بلوچ وطن دوست رہنما حیربیار مری کا خصوصی انٹرویو

جمعہ 14 نومبر, 2014

توار :اس جدید دور میں جب ریاستوں کے سرحدوں کو بدلنا ایک بہت مشکل کام بن چکا ہے
بلوچستان کی آزادی کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟
حیربیار : دنیا میں جنگ عظیم دوم کے بعد ترکِ نو آبادیات کے ذریعے بہت سی ریاستوں نے قبضہ گیریت سے نجات حاصل کی۔ اس کے بعد سوویت یونین کی ٹوٹنے کی وجہ سے سینٹرل ایشیا اور مشرقی یورپ میں آزاد جمہوری ریاستیں وجود میں آ گیں۔ جنگ عظیم سے پہلے اور جنگ کے دوران زیادہ تر ریاستوں کی آزادی یا تشکیل انٹر اسٹیٹ جنگوں کے ذریعے ممکن ہوا۔ لیکن آج کی دنیا مختلف ہے جہاں پر زیادہ تر جنگیں انٹر اسٹیٹ کے بجائے انٹرا اسٹیٹ ہیں یعنی آزاد ریاستیں آپس میں جنگ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ریاستوں کی سرحد کے اندر جنگیں لڑی جاری ہیں۔ جدید جنگوں کی نوعیت انٹرا اسٹیٹ ہونے کے سبب نئی ریاست وجود لانے کے لیے عالمی حمایت اور مدد بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آزاد بلوچ ریاست کی تشکیل کو ممکن بنانے کے لیے ہمیں بین الاقوامی طاقتوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ بلوچ بحیثیت قوم اپنی سرزمین کو کنٹرول کر نے کے ساتھ ساتھ اپنے مماملات کو چلا سکتی ہے۔ اسی صورت ہم بحیثیت قوم عالمی طاقتوں کی توجہ بلوچ تحریک آزادی کی طرف مرکوز کرواسکیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے کچھ لوگ صورتحال کو سمجھ نہیں پارہے۔
توار: خطے کی تبدیل ہوتے ہوئی صورتحال خاص کر افغانستان اورپاکستان کے تناظر میں
بلوچ قومی تحریک پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟
حیربیار: ہمارے خطے میں حالات تبدیل ہورہے ہیں افغانستان کی بحیثیت ایک ریاست استحکا می اور مضبوطی بلوچ قومی تحریک کے حق میں ہے ۔ کیونکہ افغانستان اور بلوچستان تاریخی طور پر ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں جہاں بلوچ رہنما نوری نصیرخان اور افغان رہنما احمدشاہ نے ساتھ مل کر دونوں برادراقوم کی مفادات کی حفاظت کی۔ اسی لیے پاکستان نے ہمیشہ مضبوط افغانستان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کو کمزور کرنے کے لیے مداخلت کی ہے۔ افغانستان کی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ افغان خطے میں پاکستان کے اثررسوخ کو کم کیاجائے اور یہ صرف ایک آزاد بلوچ ریاست کی تشکیل سے ہی ممکن ہے۔ جس طرح ہمارے اسلاف نے ایک دوسرے کی مدد کرکے ہمارے خطے میں امن واستحکام قائم کیا ان ہی کی نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم دو آزاد ممالک کی حیثیت سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں گے۔
توار: آج کل لشکر خراسان نامی کسی نئی تنظیم کی بلوچستان میں بازگشت سنائی دے رہی
ہے جو خود کوISIS کے ساتھ منسلک کر رہا ہے ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
