بلوچ نیشنل موومنٹ کا کونسل سیشن اختتام پزیر،خلیل بلوچ چیرمین منتخب

اتوار 28 دسمبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) سیشن کے اختتام میں چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک کامیاب سیشن کی انعقاد پر تمام کونسلرخواتین و حضرات آپ مبارک باد کے مستحق ہیں ،آج ایک تاریخ رقم ہوئی ہے ،ایک بڑی مرحلہ آپ نے سر کرلی ہے جس تدبر حکمت اور جوان حوصلگی کے ساتھ تمام مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ذاتی مشکلات پرحرف شکایتِ زبان پر نہیں لانا پارٹی اور جدوجہدسے ایک عشق اور جنون کی علامت ہے ۔شہید واجہ غلام محمد بلوچ اور وہ تما م ہمراہ وھمبل اور سرزمین کے فرزندوں کو سرخ سلام کہہ جہنوں نے بلوچ راج و وطن کی آزادی اورباوقارمستقبل کی جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کرگئے ۔سد سلام اُن تمام دوست و ہمراہوں کوجنہیں بلوچ قومی آزادی کے جدوجہد کو منزل تک پہنچانے کیلئے وحشی ریاست پاکستان کے بدترین ریاستی دہشت گردی متزلزل نہیں کرسکااور آزادی کی جدوجہد کی خاطر آج بھی اذیت سہہہ رہے ہیں لیکن جھکے نہیں ہیں ۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی نویں قومی کونسل سیشن میں تشریف فرما کامریڈ بہن، بھائیو،بزرگ ہمراہو ۔۔۔۔میں نہیں جانتا کہ انہیں کیا نام دوں گزشتہ چارسالوں میں جو قدر و احترام مجھے دی گئی ہے میں ان کا مستحق تھا یا نہیں ،دوست اور ساتھیوں نے مجھے مہر والفت اور انمول اعتماد سے نوازا ہے، میں تادمِ مرگ انہیں نہیں بھلاسکتاہوں ،میں ان کا شکریہ کس طور ادا کروں بلکہ میں اپنے آپ کو بلوچ قومی سیاست میں خوش قسمت شخص تصور کرتا ہوں کہ اکیس ویں صدی کے وہ اذیت اور وہ انسانیت سوز مراحل بلوچ، سرڈگار پرجہدکار ساتھیوں پرآرہے ہیں، اسی سخت اور مشکل وقت میں اس پائے کے ساتھیوں کے ہمراہ داری شہید حاجی رزاق جیسے عظیم بے لوث جنونی ،اُستاد علی جان جیسے مدبر ،صمد جان جیسے بے غرض انسان،لالہ حمید جیسے مضبوط ،شہید رسول بخش جیسے ساتھیوں کی ہمراہ داری میں کام کرنا میں نہیں جانتا کہ کس کس ساتھی اور کس کس ہمراہ کانام لوں کہ ان کی ہمراہ داری میں کام کرنے اورگزرے وقت کاہر لمحہ ،ان کی گفتار و اظہار کسی طور بھلائے نہیں جاسکتے ۔۔۔ وہ ہرگزبھلائے نہیں جاسکتے ۔۔۔نہ ہی اپنے قائد اپنے لیڈر کی وہ فقیرانہ زندگی۔۔۔ وہ جنون جو بلوچ تاریخ میں ایک ناپید مظہرہے ،کم از کم میں نے اپنی زندگی میں کوئی اور غلام محمد نہیں دیکھی ہے کہ اسے نہ صرف اپنی سیاست ،اسے نہ صرف اپنی گفتار،اسے نہ صرف اپنی زانت،اسے ہر شئے پر کامل گرفت تھا ۔’’غلام محمد سرزمین کے لئے ایک جنونی انسان تھے ‘‘میں نہیں کہہ سکتا کہ شہادتوں سے دکھ نہیں ہوا ہے یہ جھوٹ ہوگا۔ ضرورایسے واقعات بے پناہ دکھ کاباعث بنتے ہیں،لیکن جدوجہد کا ایک حصہ ہیں۔ غلام محمد ،لالہ حمید ،صمد جان ،حاجی رزاق،یا صباء دشتیاری بہت ہی لمبی فہرست ہے۔ بلوچ آزادی کے شہیدسنگت اور ہمراہوں کی وہ لاشیں ہم نے دیکھی ہیں جن کے ناپاک دشمن نے سینہ چاک کئے ہیں ،انسانیت سوز تشدد،ایسے تشدد کہ انسانیت شرماجائے۔مگر میراایمان ہے کہ قربانیوں کے بغیر نجات ایک خواب رہے گا ۔غلام محمد کی شہادت سے کوئی ایک ڈیڑھ ماہ قبل ہمارا موضوع یہی تھا ہم نے بارہا سمجھایا کہ ’’ انسانی اقدار سے محروم اِس دشمن کے پاس آپ کے مزید وقت نہیں ہے اپنی حفاظت کے لئے کوئی نہ کوئی سبیل کریں ‘‘۔مگروہ سرزمین کی عشق میں جنون کی حدوں سے نکل چکاتھا اور بے پناہ مہر کرتاتھا ہماری ذمہ دار ی اس فکر کو آگے بڑھانا ہے، میں نے ان سالوں میں بہت کچھ سیکھنے کی جدوجہد کی ہے ساتھیوں ،دوستوں اور اپنے کیڈرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اب مجھے بعد ازمرگ کوئی پشیمانی نہیں ہوگی کیونکہ ان سالوں میں ،’’میں نے اپنی پوری زندگی بتادی ہے‘‘ ۔۔غلام محمد ہماراہمراہ رہا ہے ۔۔لالہ منیر ہمارا ہمراہ رہا ہے ،میں اپنی تمام ساتھی ، ہمراہ اور شہداء کی پارٹی میں گام گام پرہمیں کمک اوراُن کی اعتماد ہمارے شاملِ حال رہا ہے۔ ان کی دست شفقت ہماری سرپر رہی ہے ۔ہم انہیں اپنی روح میں محسوس کرتے ہیں ۔غلام محمد کو بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے ہر رکن تلاشے تو اسے اپنی روح میں موجود پاتا ہے۔ بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے ہر ساتھی شہید حاجی رزاق کی گفتار وگفتن کو تلاش کرے ،ووہر جگہ موجود ہیں ۔لیکن ان سب باتوں پر سبقت فکر،پروگرام اور آئیڈیل کردار کی پاسداری کرنے کو حاصل ہے اور آئیڈیل کردار میں خیانت نہیں بلکہ ایمانداری سے آگے بڑھانے کو سبقت ہے ۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ میری وجود ہے ۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ پر میں فخر کرتا ہوں ۔کم از کم میری خواہش اور تمنا ہے کہ ہرساتھی پارٹی سے کمیٹڈ ہوں پارٹی ان کی فخر اور جنون کا سامان ہو۔۔پارٹی ان کے لئے جزوقتی شئے نہ ہو۔۔۔پارٹی کل وقتی کام کرنے کامتقاضی ہے میں نے اپنے اس دورانیے میں بہت کوشش کی ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ بلوچ سیاست سے منسلک اور ہم آہنگ ہو۔ ہرلمحہ بلوچ قومی سیاست و قومی فکراورقومی کاز کے لئے مختص ہو، ہرسانس پارٹی سے باہم پیوسط ہو ۔۔مجھے بحیثیت چیئرمین ان سالوں میں اپنے ہمراہ اور ساتھیوں پر جنہوں نے ان سالوں میں جو کام کیا ہے فخر ہے کہ ہمراہ اور ہماری ٹیم ورک کو دنیا کے ساتویں ایٹمی پاور کا دعویٰ رکھنے والے ریاست توڑنہیں سکااور بلوچ نیشنل موؤمنٹ کوناکام نہیں کرسکا ۔قابض ریاست غلام محمد کو شہید کرتاہے ۔۔لالہ کو شہید کرتاہے ۔۔۔صمدجان کو شہید کرتا ہے ۔۔۔عابد جان کو شہید کرتا ہے۔۔۔ نصیرکمالان کو شہید کرتا ہے صدیق عید و لالہ حمید ،رزاق گل ،جاوید نصیر سفیر جان ، ستار جان کو شہیدکرتاہے۔۔۔ ہزاروں کی تعداد میں ساتھیوں کو شہید کرتا ہے اور بے دریغ بدما شی کرتا ہے ۔دین جان ، غفورجان ،صادق جمالدینی زاہد بلوچ، ذاکر مجید بلوچ ،رمضان بلوچ سمیت بے شمار ساتھیوں پر
