بلوچ قومی تحریک اور ہماری روایت پسندی۔ تحریر: ایڈوکیٹ صادق رئیسانی

بدھ 15 اکتوبر, 2014

تقریباً چار ارب سال پہلے اس کرہء ارض پر حادثاتی طور پر چندمعدنی عناصر نے زندگی کی صورت اختیارکی۔ ایک ادھورے پروکریوٹک prokaryotic خلئیے سے زندگی کا آغاز کیا جوکہ چار ارب سالوں میں ارتقاپاتے ہوئے آج اس کرہ ارض پر مختلف انواع و اقسام کے 80لاکھ سے زائد جانداروں کی شکل میں موجود ہیں اور اوسطاًہر گھنٹے میں نیا جاندار دریافت ہورہا ہے مادے کی زندگی کی شکل اختیار کرجانا اس کائنات کا اہم ترین واقعہ تھا اور اس سے بھی اہم انسانی دماغ کے زریعے مادے کا اپنے ہی بارے میں باشعور ہونا تھا انسانی زہن اور اسکے باشعور ہونے کے ارتقائی عمل میں جسمانی محنت کا کلیدی کردار ہے جوکہ انسان کی جنگل کی زندگی کا خاصا تھی عہد وحشت اور عہد بربریت کے طویل ادوار کے بعد جب انسان فطرت کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا توعہد تحزیب کا آغاز ہوا اور دنیا کی اہم تہذیبیں ظہور پزیر ہوئی ۔ اس عہد کا اہم خصوصیات میں دھاتوں کا استعمال ، دریاوں کے ساتھ جڑت ، منظم شہر، لکھائی کا آغاز اور بہت سے فنون کی ابتداء وغیرہ شامل ہیں اسی دور میں ہی انسان کووہ فارغ وقت میسر آیا جسمیں اس نے فطرت کے بارے میں سوچنا سمجھنا شروع کیا اور اسی دور میں ہمیں فلسفے کا آغاز ہوتانظر آتا ہے ۔ انڈین ، یونانی، فارسی ، چینی اور مصری تہذیبوں میں عظیم فلسفے کی ابتداء ہوئی اور یہی سے ہی فلسفے کی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے جسمیں سب سے اہم کردار یونانی فلسفیوں کا ہے۔
فلسفہ دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کا طریقہ کار ہے کوئی انسان چاہے کتنا ہی انکار کرے ، شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی نا کسی فلسفے کا علمبردار ہوتا ہے ۔جب انسان مہذب دور میں جسمانی مشقت سے کسی حد تک آزاد ہوا تو اس نے دنیا کو دیکھنا اور سمجھنا شروع کیا ۔ تاہم اس ابتدائی دور میں سائینسی اور دیگر علوم ، خصوصاً تکنیک کی کمی کی وجہ سے فلسفہ مذہب کے لبادے میں قید رہا ۔ یہ یونانی فلسفی ہی تھے جنہوں نے دنیا کو سمجھنے کے لئے مذہب سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فلسفے کو مادی بنیادیں فراہم کی۔ اس کے بعد انسانی سماج نے کئی شکلیں اختیار کی ہرنیا سماج پچھلے نظام کی ہر چیز چیلنج ہوتی جاتی تھی سماجی رشتے عقائد کی صورت میں سماج سے بغاوت کی صورت میں ظہور پزیر ہوا ۔ اس بغاوت میں معیشت، ثقافت ، عمومی سوچ فلسفہ بھی فلسفہ کا تاریخی سفر کسی سیدھی لکیر پر مشتعمل نہیں ہے بلکہ یہ تضادات سے بھر پور ہے ۔ غلام داری سماج نے قدیم اشتراکیت کے فلسفے کو جاگیرداری سماج نے غلام داری کے اور صنعتی سماج نے جاگیرداری سماج کے فلسفوں کو چیلنج کیا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فلسفہ اپنے سے قبل فلسفے کی نفی کرکے ایک تضاد کے نتیجے میں جنم لیتا ہے اور ہر نیا فلسفہ اپنے سے پرانے فلسفے کے کچھ حصوں کو اپنے اندر ضم بھی کرلیتا ہے اسی طرح ایک ہی سماج میں متضادفلسفیوں کا جنم لینا اس سماج میں موجود متضادطبقوں کی عکاسی کرتا ہے ایک ہی نظام کے اندر تضاد پک رہا ہوتا ہے جو کہ اپنا اظہار بڑے واقعات کی مثلاً جنگوں ، بحرانواں اور انقلابات کی صورت میں کرتا ہے تاریخ کا سفر کم از کم اسی طرح جاری ساری رہا ہے۔
