بلوچ پنجابی سے، اعصاب شکن جنگ پر ہاوی!تحریر: صوبدار بلوچ

پیر 17 جولائی, 2017

یہ لڑائی آج سے لڑی جارہی نہ یہ آج کے بعد ختم ہوگی۔ بلوچستان گلزمین پر پاکستانی قابض فوج بزور طاقت قبضہ جمائی ہوئی ہے۔ وہ اپنی فوجی طاقت اور پیسے کی لالچ کے زور پر بلوچ قوم پر حکمرانی قائم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔
تسلی بخش پہلو یہ ہے کہ بلوچ قوم نے کبھی بھی پاکستان کی غلامی کو قبول نہیں کیا ہے، یہاں تشویش ناک امریہ بھی ہے کہ بلوچ قوم نے دوسرے قوموں کی طرح بحثیت قوم اس اجتماعی غلامی سے گلو خلاصی کے لئے قومی سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جب بھی کہیں سے آزادی کی چنگاری اٹھی، تو اس میں بھی ریاستی اہلکار بلوچ کے بھیس میں گھس آئے جنہوں نے بلوچ تحریک کو آگے بڑھانے کی بجائے ریورس گیر میں ڈال دیا۔
افغانستان اور بلوچستان کی سیاسی ماحول میں کچھ چیزیں مشترک ہیں جو دونوں ریاستوں کو آگے جانے سے روکے ہوئے ہیں۔ چونکہ بلوچستان اور افغانستان کا دشمن مشترک ہے لہذا بلوچستان اور افغانستان کو پیچھے دھکیلنےاور ان کی عوام کو تعلیم، معیشت ہر دیگر شعبوں میں کمزور کرنے کے لئے پاکستان کا طریقہ کار بھی کافی یکساں رہا ہے۔
 پاکستان نے شروع سے ہی افٖغانستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے پنجابی فوج اور ان کی خفیہ اداروں نے ہر دور میں افغانستان میں دھڑا بندی کی سیاست (تقسیم کرو اور حکومت کرو والی برطانوی طریقہ کار) کواپناتے ہوئے افغانستان کی سیاسی طاقت کومنتشر کرنے کے لئے اپنی ناپاک عزائم کو جاری رکھا۔ پنجابی فوج شوروی، مجاہدین اور اب طالبان کو مراعات، سیاسی، اخلاقی اور فوجی کمک دے کر افغانستان میں آگ و آہن کی فضا قائم رکھی ہوئی ہے۔ افغانستان میں مختلف پارٹیوں کو آپس میں نبرد آزما کراکر پاکستان پنجاب کی مفادات کا تفظ چاہتی ہے۔
بالکل اسی طرح پاکستانی فوج نے جب سے بلوچستان پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کیا، اپنی فوج بلوچستان میں داخل کی، اس وقت سے پنجابی فوج اور خفیہ اداروں نے بلوچوں کو آپس میں تقسیم کرکے ان پر حکمرانی کرنے کا فارمولا اپنایا جو تا ہنوز جاری ہے۔
بلوچوں کو قبائلی جھگڑوں میں الجھا کر مصروف رکھا گیا۔
بلوچ سیاسی پارٹیوں کے اندر اپنے لوگ بھیج کر لابنگ کے ذریعے انہیں مراعات دے کر جہد آزادی بابت لیڈرشپ کے بیچ بد اعتماد کی فضا پیدا کرکے بلوچوں کی قومی طاقت کو منقسم کیا گیا۔ کچھ کو وزارت کی ہڈی تھما کر انہیں بلوچ تحریک کے مد مقابل لا کھڑا کیا گیا۔
تحریک سے جڑے جہد کاروں کے منہ میں غیر ضروری نعرے لگوائے گئےجوآزادی کے حصول میں خلل ڈالنے کا موجب بنے۔