اذیت گاہوں میں تشدد کررہا ہے لیکن شکست نہیں دے سکا ہے میرا ایمان ہے کہ کوئی اس فکر اور اُس کمٹمنٹ کو شکست نہیں دے سکتا جو کسی سرزمین اور کسی قوم سے وابستہ ہو۔ اس کی تاریخ جو شہداء کے خون سے لکھی گئی ہے غلام محمد کی قربانی ادنیٰ قربانی نہیں ہے وہ قربانی قوم کے لئے بہت بڑا مہمیز تھا ۔آج اس کی فکر اور پروگرام ہماری راہ ،ہماری مشعلِ راہ اور ہماری ویژن ہو ہم اس پر کاربند ہوں اور کسی قسم کا سرد و گرم اور نشیب و فراز کو راہ میں حائل رکاوٹ نہ مانیں۔ جس طرح ساتھیوں نے کونسل سیشن میں بحث و مباحثہ کی یا اپنی تمام ناکامی اور کوتاہیوں کے باوجود جہاں تک جو بساط تھا کے مطابق دورے کئے وہاں ساتھیوں جو تنقیدی بحث و مباحثے کی ریت ڈالی یا ورکروں کی پارٹی سرگرمیاں ہوئی ہیں۔ میر ا ایمان اور فخر ہے کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ ،بلوچستان میں سب سے بڑی پارٹی ہے یہ وہی پارٹی ہے کہ ڈاکٹر مالک کہتا ہے کہ ’’غلام محمد سے شروع ہوکر لالہ منیر پر ختم ہوجاتا ہے‘‘ آج اسی پارٹی نے اپنی حیثیت منوالی ہے ،یہ غلام محمد سے شروع ہوکر دنیا کے دیگر خطوں امریکہ ،یورپ ،براعظم آسٹریلیا تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سات براعظم بدل کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکا ہے ۔۔۔یہ غلام محمد کے قربانیوں کا ثمر ہیں یہ پارٹی غلام محمد اور لالہ منیر تک محدود نہیں رہا ہے یقیناکام محنت ،یہ قربانی تمام ساتھیوں کی قربانیوں کا مجموعہ ہے ۔آج بلوچستان میں بلوچ نیشنل موؤمنٹ واحد پارٹی ہے جس کی دنیا کے اکثر خطوں میں ورکر متحرک کام کررہے ہیں ۔۔بلوچ سرزمین پر کسی بھی آزادی پسندپارٹی یا پاکستانی وفاق پرست پارلیمانی پارٹی سے زیادہ ممبر شپ رکھتا ہے یہ اپنی قوم میں ہر دلعزیز پارٹی ہے کہ 50سے 60%لوگ اس کے حمایتی اور دوزواہ ہیں تو ایسے میں اپنے لیڈر پر فخر کرنا چاہئے کہ اس نے ایسی راہ کا تعین اور بلوچ سیاست میں ایسی حدبندی کردی اور ایسا خط کھینچ لیاجو بلوچ قومی نجات کے لئے رہنمائی کا درجہ رکھتا ہے، آج اس میدان میں ہماری بہنیں جدوجہد کے لئے قربانی دے رہی ہیں ،وہ شانہ بشانہ اور برابری کی بنیاد پر جدوجہد کررہی ہیں اور شہادت کے مراحل میں متزلزل نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ سرخرو ہوتے ہیں آئندہ وہ زیادہ سے زیادہ ذمہ داریاں سنبھال کر بہتر موبلائزیشن کرسکتی ہیں انہیں تربیت اور مواقع کی ضرورت ہے ان کو assignmentدینی چاہئے کہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہچائیں میں یہی امید رکھتا ہوں کہ بلوچ وطن ہمارا ہے ،۔۔۔۔بلوچ قوم ہمارا ہے ۔۔۔بلوچ قوم نے جس امید کا اظہار اور اعتماد سے ہمیں نوازا ہے یاہم نے اپنی قوم سے جو کمٹمنٹ کی ہے ،کم از کم اکیس ویں صدی میں وہ سوال ہم سے کوئی نہیں پوچھ سکتا ،جوسوال2002کو ایک شخص نے ڈاکٹراللہ نذر سے کیا تھا ،کسی نے ان سے یہی پوچھا تھا کہ اس طرح آزادی کی باتیں بہت سوں نے گزشتہ وقتوں میں کیا تھا لیکن پھر وہ جاکر پاکستان کی پارلیمان کا حصہ بن گئے ہیں اب ہم سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا آزادی کی باتیں پچھلے وقتوں بہت سے لوگوں نے کی تھیں ہمارے ساتھیوں نے جو باتیں کی ہیں ان پرعمل کیا ہے ہمارے ساتھیوں نے جان سے گزر کر جھوٹ اور سچ کو الگ کرنے کا پیمانہ مقررکیا ہے ؟