بلوچ وسیع اتحاد کی طرف ایک قدم، تحریر :حفیظ حسن آبادی

ہفتہ 18 نومبر, 2017

کسی بھی جھگڑے یا تنازعہ کے حل کیلئے چند مروجہ وکارآمد اصول موجود ہیں ۔پہلے اُن نکات کو ڈھونڈا جاتا ہے جہاں دونوں کے مفاد مشترک ہیں یا اس کے برعکس دونوں کا ذیاں پنہاں ہے۔یہی وہ آغاز ہے جو آگے چل کر آشتی ،اتحاد اور کبھی مکمل ہضم ہونے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے بعد اُن تمام کوتائیوں کو مان کر اُن کا اقرار کیساتھ اُن سے گریز کاشعوری اعادہ کیا جاتا ہے ۔تیسرے مرحلے میں ایک ساتھ کام کرنے کیلئے اُن نکات کو لیا جاتا ہے جو فریقین کیلئے یکسان قابل قبول ہیں ۔
بی آر پی راہنما نواب براہمدغ خان بگٹی کا تمام آزادی پسندوں کو یکجا کرنے کی خواہش اُس روایت کا تسلسل ہے جو بزرگ نواب اکبر خان بگٹی نے ڈالا تھا جس میں تمام بلوچ رہنماؤں کو بلا کر ایک ساتھ کام کرنے کا دعوت دیا گیاتھا لیکن نتیجے میں شہید بالاچ اور شہید غلام محمد کے سوا باقی سارے ایک گولی کے بدلے دس گولی چلانے والے ڈینگیں مار کر ایسے بھاگ گئے کہ پھر پیچھے مُڑنے کا نام نہیں لیا مگر اس کے باوجود وہ آج بھی وقتاً فوقتاً شہید نواب بگٹی کا نام اپنے سیاسی مفاد کے تکمیل کیلئے لینا ترک نہیں کرتے جس کو اُنھوں نے بلوچ تاریخ میں بدترین دھوکہ دیا تھا۔
مشترک مفادات : بلوچوں کا ایک فاہدہ تمام فریقین کیلئے یکساں مشترک ہے وہ ہے بلوچ کے وجود کی بقا یا اس کے برعکس ایک نقصان بحیثیت قوم مٹ جانے کی تشویش ۔شاہد ہی کوئی باشعور بلوچ اس بات سے انکاری رہے کہ جس طرح پاکستان بلوچ وطن کو لوٹ کر اُس کے اپنے بچوں کو خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور اور اَسی فیصد کے قریب بچوں کو تعلیم سے محروم کرواکے اُنھیں اس قابل چھوڑ رہا ہے کہ وہ کل زندگی کے کسی بھی مقابلے میں باہر سے سرپرستی کے ساتھ آنے والے یلغار کا مقابلہ کرسکیں ۔آج وہ چن چن کر قتل کررہا ہے لیکن جہاں قتل نہیں کررہا وہاں اُسکی چیرہ دستیوں کے اثرات قتل سے ہرگز کم نہیں ہیں ۔ گوادر کا مثال سب کے سامنے ہے جسے کل کا دبئی سنگاپور اور نہ جانے کن کن ناموں سے نوازتے ہیں کی قیمتی زمینیں کوڑیوں کے دام ایکڑوں کے حساب سے باہر والوں کو بیچے جاچکے ہیں اور بیچے جارہے ہیں ۔مقامی ماہی گیر دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں اُن کاوسیع سمندر اُن کیلئے محدود کیا جاچکا ہے اُوپر سے دوسرے ممالک کے بڑے ٹرالرز رہی سہی کسر پوری کرکے بڑے جال پھیلا کر چھوٹے بڑے مچھلیوں کو انڈوں سمیت سمیٹ کر اُسکی نسل کشی کررہے ہیں وہ اپنا سب کچھ لُٹتا دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر پارہے ہیں کیونکہ کوئی سننے تیار نہیں اور ریاست اُن کو وہاں سے نکالنے کا تہہ کرچکاہے ۔مقامی لوگوں کو ہرسو دو سو میٹر پر روکا اور اُن کے دستاویزات پوچھ لئے جاتے ہیں جبکہ باہر کے لوگ وہاں بلا روک ٹھوک گھومتے ہیں ۔