تحریک کے صفحوں میں سرگرم مخلص دوستوں کے اندر عہدوں اور شوق لیڈری کا ضرر رساں رجحان پیدا کی گئی جس سے جہد کار اپنے اصل اہداف سے ہٹ گئے۔ جس نازک دور میں انہیں اپنے ساتھیوں کی حفاظت، جنگی ساز و سامان کی ترسیل ، عوام کی شعور و آگاہی پرسر توڑ کوششوں پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے تھی وہاں کچھ لوگ دستار کی بلا وجہ دوڑ میں لگ گئے۔ اس دوڑ میں وہ اس حد تک مشغول ہوتے گئے کہ انہیں اپنے قائد کی بتائے ہوئے اصول، تنظیمی ڈسپلین کی خلاف ورزی کا احساس تک نہ رہا۔ اس غیر سنجیدہ رویے نے ان جہد کاروں کو عوام کے مشکلات کی تجزیہ کرنے، سمجھنے سے بھی دور رکھا۔
ریاستی ادارے بلوچ عوام کے دلوں میں یہ وسوسہ پھیلا رہے ہیں کہ وہ لاوارث ہیں، بے یار و مدد گار اس قوم کے لئے عافیت کا واحد راستہ پاکستان کی غلامی قبول کرنے میں ہے کیونکہ جن علاقوں پر بلوچ سرمچاروں کا چلتا تھا اب وہاں پنجابی فوج اور ان کے گماشتوں کا راج ہے پاکستانی فوج کے بقول اب بلوچستان میں پنجاب فوج کا رٹ قائم ہوچکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ جیسے محفوظ ترین، اور بھاری بھرکم  فورسز کی موجودگی کے باوجود اس بارونق شہر میں بھی ریاستی اداروں پر حملوں میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہا۔ پاکستان کے استحصالی منصوبے نام نہاد سی پیک کی تکمیل میں مصروف ریاستی اداروں کے ان کے کل پرزہ جات پر بھی حملے تواتر سے جاری ہیں۔
ہزاروں بلوچ نوجوانوں بزرگوں کی مسخ لاشیں گرانے ، دیہاتوں کو بمباری سے تباہ کئے جانے، ہزاروں کی تعداد میں مال مویشیوں کی لوٹ مار، بچوں اور عورتوں کی اغوا کے باجود بلوچستان کی جنگ آزادی اپنی رفتاری سے جاری ہے۔
پنجابی اپنی افواج کو نفسیاتی جنگی ہار سے بچانے کےلئے جواباً بلوچ عوام کو بھی نفسیاتی جنگ کا نشانہ بنا رہی ہے، بلوچ جہد آزادی کے ہمدردوں کے احباب و خاندانوں کو اغوا کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک کر بھونڈی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔ اس طرح کے مظالم قابض صرف اس وقت اپناتی ہے جب انہیں سو فیصد یقین ہوجاتی ہے کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتا لہذا اپنی آخری کوشش کے طور پر وہ عورتوں بچوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو نفسیاتی طور پر شکست دے سکے۔
نفسیاتی جنگ
پاکستانی افواج اور قابض حکمرانوں  نے جتنے لوگ چھڑی سے ڈر کر پنجابی کے گود میں نہیں بیٹھے کہ جتنے لوگ گاجر دیکھ کر اپنی اجتماعی اور قومی فرائض کو فراموش کرکے پنجابی کے سامنے سرنڈر ہوگئے یہ جانتے سمجھتے ہوئے بھی کہ پنجابی اور بلوچ کا نہ زبان مشترک ہے، نہ ثقافت، تاریخ ، رہن سہن و تمدن اور نہ انہوں نے کبھی اپنی زیست و موت میں پنجابی کا ساتھ دیا۔ ان نادان اور نفسیاتی جنگ کے متاثرین بلوچوں کوگمراہ ہونے سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