کیاآپ کو یاد نہیں کہ کوئی کہتا کہ غلام محمد ریاست کا ایجنٹ ہے کسی نے کہا کسی شخصیت کا ایجنٹ ہے کسی نے کہا کہ غلام محمد فلانے کا ایجنٹ ہے، لیکن نہیں ،وقت نے ثابت کیاکہ غلام محمد بلوچ ایک لیڈر تھا غلام محمدکی زندگی اور اس کی ہر شئے بلوچ کے لئے وقف تھی اور میں اپنے آپ کو منصب کا حقدار تصور نہیں کرتا جس پر غلام محمد تشریف فرما تھے، پھر بھی ساتھیوں نے جو اعتماد کیا تھا، میری اس دورانیے میں کوشش یہی رہی ہے کہ ایمان دار ی سے اس اعتماد پر پوراُ تروں کتنا کامیاب ہوا ہوں کتنا ناکام ۔۔۔۔۔ضرور اس کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے لیکن یہ بات سب سوالوں پر زیادہ مقدم ہے کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ آپ سب کا جنون ہونا چاہئے ،بلوچ نیشنل موؤمنٹ سے عشق مضبوط ہو،یقینابلوچ نیشنل موؤمنٹ کے عاشق بلوچ سرزمین کے عاشق ہوتے ہیں ۔غلام محمدبلوچ سرزمین کا عاشق تھا بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی فکر بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی بنیادی اثاثہ بلوچ سرزمین کی آزادی ہے اور مساوات پر مبنی ایک آزاد سماج کاقیام ہے لہٰذا اپنی پارٹی سے عشق کرنا اپنی پارٹی سے بے کراں مہر والفت اور لگاؤرکھنا جب آپ کو جنوں کی حد تک اپنی پارٹی سے وابستگی ہو تو کوئی باک نہیں کہ کوئی ہمیں پارٹی پرست کہے تو ہم اسے بہ سروچشم تسلیم کرتے ہیں لیکن فخر اس بات پر ہے اس پارٹی کے لئے جو بلوچ آزادی کے لئے قطاردرقطار لوگو ں کی تربیت کرکے ان کی ذہنی طورپرتیار کررہا ہے۔ ہم شخصیت پرست تو نہیں ۔۔۔ہم مفاد پرست تو نہیں ،آزادی کی راہ میں القابات و خطابات نوازی گران سودا نہیں ہم یہ خسارہ برداشت کرلیں گے ،ایسی القابات نوازی اور لغو شوروغوغا کی بوچھاڑمیں ہم نہ بہک جائیں گے اور نہ ہی لہو ریز رفتار میں فرق آجائے گا۔ہمیں اپنی پارٹی پرستی پر فخر ہے ہم اس پارٹی کی پرستش کرتے ہیں جو ہمیں بے لوث قربانی کا سبق دیتی ہے وہ پارٹی جو ہمیں ایمان داری کا درس دیتی ہے ۔۔وہ پارٹی جو سماجی برابری کا درس دیتی ہے ۔۔۔وہ پارٹی جو مجھے اپنی قوم کی قدر و منزلت اور اس کی طاقت پر بھروسے کا سبق دیتی ہے ۔۔۔وہ پارٹی جو قومی سیاست کو ایک طبقے کی میراث نہیں سمجھتا بلکہ سیاست کو عام لوگوں تک پہنچانے اور انہیں فیصلہ سازی میں شریک کرنے کا سکین دیتا ہے کیاہم نہیں دیکھ رہے ہیں کہ واضح قومی اعتماد میں تذبذب کی کیفیت لانے اور اس کیفیت کو ایک لابی یا گروہ کی مفادات و حاکمیت کو برقرار رکھنے کے لئے ہر انتہا کو عبور کرنا یا جو سرتسلیم خم کرنے سے انکار کرے اور اس منفی عمل کا حصہ نہیں بنے اس پر ہر قسم کی لغویات روارکھنااور اسے اصلاح کانام دینا کہاں کا انصاف کہاں کا سیاسی معیار ہے ۔