بلوچ قومی تحریک میں ہار جیت کا مقام اور براہمدگ بگٹی کی داخلی عذرداریاں، تحریر: شبیر بلوچ

بدھ 23 ستمبر, 2015

قومی تحریکوں میں سب سے بڑی چیز منزل کو حاصل کرنا ہوتا ہے اور منزل کے لئے صحیح راستے کا چناوُ بنیادی اہمیت کا حامل ہے ،جو لوگ قومی
سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور جدوجہد کو کامیاب کروانا چاہتے ہیں وہ راستے کا صحیح چناوُ کرتے ہوئے اپنے غایت اولی اور منزل مقصود تک پہنچتے ہیں اس دوران وہ اپنے ہدف کو حاصل کروانے کے لئے صف آرائی مختلف انداز میں کرتے ہیں ، ترک افسانہ نگار مہمت مورت نے مقصد کے حوالے کیا خوب کہا ہے کہ یاد رکھنا ایک متعین منزل کے بغیر آپ چاہے جتنا ہی زور لگا لیں وہ بے فائدہ ہے ، اس سے قطع نظر کہ آپ نے کیسی تربیت و محارت حاصل کی ہے، ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی کلیت کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ پر جھپٹ پڑیں گے، لیکن آپ کی نظر میں جب کوئی منزل نہیں تو بہت سارے ایسے منزل ضرور حاصل کریں گے کہ جن کا شمار صرف صفر ہی ہوگا۔کسی بھی قومی جہد میں ٹارگٹ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور جو کوئی مقصد کو حاصل کرنے سے پہلے ضعیف الاعتقاد اور غیر مستحکم ہوکر دشمن سے مل جائے اور پھر قومی جہد کے بر خلاف عمل کرے اسے افشائے راز اور غداری کہا جاتا ہے ، بہت سے قومی جہد سے ثابت ہوا ہے کہ جدوجہد کی گرمی کی شدت کوکچھ لوگ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتے ہیں اور ایسے حادثاتی فکر اور قومی سوچ سے منحرف لوگ بیچ راستے میں اپنی راہیں الگ کرتے ہیں ۔ جس طرح براہمدگ بگٹی نے اپنے انٹرویو میں قومی تحریک سے دستبرداری کا اشارہ د یا ہے ۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ براہمدگ بگٹی قومی جہد میں حادثاتی طور پر شامل ہوا تھا۔ جب قومی تحریک توانا اور مضبوط تھا تو جاوید مینگل اوراختر مینگل کی طرح براہمدگ نے تحریک کا ساتھ دیا اور براہمدگ نواب بگٹی کی شہادت کے بعد خود ساختہ قومی لیڈر بنا لیکن لیڈر بنتے ہوئے براہمدگ بگٹی نے پارٹی بازی کی تیز چھری سے قومی تحریک کی لوازمات کو اس وقت پورا کرنے والی تنظیم بی ایس او آزاد کو کاٹنا شروع کیا ،پھر اپنی قبائلی پارٹی بی آرپی کو بی این پی کی طرح الگ شناخت دینے کے ساتھ ساتھ اختر مینگل کی ایما پرمختلف بلوچ آزادی پسندوں پر مشتمل قومی اکھٹ یعنی بی این ایف پر بھی کاری ضرب لگائی ،اور اب قومی تحریک میں تھک ہار کر مایوسی کی عالم میں اس نے بیان دیا کہ وہ قومی جہد سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہیں جیسے کہ قومی تحریک آزادی کا نقطہ کوئی ایسا نقطہ ہے کہ جسے چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔رہنما وہ ہوتا ہے جو صحیح راستے کا ادراک رکھتا ہو اور اس کٹھن راستے پر چلنے کی اسے جرات بھی ہو۔ بقول براہمدگ بگٹی قوم جو فیصلہ کرے مجھے قبول ہے کیا موجودہ جدوجہد قوم سے پوچھ کر شروع کیا گیا تھا ؟ کیا قوم جدوجہد کا رخ متعین کرتے ہیں یا کہ لیڈر ،قومی لیڈر statesman سیاسی مدبر ہوتے ہیں ۔اور سیاسی مدبرقوموں کی تقدیر بدلتے ہیں