حیربیار: اس میں شک نہیں ہے کہ پاکستان بلوچ قومی تحریک آزادی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے مشرف کے دور میں لوگوں کو اٹھا کر غائب کرنے کا آغاز ہوا ،زرداری کے دور میں سرچ اینڈ ڈسٹروائے پالیسی شروع کی گئی جسے بلوچستان میں مارو اور پھینک دو پالیسی کہاجاتا ہے جو ہنوز جاری ہے جبکہ موجودہ نواز دور میں بلوچستان کو مذہبی انتہا پسندی کی جانب دھکیلنے کی کوششوں میں تیزی لائی جارہی ہے۔جس میں گرلز سکولوں کی بندش، بلوچ خواتین پر تیزاب حملوں کے علاوہ دوسرے ہتھکنڈے شامل ہیں۔ مذہبی انتہاپسند ہمیشہ سے پاکستانی ریاست کے اسٹراٹیجک اثاثے رہے ہیں جس طرح پشتونستاں میں پاکستان نے پشتونوں کے خلاف اپنے اثاثے استعمال کرتے ہوئے ایک طرف افغان سرزمین کو عدم استحکام سے دوچار کیا تو دوسری طرف دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے مغرب سے ان مذہبی انتہاپسندوں کوختم کرنے کے لیے معاشی و فوجی امداد حاصل کی۔ اب بلوچستان میں بھی پاکستان سیکولربلوچ تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لیے وہی اسٹراٹیجک اثاثے استعمال کررہا ہے۔ چونکہ اس وقت طالبان سے زیادہ ISIS کو مڈل ایسٹ سمیت مغرب کے لیے خطرہ سمجھا جارہا ہے اسی لیے اب پاکستان بھی دنیا سے امداد بٹورنے کے لیے اپنے پرانے اثاثوں کو بلوچستان سمیت دوسرے علاقوں میں ISIS کے روپ میں سامنے لارہا ہے۔ تاکہ ایک طرف بلوچ قومی تحریک کو کاونٹرکر سکیں تو دوسری طرف ان کو ختم کر نے کے بہانے فوجی اور معاشی امداد حاصل کر سکیں۔

توار: بلوچ قوم پر پاکستان کی طرف سے اتنے مظالم، لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشیں اور اجتماعی قبروں کی دریافت اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود یہ مسئلہ کیوں بین الاقوامی ایشونہیں بن پارہا ہے۔ آ پ کی نظر میں اس کی وجوہات کیا ہیں؟
حیربیار :بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں اور اجتماعی قبروں کی دریافت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں ان کو بین الاقوامی ایشو بنانے میں رکاوٹ ملکی اور غیر ملکی سطح پر گروہی سیاست اور آزادی پسند تنظموں کی انسانی حقوق کے مسلوں کو بین الاقوامی اداروں میں اجاگر کرنے کے طریقوں سے لاعلمی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کی دوسرے ایشوز میں مصروفیت بھی ایک رکاوٹ ہے جیسے کہ اس وقت عراق و شام میں جو ہورہا ہے یا اس سے پہلے بین الاقوامی برادری کی توجہ صرف طالبان و القاعدہ کے خلاف جنگ پر مرکوز تھی ۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنے خطے میں کرد قوم کی طرح عالمی برادری کو یہ دیکھنا ہوگا کہ بلوچ قوم ہی بلوچ سرزمین پر طاقت کا سرچشمہ ہے۔ جس دن ہم ان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے اس دن بلوچ قومی مسئلہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی مسئلے کے طور پر ابھریں گی۔

توار:آج کل یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بلوچ سرمچاروں کی حمایت بلوچستان کے کچھ علاقوں
میں کم ہوری ہے آپ کے خیال میں اس کی وجوحات کیا ہیں ؟