ہمارے لئے پریشانی کی بات نہیں ہم عوام کو طاقت کا سرچشمہ کہتے ہیں عوام ہی ہمارا محتسب ہے ۔اور یہ سب کچھ تطہیری عمل میں ایک جست کی حیثیت رکھتا ہے ۔میں نے کہا کہ سیاست ایک طبقے کا میراث نہیں جب آپ لوگوں کو سیاست میں شریک نہیں کرتے ہیں تو وہ اپنی تقدیر کا نہ مالک بن سکتے ہیں اور نہ ہی وہ آپ کی اعمال کا محتسب بن سکتے ہیں ۔چندعناصر کی خواہشات پر سیاست کو محدود کرنا اچھے عزائم کی نشاندہی نہیں کرتا۔عوام کی جڑوں میں سیاست کو شجر ممنوعہ بنانا اور موبلائزیشن کی عوامی تحفظ کے نام پر گناہ جتنی بڑی غلطی قرار دے کر اس کی راہیں مسدود کرنا ہرگزہرگز عوامی تحفظ نہیں بلکہ ہیرارکی ہے ہیرارکی کی تحفظ ہے ہمارا ایمان ہے کہ بلوچ اپنی سیاسی حق کے لئے آخری دم لڑے گا۔بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے ورکروں کو اپنی صفوں پر نظر ،اپنی قومی قوت پر اعتماد کے ساتھ روشن مستقبل پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے ایک اور بات میں واضح کرتاہوں کہ گردوپیش کے سیاست اور سیاسی حرکیات کی قوانین کی ادراک اور مطالعے بیان بازی نہیں ادارتی مطالعے اور عمیق غورو غوض سے ممکن ہے ۔۔ہم یہی کریں گے ہم وہی کریں گے جو قومی ضرورت ہے ۔آپ کو گہرائی سے سوچنا چاہئے کہ قومی سیاست میں بے حسی اور قصداََ بیگانگی اور لاتعلقی کی فضاء پیدا کرنے کی کوشش زمین زادوں کو قومی سیاست کی حرکت اور تغیر سے پرے دھکیل کر اُس پر قبضہ اور من مرضی کی حاکمیت سے سواکچھ بھی نہیں ۔ایک عرصہ گزرا کہ بہت ہی تکالیف دیکھے ہیں لیکن آزادی کی جدوجہد اپنی اندر ایسی توانائی اور الفت رکھتا ہے کہ تکلیف کا احساس نہیں ہوتا اگر تکالیف راہ میں مانع ہوتے تو اِ س جنگل میں ممکن ہے کہ صدیوں پہلے کوئی مجنون انقلابی اپنے رب کی عبودیت کے لئے یہاں چلہ کشی اور عبادت کیا کرتا ہو ۔۔۔یہی جنون کی انتہاہے کہ اپنے سرزمین کے لئے قومی آزادی کی جدوجہد میں تکلیف محسوس نہیں ہوتا جب شہید ماسٹر عبدالرحمن کی لاش کو لایا گیا تو اس کا سینہ چاک اور دل گردے نکال لئے گئے تھے ۔۔۔۔۔میں کس کس کی مثال دوں ۔۔۔کس کس کا نام لوں قومی جدوجہد میں امر ہونے والے ہر ساتھی اور ہر ورکرکی ستائش کے لئے الفاظ اس کا احاطہ نہیں کرتے ۔۔لیکن قومی آزادی کی فکر کی پاسبانی ہمیں ہی کرنا ہوگا، ہمارے بعد ہمارے آئندگان کو کرنا ہوگا ہمیں اسی جذبے کے ساتھ بلوچ سرزمین کی آزادی کے لئے کام کرنا ہوگا، دنیا میں جہاں بھی کوئی بلوچ رہتا ہے ،بلوچ نیشنل موؤمنٹ اس کی پارٹی ہے آپ کو اس چیز کا قطعی خوف نہ رہے کہ شہادتوں سے کوئی قوم ختم ہوگا ۔بلوچ جس دن سر جھکائے گا تو وہ ختم ہوگا قربانی اور سر کٹوانے سے نہ کوئی فکرختم ہوا اورہی نہ سروں کی فصل کاٹتے سے خیالات کوختم کیاجاسکتاہے۔ جدوجہد جاری رہے گا، جدوجہد کسی کا محتاج نہیں ہوگا یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کواپنی ذہنی و سیاسی بالیدگی اس نہج پر کرنا چاہئے کہ فرسٹ لیڈر شپ ،سیکنڈ لیڈر شپ اور تھرڈ لیڈر شپ موجود ہو اور بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے پاس لیڈر شپ کا فقدان نہ ہو بلوچ نیشنل موؤمنٹ بلوچ کا فخر ہے، بلوچ نیشنل موؤمنٹ بلوچ کا ناز ہے اور بلوچ نیشنل موؤمنٹ ہی بلوچ قومی آزادی کا موثر ذریعہ ہے ۔
