بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی نویں کونسل سیشن دوسرے روز کی کاروائی

اتوار 28 دسمبر, 2014

 کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی نویں کونسل سیشن دسمبر2014کومکران میں بیادِچیئرمین غلام محمدبلوچ اور بنام صادق جمالدینی ،ڈاکٹر دین محمدبلوچ،زاہد بلوچ ،غفوربلوچ اور ذاکرمجید بلوچ ۔ دوسرے روز کی کاروائی۔ ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں تاریخی لانگ مارچ کو’’ آجوئی مارچ‘‘ اور پوری انسانیت کے لئے’’ سرمایہ افتخار‘‘ قراردیا۔دوسرے دن پارٹی امور اور بلوچ جہدآزادی میں ہونے والے اختلافات و ان کی اثرات کے بارے میں کونسل نے انتہائی باریک بینی سے غور وغوص کیا ۔سیکریٹری رپورٹ، آئین پر بحث و ترامیم اور بین الاقوامی معاملات پر کونسل نے سیر حاصل بحث و مباحثہ کرنے کے بعدمختلف تجاویز پر فیصلے کئے ۔
بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی سفاکیوں اور دنیا میں بدلتے ہوئے حالات پر بحث کرتے ہوئے بلوچ جدوجہد آزادی کے خلاف پاکستان کی فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ بلوچ جہد آزادی کو فرقہ واریت کے نام دینے کی کوشش میں شیعہ سنی ،و ذکری سنی تضادات پیدا کرنے ،پاکستان میں عالمی سامراجی طاقتوں کی سرپرستی میں پرورش پانے والے مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی دائرہ اختیار میں اضافہ ،سعودی عرب اور دیگر سنی ریاستوں کی طرف سے پاکستان کی بے پناہ اقتصادی تعاون ،امریکہ سمیت دوسرے طاقت ور ممالک کی مفادات کے تابع پالیسیوں کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں دولتِ اسلامی کا قیام، اسی طرح نائجیریا میں بوکو حرام ،صومالیہ میں الشباب ،کشمیر میں حزب المجاہدین جیسے تنظیموں کی کاروائیاں، افغانستان میں پاکستانی مفادات کی خاطر عدم استحکام کی صورت حال، ایران کی برھتی ہوئی فوجی و ایٹمی طاقت کے تناظر میں خطے کی مجموعی سیاسی صورت حال، بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی مقبوضہ بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں ،بیرون بلوچستان سیاسی وسفارتی سرگرمیوں ،بلوچ وطن میں پنجگور،خانوزئی اور توتک سے اجتماعی قبروں کی برآمدگی ،پارٹی کی مرکزی قیادت، پارٹی سے وابستہ دوسرے رہنماؤں کی اغواء و عدم بازیابی ،ماما قدیر کی لانگ مارچ ،بلوچ نیشنل فرنٹ ،پورے بلوچ وطن میں فوجی آپریشنز ،لوگوں کی گرفتاری و لاپتہ کرنے کا تسلسل ،آواران اور مشکے میں ستمبر2013کے زلزلہ کے بعد امداد کی آڑ میں پورے علاقے کو فوجی چوکیوں میں تبدیلی کے عمل کے بارے میں تفصیلی معلومات کونسل کو فراہم کردی گئیں۔سیکریٹری رپورٹ اور بین الاقوامی معاملات پر کونسل نے سیر حاصل بحث و مباحثہ کرنے کے بعدمختلف تجاویز پر فیصلے کئے گئے اورکونسل سیشن نے اس بارے میں اپنی واضح پالیسی جاری کردی کہ کئی عالمی قوتوں کی پشت پناہی میں مذہبی انتہا پسندی کی بنیاد پر مڈل ایسٹ سمیت پوری دنیا میں معصوم انسانوں کا قتل عام کرکے قبضہ گیریت کی جس خواب کی تکمیل کی جارہی ہے وہ پوری دنیا کی امن اور بقاء کے لئے انتہائی خطرناک عمل ہے ۔دنیا کے کئی ممالک مثلاََ عراق، شام وغیرہ مذہبی فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزررہے ہیں ۔لہٰذا بلوچ نیشنل موؤمنٹ مذہبی وفرقہ ورانہ بنیادوں پر ممالک کی تقسیم کے عمل کاشدید الفا ظ میں مذمت کرتے ہوئے ان ممالک میں موجود عوام سے توقع رکھتی ہے کہ وہ طاقت کے زعم میں مبتلا اپنے حکمرانوں کے خلاف ایسے اقدامات کے سلسلے میں اپناکردار ادا کریں گے ۔عراق کے ز یرقبضہ کردوں کی داعش کے خلاف جرات مندانہ مقابلہ ایک حوصلہ افزاء عمل ہے اور کرد اپنی اس طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی قومی آزادی کی جہد کو پائے تکمیل تک پہنچائیں گے ۔چین کی طرف سے گوادر تا کاشغر انرجی کوریڈور،سیندک اور ریکوڈک گولڈاینڈکاپر منصوبے سمیت دیگر کئی سامراجی منصوبے بلوچ وطن پر چینی توسیع پسندانہ عزائم کی دلیل ہیں اور چین سمیت دنیا کی کسی بھی سرمایہ دار کی سرمایہ کاری بلوچ قوم کو قبول نہیں اور اس عمل کے خلاف مزاحمت کرے گا جبکہ اس سلسلے میں بلوچ وطن پر قبضہ گیریت میں پاکستان کی معاون کا کردار اداکرکے چین، بلوچ قومی آزادی کی جہد کو کچلنے وسبوتاژ کرنے میں ایک فریق کی حیثیت سے سامنے آچکا ہے ۔چین اس سلسلے میں اپنی کردار پر نظرثانی کرکے بلوچ وطن کی قبضہ گیریت اور وسائل کی لوٹ مارسے اپنا ہاتھ کھینچ لے ۔