قومی لیڈر حالات کو سانچے اور قالب میں ڈالنے والے ہوتے ہیں وہ جدوجہد کے رخ کا صحیح انداز میں تعین کرتے ہیں اس لیئے انھیں قومی
لیڈ ر کہا جاتا ہے ،وہ،ضیف ،اخلاقی اور سیاسی حوالے کمزور نہیں ہوا کرتے اور وہ مشکل وقت میں اپنی قوم کا سہارا بنتے ہوئے انھیں حوصلہ
دیتے ہیں براہمدگ بگٹی کی طرح انکے حوصلے نہیں توڑتے ہیں ،براہمدگ کہتا ہے کہ پاکستان مضبوط ہے طاقتور ہے ،اب سوال یہ ابھرتا ہے
کہ آیاپاکستان امریکہ سے زیادہ طاقتور ہے ،برطانیہ ،فرانس اور روس سے بھی زیادہ طاقتور ہے کہ انھیں ویتنامی ،ہندوستانی ،فین لینڈ
اورالجزائرکے قوم نے شکست دیکر اپنی قومی آزادی حاصل کی ؟،ویت نام کی شکست کے بعد امریکی لیڈر نے کہا کہ اگر ہمارا مقابلہ ویتنامی
فوج سے ہوتا تو ہم انھیں تاریخی شکست دیتے افسوس صد افسوس کے ہمارا مقابلہ ویت نامی قوم سے ہے اور قوموں کو کوئی شکست نہیں دے
سکتا ہے اگر براہمدگ بگٹی ،سردار عطااللہ ،سردا اختر مینگل ،غوث بخش بزنجو کی طرح وونویں جیاپ،ہوچی منہ ،احمد بن
بیلا،ادگارساویسارEdgar Savisaar ،بیرافیندسفینھوفد Pehr Evind Svinhufvud ہوتے اور کہتے کہ امریکہ سپرپاور
ہے ،فرانس دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے ،روس سپرپاور ہے تو یہ رہنما کبھی بھی اپنی قوم کی رہنمائی نہیں کرپاتے اور اپنی اپنی قوم کو غلامی
سے آزاد بھی نہیں کرواسکتے ۔ آج براہمداگ بگٹی سے زیادہ باشعور وہ نوجوان ہیں جو اپنی بنیادی انسانی حق قومی آزادی پر بھرپور یقین رکھتے
ہیں اور پنجابی کی غلامی انہیں قبول نہیں۔اگر بلوچستان کی طرح ویت نام ،الجزائر ،فین لینڈ ،اور استونیا کی لیڈر شپ عطااللہ مینگل، اختر
مینگل، جاوید مینگل، مہران مری اور براہمداگ کی طرح ہوتے تو شاہد ہی وہ آزاد ہوتے بلکہ غلام ذہنیت کے شکار سیاست دان اپنی قوم
کو بھی اپنا جیسا بنا دیتے۔ مگر جن قوموں نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دی انکی لیڈرشپ میں تبدیلی کا جزبہ اور پختہ ارادہ تھا وہ
اپنی قوم پر اعتماد رکھتے تھے کہ جنہوں نے اپنی اقوام کو قبضہ گیریت کی دلدل ،غلاظت اور نجاست سے نکال دیا۔ آج قابض پاکستان کا
مقابلہ بھی بلوچ قوم کے ساتھ ہے اور بلوچ قوم کو پاکستان بھی اپنی طاقت و قوت کے ساتھ امریکہ ،برطانیہ،فرانس،اور روس کی طرح
شکست نہیں دے سکتا ہے ،براہمدگ جیسا شخص مایوسی کی عالم میں قابض کا مہمان طفیلی بننے کی خواہش میں اختر مینگل ،ڈاکٹر مالک اور غوث