حیربیار: دنیا میں ملکوں اور ریاستوں کی ترقی و زوال ، سمیت ریاست کی عالمی ساخت کا دارو مدار ریاستوں کی ذمہ داری یا غیر ذمہ داری پر ہوتا ہے۔ ذمہ دار ریاستیں اپنے شہریوں کی حفاظت، بہبود اور ترقی و خوشحالی کا ظامن ہوتی ہیں جبکہ دوسری طرف غیر ذمہ دار ریاستیں انتظامی طور پر ناکام، دنیا میں بدنام اور اپنے شہریوں پر ایک قہرکی ماند ہوتی ہیں جو اپنی قوموں کو ترقی کے بجائے زوال اور بربادی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہم بلوچ جہدکار وں اور سرمچاروں کو آنے والی بلوچ قومی ریاست کا نعیم البدل سمجھتے ہیں ان کا آج کا کردار کل کی بلوچ ریاست کا عکاس ہوگا۔ جس طر ح ریاستوں کی زوال کا سبب ان کی غیر ذمہ داری ہوتی ہے اسی طرح ہماری تحریک کی زوال یا مضبوطی کا بھی دارومدار ہمارے جہدکار وں اور سرمچاروں کی غیر ذمہ داری اور ذمہ داری پر ہے۔ اس وقت بلوچستان کے چند علاقوں میں کچھ تنظیمیں بلوچ قوم کی طرف سے دی ہوئی اختیارات کے سبب ملی ہوئی طاقت کے لاوازمات پر پورا نہیں اتر رہے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ ان تنظیموں کی صفوں میں ڈسپلن واصولوں کی کمی اور اختیارات کا غیرذمہ دارانہ استعمال ہے۔ بلوچ قومی ریاست کی تشکیل سے پہلے قوم کی طرف سے دی ہوئی معمولی طاقت کا اگر غیرذمہ دارنہ استعمال ہورہا ہے تو بلوچستان کے ان علاقوں میں بلوچ عوام کو ضرور یہ خدشات لاحق ہونگے کہ مابعد آزادی کس طرح یہ تنظیمیں ریاستی اختیارات اور طاقت کو استعمال کرنے کے اہل ہونگے ؟۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ ان تنظیموں کو بلوچ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنے جہدکار وں اور سرمچاروں کو ڈسپلن کا پابند کرنا ہو گا تاکہ وہ بلوچ قوم کی طرف سے دی ہوئی اختیارات کی لاوازمات پر پوری کریں
توار: آج بلوچ ایک پسماندہ قوم کی حیثیت سے زندگی گذار رہی ہے ،
کیا بلوچ خود کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرسکتی ہے؟
حیربیار: ہم سمجھتے ہیں کہ سماجی ارتقاء اور جدیدیت کا کسی بھی قوم کے ترقی میں ایک بہت بڑاکردار ہوتا ہے ، ہم اس اٹل حقیقت کو اپنے تناظر میں بھی مسترد نہیں کرسکتے لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ ان سماجی تبدیلیوں اور جدیدیت کا حصول ہمارے لئے صرف آزاد و خودمختار بلوچستان میں ہی ممکن ہے،جہاں سیاسی قوت اور اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف بلوچ قوم ہو۔ یہ تبدیلیاں صرف ایک آزاد ملک میں سوچ و بچار اور اجتماعی فیصلہ سازی سے ہی کار آمد ثابت ہوسکتی ہیں ۔ہماری اولین اور سب سے اہم مقصد آزاد اور جمہوری بلوچستان ہے۔ جہاں جمہوری ادارے جیسے کے پارلیمنٹ اپنے آئینی تقاضوں کے تحت سماجی ، سیاسی اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرے گی کیونکہ بغیر جدید سیاسی نظام کے ایک ملک اور قوم جدید تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا۔بلوچستان لبریشن چارٹر کا بنیادی منطق بھی یہی ہے کہ حصول ِ ریاست کے بعد ہمیں جمہوری ادارے تشکیل دینے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ آزادی کے بعد ہم ایک اور ناکام یا جابر ریاست کی صورت میں ابھریں جیسا کہ بہت سارے ممالک میں ہوچکا ہے کیونکہ حقیقی جمہوری اداروں کے قیام میں ناکامی بلوچ قوم کے فطری سماجی ارتقاء اور جدیدیت کے سامنے رکاوٹ بن جائے گی ۔