اور آج بلوچ سماج میں پرانے خیالات کو نئے خیالات میں تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہیں کیونکہ اگر ہم تضادات کے قانون کو سمجھنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر انقلاب کی طرف ہمارا سفر جاری رہے گا اور تنقیدی جائزوں کو جو دلیل اور منطق پر پورا اترتے ہیں انھیں ہمیں قبول کرنا ہوگا اور اگر ہم اس چیز کو سمجھنے سے قاصر رہے تو ہم بحرانوں کا شکار ہوجائیں گے اور ہماری یہ ناسمجھی ہمیں اپنے حقیقی منزل سے بہت دور کردے گی۔
کسی بھی تحریک میں تضادات کا ہونا ممکن ہوتا ہے اگر کسی تحریک میں تضاد نہ ہو اور تنقید نہ ہو وہ تحریک میرے خیال میں ایک خواب ہوتا ہے یا پھر ایک مداری کا کھیل ہوتا ہے۔ کسی بھی تحریک میں تنقیدکو برداشت کیا گیا وہ تحریک مضبوطی سے اور جاندار طریقے سے اپنے منزل تک پہنچی ہے تنقید علم اور شعور ہے کیونکہ شعور ہی تنقید کو جنم دیتی ہے اور تنقید تحریک کو ایندھن فراہم کرتی ہے اور یہی ایندھن تحریک کو گرم رکھتے ہوئے منزل تک پہنچاتی ہے مگر افسوس آج بلوچ تحریک میں تنقید کا راستہ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے تسلسل کے ساتھ تاکہ تنقید کا راستہ روکنے اور اْس پرانی روش پر بلوچ سماج کے طاقتور حلقے اپنی مرضی سے بلوچ تحریک کے ڈور اپنے ہاتھوں میں لئے بلوچ تحریک کا فیصلہ کریں مگر بلوچ سیاست میں ایک مطمئن کن بات یہ ہے کہ ایک نیا سوچ پیدا ہوچکا ہے اور پرانے روش پرچلنے والوں کا سامنا کرنے کے لئے اب وہ سوچ مظبوط ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس سوچ کے ساتھ دلیل ، تنقید نئے خیالات تسلسل اور سماج سے بوسیدہ خیالات کا خاتمہ اور نئے خیالات جو تحریک کے لئے سودمند ہے ان کو شامل کرنا ہے۔
سوشل میڈیا ، اخبارات، میگزین اور جتنے بھی زرائع ہیں ان کا صحیح استعمال تاکہ تحریک مظبوط ہواور تسلسل کے ساتھ جارر ہے کیونکہ ہم بڑے عرصے سے ان چیزوں کو محسوس کررہے ہیں کہ اس وقت بلوچ سماج میں جتنی بھی آزادی پسند پارٹیاں موجود ہیں یہ سب بلوچ تحریک کی مضبوطی کے لئے نہیں بلکہ گروہیت کو مظبوط کررہے ہیں اور انہی چیزوں کو ہم ساتھیوں نے محسوس کیا اس سوچ کو جس کی بلوچ سماج کو ضرورت ہے جسمیں جھوٹ ، علاقائیت، گروہیت اور خاندانی رشتہ داری سب سے بالا تر ہوکر آج بلوچ سماج میں یہ سوچ مظبوط ہورہی ہے اور آگے کی طرف سفر کررہی ہے ۔
کیونکہ پچھلے ادواروں کو مدنظررکھتے ہوئے سنگت حیربیار اوراس کے ساتھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پرانی روش کا راستہ روکنا اور نئے سوچ کو آگے لے جانا اس وقت تحریک کی ضرورت ہے اور بلوچ تحریک کو دلیل تنقید نئے خیالات کی ضرورت ہے یہ سچائی کا راستہ ہے اسکے لئے اچھے نیت سچائی اوردلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اگر یہ سوچ بلوچ سماج میں پنپ گئی اور بلوچ یہ محسوس کرنے لگے کہ یہ سوچ ہماری ضرورت بلکہ تحریک کی ضرورت ہے تو بلوچ تحریک کو کوئی منزل سے نہیں روک سکے گا۔