الیکشن کمیشن اور تقریب حلف برداری میں چیئرمین کی تقریر
چیئرمین کے اختتامی تقریر کے بعد الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا،الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں الیکشن کمیشن کے ممبران نے واجہ محمد حسین کو سونپ دی ۔الیکشن کمیشن نے الیکشن کا عمل پوری رات جاری رکھا ،جس میں مرکزی کابینہ کے ایک جبکہ مرکزی کمیٹی کے لئے بارہ ممبران کا انتخاب عمل میں آیا ۔کیونکہ کابینہ کے چیئرمین سمیت باقی ممبران بلامقابلہ منتخب ہوگئے، صبح گیارہ بجے الیکشن کمشن نے نتائج کا اعلان کردیا جس کے مطابق چیئرمین خلیل بلوچ ،وائس چیئرمین واجہ غلام نبی بلوچ ،سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ ،ڈپٹی سیکریٹری جنرل اُستاد بابل لطیف بلوچ ،،انفارمیشن و کلچرل سیکریٹری کے لئے مقابلے کے بعد ماسٹر دل مراد بلوچ، فنانس سیکریٹری ناصربلوچ ،لیبر ،کاشتکاراور ماہی گیر سیکریٹری چیف اسلم بلوچ منتخب ہوگئے جبکہ سینٹرل کمیٹی کے بارہ عہدوں کے لئے پندرہ اراکین نے کاغذات جمع کئے۔ ان میں سے بانک ماہ گنج بلوچ ،بلوچ خان ،نوید بلوچ ،مجیب بلوچ ،زبیر بلوچ،بانک ماہ رنگ بلوچ ،ڈاکٹر براہیم بلوچ،داکٹر سلال بلوچ،ڈاکٹر شئے بلوچ،چاکربلوچ،شاہ دوست بلوچ،بانک ماہ پری بلوچ منتخب ہوئے ۔
نتائج کے اعلان کے بعد الیکشن کمشنر واجہ محمد حسین نے نومنتخب کابینہ اور سینٹرل کمیٹی سے حلف لیا حلف بردار ی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب چیئرمین خلیل بلوچ نے کہامنت وار ہمراہ اور دوستوں کی انہوں نے نیک تمناؤں اور امیدوں کے ساتھ یہ بڑی ذمہ دار ی ایک بار پھر میری ناتواں کندھوں پر ڈال دی ہے ،الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور اس کے ارکان کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے اہم مرحلے کے فرائض سرانجام دئیے ۔۔۔۔کوشش یہ رہے گی کہ جو توقعات اور امیدیں میرے اور میری ٹیم کے ساتھ وابستہ کی گئی ہیں ان پر پورا اترسکیں ،بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے پروگرام کو منزل تک پہنچانے کے گزشتہ وقت میں جو کمزوریا ں اور کوتاہیاں ہم سے سرزد ہوئی ہیں وہ دوبارہ نہ ہوں ۔۔۔۔میں اپنی خوش قسمتی سمجھتاہوں کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے نویں کونسل سیشن میں ہمارے ہمراہ داروں ہمارے کامریڈ بہن اور بھائیوں نے بھرپور اور بہتر طریقے سے شرکت کی اور صحت مند بحث و مباحثہ کئے اور میرے لئے یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ہماری ٹیم میں آج ہماری بہن مرکز ی کمیٹی میں شامل ہیںیہ ہماری سیاست اور سیکولر روایات کی تجدید اور پختگی ہے کہ بلوچ خواتین آزادی کے کارزار میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنی خون اور پسینہ بہارہے ہیں جبکہ اس سیشن میں ان کی مرکزی کمیٹی میں مقابلہ اور اُن کی کامیابی ،پارٹی کے لئے ایک جست کی حیثیت رکھتا ہے اورآئندہ پارٹی موبلائزیشن کا عمل اور موثر ہوگا ۔