ان تمام مشکلات کیساتھ اب گوادر میں پانی کے بحران نے اُسے کربلہ میں تبدیل کیا ہے بظاہر یہ الگ الگ مسائل ہیں لیکن اگر ان کو جوڑ کے دیکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ریاست غیر محسوس انداز میں علاقے کو مقامی لوگوں سے خالی کرنے کے پروگرام پر عمل پیراہے ۔یہ غیر محسوس بیدخلی کا سلسلہ اُس وقت تک برقرار رہے گا جب یہاں لاکھوں نئے لوگ لائے جائیں اور مقامی لوگ خود بخود اقلیت میں تبدیل ہوجائیں اور وہ کسی مزاحمت کے قابل نہ رہیں ۔یہی بیدخلی کی صورتحال تمام بلوچستان میں یکساں ہے البتہ ہر علاقے میں اس کی نوعیت و شکل مختلف ہے ۔بلوچوں کو محتاج اور کسی بھی مقابلے کے قابل نہ چھوڑنے میں کراچی کے بلوچوں کا مثال بھی سب کے سامنے ہے تقسیم ہند کے وقت کراچی کے بلوچ سب سے زیادہ سرمایہ دار ،برسرروزگار اور پڑھے لکھے تھے لیکن گذشتہ پاکستانی ستر سالہ تاریخ میں اُنھیں ریاستی پالیسی کے تحت ایسے پیچھے دھکیلا گیا کہ آج وہاں کی چالیس لاکھ کی بلوچ آبادی سب سے زیادہ بیروزگار ،غیرتعلیم یافتہ اوراُنکی گلیاں پورے شہر کے سب سے تنگ و تاریک گلیاں شمارہوتی ہیں ۔کل کے کارخانوں کے مالکوں کے بیٹے آج چوکیداری کیلئے ترس رہے ہیں۔اُوپر سے اُن کے باقاعدہ قتل کے اہتمام کیلئے مستقل گینگ وارسارا سال جاری وساری رہتاہے ۔
کوتائیوں کاادراک وازالہ : بلوچ اتحاد کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ کوتائیوں کا ادراک اور اُن کے ازالہ کے کوششوں کا فقداں رہا ہے ۔رواں تحریک میں بھی بدقسمتی سے جوں جوں قدم بڑھتے گئے تنظیموں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا جو ظاہر ہے انتشارکا نتیجہ تھا ۔یہ انتشار کیسے پنپ کراتنے ٹکڑوں کے ظہور کا سبب بنا آج تک کسی نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور نہ ہی اس میں کلیدی و ثانوی کردار اداکرنے والوں کا تعین کیا جاسکا ۔اگر کسی نے لب کشائی کی کوشش بھی کی تو اُس کی بات کو دوسرے رُخ موڑ کر کج بحثی کے سپرد کیاگیا اور یوں دھڑہ بندیوں میں شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے گروہ کو تحریک سے بھی زیادہ اہمیت دے کر اُس کا جاہ بے جاہ دفاع کیا گیا جس سے تنظیمیں تو رہیں مگر تحریک اندر سے شدید مشکلات کا شکار ہوا ۔فاصلے بڑھتے گئے تلخیاں بڑھتی گئیں جنہوں نے تنظیموں کے ساتھ ساتھ عوام اور سرمچاروں کے درمیان اعتماد کے فضا ء کو بہت متاثر کیا جس سے ریاست نے بھرپور فاہدہ اُٹھا یا ۔
جہاں عمل ہوتا ہے وہاں غلطیاں بھی ہوتی رہتی ہیں لیکن منظم تنظیمیں اُن کے ادراک کے ساتھ اُن کے تدارک کی تدبیریں تلاش کرتی ہیں۔ مگر یہاں بدقسمتی سے نتیجہ مایوس کن رہا اورچند کوتائیاں مستقل طور پرسرزد ہوتی رہیں۔پہلہ آج تک اس تجربے کو ناکام تسلیم نہیں کیا گیا کہ ایک تنظیم کی برانچیں بنا کر اُن کے کمانڈروں کواس حد تک خود مختاربنایا گیاکہ وہ بعد میں اپنے آپکو کسی کے بھی سامنے جوابدہ ہونے سے مبرا سمجھنے لگے ۔