بلوچ کی آج کی تحریک نہایت ہی کمزور ہے: صورت خان مری


سوال۔ موجودہ آزادی کی تحریک اور پچھلے تحریکات میں کیا فرق نظر آرہا ہیں؟ کیا پہلے منظم تحریک تھی یا موجودہ تحریک منظم ہے؟
صورت خان مری:اگر ہم باریکی سے دیکھیں تو بلوچ قومی تحریک تقریبا پونے دو صدیوں پر محیط ہیں۔
پہلے ایک سو دس سال انگریز کاقبضہ رہا بلوچ اس کے خلاف لڑتے رہے اس میں عسکری پہلو بھی تھا سیاسی پہلو بھی تھا۔اور یہ ریکارڑ پر ہیں کہ انگریزوں کے خلاف بلوچوں نے چارسو سے زائد لڑائی لڑی ہیں۔
دوسری جانب میر افضل وغیرہ نوشکی سے ماسکو گئے تھے روسی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس کے کچھ عرصہ بعد واپسی کے بعد تربت میں بھی ان کی موجودگی رپورٹ ہے۔ میر افضل نے انگریزوں کو سخت پریشان کیا تھا۔ 1918 میں میرمصری خان نے انٹرنیشنل کانفرنس میں آزادبلوچستان کا نعرہ لگایا تھا۔
یوسف عزیز اور عزیز کرد کی جدوجہد کا مقصد قلات اسٹیٹ میں اصلاحات چاہتے تھے گو کہ ان کی مزاحمت انگریزوں کے خلاف بھی تھی جیسا کہ ان کا ایک نعرہ تھا میرے ملک سے نکل جائیں۔
جہاں تک پاکستانی قبضہ کی تاریخ ہے وہ کچھ اسطرح ہیں کہ پاکستانی قبضہ کے خلاف سب سے پہلے کریم خان نے بغاوت کی تھی اور وہ افغانستان چلے گئے تھے۔ اس میں المیہ یہ ہوا تھا کہ قلات نیشنل پارٹی کے رہنما منحرف ہوگئے تھے بلو چ قومی آزادی کے بابت ۔لیکن بلوچ علما ء اور دانشور ان کے ساتھ تھے۔ آغا کریم نے اس وقت ایک اعلامیہ جاری کیا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو جو اعلامیہ تھا اس وقت کے لحاظ سے اچھا خاصہ اور موثر تھا۔ پھر یہ ہوا کہ پاکستان کے دباؤ سے افغانستان نے آغا کریم کو باہر نکلنے کو کہا۔ آغا کریم واپس آئے تو گرفتار ہوئے پھر رہائی کے بعد وہ بھی اپنے قلات نیشنل پارٹی کے ساتھ مل گئے اور پاکستانی پارلیمانی سیاست میں حصہ لیتے رہے ایم پی اے بنے۔
دوسری انسرجنسی کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ نواب نوروز خان کا تھا، وہ خاص طور پر خان قلات کی گرفتاری کیخلاف ایک بغاوت تھی اس کے علاوہ ان کا کوئی اور بڑا ایجنڈا نہ تھا۔ساٹھ کی دہائی میں شیر محمد او رمینگل والوں کا بغاوت تھااگر دیکھا جائے تو ان کی کوشش رہی کہ سیاسی انتظام یا سیاسی جماعت کی بنیاد ڈالی جائیں اس زمانے میں طلباء کو بھی منظم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔کوئٹہ اور کراچی میں اس پر کام شروع کیا گیا تھا۔ جب ایوب خان نے پابندیاں ختم کئے تو اس وقت قلات نیشنل پارٹی کے رہنما ء میرغوث بخش بزنجو اور دیگر لوگ پاکستان کے سیاست میں شامل ہوکر انھوں نے پارٹی کے نام کو تبدیل کرکے نیشنل عوامی پارٹی رکھ دیا۔ اس جما عت کابلوچ قومی آزادی کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اب بھی ہیں۔ حالانکہ نیپ کے رہنماؤں نے پچاس اور ساٹھ کے وقت ہونے والی تصادم اور آغاکریم کے مسئلے کو خوب اچھالا اور عوامی ہمدردی حاصل کرکے الیکشن میں کامیاب ہوگئے تھے۔ سب سے بڑ ا المیہ یہ ہوا کہ انھوں نے بلوچ طالبعلموں پرقبضہ کیا ۔ اگر آج بھی آپ بی ایس او د والوں سے پوچھ لیں تو وہ اپنے آپ کو امیرالملک ، بیزن بزنجو اور ڈاکٹر حئی کی پیروکار کہتے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت بی اس او نیشنل پارٹی کا ایک اسٹوڈنٹس ونگ تھا۔اسی کی بدولت بی ایس او کے چیئرمین ڈاکٹر حئی بلوچ ایم این اے منتخب ہوا۔ آج بھی بی ایس او والے اپنے آپ کو ورنا وانند گل یا کراچی میں بی ایس او کے ساتھ اپنے آپ کو نتھی کرتے ہیں۔
اس کے بعد 1970 کی انسرجنسی میں ذوالفقار علی بھٹو نے سردار عطااللہ مینگل کی گورنمنٹ کو برخاست کیا۔ اصل میں اسوقت بغاوت کا مقصد سردار عطااللہ کی گورنمنٹ کو بحال کرنا چاہتے تھے۔اسی دوران لندن گروپ کے لوگ آئیں تھیں وہ لوگ اسے سوشلسٹ یا کمیونزم تحریک کی طرٖف لے جانا چاہتے تھے۔اسی کے ساتھ ساتھ بلوچ پیپلز لبریشن آرگنائزیشن کا وجود آیا یہ لوگ آزاد بلوچستان چاہتے تھے۔ اس دوران تین چار نظریہ تھے وہ سب یکجا تھے۔ لیکن اس وقت بلوچ قومی تحریک کو پسپائی حاصل ہوئی اس وقت پاکستان اور مراعات یافتہ بلوچ خوش تھے کہ اب بلوچ قومی جہد آزادی کو شکست ہوگئی لیکن اس دوران بھی بلوچ لبریشن آرمی ری گروپ ہوتیں رئیں۔ پہاڑوں میں سرگرمیاں کرتے رہے ا ور شہروں میں دانشوورں کو ساتھ ملاتے رہئے۔جہاں تک0 200 یا 2001 کا بی ایل اے کی انسرجنسی کا آغاز ہے۔ عالمی سطح پر سب نے کہا یہ بلوچوں کا سب سے آرگنائیز اور منظم تحریک ہے جس کا قبائلیت سرداریت یا انفرادی مفادات سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک آرگنائزیشن کا ماتحت ہیں۔ لیکن پوری طور پر پاکستان اسٹیبلشمنٹ اور ہمارے رہنماؤں سردار عطااللہ، نواب اکبر خان بگٹی، ڈاکٹر مالک ، بزنجو نے ملکر اس تحریک کو سبوتاژ کرنا شروع کیا اور عجیب قسم کے ساحل و سائل کے نعریں بلند کئے جس کا مقصد بی ایل اے کو کمزور کرنا تھا۔ جہاں تک تحریک کی منظم کی بات ہے 1960 یا 1970یا موجودہ بی ایل اے نے کوشش کی لیکن اسے سائنسٹفیک انداز نہیں دیا جاسکا۔منظم تحریک کا سب سے بڑا خاصہ ہوتا ہے وہ ہے سیاسی تنظیم اور کرشماتی لیڈر شپ۔ انقلابی اور آزادی کی بنیاد پر منظم جماعت بلوچوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیاسی تنظیم کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ عسکری ونگ، اسٹوڈنٹس ونگ، مزدوروں کے ونگ کو کنٹرول کریں لیکن وہ بھی ناپید تھا۔ اگر دیکھا جائیں تو نہ پہلے کوئی منظم تحریک نظر آتی ہے اور نہ ہی اب کوئی ایسی سیاسی جماعت نظر آتی ہیں جو عسکر ی تنظیم اور دوسرے اداروں کو کنٹرول کرسکیں۔جہاں تک منظم کی بات ہے تو اس وقت کوئی نظرنہیں آتا البتہ عسکری تنظیمیں اپنے آپ کو منظم کہتے ہو وہ الگ بات ہیں ۔
سوال :کیا بلوچ آزادی پسند اس قابل ہیں کہ وہ گوادر کے منصوبے کو ناکام بنا سکیں؟