سیکورٹی نکتہ نظر سے ہم نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا کہ طویل مسافت ، اورسخت سردی کی وجہ سے کامریڈز کو تکالیف کا سامنا کرناپڑا ہو لیکن قومی آزادی کی جدوجہد میں یہ مشکلات ،تکالیف کا باعث نہیں بنتے ہیں بلکہ سرور و لذت بخشتے ہیں ۔دوسری طرف بہت ہی اہم مسائل اورپیچیدگیاں،اس سیشن میں ایک پختگی اورسیاسی شعورکے ساتھ بحث ہوئے خاص کر ہماری سینئرساتھیوں کی شرکت اور ان سے رہنمائی حاصل کرنا ہماری روایات کاخاصہ رہا ہے ۔ بلوچ نیشنل موؤمنٹ نے اپنی قوت مجتمع کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے کماشوں ،اپنے ہمراہوں او ران کے گرانقدر آئیڈیاز ،اُن کی با حوصلہ اور جرات مندانہ ہمراہ داری ،ان کی صلاحیتوں کو بلوچ نیشنل موؤمنٹ آئندہ وقت میں بلوچ قومی جہد آزادی میں ضرور بروئے کار لائے گا اور اسے اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتاہے ،آج کے اس کونسل سیشن میں بلوچستان کے اکثر علاقوں کے سنگتوں کی نمائندگی اور شرکت ہوئی ہے۔ میں واجہ غلام محمد کی فکری کاروان میں ہمراہ دار اور نو منتخب ساتھیوں کوجنہوں نے الیکشن میں مراحل میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ میں تمام ہمراہ داروں کو، بلوچ نیشنل موؤمنٹ ،بلوچ راج کو مبارک باد دیتا ہوں اور یہ اُمید رکھتا ہوں کہ جس طرح ہم اپنے شہداء کو یاد رکھتے ہیں۔ جس طرح شہداء کی جدوجہد کو یاد رکھتے ہیں ،جس طرح شہداء کی گفتارو کردار کو یاد رکھتے ہیں یاجس طرح ہم اپنی اسیر ساتھیوں کو یاد رکھتے ہیں یا اسیر ساتھیوں سے وابستہ لوگوں کویاد رکھتے ہیں۔ ان سے ضرورہماری عزم و حوصلہ اور بلند ہوتے ہیں آج اپنی راج و قوم اور پارٹی سے ہماری کمٹمنٹ ہے کہ سردیں گے مگر سرجھکا ئیں گے نہیں اور انشاء اللہ بلوچ قوم آزادی کی منزل پرایک ضرور پہنچے گا۔ بلوچ قوم کی ایک نسل ،بلوچ کا ایک حصہ بڑے پیمانے پر اس جدوجہدسے منسلک ہے۔ انشاء اللہ زانت و آگاہی اور شعوری جدوجہدکے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار نبھائیں گے ۔میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تشریف رکھنے والے سب کارکن ذمہ دار ہیں ۔ آپ پارٹی کیڈر ہیں یہ ذمہ داری اگر ان انیس ناتواں کندھوں پر ڈالی گئی ہے تو ایک طرف اپنی بہنوں پر نظر ڈالتے ہیں دوسری طرف اپنے کاروان کے جہدکاربھائی،کماشوں کو دیکھتے ہیں تو یہ کندھے کمزور و ناتواں نہیں بلکہ انتہائی مضبوط محسوس ہوتے ہیں ان کندھوں کی توانائی و مضبوطی آپ ہیں۔۔۔ بلوچ قوم ہے ۔ہم یہ بارگراں اُٹھائیں گے ہمیں شکست نہیں دیا جاسکتا ہے

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0