اور خدانخواستہ اگر بلوچ قوم ان مفاد پرست ٹولے کے نرغے سے نہ نکل سکی تو پھر ماتم کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔
بلوچ ایک قوم ضرور ہے مگر ابھی تک ہم نے عظمت حاصل نہیں کی ہے اور عظیم اس دن ہونگے جب ہم سچائی کے ساتھ اچھے نیت قربانی اور تسلسل کے ساتھ اپنی آزادی حاصل کریں اور اپنے ذات علاقائی قبائلی اور دوسرے القابات کو دفن کریں تو پھر ہم آزادی حاصل کرنے کے بعد ایک عظیم قوم کی طرح ضرور سفر کریں گے ۔
ہمارے سفر میں اس موڑ پر روکاوٹیں ضرور ہے اور اسکی وجہ زاتی انا ضد علاقائی گروہی وغیرہ ہیں اور یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ یہ جراثیم صدیوں سے ہمارے سماج میں موجود ہیں اور آج 14سالہ آزادی کی جنگ میں یہی جراثیم سب سے بڑی روکاوٹ ہیں اور ماضی میں جتنی بھی بغاوتیں ہوئی دوسرے مشکلات کے ساتھ ساتھ اس جراثیم نے اپنابہت اثر دکھایا اور اسی لئے ماضی کی بغاوتیں ناکام ہوئی کیونکہ بلوچ کی موجودہ آزادی کی جنگ کو ایک درست سمت تضادات کا تعین تنقید سوال کا حق ، برابری، سماجی تبدیلی ، روشن خیالی اور نئے خیالات جن کی تحریک کو ضرورت ہیں اس سفر میں شامل کرنا ہوگا اور اگر بلوچ زانت کاروں نے اس طرف توجہ نہ دی تو مشکلات مزید بڑھ جائیگی
دنیا میں آج جتنے بھی اقوام ترقی کی منزل طے کررہے ہیں ان کا لب لباب یہی رہا ہے کہ تنقید کو سماج کے اندر کلیدی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے ایک چیز کا ہمیں خیال رکھنا چایئے کہ ہمیں تضادات کو تنقیدی نظر سے دیکھیں جس سے سماج میں اچھے اثرات ابھر کر سامنے آئیں \”البرٹ آئن اسٹائن کا قول ہے بغیر تحقیق کے تنقید جہالت کی عروج ہے\”
آج بلوچ سیاست میں کچھ حلقے ہی تنقید کی نظر سے مسائل کو دیکھ اور پرکھ رہے ہیں مگر آج ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نقتہ چینی کا پیمانہ زیادہ نظر آرہا ہے اسکی وجہ ہم نے پہلے بیان کی ہے کہ ضد انا علاقائی قبائلی وغیرہ۔
ہمارا معاشرہ قبائلی ضرور ہے یہ تبدیلی کی طرف گامزن ضرور ہیں مگر آزادی کے جنگ کے دوران ان مسائل کو نظر انداز نہیں کرنا چائیے جو اس جنگ کے سامنے روکاوٹ کے طور پر سامنے آرہے ہیں ہمیں ان تضادات کے متعلق کھل کر اور سنجیدگی کے ساتھ اسکا جائزہ لینا ہوگا اور آج جتنے بھی مسلح یا سیاسی پارٹیاں ہیں تنقید کو قبول کرتے ہوئے آگے کی طرف بہتر انداز سے سفر کرنے کے قابل ہوسکے۔
\”جون ایلیا خوب کہتے ہیں کہ آو کہ آختلاف رائے پر اتفاق کرلیں\”بلوچ سماج میں آج مختلف پارٹیوں میں اگر مسائل کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو اپنے پارٹیوں سے ڈسپلن کے نام پر فارغ کیا جاتا ہے بات یہ بنتی ہے کہ احترام کرو بولو نہیں تعریفیں کرو ، خوشامد کرو وغیرہ وغیرہ اسی بابت \”البرٹ گیمس کا قول ہے بدترین احترام وہ ہے جو خوف پر قائم ہو\” آج بلوچ سماج میں قومی آزادی کی جنگ میں بلوچ آزادی پسند پارٹیاں اپنے ورکروں کو خوف کے سائے میں احترام کا درس دے رہے ہیں۔
