بلوچ عوام 13نومبر کو تجدید عہد کے طور پر مناکرشہداء کوسرخ و سلام پیش کریں۔ بی ایس ایف

بدھ 12 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی چیئرمین سعید یوسف بلوچ مرکزی سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ مرکزی جوائنٹ سیکریٹری حانی بلوچ ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر اور بلوچ گہار موومنٹ کے وائس چیئر پرسن زمور آزاد بلوچ نے اپنے جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں بلوچ اور پشتون عوام سمیت بلوچستان میں آباد دیگر اقوام تاجر برادری اور کاروباری حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ 13نومبر یوم شہدائے بلوچستان کے مناسبت سے بلوچ سالو یشن فرنٹ کی اعلان شٹر ڈاؤن ہڑتال کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھیں انہوں نے کہاکہ 13 نومبر تین ممالک کی سرحدوں میں تقسیم بلوچ قومی شہداکے پاکیزہ لہو کے ساتھ تجدید عہد کا دن ہے بلوچ عوام 13 نومبرکے دن کو انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ مناکر بلوچ آزادی کے سرفروش شہداء کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کریں انہوں کہاکہ شہداء کی قربانیوں نے بلوچ قومی تحریک کو نہ صرف ناقابل تسخیر قوت بنادیا ہے بلکہ ریاستی ازیتی حربہ اور ظلم و جبر نے بلوچ قوم کے باشعور فرزندوں کے حوصلون کو بلند کیا ہے تکالیف ازیتیں جیل و زندان اور شہادتیں آزادی کی تحریکوں کے ایندھن کا باعث ہوتے ہیں آج بلوچ قومی تحریک جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے یہ شہداء کی قربانیوں کا رہین محنت ہے ہمیں شہداء کو یاد کرتے ہوئے ان کی عظیم مقصد کو زہن میں رکھیں شہداء کو رسمی طور پر یاد کرنے کے بجائے ایمانداری اور زمہ داری کے ساتھ ان کے مشن کو آگے بڑھائیں ہر ایک بلوچ اپنی بساط کے مطابق خلوص اور جانفشانی کے ساتھ جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں انہوں نے کہاکہ ریاست اپنی طاقت اور وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ جس بہیمانہ طریقہ سے پروپیگنڈہ کرکے مختلف اوزار اور مہروں کو استعمال کرتے ہوئے تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جبکہ ریاست کے ساتھ پہلو بہ پہلوان کے مقامی حاشیہ برداروں نے قومی غلامی کے خلاف ابھرنے والی جدوجہد کی شدت کو کمزور کرنے کے لئے مختلف ہتکھنڈے استعمال کی کنفیوژن اور ابہام پھیلانے کی مجرمانہ کوششوں کے ساتھ بلوچ مسئلہ کو رائلٹی صوبائی خود مختیاری عمرانی معائدے جیسے تیسرے درجہ کے مطالبہ سے جوڑنے کی کوشش کی گی تاکہ ریاستی غلبہ اور تسلط کو جواز دیا جاسکے لیکن زمینی حقائق سے متصادم ان کے تمام دلیل و حیلوں کو شہیدوں نے ناکام بنادیا شہداء اور قوم کے باشعور فرزندجہدکاروں نے ریاست کے ان چالوں کو محسوس کرتے ہوئے ٹھوس اور اصولی موقف کو نصب العین بناکر آزادی سے کم کسی بھی قسم کے موقف کو بلوچ قومی غلامی سے تعبیر کرکے ریاستی سیاست کے لئے مشکلات پیدا کی اور اور اپنی عمل او ر کوششوں سے حالات کادھارا موڑ کر قومی آزادی کی جدوجہد کو بلوچ قوم کا جزو ایمان بناکر اپنے سوچ فکر اور جرائت اور جانثاری کی صورت میں جدوجہد کے تمام مشکل مرحلوں کو عبور کرتے ہوئے شہادت کو قبول کرکے ریاست پر واضح کردیا کہ ظلم کے خلاف ان کے پاس سب سے موثر ہتھیار ان کی نظریہ ہے انہوں نے کہاکہ شہدانے بلوچ وطن پر ریاستی کی مزید تسلط کے نشہ اور گھمنڈ کو توڑنے اور بلوچ قوم کو غلامی اور بیگانگی کی لت سے نکالنے اور ان کی جداگانہ قومی شناخت کو آزاد بلوچستان کے قیام سے بندھنے کے لئے بے پناہ کوششوں کے ساتھ اپنی قیمتی زندگیوں کو داؤپرلگاکر حیات جاودان کے طور پر تاریخ میں امر ہوگئے بلوچ عوام 13نومبر کو تجدید عہد کے طور پر مناکر اپنی نجات دہندہ قومی شہداء کو والہانہ انداز میں بھر پور احترام وعقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ سرخ و سلام پیش کریں

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0