بخش بزنجو کی طرح قوم کے مورال کو توڑنے کے لئے کہتا ہے کہ پاکستان مضبوط ہے اور بلوچ کمزور ہیں، اگر دنیا کی تاریخ کو دیکھا جائے
تو ہمیشہ طاقت ور ہی طاقت کے نشے میں دوسری اقوام پر حملہ کرتا ہے، ان کے وطن پر قبضہ کرتاہے ، ان کی نسل کشی کرتا ہے مگر زندہ اقوام نے
ہمیشہ طاقت کے سامنے سرجھکانے سے انکار کیا اور اپنی قومی جدوجہد سے اپنے سے کہیں زیادہ طاقت ور دشمن کو شکست دی۔ قوم کو زندہ
آزادی کی چاہت رکھتی ہے اور مشکل حالات میں یہی جزبہ قوم کی وہ طاقت ہوتا ہے جس کی بنا پر طاقتور د شمن کو شکست دی جاسکتی ہے۔
جدوجہد کے دوراں محکوم اقوام کے کچھ فرد عموما ریاستی ایما پر کام کرنے والے لوگ ہی براہمدگ کی طرح کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے
اپنے جہدکار ساتھیوں کی مورال کو توڑ کر مایوسی پھیلاتے ہیں حالانکہ امریکہ جیسا ملک جو آزاد اور دنیا کا سپرپاور ہے ،سردجنگ کے زمانے
میں اسکے لیڈر جان ایف کینڈی نے کہا کہ آزادی کی قیمت ہمیشہ عظیم ہوتی ہے لیکن امریکی قوم نے ہمیشہ اس کو ادا کیا، ہم ایک راستہ کا
کبھی انتخاب نہیں کریں گے۔ اور وہ راستہ ہے ہتھیار ڈالنے یا کسی کی اطاعت قبول کرنے کا۔ جبکہ دوسری طرف محکوم بلوچ قوم کے
لیڈر براہمدگ بگٹی آزادی پر سمجھوتا کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کی ہمت شکستہ کرنے کی کوشش میں ہے لیکن اسکے برعکس،بلوچ قوم نے اپنی
دس سال کی جہد اور ثابت قدمی سے ظاہر کیا ہے کہ اختر مینگل ،جاوید،مینگل ،براہمدگ اور مہران جیسے فرد جو خود ذہنی حوالے سے غلام
ہوں اپنے گروہی ،ذاتی اور قبائلی مفادات کی خاطر شکت قبول کرسکتے ہیں لیکن بلوچ قوم کو شکست دینا قابض کے لئے ناممکن ہے ، کیونکہ
جیت مستحکم ارادوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے اور بلوچ قوم نے مصمم ارادہ کے ساتھ ہمت اور اولعزمی سے یہ بار اپنے کاندھوں پر
اٹھایا ہوا ہے اور بلوچ قوم نے یہ تہیہ کیا ہے کہ وہ اپنی قومی آزادی حاصل کریں گے چاہے اس بار ،سردار عطااللہ مینگل ،غوث بخش بزنجو،حئی اور مالک کی طرح مہران ،جاوید،اور براہمدگ کوئی بھی عاجزی میں مغلوب ، مفتوح اور شکست خوردہ
ہوجائیں لیکن بلوچ قوم یہ جدجہد آگے لے جائے گی اور یہ جدوجہد ماضی کی طرح کسی کی داخلی عاجزی ،حیلہ اور کمزوری کا شکار نہیں ہو سکتا
ہے ۔ باقی قومی جہد کی تحریکوں میں اپنے مقاصد کی خاطر حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے اور قابض کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے ہیں لیکن
کسی نے اپنے مطمع نظر کو تبدیل نہیں کیا جس طرح ہندوستان کی تحریک میں عدم تعاون کی تحریک میں کانگریس کی دست برداری انکی تحریک