جن کا احترام خوف کی بنیاد پر قائم ہیں تھوڑی سی امید کی کرن اب نظر آرہی ہے کہ بلوچ سماج میں مسائل کو تنقیدی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور لوگ بھی سمجھ رہے ہیں مگر اب بھی کافی ضرورت ہیں یہ ابتداء عشق ہے۔
بلوچ سماج کے معروضی حالات کو گہرائی کے ساتھ مشاہدہ کرکے حالات اور حقائق کو دیکھا جائے اس سے مراد عوام میں پائے جانے والے وہ حالات ہوتے ہیں جن کے مطابق سیاسی کام کی حکمت عملی کو حقائق کی رو ح سے دیکھا جاتا ہے یعنی کسی بھی قوم کے سیاسی اقتصادی اور سماجی حالات عوام کی زندگی کا میعار ان کی سوچ و فکر اور دیگر امور جدوجہدو معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے عمل کو بہتر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے معروضی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کسی بھی تحریک میں پرانے اور بوسیدہ حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اور لوگوں کو باور کرانا پڑتا ہے کہ اگر ہم نے پرانے روش کو تبدیل نہیں کیا اور نئے خیالات اور سوچ کو تحریک کے اندر جگہ نہیں دی تو تحریک میں مشکلات بڑھ جائیں گے ‘ا ور انقلاب تبدیلی کا نام ہے تبدیلی کے بغیر انقلاب کا حصول ناممکن ہے اور بلوچ سماج کو بھی تبدیل کرنے کے لیے عوام کو باورکرانا ہوگا کہ ہمیں تبدیل ہونا ہے اور بلوچ سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کو چائیے کہ پرانے خیالات پر ڈٹے رہنے سے اور پرانے القابات کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور تبدیلی کو خوف سمجھا گیا تو تباہی کے سوا ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گاتنظیم سے مراد وہ سیاسی ڈھانچہ ہے جسمیں باضابطہ طریقے سے کام اور زمہ داریوں کو تقسیم کیا جاتا ہے جو لوگوں کے انفرادی کاموں کو ایک دوسرے کے کام سے ملایا اور جوڑا جاتا ہے اور انھیں اجتماعی شکل دی جاتی ہے اور تمام قوتوں کو منظم اور باقاعدہ شکل میں اکھٹا کرکے استعمال کیا جاتا ہے اور اکھٹے ہوئے فیصلے کئے جاتے ہیں اور ہر کام کے بارے میں رپورٹ دی جاتی ہے اور غلطیوں یا غیر زمہ داریوں کی سدباب کی جاتی ہے اور تنظیمی کاموں کو گہرے مشاہدے سے دیکھا جاتا ہے اور فیصلے کئے جاتے ہیں ۔
اس وقت بلوچ سماج میں کوئی انقلابی پارٹی نہیں ہے اور اس بارے میں ہم سب کو سوچنا چایئے ہم انسان ہیں ہم اپنے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم زرائع استعمال کریں گے جسکی ہمیں ضرورت ہو انسان نے قاصدوں کے زریعے پرندوں کے زریعے ، میسج کا وقت، ڈیجیٹل فون ،ٹی وی ، اخبارات، جرائد اور جدید دور میں سوشل میڈیا سب زرائع اور انکا اچھے انداز اور مثبت انداز سے استعمال ہر باشعور بلوچ کا حق ہے دنیا میں سوشل میڈیا کا حق قانون بن رہا ہے ایک باشعور بلوچ کو سوشل میڈیا کاکم ازکم مخالف نہیں ہونا چایئے۔کیونکہ میڈیا ہی کے ذریعے ہم اپنی کمزوریوں و غلطیوں کا تدارک کرسکتے ہیں اور اس جہد میں تمام پارٹیاں و تنظیمیں جز کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اگر کل کا تصور کسی بھی تنظیم یا پارٹی میں جگہ پا گیا تو وہ کامیابی سے کوسوں دور ہو گا اور اسی تناظر میں بلوچ طلباء تنظیمیں ہیں