توار:آپ کے خیا ل میں بلوچ قومی آزادی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
حیربیار: قابض ریاست سب سے بڑی اور فطری رکاوٹ ہے لیکن قابض کے ساتھ ساتھ ہماری بڑی رکاوٹ اپنے حالات سے عدم واقفیت اور غیرسنجیدہ رویے بن چکے ہیں ، یہاں ہر کسی نے اپنے چھوٹے چھوٹے دائرے بنائے ہیں ان کی سوچ اور عمل قومی کے بجائے ان دائروں کے گرد گومتی ہے ،ہر کوئی اپنی دنیا میں خود کو اور اپنے نقطہ نظر کو آفاقی سچ مان کر آگے بڑھ رہا ہے، یہی چیزیں اس وقت ہمارے سامنے ایک بہت بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں ۔ہم نے گروہیت سے قومیت کی جانب سفر شروع کیا تھا ایسے تمام عوامل کی حوصلہ شکنی کی جو قومیت کی راہ میں حائل تھے لیکن بد قسمتی سے آج بہت سے د وست ذاتی طور پر اور اداروں کے نام پر واپس گروہیت کی جانب مائل ہیں اور میرے نظر میں یہ ایک خطرناک رجحاں ہے۔ جو قوت قومی مفادات کیلئے صرف ہونا چاہئے اسے گروہی مفادات کے حصول میں ضائع کیا جارہا ہے ۔ ہماری قوم کو جس طرح موجودہ جدوجہد سے پہلے قابض نے اپنی حکمت عملی کے تحت زبان ،قبائل ،علاقایت اور مختلف طبقوں میں تقسیم کیا تھا جسے بعد میں بلوچ قوم کی لازوال جدوجہد نے کسی حدتک ناکام بنایا ، لیکن اب قابض کے علاوہ کچھ آزادی پسند حلقے بدقسمتی سے اپنی گروہی اور الگ پہچان کی خاطر قومی واحدانییت اور ہم آہنگی کو ضرر پہنچارہے ہیں۔
توار: ڈاکٹر اللہ نظر کے مصا لحت کروانے سے متعلق حالیہ بیان پر آپ کیا تبصرہ کریں گے ؟
حیربیار: موجودہ بحران سے لیکر اب تک ڈاکٹر اللہ نظر کا رویہ غیرذ مہ دارانہ رہا ہے۔
توار:زامران مری اور آپ کے بیچ کیا اختلافات ہیں ؟
حیربیار : میرے اور زامران کے بیچ کوئی بھی ذاتی اختلاف نہیں لیکن اصولوں اور ڈسپلن پر ضرور اختلافات ہیں ۔ تحریکیں ایک ڈسپلن کے اندر چلتے ہوئے ہی کامیاب ہوتی ہیں اور اس ڈسپلن سے بالا تر کوئی نہیں ہوسکتا ، زامران نے اسی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی جس پر اسے ہر جہد کار کی طرح ڈسپلن میں لانے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کردیا ،میں نے کوشش کی کہ انہیں کسی طرح اس ڈسپلن کے اندر لایا جائے دوست انکے پاس کئی بار گئے انہیں واپس ڈسپلن کے تحت کام کرنے اورپارٹی مڈی لوٹانے کا کہا گیا لیکن کوئی بھی مثبت جواب نہیں ملا وہ اپنا ایک الگ شناخت بنانا چاہتے ہیں ۔ پھر انہیں تین آپشن دیئے گئے پہلی یہ کہ آپ اپنے پرانے حیثیت سے کام کریں دوسری یہ آپ اقوام متحدہ میں بلوچ نمائندے کے حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں اور تیسری یہ کہ آپ مڈی واپس کردیں لیکن ابتک وہ تینوں آپشن ماننے سے انکاری ہے انہوں نے سنگت کے سامنے مائن کاری کیا ۔
توار: کچھ دن پہلے کے کاہان میں جو واقعہ ہوا اسے لوگ بلوچستان میں خانہ جنگی
کی شروعات سے تشبیہ دے رہے ہیں پر آپ کیا کہیں گے؟