میں خلل تھی ،اسکے بعد لوگوں میں وسیع پیمانے پر عوامی سطح پر مایوسی پھیل گئی اور اسی دوران ایک نئی جنبش نے تحریک میں از سر نوجان ڈال
دی اور کانگریس دو حصوں میں تقسیم ہوئی ایک کی قیادت موتی لال نہرونے کی جو پارلیمانی طریقہ سے قابض کے لئے مشکلات پیدا کرنا
چاہتے تھے جنھیں تبدیلی کے حمایتی کہا جاتا تھا جبکہ دوسرا گروہ جنھیں تبدیلی کے مخالف کہاجانے لگا ۔ْ خود کانگریس میں سبھاش چندر بوس ،
گاندہی اور جواہرلعل نہرو کے درمیان طریقہ کار اور حکمت عملی کے حوالے بہت سے معاملات میں سخت اختلافات تھے ،عدم تعاون کی
تحریک کی دستبرداری کے بعد ہندوستان کی سیاست تقسیم کاری کی طرف گیا اور اسی دوران ایک نئی پارٹی
Hindostan Republican Association بنائی گئی جس کی قیادت رام پرساد بسمل اورچترجی نے کی اسکا مقصد تھا کہ
ہندوستان کو مسلح جدوجہد سے آزاد کیا جائے گا جنہوں نے ٹرینوں سے قابض کے پیسہ لوٹ کر تحریک چلانا شروع کیا پھر پارٹی کا نام تبدیل
کرکے اسکا نام Hindostan Socialist Republic Associationرکھا گیا ۔ ۸ اپریل ۱۹۲۷ میں بھگت سنگھ اور
بھاتوشیکر دت نے اسمبلی میں بمب پھینک کر اپنی آواز دنیا تک پہنچائی پھر بھگت سنگھ ،راج گرو،سوک دیو کو پھانسی دی گئی ،اسکے بعد آزاد بھی
پولیس کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے ،ایسی طرح سوریا سن نے ہندوستان کو آزاد کروانے کے لئے مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کی کوشش
کی اور قابض کے خلاف جدوجہد کیا اس کو جب گرفتار کیا گیا تو اس نے اپنے دوست کو خط لکھ کر کہا کہ موت میرے دہلیز پر ہے، میرا ذہن ابدیت کی جانب محو سفر ہے ایسے مسحور کن ، کٹھن اور متبرک ساعت پر میں اپنے پیچھے تمھارے لیئے کیا چھوڑ کا کر جاؤں گا؟، صرف ایک چیز اور وہ ہے میرا خواب ، ایک سنہرا خواب، آزاد ہندوستان کاخواب!۔ بھگت سنگھ اور سوریاسن کی ہمت و مستحکم ارادوں پر آج بھی ہندوستان فخر کرتی ہے اسی لیے ان کے کردار پر فلم سازی بھی کی گئی۔
کانگریس اور باقی مسلح جہد کاروں کے طریقہ میں فرق تھا لیکن شروع میں کانگریس کا موقف آزادی کے حوالے واضح نہیں تھا لیکن بعد میں
واضح قومی آزادی کے موقف کے ساتھ سامنے آیا۔ اسکے موقف باقی ماندہ جہدکاروں کے طریقہ کارالگ ضرور تھے لیکن مقصد ،مطمع نظر ایک
تھا اور وہ اپنے قومی مقصد میں کامیاب ہوگئے لیکن ہماری تاریخ کسی حد تک ہندوستان اور باقی ماندہ اقوام سے مختلف رہا ہے
،عطااللہ مینگل اور بزنجو نے جدجہد کیا حکمت عملی تبدیل کرنے کے بجائے انھوں نے اپنے مقصد سے پیچھے ہٹ کر قومی آزادی پر سمجھوتہ
کیا ۔ آزادوطن کا حصول کسی پارلیمانی نشست کے لیے پانچ سالہ سیاسی پروگرام نہیں بلکہ تمام طریقہ جد و جہد کا نچوڑ ہی ایک آزاد وطن کا
حصول ہے ، آزاد ی کے لیے حکمت عملی بدلی جاسکتی ہے ، دشمن سے اپنی شرائط پر مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں مگر مقصد اول سے آخر صرف