نفسیاتی جنگ کا متاثرین کے آس پاس کوئی بم نہیں گرتا، ان کے بدن پر کوئی ظاہری چوٹ کا نشان بھی نہیں ہوتا۔ دشمن قوموں کو اندر سے ذہنی طور پر توڑنے کے لئے نفسیاتی ہتھیار کا چناو کرتی ہے کیونکہ جو لوگ نفسیاتی طور پر ہار جائیں وہ مفلوج ہوکر راہ جاتے ہیں۔ نفسیاتی شکست کھا جانے والوں کو آزادی سامنے دکھ بھی جائے تو وہ یقین نہیں کرسکیں گے۔ قابض کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ محکوم کو نفسیاتی طور پر نشانہ بنائے، لالچ، جان کا خطرہ، اپنوں کے اٹھائے جانے کا خوف دلاکر ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے اندر تحریک سے بابت مایوسی، گمراہی، وسوسہ کی فضا پیدا کرکے ان کو تحریک سے بددل کیا جاتا ہے۔
دشمن ان کے لئے جان بوجھ کر  نرم گوشہ اختیار کرتی ہے تاکہ انہیں مایوس کیا جاسکے، دشمن کی اس دیدہ دانستہ نرم رویے کو وہ نفسیاتی جنگ کے متاثرین پر امن فضا سے تشبہہ دینے لگتے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے رہبروں، عوام اور تحریک سے مایوسی کا تاثر دینے لگتے ہیں، یہ مایوسی اور نا امیدی آہستہ آہستہ نفرت میں بدل جاتی ہے۔ غلام ذہنیت کے یہ لوگ قابض کو اپنا محسن سمجھنے لگتے ہیں، بیشتر اوقات وہ اپنے ہی بلوچوں کے خلاف کام کرنے کو برا نہیں سجھتے کیونکہ وہ اب نفسیاتی مرض  کے عمل سے نکل کر ریاستی دلال کا روپ دھار چکے ہوتے ہیں۔ اب وہ کھل کر دشمن کے ناپاک عزائم کو آگے بڑھارہے ہوتے ہیں۔ وہ چھپ کرکے گھر میں بیٹھ جانے کی بجائے اپنی تحریک کے خلاف زبان درازی پر بھی اتر آتے ہیں کیونکہ دشمن ان سے مسلسل رابطہ میں رہتی ہے، ان کو برین واش کیا جاتا ہے، انکے روز مرہ زندگی کے تمام ضروریات کو پورا کرنے کا لولی پاپ دکھایا جاتا ہےکیونکہ  قابض کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ محکوم قوم پرفوج کشی کرکے ان کو غلام نہیں بنا سکتی یہی وجہ ہے کہ وہ آزادی کی جنگ لڑنے والی تحریک کے اندرنفسیاتی ہتھیار کا استعمال کرتی ہے، جہد کاروں کے بیچ بد اعتمادی کی فضا پیدا کرکے توڑ پھوڑ کا عمل شروع کردیا جاتا ہے، مایوسی اور ناامیدی کی خوفناک منظر پیدا کرکے لوگوں کے اعصاب پر حملہ آور ہوتی ہے۔
بلوچ قیادت نے اگر ان نفسیاتی امراض کے شکار لوگوں کا بروقت اعلاج نہیں کیا تو پنجابی فوج اور ان کی خفیہ ادارے آپ کی سماج کے اندر مزید گھس آئیں گے، وہاں انڈے دینا شروع کردیں گے ، ان انڈوں سے پھر چوزے نکلیں گے، یہ چوزے بڑے ہوکر نئے انڈے دیں گے پھر اسی طرح آپ کے سماج کے اندر پنجابی کے ہمدردوں کا ایک بہت بڑا کیمپ تیار ہوگا، ان کی اس طرح سے ذہنی پرورش ہوگی کہ یہ آپ کے خون پینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ آج کل تو اکا دوکا ڈیتھ اسکواڈز کے گروپس بلوچستان میں سرگرم ہیں جو آزادی پسند نوجوانوں اور عوام کی مخبریاں کررہے لیکن کل یہ آپ کے گھروں میں گھس کر بچوں اور عورتوں کی سرے عام عصمت دریاں کریں گے۔