پاکستان کی طرف سے بلوچ قوم کو فرقہ واریت کی جس آسیب سے زہر آلود کیا جا رہاہے ،اس کی اثرات سے نہ صرف آزادی کی تحریک کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ ہماری تاریخی و تہذیبی روایات اورمذہبی ہم آہنگی کوتہہ و بالا کرنے کے لئے یہ پاکستان کی ایک شیطانی عمل ہے جس کے خلاف پوری قوم کو اپنی فہم و ادراک کو بروئے کار لاکر بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی قیادت میں اپنا قومی و وطنی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔دوسرے دن پارٹی امور اور بلوچ جہدآزادی میں ہونے والے اختلافات و ان کی اثرات کے بارے میں کونسل نے انتہائی باریک بینی سے غور وغوص کیا ۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ عوام کوطاقت کااصل سرچشمہ قراردے کرآزادی کی حصول کے لئے اس طاقت پر کامل بھروسہ کرتی ہے۔کونسل سیشن میں قومی سیاست میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا مگر اس کے لئے نظریہ اور انقلابی معیار کو مقدم رکھا گیا کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ، نیشنلزم کے نظریے کی بنیاد پر ایک واضح انقلابی معیار کے تحت بلوچ جہد آزادی سے وابستہ تنظیموں اور بیرون بلوچستان کسی بھی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ تنظیموں سے اتحاد واشتراک عمل کے لئے کوشش کرے گی ۔
پارٹی کی گزشتہ تنظیمی ،سیاسی و سفارتی کارکردگی کو حوصلہ افزاء قراردیا۔ بلوچ نیشنل موؤمنٹ ،نیشنلزم کے نظریے کے تحت بلوچ قومی آزادی کی جدوجہدمیں اپنا کردار مزید موثر بنانے کے لئے اپنی کارکنوں اور قیادت کے ساتھ منزل کی جانب سفرمیں مزید تیزی اور وقت کی ضرورتوں کے مطابق اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے زور دیا گیا ہے ۔
BLAاورUBAکے درمیان زبانی جنگ کے بعد عملاََصف آرائی بلوچ قومی جدوجہد ،بلوچ شہداء بلوچ اسیران کی قربانیوں کے خلاف انتہائی خطرناک عمل ہے اور اس کا مقصداپنی گروہی مفادات کے لئے دشمن کو فائدہ پہنچانے اور قومی جدوجہد کو یقینی نقصان پہنچانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ ،ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مفادات کی تکمیل کے لئے ،بلوچ جدوجہدآزادی کو رہن کرنے کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ بلوچ قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے کسی ایسے عمل کے خلاف مکمل مزاحمت کرتی ہے ۔چونکہ بلوچ آزادی کی جنگ اپنے عوام کی آزادی ،قومی فلاح و سماجی برابری کی خاطر لڑی جارہی ہے، اس لئے بلوچ قومی مفادات کے بغیر کوئی بھی جغرافیائی تبدیلی بلوچ شہداء اور دوسرے قربانیوں کا نعم البدل نہیں ہے ۔پارٹی کی اس سلسلے میں شروع دن سے آج تک موقف انتہائی صاف و شفاف ہے ۔ہم بلوچ قوم کی آزادی ،بقاء اور مفادات کے لئے دنیا کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات جوڑنے کے لئے اپنی کردار اداکریں گے۔بلوچ نیشنل ،موؤمنٹ سندھو دیش کی آزادی کے جدوجہدکی حمایت کرتے ہوئے جدوجہد آزادی میں شہید ہونے سندھی فرزندوں کو سلام پیش کرتی ہےء اور یہ امید رکھتی ہے کہ سندھی قوم اپنی آزادی کے لئے اتحاد و یکجہتی کے تحت اپنی ان قربانیوں کا تسلسل برقرار رکھے گی اوربلوچ نیشنل موؤمنٹ اس تحریک میں سندھیوں کو ہر ممکن امداد کی پیشکش کرتی ہے ۔
بلوچ نیشنل موؤمنٹ نے ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں تاریخی لانگ مارچ کو’’ آجوئی مارچ‘‘ اور پوری انسانیت کے لئے’’ سرمایہ افتخار‘‘ قراردیا۔
بلوچ نیشنل فرنٹ کی کارکردگی کوسراہا گیا خاس طورپر مئی 2013میں پاکستانی الیکشن کے خلاف بی این ایف کی حکمت عملی اور کارکردگی ،ستمبر2013میں آنے والے زلزلے کے سلسلے میں بی این ایف کی کارکردگی حوصلہ افزا رہاہے ،توتک سے اجتماعی قبروں کی برآمدگی بلوچ وطن کے طول وعرض میں فوجی کاروائیاں ،اغواء اور بلوچ فرزندوں کی شہادت کے خلاف بی این ایف نے انتہائی موثر کردار ادا کیا ہے۔ کونسل سیشن نے سماجی معاملات کو حل کرنے اور اس ضمن میں عوامی مشکلات کو کم کرنے کی خاطر ایک چاگردی و احتسابی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جبکہ عالمی سطح پر سفارت کاری کے امور کو سرانجام دینے کے لئے ایک ڈپلومیٹک کمیٹی کی منظوری دیدی گئی ۔اس کے علاوہ متعدددوررس نتائج کے حامل فیصلے کئے گئے اور چاگردی و احتسابی کمیٹی اور ڈپلومیٹک کمیٹی کے طریقہ کار وضع کرنے کے لئے آئندہ سینٹرل کمیٹی کو اختیارات دی گئیں۔ آئین میں کئی اہم ترامیم کی گئی

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0