قابض سے آزادی ہوتی ہے اور وہی ایک مطلق مدار ہوتا ہے جس کے گرد باقی ماندہ چیزیں گردش کررہی ہوتی ہیں،۔آج اتنی قربانیوں کے
بعد براہمدگ بھی ماضی کی مفاہمت اور قومی معاملے کو رفع دفع کرنے والے لیڈرشپ کی نقش قدم پر چل کر جدجہد کے ساتھ وہی زیادتی
کرنے جارہا ہے جو باقی ماندہ بلوچ لیڈرکرچکے ہیں لیکن اب دور بدل چکا ہے ،جدوجہد کا طریقہ تبدیل ہوچکا ہے اور لوگ قبائلی دستار کی
جدوجہد کی بجائے قومی حاکمیت کی جدوجہد پر گامزن ہو چکے ہیں ۔اب قوم ۲۶،۷۳،۸۸کی طرح کسی کی ذاتی فائدے کے بجائے
قومی نصب العین کی خاطر جدوجہد کررے ہیں ،قبائلی تاج کے لئے بلوچ فرزندوں نے نہ قربانیاں دی ہیں اور نہ ہی براہمدگ بگٹی کی طرح
قوم کے پائے استقلال میں کوئی لغزش آئی ہے بلکہ ہر بلوچ حمید ،مجید ،درویش سمیت ہزاروں شہدا اور سوریاسن کی طرح ایک ہی خواہش
اور خواب کے ساتھ ضبط و تحمل اورثابت قدمی سے قومی آزادی کے لئے جدوجہد کررہا ہے ۔ جس طرح پرندے اپنے پروں کی وجہ سے
آسمان کی بلندیوں پر اڑتے ہوئے اپنے منزل مقصود پر پہنچتے ہیں بلکل اسی طرح قومی جہد کرنے والے اپنے عزم بالجزم اور عزیمت
سے قبضہ گیر کی دشواریوں ،مشکلات ،تنگی ،کو پار کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچتے ہیں ،جس طرح پرندے اپنے پروں کے بغیر اپنی منزل
پر نہیں پہنچ سکتے بلکل اسی طرح کوئی بھی جہدکار اور قومی لیڈر عزم کے بغیر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا ہے ۔ بلغاریہ کے قومی ہیرو اور
جہد آزادی کے رہنما Vasil Levskiوسل لیوسکی جنھیں بلغاریہ کے قومی آزادی کا پیغمبر بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے مصمم ،پختہ
اور مستحکم ارادوں سے اس وقت کے بڑی طاقت سلطنت عثمانیہ کے خلاف گوریلا جنگ لڑا اور قبضہ گیریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے
، جس کو قابض نے گرفتار کرکے پھانسی دی لیکن پھانسی کے بعد اسکی سوچ فکر اور آزادی حاصل کرنے کا نظریہ اور خیال پورے بلغاریہ میں
خوشبو کی طرح پھیل گیا ،قابض اسکی جسم سے اسکی روح نکالنے میں تو کامیاب ہوئے لیکن اسکے پختہ ارادہ کی وجہ سے اسکی سوچ اور خیال کو
روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ،اس نے کہا تھا کہ وقت ہم میں ہے اور ہم وقت میں ہیں وہ ہمیں تبدیل کرسکتا ہے اور ہم اسکو تبدیل کرسکتے
ہیں۔ مصمم اردوں والے لوگ وقت کو اپنی جدوجہد اور مضبوط ارادوں سے تبدیل کر سکتے ہیں ان محکوم اقوام کی طرح بلوچ قوم بھی اپنی
قومی آزادی اور منزل کے حصول کی خاطر قربانی دے رہا ہے اور اس بار قا بض سے بلوچ قومی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بلوچ قوم
