بلوچ لبریشن آرمی کی طاقت کا سرچشمہ بلوچ عوام ہے

پیر 15 ستمبر, 2014

کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغاز باب ہوگا—جنہوں نے بستی اجاڑڈالی کبھی تو ان کاحساب ہوگا وہ دن گئے ہر اک ستم کو ادائے محبوب کہہ کر چپ تھے —اْٹھی جواب ہم پہ اینٹ کوئی تو اسکاپتھرجواب دے گا بلوچ فرزندوں! قوموں کی بقا و سلامتی ان کی آزادی پرمنحصر ہوتی ہے ۔جبکہ تسلط و قبضہ گیریت انسانوں کوانسانی خصوصیات سے محروم کرنے اورقوموں کو زوال پذیری سے دوچار کرنے کا عمل ہے۔جہاں کسی قوم کی آزادی کو جبر و تشدد کے ذریعے سلب کرلی جاتی ہے ان کی سرزمین پر قبضہ کرلیا جاتا ہے ۔ان کی سیاسی ، سماجی اور معاشی اختیارات کو کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ انکی قومی مڈی و وسائل کو لوٹا جاتا ہے ‘قوم کے فرزندوں کی بجائے واک و اختیار غیر اور قبضہ گیر افراد اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ قبضہ گیر اپنے مفادات اور ضروریات کے تحت غیر انسانی سلوک روارکھتے ہوئے جبر وتشدد کے ذریعے نسل کشی کرنے ، غیر مساوی سماجی طبقاتی نظام کو بڑھاوا دینے، ذہنوں کو مفلوج کرنے والی نصاب تعلیم کو فروغ دینے اور رائج کرنے اور تعصبات کو ہوا دیتے ہوئے محکوم قوم کے افراد کو آپس میں دست و گریباں کرکے قبائلی وگرہی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے حربوں کو استعمال کرتاہے۔ تخلیقی صلاحیتوں کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کرتا ہے ۔حقائق کو جانچنے اور پرکھنے کے لئے قدغن لگانے کے لئے ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کرتا ہے ۔ بلوچ قوم بھی پنجابی کی قبضہ گیریت اور تسلط کے ساتھ اس کے حربوں کا شکار ہے ۔ آج بلوچ سماج مندرجہ بالا صورتحال کا نقشہ پیش کررہا ہے ۔ایک جانب ریاست اپنی قبضہ گیریت کو دوام بخشنے کیلئے بلوچ قوم پر ہر قسم کا جبروتشددروا رکھ رہاہے تو دوسری جانب اپنے پالتوڈیتھ سکواڈز کے ذریعے بلوچ فرزندوں پر ظلم و تشدد کروارہا ہے۔ بلوچ قوم کو خوف میں مبتلا کرنے اور بلوچ عوام کوتحریک آزادی سے دور رکھنے کے لئے بلوچ قوم کے مختلف طبقہ فکر کے افراد کی تشدزدہ مسخ شدہ لاشیں بلوچ سرزمین کے دور دراز علاقوں میں پھینک رہا ہے اور تیسری جانب اپنے کاسہ لیس سیاسی مداریوں،بلوچ پارلیمان پسندوں،مصلحت پسندمراعات یافتہ طبقوں متوسط طبقے کے مفادپرست قوم پرستی کے دعویداروں اور طبقہ امراء(سردارونواب) کے ذریعے جہد آجوئی کی تحریک میں انتشار پھیلانے ، تحریک آزادی کے خلاف منفی پروپگنڈہ کرنے اور حقائق کو مسخ کرنے کی تگ ودو میں ہے۔ بلوچ قوم کے فرزندوں نے طویل نو آبادیاتی دور کے مختلف ادوار میں قومی آزادی کی جہد کو جاری رکھا ہے۔ آج اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے قومی آزادی کی فکر و نظریہ سے لیس بلوچ لبریشن آرمی (BLA)قومی جہد آجوئی کے میدان عمل میں موجود ہے۔ اس مسلح تنظیم کی بنیاد بلوچ سماج کے ایک باشعور طبقے نے رکھا جو کہ قومی آزادی اور معروضی حقائق و حالات کا ادراک رکھتے ہوئے بلوچ سماج میں شعور آزادی کو اجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ قومی آزادی کیلئے عملی جدوجہد شروع کی۔ عملی جدوجہدمیں چونکہ حوصلہ،ہمت،جانچ پرکھ، حالات کے صحیح ادراک، بہتر حکمت عملی وضع کرنے،دشمن کی طاقت،نفسیات، دشمنی کے معیار اور اس کی طاقت کا اندازہ لگانے کے ساتھ قربانی کا بھی تقاضہ کرتی ہے کیونکہ معجزے اور تصورات کے زریعے قبضہ گیریت سے گلو خلاصی ممکن نہیں یہی بی ایل اے کی جہدکا محور ہے۔ غیور بلوچ فرزندو! بلوچ لبریشن آرمی آج قومی جہد آزادی کے میدان عمل میں پنجابی تسلط ، جبرو استبداد اور بلوچ استحصال کے خلاف برسرپیکار ہے اور تادم آزادی اس عملی جہد کا عزم رکھتی ہے مسلح جہدآزادی کی جنگ عوامی قوت کو منظم و مجتمع کرکے لڑی جاتی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی طاقت کا سرچشمہ بھی بلوچ عوام ہیں۔آزادی کا شعور رکھنے والے بلوچ قوم کے ہرطبقہ فکر کو چائیے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق بی ایل اے کی جہد کے ساتھ ہمگام ہوں تاکہ بہترحکمت عملی کے تحت منزل مقصود کے حصول کیلئے اس جدوجہد میں تیزی لائی جائے۔ غیور بلوچو! مسلح جدوجہد کی بنیاد پر منظم مزاحمتی عمل کا ابھرنا محکوم سماج میں شعور وآگاہی کی علامت ہے کیونکہ محکوم سماج کا باشعور جب قبضہ گیر و محکوم قوم کے درمیان سیاسی، معاشی، سماجی، تاریخی اور قومی تضادات کا ادراک کرتے ہوئے اس کی بنیاد پر مسلح مزاحمتی جدوجہد کو منظم کرتا ہے، تو یہ نہ صرف دشمن پر کاری ضرب لگانے اور معاشی طور پہ اس کو دیوالیہ پن کا شکار کرنے کا موجب بنتا ہے، بلکہ محکوم عوام میں قومی آزادی کی شعور ادراک کو بڑھانے کا سبب بھی بنتا ہے اور وہ استحصالی حربوں کو پرکھ کر ان کے تدراک کیلئے اْٹھ کھڑے ہوتے ہیں بلوچ لبریشن آرمی کی جدوجہد کا مدعابھی یہی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی قومی آزادی وتسلط کے اس ظالمانہ نظام اور قبضہ گیریت کو مکمل طور پہ ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک نئی، بہتر اور منصفانہ نظام کیلئے جدوجہد کررہا ہے ایک ایسے انقلابی تبدیلی کی بنیاد پر استوار نظام کیلئے جس میں ظلم ، جبر ، ناانصافی اور نابرابری کا وجود نہ ہو کیونکہ آزادی کیلئے بنیادی نظام کی تبدیلی ضروری ہے ورنہ سماجی طور پہ انحطاط پذیر نظام قومی آزادی کانعم البدل نہیں ہوسکتا بلکہ موجودہ سماجی ساخت کو بدلنے ، رجعت پسندی کو اکھاڑ پھینکنے اپنے معاشرے کو ترقی یافتہ معاشروں کی صف میں لاکھڑا کرنے کیلئے انقلابی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، مسلح و عسکری محاز پر جنگ لڑنے کے ساتھ ہم سماج کی ہیت، معاشی ، سیاسی، معاشرتی اونچ نیچ اور نا ہمواریوں کیلئے بھی حکمت عملی مرتب کررہے ہیں تاکہ مقصد آزادی کو صحیح معنوں میں درست سمت سے مربوط کرکے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔ بلوچ فرزندوں! آئیں ہمارے اس نظریاتی اور انقلابی سوچ کو گھر گھر پہنچائیں لوگوں میں شعور آزادی کی آگاہی کو بڑھائیں تاکہ منزل کے حصول کی جانب گامزن ہم ایک سے چا رہوں۔ ہماری منزل آزاد سماج بلوچ وطن پہ بلوچی راج مرکزی نشرواشاعت: بلوچ لبریشن آرمی

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0