دوسری غلطی یہ رہی کہ آزادی پسندوں نے ایک دوسرے کے جوابدہی سے گریز عناصر کو پناہ دے کر شعوری یا لاشعوری طور پر خودسری کے مئیل کی آبیاری کی جس کے نتیجے میں ریاست کے بجائے وہ ایک دوسرے کا نشانہ بنے اورریاست کا کام آسان کیا راقم اُن چند لوگوں میں سے ایک ہے جس نے ابتداء لیکر آخر تک اس دست و گریبانی کی کھل کر مخالفت کی ہے۔گوکہ اب کئی لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اُنھوں نے ایسا کرکے بڑی حماقت کی ہے لیکن دوسری طرف دوسروں کے تنظیموں میں ڈاکہ ڈالنے کا ارادہ ترک کرتے نظر نہیں آتے جو ان دشنام طرازیوں کا سبب بنے ہیں تیسرا اور سب سے سنگین غلطی یہ رہی کہ آزادی پسندوں کے صفوں سے کچھ لوگ پاکستانی پارلیمانی جماعت بی این پی مینگل بارے درست فیصلہ کرنے ناکام رہے حالانکہ بی این پی مینگل نیشنل پارٹی ،مسلم لیگ ،پی پی پی ،بی این پی عوامی ،جمعیت ودیگر سب سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہے کیونکہ باقیوں کے بارے میں بلوچ قوم کسی غلط فہمی کا شکار نہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ ریاست کی بی ٹیمیں ہیں۔لیکن بی این پی مینگل اسلام آباد وفاداری اور تحریک آزادی کی جڑیں اکھاڑنے سب سے پچاس قدم آگے رہنے باوجود ایک حلقے کو یہ یقین دلانے کامیاب رہا ہے کہ وہ دیگر پارلیمانی جماعتوں سے الگ بلوچوں کا دوست ہے اس کے باوجود کہ بابا مری نے اس جماعت بارے صاف الفاظ میں کہا تھاکہ یہ قوم پرستانہ سیاست کے نام پر قوم کا سودا کررہی ہے ۔ساحل وسائل کے دفاع کا نعرہ لگاتی ہے لیکن جھالوان کے پہاڑ ان کے اپنے ہاتھوں کھوکھلے ہو چکے ہیں اور یہ بلوچ وسائل کے سب سے بڑے لٹیرے ہیں۔بلوچوں کے دفاع کی بات کرتے ہیں لیکن دہ بلوچوں کے قاتل ایف سی پر زمین بیچ کر معاوضہ وصول کرتے ہیں سرمچاروں سے قربتوں کے اشارے دیتے ہیں لیکن عملاً اس کا لیڈر اسلام آباد کو فخریہ انداز میں کہتا ہے کہ وڈھ بلوچستان کا واحد علاقہ ہے جہاں کوئی سرمچار نہیں اور آباد کار سب سے زیادہ محفوظ ہیں بڑے سردار مینگل کا یہ بیان بھی تاریخ میں ہمیشہ بدترین قوم دشمنی کے طور پر یاد رکھاجائے گا کہ ’’ اسلام آباد ان لڑکوں کو چُن چُن کر مارے جو پنجابیوں کو مارتے ہیں ‘‘ ۔رواں سال جون کے مہینے میں اس جماعت کے ایم این اے سید عیسیٰ نوری کے بیٹے سید میار نوری نے خفیہ اداروں کے ساتھ ملکرپسنی میں آزادی پسند نوجوان شاکر بلوچ کے گھر دھاوا بول کراُنھیں شہید کردیا میڈیا اطلاعات کے مطابق بی این پی مینگل کے لیڈر نے پہلے اُسے آزادی کا راستہ ترک کرنے یا علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا جسے شاکر بلوچ نے ٹھکرایا نتیجے میں خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر اُسے دن دھاڑے شہید کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس طرح کی مثالیں بے شمار ہیں جہاں اشاروں کنائیوں میں بی این پی مینگل قیادت نے تحریک آزادی کی بساط لپیٹنے کے بدلے اقتدار میں لانے کی پیش کش کی ہے ۔ پچھلی دفعہ بھی اُنکی پوری تیاری تھی اور اُس کے اُمیدوار ووٹروں کو یقین دہانی کراتے رہے کہ ہم نے اسلام آباد سے معاملات طے کئے ہیں اور اس بار حکومت ہم بنائیں گے لیکن اُن کے اُمیدوار پر بی ایل اے کے حملے نے اُن کا مکروہ کھیل بگاڑ دیا۔چنانچہ اسلام آباد کی آنکھیں بھی کھول گئیں اور وہ سمجھ گئے کہ یہ جھوٹ و فریب سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں حالات کو قابو میں لانا ان کے بس کی بات نہیں۔
