بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نےسالانہ رپورٹ جاری کردیا

جمعرات 11 جنوری, 2018

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان طلبہ، وکلاء، ڈاکٹر، انسانی حقوق کے محافظ، صحافی اور خاص کر سیاسی کارکنوں کیلئے بلیک ھول بن چکا ہے۔ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو اس لیئے نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ حکومتی موقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ریاست کے تمام ادارے بشمول میڈیا فوج کے کنٹرول میں ہیں۔سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے قومی سلامتی اور انسداد دہشتگردی (National Security and Counter-Terrorism) کے نام پہ خاصکر بلوچستان میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق معطل کی ہیں۔ ریاست کے اس بیانیہ نے بلوچستان میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی پیدا کی ہوئی ہے۔ مختصراً یہ کہ پاکستان ان بنیادی انسانی حقوق کو دینے سے قاصر ہے جوپاکستان کے آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین جسے Universal Declaratrion of Human Rights، (ICCPR) International Convenant on Civil and Political Rights اور International Convenant on Economic, Social and Cultural Rights (ICESCR) کے نا سے جانے جاتے ہیں میں درج ہیں اور پاکستان ان قوانین پہ عمل درآمدکا ایک دستخطی ریاست ہے۔ اس وقت بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی خوفناک صورت حال اختیار کرچکی ہے۔بلوچستان میں مجموعی اورمصدقہ طورپر انسانی حقوق اور بنیادی انسانی آزادیاں کی خلاف ورزیاں تسلسل کے ساتھ ہورہی ہیں۔بلوچستان میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نسل کشی جیسی غیر انسانی جنگی جرائم میں مبتلاہیں۔ 2017میں پورے بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ماورئے عدالت قتل اور بے رحم فوجی آپریشن جاری رہیں۔
جنوری سے لیکر دسمبر تک پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 516عسکری آپریشنزکئے اور بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم (Baloch Human Rights Organzation/BHRO)نے 2114جبری گمشدگیوں کے کیسز موصول کئے جن کو فوج نے بلوچستان اور سندھ سے فوجی آپریشنوں کے دوران اغواء کیا تھا۔ 545لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جن میں 129لوگوں کو فوجی آپریشن میں فورسز نے قتل کئے اور 40لوگوں کو دوران حراست تشدد سے قتل کیا۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 92مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہوئیں، جنکی اکثریت چھاپوں اور آپریشن کے دوران اغواء کئے گئے تھے۔ کمزور عدالتی نظام اور فورسز کی جانب سے دھمکیوں کی وجہ سے گم شدہ افراد کے خاندانوں نے جبری گمشدگی کے کیسز درج نہیں کئے اور بعض کیسز میں پولیس نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف کیس درج کرنے سے انکار کیا۔
جبری گمشدہ لوگوں کی بہ حفاظت برآمدگی کیلئے کراچی اور کوئٹہ میں بہت سارے مظاہرے ہوئے، لیکن مرکزی دھارے کی میڈیا (Mainstream Media)نے کوئی ایک واقعہ کے خلاف مظاہرے کو کوریج نہیں دی۔ 2017کے آخری مہینوں میں کراچی اور کوئٹہ پریس کلبوں نے بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائیزیشن کو پریس کانفرنس کرنے کیلے جگہ دینے سے انکار کیا۔
انسانی حقوق کے پامالی کے واقعات کی تفصیل میں جانے پہلے یہ بتانا ضروری ہیکہ یہ اعداد و شمار جو BHROنے مرتب کی ہیں یہ کل واقعات کا 20 سے 25فیصد ہیں۔ بلوچستان میں مواصلاتی نظام میں رکاوٹ اور سیکورٹی رسک کی وجہ سے ہمارے نماہندے کل واقعات تک راسائی حاصل نہ کر سکیں۔
بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن جلد ہی اپنی سالانہ کتابچہ شائع کریگی جس میں تمام انسانی حقوق کے پامالیوں کی تفصیلات درج ہونگے جو سیکورٹی فرسزکے ہاتھوں2017 ء کو ہوئیں۔ ہم یہ تفصیلات ایک عرض کے ساتھ شائع کر رہے ہیں کہ قومی و بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے بلوچستان کا دورہ کریں تاکہ اصل صورتحال کو سمجھیں اور ایک غیر جانبدار رپورٹ شائع کریں، جس سے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پہ انسانی حقوق کے ماپالیاں رک جائیں۔
بی بی گل بلوچ نے مزید کہا کہ جنوری کے مہینے میں مختلف آپریشن کے دوران 445 افراد پورے بلوچستان سے اغوا ہ ہوئے، جن میں250 صرف ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد سے اغواہ ہوئے۔ 38لوگوں کا ماورئے عدالت قتل ہوا۔ ڈیرہ بگٹی میں عسکری آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے 38لوگوں کا قتل کیا، یہ آپریشن دو دنوں جنوری 7سے جنوری 9تک جاری رہا۔ 15 جنوری 2017ء کو فورسز نے ضلع کیچ کے گاؤں آلندور کو گھیر لیا اور ناصر، عبدالکریم اور محمد علی کے گھروں پہ چھاپہ مارا۔ فورسز نے گھروں کے تمام قیمتی سامان لوٹ لئے او ر ناصر کے گھر کو جلا دیا۔ فورسز نے اسد ولد محمد علی کو گولی ماری۔ اسد ایک کسان تھا اور وہ روزانہ کی بنیاد پر اجرت پہ کام کرتا تھا۔ اسد کے قتل کے بعد فورسز نے انکی لاش کے پاس ایک بندوق رکھ کر انکے تصاویر کھنچی۔
27 جنوری 2017 کو ایف سی نے شال لینگویج سینٹر پہ چھاپہ مارااور دو بھائی امجد علی ولد بشام اور برکت ولد بشام کو اغواء کیا۔ دونوں بھائی ضلع کیچ کے علاقے آبسر کے رہایشی ہیں جن کے بارے ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل رہا کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ فروری کے مہینے میں 200لوگوں کو فورسز نے پورے بلوچستان سے جبری طورپر اغواء کیے۔ 42لوگوں کا مختلف واقعات میں قتل ہوا۔ 20جنوری کو ڈیرہ بگٹی میں ایک اجتماعی قبر برآمد ہوا جس میں چار لوگوں کی لاشیں تھیں۔ اس اجتماعی قبر سے ایک خاتون کے لاش کے باقیات برآمدہوئے۔ ان چاروں کو فورسز نے پہلے اغوا کیا تھا جبکہ انکی لاشوں کو بُری طرح سے مسخ کیا تاکہ ان کی پہچان ممکن نہ ہو۔ اسی دن ضلع آواران کے علاقے جھاؤ میں چار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئے جن میں دو کی شناخت عمر اور موسیٰ کے نام سے ہوا۔ دونوں جھاؤ کے رہاشی ہیں جنکو 19جنوری 2017کو اغواء کیا گیا تھا۔
مارچ 2017ء میں240لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیاجبکہ 28لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔6مارچ2017کو فورسز نے مرماسی، ٹانک اور مشکے کے دوسرے علاقوں میں عسکری آپریشن کیا جہاں فورسز نے رہاشیوں کے گھر جلا دئیے اور 16خواتین کو اغواء کیا۔ ان خواتین کو 8روز کی غیر قانونی حراست کے بعد رہا کیا۔ فورسز نے دشت میں بھی آپریشن کئے جہاں بہت سارے لوگوں کو اغواء کیا گیا۔ نذیر غلام رسول جو کہ پیشے سے ایک مزدور ہے اور 10ماہ کے بچے کا والد تھا، نذیر غلام رسول کی مسخ شدہ لاش ضلع کیچ کے علاقے دشت سے برآمد ہوا، جنکو 28جنوری 2017کو ایک عسکری آپریشن کے دوران انکے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔
11مارچ کو بھی گولیوں سے چھلنی ایک لاش برآمد ہوا، جس کی شناخت قاسم حاصل کے نام سے ہوا جو پیشے سے ایک استاد تھا۔ قاسم کو فورسز نے 09مارچ کو انکے گھر سے اغوا کیا۔سیکورٹی فورسز نے ضلع آواران کے مراد جاں اور کُچ نامی گاؤں کو جبراً خالی کیا اور اسی وقت حسن گوٹھ کے رہایشیوں کو دھمکی دی کہ وہاں سے ہجرت کرو۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) روٹ پہ ہزاروں لوگ اپنے گھربار چھوڈ کر ہجرت کرنے پہ مجبور ہیں۔ انٹرنلی دسپلیسڈ پرسنز بحالی کے پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔روزانہ کی بنیادوں پر عسکری آپریشنزکی وجہ سے محمد نور ولد شے محمدنے خوہادو جھاؤ سے ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل ہجرت کیا۔ 26مارچ کو فورسز نے محمد نور کو اوتھل سے اغواء کیا اور 28 مارچ 2017کو انکی مسخ شدہ لاش برآمد ہوا۔