بی ایس او ایک جز ضرور ہے مگر کْل نہیں اور بلوچ سیاست میں بی ایس او کا رول ضرور ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انقلاب بی ایس او ہی لائے گا جز کی حیثیت سے بلوچ سماج میں ضرور موجودہے اور اگر بلوچ نوجوانوں کی بات کی جائے تواس اہم موڑ پر بلوچ طالب علموں کو مقابلے بازی کی دوڑ میں مصروف رکھا گیا ہے اور سوال کرنا جرم بنادیا گیا ہے،اور تنقید کو ناقابل معافی جرم بنایا گیا ہے جس سے سیاسی شعور جمود کا شکار ہوجائیگی اور ذہنی ترقی ممکن نہ ہوگا اگر آپ وقت و حالات کے ساتھ اپنے سیاسی و سماجی رویوں کو تبدیل نہیں کرینگے تو نقصان اٹھائینگے اور اس سے بھی اہم کہ اگرہم معروضی کائنات کے بارے میں باشعور ہے ، زندگی شعور اور فلسفے کا کروڑوں سالوں کا ارتقاء ہماری میراث ہے جس سے ہمیں مستعفید ہونا چایئے تمام تر جاندار خواراک حاصل کرتے ہیں افزئش نسل کرتے ہیں اور مرجاتے ہیں لیکن انسان کی زندگی اتنی سادہ نہیں ہے ۔ انسان نے اجتماعی محنت اور شعور سے فطرت کو سمجھا ہے اور اس نے اپنے ماضی کو سمجھا اور بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کی ہے یہ خصوصیت کسی اور جاندار میں نہیں ہے ہمیں شعوری طور پر متبادل طرز فکر کی تلاش ضروری ہے فلسفہ صرف افراد کی ذاتی سوچ کا نام نہیں ہوتا فلسفہ کسی بھی عہد کی ٹھوس مادی حقیقتوں کا اظہار ہوتا ہے۔
بلوچوں کی موجودہ تحریک سادہ سے شروع ہوئی اور آگے چل کر پیچیدگیاں پیدا ہوگئی اور اب ان پیچیدگیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے مگر اب تک جتنے بھی مسلح یا سیاسی تنظیمیں ہیں ان پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہے اور ان تضادات کو ماننے اور انکے تعین کے لئے بھی تیار نظر نہیں آتے سوائے چند کے یعنی میں یہ بات واضح طور پر کہو کہ بلوچ سیاست میں اکثریت تنقید کو برداشت نہیں کررہے ہیں ڈاکٹر اللہ نزر کو کچھ نہیں کہو اللہ نزر نہ ہوگا تو بلوچ تحریک کا خاتمہ ہوگا براہمدغ شاہین کی مانند ہے نواب اکبر بگٹی کا وارث ہے مہران بلوچ نواب خیربخش مری کا وارث ہے ، خلیل اور منان غلام محمد شہید کے وارث ہیں کریمہ بلوچ زاہد و رضاجہانگیر کا وارث ہے ان صاحبان نے بلوچ تحریک کو مورثی بنانے کی کوشش کی ہیں۔
بات یہ نہیں ہے بلوچ تحریک ان شہداء کی بدولت ان سرمچاروں کی قربانیوں اور ان گمنام سپاہیوں کے جہد کا نتیجہ ہیں۔