چوتھی کوتائی یہ رہی کہ بی این ایف بنایا گیا لیکن اُس میں ہم آہنگی لانے کامیاب نہیں ہو سکے جس سے فاہدہ اُٹھا کر بی این پی مینگل ایک بار پھر شامل جماعتوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دوریوں میں تبدیل کرنے کا سبب بنا ۔
اشتراک عمل کی طرف پہلہ قدم : مذکورہ بالا کوتائیوں اور غلطیوں سے ہٹ کر بھی کئی چھوٹی موٹی کوتائیاں ہیں جو تنظیموں کے اندر اور تحریک میں متحرک قوتوں کو دامن گیر رہی ہیں جن پر کھلے بحث کی اجازت شایدحالات نہیں دیتے لیکن اتنا کہنا کافی ہے کہ ہر جماعت اتحاد میں مرکزیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے سے پہلے داخلی طور ان کو عملی بنائے کیونکہ منتشر اور غیر منظم قوتیں منظم اتحاد بنا ہی نہیں سکتے ۔
اس کے بعد جن نکات کو لیکر اتحاد کیلئے اشتراک عمل سے ابتداء کی جاسکتی ہے وہ درجہ ذیل ہیں
1۔ آزاد بلوچ ریاست کے قیام پر یقین ایران اور پاکستان کو یکسان بلوچ وطن کے قابضین مانا جائے جس طرح وہ دونوں ریاستیں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود بلوچ کو غلام رکھنے متفق ہیں۔
2 ۔ بلوچ آزاد ریاست کے قیام کیلئے ہر عمل میں ایک دوسرے کاساتھ دینا خاص کر ایک دوسرے کے احتجاجی ریلیوں ،سیمینارز وغیرہ میں اپنی شرکت کو یقینی بنانا۔
3 ۔ تما م پاکستانی پارلیمانی جماعتوں کیلئے اشتراک عمل میں شامل جماعتیں یکساں رویہ رکھیں تاکہ کوئی بھی پارلیمانی جماعت اپنے اثرو رسوخ سے اشتراک عمل میں شامل اکائیوں کے درمیان حسب سابق غلط فہمیاں پید انہ کرسکے جوبعد میں توڑ پھوڑ کا سبب بنیں ۔
4 ۔ پاکستانی کسی بھی سطح کے گفتگو کیلئے تین باتیں یقینی ہونی چاہیں ۔ا، ایجنڈا بلوچستان کی آزادی ہو ۔ ب ۔ بین القوامی ثالثوں کی شرکت لازمی ہو ۔ ت۔ کسی بھی بات چیت سے قبل اشتراک عمل میں شامل تمام اکائیوں کو اعتماد میں لیا جائے ۔
5 ۔ بین القوامی کوششوں کو تقویت دینے ایک کونسل تشکیل دی جائے جوبلوچ تحری آزادی کیلئے سفارتی واخلاقی مدد کی راہیں ہموار کرے اور اُس کے تمام اقدامات کونسل ممبراں کو اعتماد میں لے کر اُٹھائے جائیں۔
ابتدائی طور پر ان پانچ نکات پر اشتراک عمل ممکن ہے اس لئے کہ ان میں سے کوئی بھی نکتہ ایسا نہیں جس پر بظاہر کسی کو کوئی اعتراض ہے ۔
ان جماعتوں کے اشتراک عمل کافارمولہ طے ہونے کے بعد بلوچستان میں قوم کی دفاع میں برسرپیکار قوتیں ایک دوسرے کیلئے آسانیاں پیدا کریں اور مشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ جد وجہد کیلئے نئی حکمت عملی بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت ہرگزنہ ہو ۔ (ختم شُد)

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0