اسی طرح اپریل کے مہینے میں 120لوگوں کو جبری طور پرگمشدہ کیا، جبکہ 24کوماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ لاپتہ افراد کے حراستی قتل کی وجہ سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ زہنی کوفت کا شکار ہیں۔ فورسز لوگوں کو اغوا ء کرتا ہے، انکو نامعلوم دورانیئے تک حراست میں رکھتا ہے، انکو گولی مارکر انکا قتل کرتا ہے ہے اور از بعد دعویٰ کرتا ہئکہ انکو مقابلے میں مارا ہے۔ اسی ماہ ایک اور واقع میں 6لوگوں کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئیں جو بہت سالوں سے فورسز کے حراست میں تھے۔ 27اپریل2017کو 5لوگوں کے مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جو پہلے سے فورسز کی تحویل میں تھے، جنکی شناخت بیت اللہ، آصف، صابر، ماجد اور جاسم کے نام سے ہوئیں۔بیت اللہ کو 17جون 2015ء کو فورسز نے تمپ سے اغواء کیا تھاجو بلوچ نیشنل مومنٹ سے منسلک تھے اور پیشے کے لحاظ سے استاد تھے۔ وہ اس وقت تک گمشدہ رہے جب فورسز نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ 26سالہ آصف انور علی پیشے سے ایک درزی تھا، انکو سادہ لباس سرکاری ایجنٹ اور رینجرز نے کراچی کے علاقے گلشن مزدور میں انکے ریائشگاہ پہ چھاپے کے دوران اغواء کیا تھا۔16نومبر2016ء کو صابر غلام محمد کو انکے آبائی علاقہ مند ضلع کیچ سے اغواء کیا تھا۔ 20سالہ ماجد عبدالمجید کو 2فروری کوکوبلوچستان کے صنعتی شہر حب سے اغوء کیا تھا، وہ ایک مزدور تھے، جس کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے لیبلان مند سے تھا۔ جاسم رحیم ایک دکاندار اور گومازئی کا رہاشی تھا، انکو فورسز نے تمپ سے انکے دکان سے اغواء کیاتھا۔
بی ایچ آر او کے چیئرپرسن نے مرکزی حکومت کے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بے حسی اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی کی وجہ سے بلوچستان کے لوگ بہت سارے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ضلع کیچ کے علاقے دشت کے 70فیصد لوگ اپنے گھر چھوڈنے اور ہجرت کرنے پہ مجبور ہوگئے۔ مئی میں فورسز نے دشت جان محمد بازار اور شولیگ میں بہت سارے گھر جلا دئیے۔ سینکڑوں لوگ کھلے آسمان تلے شدید موسم میں بے گھر رہنے پہ مجبور ہو گئے۔ مئی میں87لوگ جبری طور پر لاپتہ ہوئے جبکہ 66لوگوں کا قتل کیا گیا، جن میں 26لوگ مستونگ بمب دھماکے میں قتل ہوئے، 21کو فورسز نے قتل کیا، 6ایسے لاشیں برآمد ہوئیں جن کی شناخت نہیں ہوئی، 13دشمنی میں اور نامعلوم وجوہات کی بنا مارے گئے۔ جون میں بلوچ ہیومیں رائٹس آرگنائزیشن کو جبری گمشدگی کے 200 کیسسزموصول ہوئی جنکو فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اغواء کیا تھا۔ 13لوگ بشمول 3ھزارہ کمیونٹی کے لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ 12لوگوں کوسیکورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مستونگ میں قتل کیا، جن میں سے کسی کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی۔ تین مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔ بلوچستان میں جون کے مہینے میں مجموعی طور پر 37لوگ قتل کئے گئے۔ جولائی میں 96لوگوں کو فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ 56 لوگوں کو غیر قانونی طور پرقتل کیا گیا ، جن میں 9لوگوں کو فورسز نے ماورائے عدالت قتل کیا، 22لوگ بمب دھماکے کے، ٹارگٹ کلنگ اور دشمنی میں قتل کئے گئے جبکہ 5 ایسی لاشیں برآمد ہوئیں جو ناقابل شناخت تھے۔