اپنے وجود کو کسی کی نوابی اور میری کی خاطر داؤ پر لگانے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہوگا ۔ سرنڈر ،دغا ،دھوکہ ،تھکاوٹ ،غداری،ننگ کا سودا
جہد کے حصہ رہے ہیں جو لوگ جہد سے دغا ،غداری اور ننگ کا سودا کرتے ہیں تب تاریخ میں لوگ بھی انھیں بے حمیت ،ننگ
اسلاف،فقدان ہمت ،خفیف اور شرم سار کے طور پر یاد کرتے ہیں جبکہ جو لوگ آخری وقت تک ثابت قدم ہوکر مستحکم ہمت اور استقلال کے
ساتھ قابض کے خلاف ڈٹے رہتے ہیں تاریخ انھیں قومی ہیروز ،بہادر، ننگ اور زمین کے رکھوالے کے طور پر یاد کرتے ہیں ،جدوجہد کی
تاریخ میں ایک طرف غداری ،تھکاوٹ کا شکار ،دغا دینے والے جعفر ،صادق،آرنولڈبیناڈک ،کے بورسیا ، Bruno Mtolosبرنومٹولوس کے طور پر نکل کر نسل در نسل کے لئے گالی ،لعنت ،اور شرم ساری کا سبب بنتے ہیں تو دوسری طرف بھگت ، سوریاسن،آزاد ،جارج واشنگٹن ،جیولیس فیوچک ،منڈیلا ،عمر مختار، وسل لیوسکی اور دلوش کی طرح ثابت قدم ،مضبوط اعصاب کے مالک یہ
لوگ جدجہد کرتے ہوئے اپنے قوم کو غلامی سے نجات دلاکر قوموں کے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر اور لافانی ہوجاتے ہیں۔اب اگر
براہمدگ بگٹی برنومنٹولوس کی طرح جدجہد کے نام پر شہرت عزت مقام پاکر معاشی آزادی پسند Economic Freedom Fighters کی طرح بن جائیں گے کیونکہ برنومنٹولوس بھی براہمدگ بگٹی کی طرح جنوبی افریقہ کی تحریک میں KwaZulu-Natalمیں سب سے زیادہ سرگرم انقلابی تھے اور وہ اپنے دور کے سب سے بڑے جہدکار مانے جاتے تھے ،اس نے اپنی زندگی کو آزادی کے لئے وقف کیا ہواتھا ،اسکے ہم عصر جہدکار ساتھی کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور ماننے پر تیار نہیں تھے کہ برنو خود اپنی منزل کا تعین جدوجہد سے باہر کرینگے ،ان تمام پراثر انقلابی کوالٹی کے باوجود برنو کے اپنے داخلی عذر اور حیلہ اور کمزوری تھے ،اسکی سب سے بڑی کمزوری اسکا شراب کے ساتھ مضبوط رشتہ اور ذاتی معاشی مسائل تھے جنکو بنیاد بنا کر وہ جہد سے الگ ہوکر ANC کے خلاف سرکاری گواہ بن گئے۔اسکے الگ ہونے سے جدجہد نہیں رکا لیکن وہ خود جنوبی افریقہ اور دنیاکی جہد کی تاریخ میں ایک رہبر سے رہزن کے روپ میں یاد کیا جانے لگا کیونکہ تاریخ کا بے رحم سونامی کسی کو نہیں بخشتا ہے ۔ آج اگر براہمدگ برنومنٹولوس کی طرح اپنی داخلی عذر اور حیلہ یعنی قبائلی طاقت ،دولت ،رتبہ،نوابی کو بچانے کی خاطر قومی جہد سے راہ فراراختیار کریں گے تو جنوبی افریقہ،ہندوستان ،امریکہ،اور باقی ماندہ تحریکوں کی طرح وہ قومی جہد کی رفتار کو وقتی طور پر سست تو کروا سکتے ہیں مگر وہ ا سکو کبھی بھی نہیں رکوا سکتے اسکے برعکس وہ خودبھی برنومنٹولوس کی طرح بلوچ اتہاس اور داستان کی سونامی کی موج انگیزی سے نہیں بچ سکیں گے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0