صور ت خان مری:جہاں تک بلوچ تحریک کا سوال ہے تو افتتاح سے ہی دیکھیں تو بلوچ اپنی سرزمین کی تقسیم کو نہ روک سکیں اپنی قومی تقسیم کو نہ روک سکیں کچھ ایران کو دیا کچھ سندھی کو کچھ پنجاب کو اور کچھ افغانستان کو دیا۔دوسری طرف اگر دیکھا جائیں تو بلوچوں نے پٹ فیڈر کو بچا لیا تھا۔اس کے بعد پاکستان اور پنجابی اسٹیبلیشمنٹ نے بلوچستان میں تین چھاؤنیاں بنائی اس وقت سوئی اور ڈیرہ بگٹی کو کنٹرول کیا ہوا ہے اسی طرح مری ایریا کا چھاؤنی کا سوال ہے ۔ ایک چمالانگ اور رکنی روڑ دونوں کے لئے نواب خیر بخش مری لڑتے رہے 2008 کے الیکشن میں کوہلو میں الیکشن نام کی کوئی شے نہ تھی لیکن 2013 میں پورے بلوچستان سے کوہلو میں سب سے پر امن الیکشن ہوئیں ۔ چمالنگ کو اگر دیکھیں تو آج تجارتی جنت بن گیا ۔اس جانب اپنی کمزوریاں بہت تھی اس کی وجہ بی ایل اے کی تقسیم ہے۔ان غلطیوں کی وجہ سے اب وہ روڑ بھی چل پڑا ہے ۔ اب جہاں تک گوادر کا تعلق ہے تو گوادر اور زیادہ نازک ہے گوادر میں پورا بلوچستان آجاتا ہے جہان ایران سے گیس پائپ لائن کی گزریا سنٹرل ایشیا سے جو گیس اور بجلی کی پروگرام ہے وہ بھی گوادر کے راستے سے آئینگے۔ موجودہ تقسیم در تقسیم تحریک سے میں نہیں سمجھتا وہ اس کو روک سکیں۔البتہ بلوچ صدیوں سے لڑتا رہا ہے وہ لڑتا رہے گا لیکن آج کی تحریک نہایت ہی کمزور تحریک ہے۔
سوال: بلوچستان میں تیزی کے ساتھ پاکستان کی قتل و غارت گری جیسا کہ گھروں کو جلانا، عورتوں کو اغواء کرنے جیسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔آپ اس کو کس پس منظر سے دیکھتے ہے؟
صورت خان مری: قابض تو دنیا میں ظلم و ستم کے زریعہ اپنی قبضہ گیری کو قائم رکھتا ہے ،آقا اور غلام کا رشتہ اسی طرح کاہی ہوتا ہیں۔دنیا کی طاقت ور ممالک کے زیادہ تر توقعات بلوچستان کے وسائل سے ہیں وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ بلوچ راستہ کا رکاوٹ نہ بنیں اس وقت ہزاروں بلوچ زبردستی مکران، ڈیرہ بگٹی اور مری علاقوں سے نقل مکانی کرچکے ہیں عالمی برادری کے مفادات فی الحال پاکستان کے ساتھ ہیں وہ نہیں چاہتے پاکستان اور ایران تقسیم ہو۔ جہاں تک میڈیا کا تعلق ہیں میڈیا واقعات اور حالات سے متوجہ ہوتے ہیں ،صرف مظاہروں اور نعروں سے عالمی میڈیا کاخاص توجہ حاصل کرنا مشکل ہیں۔

سوال۔ بلوچ لیڈرز ایک پلیٹ فارم میں جمع کیوں نہیں ہو تے؟ اتحاد کا نہ ہونا کابنیادی سبب کیا ہوسکتا ہے؟
صورت خان مری:آج سے دس سال پہلے میں نے لکھا تھا جس پر نواب خیر بخش مری بھی متوجہ ہوئے تھے جہاں کہیں دنیامیں سوویت یونین، چین، ویت نام سب جگہ اتحاد نہ تھا وہ آپس میں لڑتے رہئے۔ جہاں سیاسی جماعتیں یاسیاسی قیادت مضبوط ہیں وہاں اتحاد ہوسکتی ہیں۔ ہمارے پاس تو بی ایس او کودیکھیں کتنے حصوں میں تقسیم ہیں۔ہمارے ہاں تقسیم در تقسیم ہمیں کہی جانے نہیں دیتا ۔ کامیابی کے لئے پولیٹکل آرگنائزیشن ایک مقتدرا علی ہوجہاں ریاست کی جدوجہد ہو وہاں مقتدراعلی سیاسی جماعت ہوتاہے سیاست میں جماعت ہی اہم ہوتاہے ۔
سوال: کیا موجودہ تحریک کی اس قابل ہے کہ آزادی حاصل کرسکیں؟
صورت خان مری: جب تک آزادی نہیں مل سکتی جب تک ریاست کا نعم البدل سیاسی جماعت نہ ہو اس وقت ہمارے پاس ریاست کا ایک جز ملٹری یا عسکری ہوسکتا ہے لیکن ریاست کا نعم البدل ایک منظم سیاسی جماعت ہی ہوتا ہے ۔
بشکریہ :بی یوسی نیوز ٹیم