی ضرورت اب بھی پیش آتی ہوگی، ہرگز نہیں، ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ روز اول سے اس طرح کی بچکانہ و طفلی کارگزاریوں سے احتراز برتا جاتا لیکن کوتاہیوں اور کج رویوں کو پیش نظر رکھ لیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ابتداء تھا اور ایسا ہونا تجربات کی تلخی کے سفر میں پیش آنے والے بسا حادثوں میں سے ایک تھا، لیکن وہی کارگزاریوں کا سلسلہ اور بچکانہ رویوں کی بھرمار کا شرمندہ کرنے والا تسلسل آج بھی بے حد ڈھٹائی سے جاری و ساری ہے، بلوچ سماج کے اس سیاسی و جنگی تحریک کے تجربات سے کشیدکردہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کم از کم اتنا ضرور سمجھ میں آتی ہوگی کہ بلوچ طلبہ کی سیاسی بنیادوں کو خود کئی عصری طلبہ سمیت نام نہاد قومی و سیاسی شعبدہ باز لیڈروں نے کیش کرنے اور ہائی جیک کرنے سعی کی ہے، بلوچ طلبہ جو ویسے اپنی ڈیموگرافک تلخیوں کی وجہ سے کافی قلیل تعداد میں ہیں انکا سیاسی میدان اور اسمیں ایجنڈوں کی دامن کتنی وسیع ہوتی ہوگی؟ یہ از خود ایک سوال ہے جو تاحال خون کی اس پاتال میں اپنے لئیے جواب ڈھونڈتی پھر رہی ہے مگر حادثوں کا دباؤ، بہاو اور تسلسل و ارتعاش اتنا زیادہ ہے کہ کسی ایک سوال کا جواب ملنے سے پہلے کئی اور سوال دامن پھیلا کر آجاتے ہیں، اور یہ سوال کھڑے کرنے اور پہلے سے موجود سوالوں پر مزید سوالوں کے امبار لگانے کا مکروہ سیاسی کاروبار کا اس گروہ کو سب سے جو بڑا فائدہ مل رہا ہے وہ یہی ہے کہ سوال بھلا دئیے جاتے ہیں، لوگ جواب ملنے سے پہلے نئے سوال پر لپکتے ہیں، پھر دوسرے نئے سوال پر اور پھر بالکل نئے سوال پر، اور اس نئے سوال کا چکر گول گول تسلسل سے گھومتا ہی رہتا ہے، اور لوگ بالآخر تھک جاتے ہیں یہی سلسلہ ہے کہ جواب تو نہ دیا جائے پر سوالوں کا امبار مسلسل بڑھتا ہی چلا جائے، اس تناظر میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں سمیت ان سے جڑے سیاسی بازیگروں کی مشاہدہ کریں اگر رتی برابر بھی فرق ملے تو مجھے بھی معلومدار کرلینا، اب ادھر ہی دیکھ لیجیے کہ اگر پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ اپنے ایک جماعت کی تشکیل کرکے اسی کیمپس میں ہی ہونے والی سیاسی و معاشی و تعلیمی دباؤ اور مسئلوں کا سامنا کرسکیں وہی بڑی بات ہوگی، وہی انکے لئیے کافی ہوگا کہ اس سیاسی نابرابری اور معاشی و معاشرتی عدم مساوات کے خلاف وہ اپنے ہی لوگوں کا ایک مضبوط اکٹھ بنا سکیں، وہاں اسی کیمپس یا دوسرے کیمپسز میں تعلیم کے مخصوص ایجنڈے پر اپنی کام کو موثر آواز و اسٹیج فراہم کرسکیں، لیکن اگر ان باعتماد، جری اور ہمت والے طلبہ پر اپنی اسی جد و جہد کے دوران کوئی مسئلہ آتا ہے کوئی دن گراں گزرتا ہے تو وہ جد و جہد کی اپنے استعداد و معیار کے مطابق طریقہ کار اپناکر اس مصیبت کو کم کرنے کوششوں میں جھٹ جاتے ہیں تو اتنے میں سوشل میڈیا پر کہرام برپا کردیا جاتا ہے، کوئی کینڈا میں بیٹھ کر طلبہ کی حق کے جنگ لڑنے کی بات کرتی ہے، کوئی کسی نامعلوم پہاڑی چوٹی سے سوشل نیٹ ورکنگ نامی میزائیلی بیان دے مارتا ہے، کوئی کہاں تو پتہ نہیں دوسرا کدھر سے سب آکر ماحول گدلا کرکے اس پورے بن جانے منظر نامے کو طلبہ جد و جہد کے کرداروں سمیت ہائی جیک کرلیتے ہیں، یہ کوئی قومی خدمت نہیں بلکہ سیاسی و سماجی محرکات بھلے حقیر ہی سہی کو روکنے یا غیر موثر بنانے کی سازش اگر نہیں تو بے وقوفی ضرور ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے انکے مسئلے کم یا ختم ہونے کے بجائے مزید گھمبیر و پیچیدہ ہوجاتے ہیں، ایسا اگر محض اور صرف شوقِ لیڈری و جمعداری کے واسطے نہیں ہورہا ہے تو کیوں ہورہا ہے، کوئی ہمیں بھی سمجا دے کہ ہم سمجھیں کیا؟ یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ تحریک کے اس جد و جہد کے اسٹیج پر ہر بندے کا اپنا ایک کردار ہے، اور ہر کوئی اپنی کردار اپنی بساط اوقات ماحول و خطرات کو سامنے رکھ کر سرانجام دیتا ہے، لیکن جب کسی عام یا معمولی کردار کی جگہ کوئی سپر اسٹار نمودار ہوجائے تو پھر اس معمولی کردار کی باتوں پر کون کان دھرنے کی بیوقوفی کرے گا، اور ہمارے ہاں ماشاءاللہ اس بھونڈی سیاست کے طفیل سیاسی سپر اسٹاروں کی تو کوئی قلت نہیں، بس بیان لکھو، سوشل میڈیا پر آجاؤ اور پورے منظر پر چھا جاؤ، یہی سپر اسٹار سیاستدانوں کی چھا جانے کا عمل ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں معصوم طلبہ کو محض کلچرل ایونٹ کرنے پر بلوچ عسکریت پسند تنظیمی حلقوں سے جوڑنے کی عمل کو ریاست کی طرف سے جواز فراہم کیا جاتا ہے، پاکستان اور اسکی اداروں کی باتیں کتنی سچی یا جھوٹی ہیں اس پر وقت ہی ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہم سب کو معلوم ہے، بس بات چھوٹی سے، باریک سی اور تھوڑی سے ہے، لیکن سر کے بھیجے میں اگر گھس جائے تو سمجھ آجائے کہ جواز فراہم کون کررہا ہے، وہ کون ہیں جو پورے سیاسی گھاٹ کو گدلا کرکے نہ خود پانی پیتے ہیں نہ کسی اور کو پینے دیتے ہیں، یہی سیاسی شعبدہ باز، قوم کے اعصاب پر مسلط سیاسی گدھ اور سیاست کے رجنی کانت ہیں جو ہر معاملے و مسئلے پر رائے دینے کا حق کچھ سوچے سمجھے بغیر بس استعمال ہی کردیتے ہیں.