بلوچ عوام سے 13نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر منانے کی اپیل کرتے ہیں۔بی ایس ایف مرکزی چےئرمین سعید یوسف بلوچ

اتوار 9 نومبر, 2014

کو ئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئر مین سعید یوسف بلوچ نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں بلوچ قوم اور آزادی خواہ بلوچ عوام سے 13نومبر کو یوم شہدائے بلوچستان کے طور پر منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13نومبرہمارے لئے تجدید عہد کادن ہے بلوچ قوم یکسوئی کے ساتھ شہدائے آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آزاد بلوچ خطہ کے حصول اور شہداء کو مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے عہد وپیمان کریں انہوں نے بلوچ اور پشتوں عوام کاروباری حضرات اور تاجر برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ یوم شہدائے بلوچستان کے موقع پربلوچ سالویشن فرنٹ کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے بھر پور تعاون کرتے ہوئے قوم دوستی اور وطن دوستی کاثبوت دیں انہوں نے کہاکہ ہمیں اس موقع پر اقوم عالم کو پیغام دینے کی ضرورت کہ بلوچ قومی آزادی کے سواکسی بھی حل پر راضی نہیں بلوچ وطن نہ تو ایران اور نہ ہی پاکستانی ریاست کا حصہ ہے بلکہ دونوں ممالک ڈھٹائی اور طاقت کے زور پر بلوچ سرڈغار پر قابض ہے بلوچ جدوجہد 175سال سے جاری ہے کچھ لوگ قومی سیاست کو اقتدار کے اکھاڑے اور پارلیمانی کرسیوں تک رسائی کے طور پرآلودہ کرکے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو ناراضگی اور محرومیوں کا نام دیکر دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے بلوچ شہداء کی قربانیاں ان کے جھوٹی اور من گھڑت موقف کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ ریاست کے حاشیہ بردار کی حیثیت سے غلامی کے خلاف بلوچ قومی جدوجہد کے ابھار کو روکنے کے لئے مختلف آلہ اور حربہ استعمال کرتے ہوئے کہتے تھے کہ بلوچ عوام آزادی کی جدوجہد کے لئے تیار نہیں لیکن بلوچ فرزندوں کی فداکاری اور شہادتوں نے ثابت کردیا کہ یہ لوگ جس سیاست پر ٹکی رہ کر قوم کو غلام رکھنا چاہتے تھے ان کے باتوں میں کوئی منطق نہیں تھی بلکہ وہ اپنی زاتی مفادات کی خاطر قوم کی اجتماعی زندگی اور آزادی کے ساتھ کھیل کھیل کر ریاستی قبضہ کو تحفظ دینے کی مجرمانہ عمل میں شریک تھے بلوچ عوام کی جذبہ آزادی کو دبانے اور قوم کوآزادی کی جدوجہد اور انقلابی عمل سے دور رکھنے کے لئے پارلیمانی سیاست کو کارگر آلہ کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن شہدائے بلوچ نے جان ہتھیلی پررکھ کر نہ صرف ان کی فرسودہ سیاسی فلسفوں کو موت سے ہمکنار کیا بلکہ ریاست کے جبر و طاقت کی بنیادوں کو بھی ہلاکر قوم کو نئی حوصلہ اوراور ولولہ دیا انہوں نے کہاکہ 13نومبر بلوچ شہداء کو سلام عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کو دہرانے کا دن ہے کہ بلوچ شہداء کی آزادی کی نامکمل مشن کو ہر محاز اور ہر سطح پر جدوجہد آزادی کی شکل میں جاری رکھا جائے گا بلکہ شہدا کے دہراتے قربانیوں کے ساتھ یہ دن ریاست اور ان کے حاشیہ بردار پروپیگنڈہ مشینری اور زرخرید قوتوں کے غلط بیانیوں کو زبردست دلیل کے ساتھ مسترد کرتی ہے کہ بلوچ شہداء ریاست کے اخلاقی مجرم یا دہشت گر نہیں بلکہ بلوچ قوم کے ہیرو اور رہبر ہے بلوچ عوام شہداء آزادی کے بہادرسرفروشوں کو ان کی فداکاری اور قربانیوں کے عوض قومی ہیرو کا اعزاز دے چکاہے انہوں کہا کہ ا قوام عالم انسان دوست اور قوم دوست ممالک بلوچ اور ریاست کے مابیں جنگ کے اس فیصلہ کن موڑ پر بلوچ عوام کی نسل کشی اور خونریز صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں ریاستوں پر سیاسی سفارتی اخلاقی اور اقتصادی دباؤ ڈالکربلوچ قوم کی بلوچ خطے پر حق آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے پراسرار اور تعجب خیز خاموشی کو تو ڑ کربلوچ قومی مسئلہ کا نتیجہ خیز حل نکالنے میں اپنی بین الاقوامی کردار اداکرنے میں لیت و لعل سے کام نہ لیں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0