پاکستانی فوج اور ایف سی کے زیر اہتمام بلوچستان میں پرائمری سکول اور کالجزمیں پڑھنے والے بلوچ بچوں کو تعلیم کم بلوچ دشمنی کے لئے زیادہ تیار کیا جارہا ہے۔ بلوچوں کا یہ نوجوان نسل کل پنجابی کےڈگڈگی پر جاچنے والے اچھی پنجابی بن کر سامنے آئیں گے۔ اس کی روک تھام کے لئے بلوچوں کو اپنے تئیں نوجوانوں کی ذہنی تعلیم کے لئے کوششوں کو تیز تر کرنا پڑیگا۔ بلوچوں کے اس نوجوان نسل کو پنجابی کی غلامی جیسے تباہ کن اثرات سے بچانے کےلئے شعوری تعلیم دینا ناگزیر ہے۔
بلوچ رہبروں، عسکری اور سیاسی پارٹیوں کی قوت بلوچ عوام ہے۔ بلوچ عوام کی جانی، مالی ، اخلاقی، انفرادی اور سیاسی حمایت کے بغیر بلوچ تحریک ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی کیونکہ بلوچ تحریک سے وابسطہ جہد کاروں کا نصب العین بلوچ گلزمین کی آزادی ہے ایک ایسے وطن کی آزادی جس میں بلوچ عوام اپنی ساحل وسائل کا خود مالک ہو، اپنی ثقافت اور تاریخ کو پنجابی کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچا سکے، بلوچ قوم کی خوشحالی، نوجوان نسل کو دنیا کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ کے برابر لانا ، ملکی ڈھانچے کو بین الاقوامی ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلا لانا ہے۔ وطن کی آزادی تب ممکن ہے جب وہاں کے عوام اس تحریک کے ساتھ سائے کی طرح جڑے رہیں۔ پنجابی کے لئے بلوچستان میں کوئی ہمدردی نہیں ہے، کیونکہ بلوچ اور پنجابی کبھی بھی نہ ساتھ رہے ہیں اور نہ مستقبل میں دونوں کا ایک ساتھ رہنے کا کوئی جواز ہے۔ بلوچ تحریک آزادی کی جڑیں مضبوط ہیں، بلوچ تحریک کے ان جڑوں کو پنجابی فوج  لالچ، خوف اور ریاستی پروپگنڈوں کے ذریعے کھوکھلے کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔
آپس میں اختلافات رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اختلافات ذاتی نوعیت، گروہی و زاتی مفادات کے اسیر ہوں تو پھر یہ مزید بگاڑ کا سبب بنیں گے۔ کمزور اور ناقص فیصلوں اور اعمال کی نشاندہی اور پھر ان غلط اعمال پر بحث کرنے ، انہیں درست کرنے کا اختیار بھی بلوچ اعلیٰ قیادت کے پاس ہونے چاہیے کیونکہ اگر اوپر سے ہم آہنگی اور سب ایک صفحہ پر ہوں تو پھر کارکناں کے مابین بھی ہم آہنگی، مہر و محبت اور اجتماعی مفادات کے لئے شعوری جہد پروان چھڑے گی۔ غلطیوں کی نشاندہی کرنے سے ہم غلطیوں کو دہرانے سے بچ سکتے ہیں لیکن ان غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے لئے بھی موضوع ذرائع ہونے چاہیے۔ سرے عام اگر اپنی غلطیوں کی نشاندہی کروگے تو دشمن آپ کی ان غلط فیصلوں اورکوتاہیوں سے فائدہ اٹھا کر اسے مزید طویل دینے کے لئے سرگرم ہوگا۔ غلطیوں کی نشاندہی بھی اسی لئے کی جانی چاہیے کہ وہ درست ہوں نہ کہ ان میں طوالت آئے۔
