بلوچ نیشنل موومنٹ کا کامیاب کونسل سیشن …ہمگام اداریہ

اتوار 28 دسمبر, 2014

یونیورسل ڈیکلیئریشن آف ہیومن رائٹس کا آرٹیکل 19 اور 20 دنیا کے ہر انسان کو یہ آزادی دیتے ہیں کہ وہ کچھ بھی سوچ و نظریہ رکھتے ہوئے اسکا پرامن پرچار کریں ، تنظیم بنائیں، اجتماعات منعقد کریں ۔ دنیا کے تمام مہذب اقوام ان انسانی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر سختی سے کاربند ہیں لیکن دنیا کا ایک حصہ جسے بلوچستان کہتے ہیں پاکستانی قبضے کے بعد اپنے ان بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم ہے ، قابض پاکستانی فوج نے یہاں تمام انسانی حقوق کو منسوخ کردیا ہے اور عملی طور پر یہاں فوج کی عملداری ہے ۔ بلوچ ایک طویل عرصے سے اپنے آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن پاکستانی فوج نے عمومی طور پر پہلے دن سے اور خصوصاً گذشتہ چھ سال سے یہاں سیاسی پارٹیوں پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ قدغن لگادی ہے اور پر امن سیاسی سرگرمیوں کی تمام راہیں مسدود کردی ہیں ۔ پر امن سیاسی جماعتوں کی قیادت سمیت ہزاروں سیاسی کارکنان کو یا تو اغواء کرکے جبری طور پرلاپتہ کیا گیا ہے یا انہیں شہید کردیا گیا ہے ۔ اس وقت بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرمین زاہد بلوچ ،سینئر وائس چیئرمین ذاکر مجید بلوچ سمیت کئی کارکنان لاپتہ ہیں اور اسی تنظیم کے سیکریٹری جنرل رضا جہانگیر اور جوائنٹ سیکریٹری شفیع بلوچ سمیت کئی کارکنان شہید کیئے جاچکے ہیں ، یہی صورتحال بلوچ نیشنل موومنٹ کا بھی ہے جس کے چیئرمین غلام محمد بلوچ کو مرکزی کمیٹی کے ممبران لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کے ساتھ شہید کرنے کے بعد اغواء اور شہید کرنے کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا گیا جو ہنوز جاری ہے ، بلوچ ریپبلکن پارٹی سمیت دوسرے کئی بلوچ تنظیمیں بھی مسلسل ریاستی جارحیت و دہشگردی کا شکار ہیں۔ اس وجہ سے بلوچستان میں سیاسی سرگرمیاں ناپید ہوچکی ہیں اور اس خلاء کو پاکستان غیر فطری طور پر پُر کرنے کیلئے پاکستانی خفیہ ادارے پنجاب سے مذہبی شدت پسند تنظیمیں در آمد کرکے بلوچستان میں انہیں کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔
ان دگرگوں حالات کے باوجود یہ بلوچ سیاسی جماعتیں نا ختم ہوئے اور نا ہی یہ عوام سے کٹ گئے بلکہ ایک محدود پیمانے پر یہ خفیہ طریقے سے اپنی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، اس ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے باوجود بلوچ نیشنل موومنٹ جمہوریت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنا نواں کونسل سیشن مکران میں کررہا ہے ، یہ کونسل سیشن ہنوز جاری ہے ، کونسل سیشن میں عالمی سیاست کی صورتحال اور بلوچستان کے معروضی حالات کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے اور اس حوالے سے پالیسی سازی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اپنے افتتاحیہ تقریر میں بی این ایم کے چیئرمین نے کونسلران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قومی سیاست اب عالمی سیاست کا حصہ بن چکا ہے اس لیئے کونسلران انتہائی غور و غوص کے ساتھ بلوچ سیاست کو عالمی حالات سے نتھی کرتے ہوئے اپنے مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پالیسی سازی کریں ، انہوں نے اپنے کارکنوں کو دنیا کے مختلف ملکوں میں تنظیم کاری کرنے پر بھی مبارک باد دی اور مذہبی شدت پسندی کی مذمت کرتے ہوئے مشرقی وسطیٰ کے عوام سے اپیل کی کے وہ اپنا کردار کریں ،انہوں نے داعش کے خلاف کردوں کی مزاحمت کو بھی سراہا ۔ بلوچستان کے موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بی این ایم کے اس سیاسی سرگرمی کو سراہا جارہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ بی این ایم بلوچ معروضی حالات کا درست ادراک رکھتے ہوئے بہتر پالیسی سازی کرے گی اور ساتھ ساتھ ان داخلی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گی جس کی وجہ سے بی این ایم پر بلوچ قوم پرست حلقوں میں شدید نکتہ چینی ہوتی رہی ہے اور جس کی وجہ سے چار سال پہلے بی این ایم دو لخت ہوکر دو گروپوں میں بَٹ گیا تھا ۔
جہاں بی این ایم کے اس کونسل سیشن کو بلوچ سیاسی حلقوں میں سراہا جارہا ہے وہیں لندن میں مقیم بلوچ قوم دوست لیڈر حیربیار مری کے فکری کارکن کچھ عوامل پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں ، انکا کہنا ہے کہ جس طرح بی این ایم کے چیئرمین نے اپنے بیان میں سرمایہ دارانہ نظام ، کارپوریٹس اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے اور انکے کردار کو منفی طور پر پیش کیا ہے اور ساتھ میں بلا وجہ برطانیہ ، امریکہ جیسے سرمایہ دار ملکوں پر بلواسطہ اور کارپوریٹس پر بلا واسطہ الزام لگایا ہے کہ وہ بلوچ سیاست میں مداخلت کررہے ہیں حقائق سے منافی اور قطعی غیر ضروری ہے ، جس کی وجہ سے بلوچ نیشنل موومنٹ اور اسکے اتحادی جماعت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوسکتی ہیں ، انہوں نے بی این ایم پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی این ایم کے موجودہ مارکسسٹ خیالات بلوچ قومی تحریک کے روح کے مطابق نہیں ہیں کیونکہ بلوچ قومی تحریک کی بنیاد مکمل طور پر نیشنلزم پر رکھی گئی ہے ۔ یاد رہے لندن میں مقیم قوم دوست لیڈر حیربیار مری نے اسی ضمن میں بلوچستان لبریشن چارٹر پیش کیا تھا جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا مابعد آزادی بلوچستان میں مخلوط معیشت کو اپنا کر ایک فلاحی ریاست قائم کی جائیگی جو غیر جانبدار رہ کر دنیا کے تمام اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گی ، بلوچستان لبریشن چارٹر کو بلوچ قوم میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی تھی ، لیکن بی این ایم کے موجودہ مارکسسٹ موقف کو اس چارٹر کے منافی بیان کیا جارہا ہے ۔اسکے باوجود بلوچستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں بی این ایم کے موجودہ کونسل سیشن کو سراہا جارہا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] اداریئے. RSS 2.0