آج نئے خیال کی نفی کی جارہی ہے پرانے اور بوسیدہ سوچ کو قابل قبول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچ قوم کو کنارہ کرکے فیملی پالیٹیکس کی جانب رخ موڑا جارہا ہے نئے بت بنائے جارہے ہیں تحریک کو زیر زمین قید کرکے ضد اور انا کی روح کو تسکین دینے کی کوشش کی جارہی ہے ان تمام مشکلات کے باوجود ایک بات خوش آئیندضرور ہے کہ بلوچ قوم کے اندرمسائل اور تضادات پر بحث کرنا ایک اچھے عمل کی شروعات ہیں اور قومی تحریک کے تضادات کو کئی رخوں سے دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہورہی ہے بت پرستی کو بلوچ سیاست میں رکاوٹ سمجھا جارہا ہے اور بہت سے بلوچ زانت کار اور بلوچ نوجوان لکھاری کھلے پن کے ساتھ بلوچ تحریک میں خوبیوں اور خامیوں کے بابت تنقید ی جائزہ کے بارے میں لکھ اور کھل کر بات کررہے ہیںیہاں میں غرض کروں کہ نواب خیر بخش مری نواب اکبر خان بگٹی شہید غلام محمد یا شہید رضا جہانگیر ہو یا ہزاروں بلوچ شہدا ء جو مادروطن کے لئے شہید ہوئے اور وہ گمنام سرمچار یاایک عام بلوچ جو تحریک کے لئے دن رات جہد کررہا ہے سب بلوچ قوم کے وارث ہیں اور ہم ان کے وارث ہیں کوئی کسی کا انفرادی وارث نہیں ہے سب اس سوچ کے وارث ہیں جس سوچ کے لئے جان قربان کررہے ہیں یا مزاحمت کررہے ہیں جو بلوچ وطن پر منصفانہ سماجی سیاسی و معاشی و قومی نظام کے قیام کے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں تاکہ اپنے وطن کو غلامی کے چنگل سے نکال کر اپنے قوم کو آزاد نظام دے سکیں کوئی بھی جہد کار کسی لقب کے لیے اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ وہ اس اجتماعی سوچ کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں نہ کہ القابات حاصل کرنے کے لیے،لیکن ہمارے سیاسی ماحول میں بہت سے سیاسی رہبران ایک دوسرے کو القاب دینے کے درپے ہیں تو منا ملابگویم من ترا قاضی یہ وہی سوچ ہے جو کہ ایک منفی سوچ ہے ایک دن نواب خیر بخش کے ساتھ بیٹھے مجلس کررہے تھے تو ان دنوں میں ڈاکٹر اللہ نزر پر ایک کتاب لکھی گئی تھی مرد آہن تو مجھے اچھی طرح یاد ہے نواب صاحب اپنے مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے اور ظنزیہ انداز میں مجھے بولے کہ اگر ڈاکٹر اللہ نزر مرد آہن ہیں تو ہم سب کاکیا ہوگا؟؟ نواب صاحب نے تفصیل یوں بیان کی کہ ہم سب کا قومی فرض ہے اور ہمیں رضاکارانہ طور پر تحریک کے لیے کام کرنا چاہئے اس طرح کے لقب نہیں دینے چایئے اس معاملے پر بہت غور و فکر اور تحقیق اور اس کے ہر رخ کو اشکار کئے بغیر اسطرح کا فیصلہ نہیں کرنا چایئے کیونکہ اس طرح کے فیصلے قوموں کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ان معاملوں میں الجھنے کے بجائے ہر بلوچ اپنے قومی معاملات پر غور و فکر اور تحقیق سے تحریک کو آگے لے جائیں ۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں نواب براہمدغ خان کے اوپن سیاست انڈر گراونڈ سیاست بی آر ایس او (لیبر، بار، خواتین کا زکر نہیں کروں گا) بہت حیران تھے کہ اتنے محازوں پر ایک ساتھ کوئی صحیح کمانڈ کرسکتا ہے نواب صاحب کے الفاظ تھے اس طرح معاملات تقسیم ہوجاتے ہیں اور ان اداروں پر کمان کرنے والے کا کنٹرول کمزور ہوجاتا ہے اور اس طرح سے قومی معاملات پر نظر کم اورذاتی معاملات پر نظر زیادہ ہوجاتی ہے اور اسکا نتیجہ قومی نقصان کے طور پر سامنے آجاتا ہے ۔