بلوچ جہد کاروں کی طرف سے اپنےعوام کو محض یہ بھروسہ دینا کافی نہیں ہے کہ آپ ان کی قومی خوشحالی، روشن مستقبل اور آزاد وطن کے لئے جدوجہد کررہے بلکہ انہیں شعوری طور پر تیار کرانا ہوگا کہ جس سے وہ آپ کی جہد کے ساتھ عملی طور بڑے پیمانے پر شریک رہے۔ بلوچ قوم کو شعوری طور پر اس حد تک تیار کرنا پڑیگا کہ  پنجابی فوج کی پروپگنڈے کو زائل کرنے کے لئے آپ کو کوئی مشقت نہ کرنا پڑے۔ نفسیاتی جنگ کے متاثرین کو اس نا امیدی کی منجدھار سے نکالنے کے لئے بلوچ تحریک سے جڑے جہد کاروں کو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑیگا۔
پاکستان جو اس وقت پوری عالمی دنیا سے اکیلا راہ گیا ہے، اسے امیدیں وابسطہ رکھنے والے یقینادماغی مریض ہی ہیں۔ بلوچستان کی آزادی کو آج ماضی کی بہ نسبت کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ بلوچ نوجوان آج پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں، اور بلوچستان کے پہاڑوں پر جنگ آزادی لڑنے والے اپنے سرمچاروں کی مضبوط سیاسی اور اخلاقی مدد ہماری تحریک کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پنجابی فوج کے جرنیل اور قابض حکمران ہر دور میں بلوچ تحریک کو کچلنے کے لئے پوری مشنری کا استعمال کرتے رہے لیکن ہمیں بحثیت قوم یہ دیکھنا اور تجزیہ کرنا چاہیے کہ آیا ہم (بلوچ) بھی پنجابی کی غلامی سے چٹکارے کےلئے، بلوچ قومی طاقت کو یکجا کرنے کے لئے عوام کو متحریک کرکے تحریک کو مضبوط کرنے لئے اور اپنی عوام کو پنجابی کی سرینڈر جیسے ڈرامہ، دھوکے، فریب سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی پوری قومی مشنری کو کبھی بروئے کار لائے ہیں؟ ہماری پوری قومی مشنری ہماری عوامی طاقت، یکجتی، تمام اقوام، قبائل سے رابطہ، انہیں ایک موثر طاقت بنا کر انہیں غلامی کے خلاف یکجا کرنا ہے۔
ماضی کو مد نظر رکھ کر مستقبل کے فیصلے کرنا دانشمندی ہے جس سے پچلے ادوار کی کوتاہیوں اور غلطیوں سے بچ سکیں گے لیکن ماضی سے اتنا بھی نہ ڈرو کہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ نہ سکو، ماضی کو نظر انداز کرکے پھر وہی غلطیوں کو دہرانا بھی عقل مندی نہیں۔
بلوچ آزادی کے جہد کاروں کے کندھو پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آپس میں مہر و محبت اور برداشت کا مظاہرہ کریں کیونکہ اگر ایک عسکری یا آزادی پسند سیاسی پارٹی کمزور ہوگی تو ان کے منفی اثرات براہ راست  پوری بلوچ تحریک آزادی پر پڑیں گے۔ بلوچ لیڈر شپ کو مل بیٹھ کر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا پڑیگا،کسی ایسے عمل سے گریز کرنا چاہیے جس سے دشمن کے پروپگنڈوں کو شہہ ملے۔ اپنے اندر اعتماد،بھروسہ کی فضا قائم رکھنا ناگزیر ہے۔
 آپ (بلوچ) کبھی نہیں ہار سکتے کیونکہ حیوان اوربے زبان جانور بھی آزادی چاہتے ہیں بلوچ تو اشرف المخلوقات ہیں وہ کیسے پنجابی کی غلام رہنے کو ترجیح دیں گے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے ہم اپنی منقسم قوم کو کیسے ایک قومی طاقت بنا کر مشترکہ دشمن کے خلاف نبرد آزما کرسکیں۔
image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0