بلوچ قوم کی مرضی ومنشاء کے بغیر ایک اونس معدنیات بھی نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوگا۔ حمل حیدر

جمعہ 3 اکتوبر, 2014

(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل مومنٹ کے عالمی ترجمان حمل حیدر بلوچ نے کہا ہے ڈاکٹر مالک سمیت نام نہاد بلوچستان حکومت کی جانب 20 رکنی وفد کا فرانس دورہ اور ریکو ڈک منصوبہ بارے ٹی ٹی سی سے مزاکرات در اصل بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا گمراہ کن ڈرامہ ہے۔ ریکوڈک میں دفن کربوں روپے کی قومی وسائل کا سودا کئی عرصہ پہلے طے پا چکا ہے۔ عالمی ترجمان نے کہا ٹی ٹی سی کمپنی کافی عرصے سے بیک ڈور چینل رابطوں کے ذریعے حکومتی اہلکاروں، پارلیمنٹ پرست بلوچوں اور دیگر جعلی بلوچ نمائندوں کے ساتھ لین دین طرز کی مزاکرات میں مصروف رہی ہے تاکہ بلوچستان کے وسائل کی بے دریغ استحصال پر انہیں کسی جانب اعتراض اور مزاحمت کا سامنا نہ رہے ۔ مگر بی این ایم صاف الفاظ میں واضح کرنا چاہتی ہے کہ بلوچ سرزمین پر بلوچ قوم کی مرضی ومنشاء کے بغیر ایک اونس معدنیات بھی نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوگا۔ حمل حیدر بلوچ نے کہا کہ ہماری جدوجہد بلوچستان کی مکمل آزادی اور استحصالی نظام کے خلاف ہے۔ ہم کسی قوت کو ہر گز یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنے گروہی ،شخصی یا استعماری مفادات کے غرض بلوچ سرزمین کی وسائل کا سودا کرے۔واضح رہے ڈاکٹر مالک ریاستی نمائندہ کی حیثیت سے ان مزاکرات میں ملوث ہے اسے بلوچ قوم کی جانب سے کوئی مینڈیٹ حاصل نہیں۔ مئی 2013 کے سرکاری انتخابات میں ڈاکٹر مالک جن ووٹوں سے وزیر اعلیٰ بنے وہ کل ووٹروں کے صرف چار فیصدتھے ۔ بلوچ قوم کی 96 فیصد آبادی نے بی این ایف اور دیگر آزادی پسند جماعتوں کی اپیل پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ عالمی ترجمان نے کہا کہ بی این ایم نے علا قائی اور عالمی سطح پر بلوچستان کی وسائل بابت باقاعدہ ایک مہم شروع کی ہے تاکہ مہذب ممالک کی حکومتیں اور ملٹی نیشنل کمپنی نام نہاد قوم پرستوں اور دیگر فراڈیوں کی گمراہ کن نمائندگی سے دھوکہ نہ کھاکر بلوچ وسائل کی استحصال میں شریک نہ ہوں۔علاوہ ازیں بی این ایم بہت جلد سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ کی اس لاء فرم سے جو ریکوڈک منصوبے پر بلوچستان حکومت کی وکالت کررہی ہے بھی رابطہ کرکے اصل صورتحال سے آگاہ کریگی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0