آج ایک بات سننے میں آرہا ہے کہ مہران مری نواب صاحب کا حقیقی وارث ہے؟ اس بابت میں نے بہت سے پرانے ساتھیوں سے دریافت کیا اور سوال رکھا کہ یہ بات صحیح ہے مگر میں یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ نواب صاحب نے آج تک مہران کا زکر کسی بھی جگہ یا کسی کے بھی سامنے کیا ہو مجھے یاد نہیں ہے شاید میں غلط ہوں مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ نواب صاحب ضرور یہ کہتے تھے بالاچ خان کی شہادت سے پہلے اور بالاچ خان کی شہادت کے بعد بھی کہ حیربیار کے ہاتھوں کو مضبوط کرو خود بھی سیکھو اسے بھی سیکھاو اور تحریک سیکھنے اور سکھانے کا ایک عمل ہوتا ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک مضبوط ہو۔نواب خیر بخش مری نے نوابی سے جہدکار کا سفر کیا اور مہران مری نے ایک جہدکار سے نوابی کا سفر ،نواب اکبر بگٹی نے نوابی سے بلوچ سرزمین کے لئے مزاحمت کرتے ہوئے اپنے جان کو قربان کیا اور براہمدغ خان بگٹی ایک جہدکار سے نوابی کے سفر کی طرف ، ڈاکٹر اللہ نزر ایک جہدکار سے ٹھیکداری کی طرف اور خیل و منان غلام محمد کے فکر کو چھوڑ کر ٖغدار سیف الدین سے یاری کو انجام دے رہے ہیں اور ماتم بھی کررہے ہیں۔ کیا بلوچ قوم نے اسی لئے قربانیاں دی کہ شہیدوں اور غازیوں کے مشن کو ہائی جیک کیا جائے (پارٹی شہیداء کا یہاں تذکرہ نہیں کروں گا) رہی بات نواب صاحب اور حیربیار کی تو یہ بات آج واضح کرتے چلے کہ نواب صاحب سے حیربیار اور ہم دوستوں کے کچھ معاملات پر اختلافات ضرور تھے مگر کچھ تماش بین ان اختلافات کو دشمنی کا رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ ضرورنا کام ہوئے آج میں یہاں ایک بات واضح کروں کہ تحریک میں اگر کچھ معاملات پہ اختلاف کو دشمنی کا جس طرح رنگ دینے کی کوشش کی گئی وہ تاریخ کا ایک حصہ ضرور رہے گا یہاں بات حق اور سچ کی تو آج حیربیار نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا کہ اسے نوابی کی ضرورت ہے نا نوابزادے کے اور نہ کسی اور لقب کی اس نے یہ بات واضح کی کہ مسلسل عمل سے اچھے نیت سے اپنے ذات کو قربان کرکے قومی تحریک کو ایک سوچ سے آگے بڑھایا جائے جس کے لئے وہ دوستوں کے ہمراہ دن رات تسلسل کے ساتھ اپنے قومی خدمات کو انجام دے رہے ہیں آج مجھے اس بات پر تعجب ہورہا ہے کہ ہم ریاست پاکستان کے لئے ایک ساتھ نہ ہو سکے اور سنگت حیربیار اور ان کے دوستوں کے لئے یہ سب اکھٹا ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس کے لئے کسی بھی وضاحت کی ضرورت نہیں بات یہ ہے کہ باقی حضرات پرانے روش پر قومی تحریک کو لیجانا چاہتے ہیں مگر حیربیار اور انکے ساتھی تحریک کو نئے حالات نئے خیال اور جس کی تحریک کو ضرورت ہیں اور اس سوچ کے ساتھ جسے ہم آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جسمیں تنقید روشن خیالی بت پرستی کی مخالفت اچھے نیت ،سوچ سب شامل ہیں جبکہ یہ حضرات ان اصولوں سے لیس نہیں