حیربیار : کاہان میں جو کچھ ہوا ہے وہ تنظیمی معاملہ ہے جہاں تک خانہ جنگی کا سوال ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ خانہ جنگی ہے کیونکہ ایک تنظیم جو کہ دوسرے تنظیم کو توڑ کر بنایا گیا ہو توڑنا الگ اور تنظیم کو کمزور کرنا بذات خود ایک قومی جرم ہے اور مہران مری اور اس کے چند ساتھی اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں اس کے لیے سنگتوں نے بلوچستان میں جدوجہد کرنے والے دوسرے تنظیم سے بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا لیکن بدقسمتی سے وہ بھی ثالث بننے کے بجائے اس مسلئے کو مزید بگاڑنے کی کوشش کرنے لگے اور اس کی وجہ سے تنظیم توڑنے کی حوصلہ افزائی ہوئی انہوں سنگتوں کے سامنے مائن کاری کیے گئے یعنی اپنی طاقت کو دشمن کے بجائے بلوچوں کے خلاف استعمال کرنے لگے ان میں اور میر ہزار میں یہ فرق ہے کہ میر ہزار پاکستان کے لیے تو یہ اپنی ذاتی مفادات کے لیے بلوچ قومی مفادات کو نقصان دے رہے ہیں تو ظاہر ہے جو قومی تنظیمیں آزادی کی جدوجہد کو آگے لے جارہے ہیں وہ ایسے عناصر کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کریں گے میری ناقص رائے کے مطابق اسے خانہ جنگی نہیں کہا جاسکتا ہے اس وقت بلوچستان میں روز ایک نیا تنظیم بن رہا اور شروع سے جو تنظیم قومی مفادات کے خلاف کام کرنے لگے تو قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے تنظیموں کو روکنا ناگزیر ہوجاتا ہے تاکہ آنے والے بلوچستان کو خانہ جنگی سے بچایا جا سکے اگر آج تنظیمیں توڑنے والوں اور جدوجہد کے نام پر دکانداریاں کرنے والوں کو نہیں روکا گیا تو یہ آگے جا کرتباہ کن خانہ جنگی کا سبب بنیں گے
توار: گذشتہ کچھ عرصے سے بلوچ قومی مسائل پر لکھنے اور بحث کرنے کا ایک
سلسلہ شروع ہوا ہے اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
حیربیار: اپنے پیچیدہ قومی، سماجی اور سیاسی مسائل پر لکھنا ان پر بحث کرنا اقوام میں بہتری، ترقی اور قومی شعور کا ذریعہ بنی ہے۔ تنقید کسی کے ذات کے بجائے ان کے عمل اور پالسیزپر ہونی چاہیے تاکہ قومی اور گروہی مفادات کی وضاحت قوم کے سامنے ہوسکے۔ لیکن تنقید دلیل ومنطق کی بنیاد پر ہونے کے ساتھ ساتھ جدوجہد میں اصلاح کے لیے ہونی چاہیے یہ عمل میرے خیال میں بہتری لائے گی۔ اس کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے ہمیں اسے اپنی پالسیز کو بہترکرنے کا ایک موقع سمجھنا چاہئے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسائل کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم کو قبضہ گیروں کی بدلتی حکمت عملی، بلوچ قوم پر ریاستی ظلم اور
پارلیمان پرستوں پر لکھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قومی ادارے اور جہدکار پالسیز بناتے وقت تمام پہلوں کو مدنظر رکھ سکیں ۔اگر کوئی میری ذات پر تنقیدکے حدوں کو پار بھی کرلے تو میں اپنے دوستوں اور ہمدردوں سے کہوں گا کہ وہ اسکے ردعمل میں اُن ہی کی طرح کسی کی بھی کردارکشی اور گالم گلوچ سے پرہیز کریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] انٹرویوز. RSS 2.0