ہے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ اگر ہم ان چیزوں کے پابند ہوگئے تو ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہوگا اور اس اجتماعی سفر میں ہماری ٹھیکداری ، نوابی ، پوزیشن سب ختم ہوجائے گی اور اس اشتراکی سمندرمیں ہم غرق ہوجائیں گے اس لئے وہ اپنی ذات اور ان کو پروان چڑھانے کے لئے اجتماعی اور اشتراکی معاملات سے منہ موڑ رہے ہیں اور آج اس تنقیدروشن خیالی اور کھل کر معاملات کا اظہار نے ان سب حضرات کو بے نقاب کردیا ہے۔
آج یہ عناصر یہ شوشہ چھوڑ رہے ہیں کہ بی ۔ایل۔ اے یو۔ بی ۔اے سے لڑنے کوہستان مری میں تیاریاں کررہی ہے جب میں نے تحقیقات کی اور لوگوں سے جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ BLAکوہستان میں لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اجتماعی مفادات کیا ہے قومی سوچ کیاہونا چایئے اور قومی تحریک قبائلی اور علاقائی معاملات کا متحمل نہیں ہوسکتا اور دوسری طرف UBAمقامی قبائل کو زبردستی نواب خیربخش مری کا واسطہ دے کر مورچہ زن کھڈوں کی کھدائی جدیداسلحہ کا تقسیم یہ سب کچھ UBA کررہا ہے اور جنگی پوزیشن کی تیاریاں UBA کررہی ہے اور ساتھ میں مہران مری ڈاکٹر اللہ نزر BLAکے دوستوں کو کہہ رہے ہیں ایسا عمل مت کرو مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اللہ نزر اور مہران مری BLA کے اس حقیقی مطالبے کو سرد خانے میں ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اور UBA کو قصور وار ٹھرانے کے بجائے BLAکے دوستوں سے گزارش کررہے ہیں کہ وہ صبر کریں. UBA کو پابند نہیں کررہے ہیں کہ وہ BLA کے پیداکردہ سازوسامان کو واپس کریں۔میں سوچنے پر مجبور ہوا کہ یہ لوگ سیاسی مسائل کی حقیقت کو سمجھنے اور سمجھانے کو روایتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں \”بر ٹولٹ بریخت کہتے ہیں زہانت یہ نہیں کہ انسان کوئی غلطی نہ کریں بلکہ یہ ہے کہ غلطیوں کو جلد از جلد درست کرنے کا طریقہ ڈھونڈلے\”۔
اس وقت پرانا سماج اپنے قدموں پر کھڑا مرر رہا ہے ایک نیا سماج جنم لینے کا منتظر ہے ۔ایک ایسا سماج جہاں تضاد انسانوں کے درمیان نہیں بلکہ انسان اور فطرت کے مابین ہوگا جہاں فطری عوامل کو انسان کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ہر اقلیطس نے کہا تھا کہ \”فطرت چھاپانا پسند کرتی ہے \” لیکن جسطرح فطرت چھپانا پسند کرتی ہے ویسے ہی انسان جاننا پسند کرتا ہے جیت کس کی ہوگی یہ نسل انسانی کی کاوش پر منصر ہے۔
اعتراف ترقیوں کا دروازہ ہے مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اعتراف کے لئے آمادہ کرسکے جب بھی ایسا موقع آتا ہے تو آدمی اسکواپنی انا کا مسلہ بنا لیتا ہے وہ اپنے غلطی ماننے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خرابی بڑھتی چلی جاتی ہے حتٰی کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ جس غلطی کا صرف زبانی اقرار کرلینے سے کام بن رہا تھا اس غلطی کا اسے اپنی بربادی کی قیمت پر اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0