کوئٹہ میں فورسز نے بڑے پیمانے پہ عسکری آپریشن کر کے بہت سارے لوگوں کو گرفتار کیاجبکہ گرفتار شدہ افراد کی تفصیلات کو میڈیا میں شائع نہیں کیا گیا۔ فرانٹئیر کورپس (ایف سی) ایک پیرا ملٹری فورس ہے، لیکن ایف سی کو پولیس کے اختیارات دئے گئے ہیں۔ ایف سی لوگوں کو اغوا ء کرکے نامعلوم حراستی مراکز میں منتقل کرتا ہے، جہاں ان پہ غیر انسانی تشدد کیا جاتا ہے۔ جبری طور پر لاپتہ بلوچوں کو نہ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے نہ کے ان پہ کوئی الزام عائد کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ انکو اپنی دفاع کیلئے وکیل رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔
29جولائی کو فورسز نے کولواہ میں عسکر ی آپریشن شروع کیا، کولواہ کے کینیچی گاؤں کو گھیرے میں لیا گیا، جہاں گاؤں کے تمام رہائشیوں کو جمع کیا گیا، سب گھروں کو جلا دیا گیا اور چار سیاسی کارکنوں کو اغواء کیا گیا جنکی شناخت صادق صوبیں، شاکریار محمد اور انکا بھائی حاصل یار محمد اور مجیدکے ناموں سے ہوئی۔ بعد میں لوکل انتظامیہ کو انکی گولیوں سے چھلنی لاشیں حوالے کئے گئے۔ اگست میں فورسز نے پورے بلوچستان سے 138لوگوں کو اغواء کیا، جبکہ 91لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا۔ انسانی حقوق کا احترام کرنے کے بجائے فورسز کی اندھا دھندآپریشن نے خواتین وبچوں کو بھی متاثرکیا ہے۔ فورسز آپریشن کے دوراں صرف گھروں کی وقار کو پامال نہیں کرتے، بلکے خواتین اور بچوں پہ تشدد کرتے ہیں اور فورسز کی اندھا دحند فائرنگ سے خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہی ہیں۔ حتیٰ کہ انسانی حقوق کے کارکن اور تنظییموں کی طرف سے اپیلوں اور رپورٹوں کے باوجود حکومت خاموش ہے اور فورسز کو خواتین اور بچوں کے ماورئے عدالت قتل پہ جوابدہ نہیں کرتی۔ حکومت کی عدم توجہ اور دلچسپی کی وجہ سے فورسز ایسے واقعات باربار کرتے ہیں۔ 16اگست کوزمینی اور فضائی عسکری فورسز ضلع ہرنائی کے علاقہ شاہرگ کو گھیرتے ہیں اور مواصلاتی نظام کو معطل کرتے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے 5خواتیں اور شیرخوار بچے جنکی شناخت مینو بی بی، جافر، بی بی مخمل، کھٹ خاتون اور بی بی بانو ہلاک ہوئے اور چار زخمی ہوئے۔ مینو بی بی 5دنوں کا شیر خوار بچی تھی۔ ان سب کا تعلق یار محمد چلگری کی خانداں سے تھا۔ انکے علاوہ 6مرد بھی مارے گئے، جنکی شناخت خالو، لیمو، دل وش ولد وشو، افزل ولد وشو، رحمدل ولد وشو اور بنگل ولد حاجی بانزوُ کے نام سے ہوئیں۔ وشو کے ایک اور بیٹے سبزل کو فورسز نے ایک سال پہلے اغواء کیا تھا۔ سبزل کی جبرل گمشدگی کے بعد کسی کو انکے بارے میں کوئی کوئی معلومات نہیں ہے۔ 17اگست کو فورسز کی ضلع پنجگور کے علاقے کیلکورمیں ایک گھر پہ ہوائی بمبارمنٹ سے شمس خاتوں بنت یوسف ہلاک ہو گئی۔ اسکے علاہ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں فورسز کی فائرنگ سے دو خواتین زخمی ہوئے۔ 22 اگست کو فورسز نے جت، کولواہ، ضلع کیچ اور آس پاس کے علاقوں میں 9دنوں کی طویل عسکری آپریشن کی۔ آپریشن کے دوران فورسز نے گھروں کے تمام قیمتی سامان لوٹ لئے، عام آبادی پہ تشدد کیا گیا جبکہ دو لوگ غنی ولد علی بخش اور خالد بلوچ کا قتل کیا، دونوں نوکجو مشکے کے رہائشی تھے۔ ستمبرمیں 45لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جبکہ 116لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ہرنائی میں 3ستمبر کو چار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے 3کی شناخت مستاگ ولد موللہ داد، جوندو ولد دوستیں اور بنگر مری سے ہوئیں۔ انکو شہرگ سے عسکری آپریشن کے دوران 24جولائی 2017کو سیکورٹی فورسز نے اغواء کیا۔ ستمبر میں بلوچستان سے چار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، دو ڈیرہ بگٹی سے برآمد ہوئے اور باقی دو پنجگور سے ۔ بلوچستان کے حوالے سے حکومتی بے حسی اور میڈیکل سہولیات کی نہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت کیلئے ڈی این اے لئے بغیر دفنایا گیا۔ 19ستمبر کو ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے لوپ سے دو مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جنکو شناخت کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ حتیٰ کہ لاشیں شناخت کے قابل نہیں تھے، اسکے باوجود لاشوں کا ڈی این اے سیمپل لئے بغیر مقامی قبرستان میں دفنایا گیا۔ 20ستمبر کوفورسزنے ضلع آوران کے علاقے سیاہ غزی سے ہمراز ولد اسحاق کواغوہء کیا، اغوہء کے اگلے ہی دن ہمراز کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوا۔ ہمراز پہ بے انتہا دتشدد کیا گیا تھا اور اسکے جسم پہ دتشدد کے بیشمار نشانات تھے۔ سیکورٹی فورسز نے سبزل ولد سردوُکودوسرے لوگوں کے ہمراہ 20ستمبر کو ڈنڈارکولواہ سے اغواء کیا ، سبزل کی مسخ شدہ لاش
29ستمبر کوبرآمد ہوا جبکہ مغویوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ 26ستمبر کوضلع پنجگور خداباداں کے پہاڈوں سے دو مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ لاشیں بہت پرانی تھیں اور مکمل طور پر گل گئے تھے جس کی وجہ سے ان کی شناخت ممکن نہیں تھی۔ ان لاشوں کو بھی مقامی قبرستان میں دفنایا گیا۔ عبداللہ ولد شاہداد اور امجد ولد گوہرام کو ضلع کیچ کے علاقے رودبن سے سیکورٹی فورسز کی چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا، کچھ گھنٹوں بعد گولیوں کی آوازیں سنائی دی اور دونوں کو مردہ حالت میں پایاگیا۔ عبداللہ بحریں میں ایک ڈرئیور تھا اور وہ اپنے بھائی کی شادی کی تقریب میں شرکت کیکئے 15ستمبر کو بلوچستان آیا تھا۔ وہ تین بچوں کا والد تھا۔ 25ستمبر کو ضلع کیچ کے علاقے رودبن سے فورسز نے چھاپے کے دوران ولید ولد ولی محمد، ارشاد ولد مجیب اور عامر ولد جلیل کو اغواء کیا، تینوں چچا زاد بھائی تھے۔ انکی اغواء کے ایک گھٹے بعد انکو گولی مارکر قتل کیا گیااور رودبن پل کے نیچے سے انکی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں۔
بی بی گل بلوچ نے رپورٹ کو مزید بیان کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر کو فورسز نے 149لوگ جبری طور پر اغواء کئے جبکہ 18لوگ قتل کئے گئے۔ 28اکتوبر کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور سندھ رینجرز نے کراچی میں بلوچ ہیومیں رائٹس اارگنائیزیشن کے مرکزی انفامیشن سیکٹری نواز عطا کے گھر پہ چھاپہ مارا اور نواز کو اغواء کیا۔ اسی دو ران ایک اور چھاپے میں فورسز نے 8دوسرے طالبعلم عابد ولد اشرف، فرہاد ولد انور، سجاد ولد یار جان، الفت ولد الطاف، آفتاب ولد محمد یونس، الیاس ولد فیض محمد کو اغوء کیا۔آفتاب 8سال کا ہے جبکہ الفت 13 سال کا ہے۔ ان مغویوں کا ابھی تک کوئی بھی اطلاع نہیں۔ یہاں تک کہ بلوچ ہیومیں رائٹس اارگنائیزیشن نے متعدد احتجاجی مظاہرے کئے اور انکے خاندانوں نے اپیل کی ہیں، فورسز نہ کہ انکو کسی عدالت کے سامنے پیش کرتا ہے نہ انکی حفاظت اور سلامتی کے بارے میں کوئی معلومات دیتے ہیں۔ نومبر کو فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 116لوگوں کو اغواء کیا جبکہ 28کا قتل کیا جن میں 5ناقابل شناخت لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔ نومبر میں بلوچستان اور کراچی سے فورسز نے کل 9طالبعلم اغواء کئے۔ 15نومبر2017کوسندھ رینجرز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بلوچ اسٹودنٹس آرگنائیزیشن کے مرکزی سیکٹری جنرل ثنااللہ بلوچ، تنظیم کے دو مرکزی کمیٹی ممبراں حسام اور نصیر احمد اور بلوچ نیشنل مومنٹ کا ایک کارکن رفیق بلوچ کو اغواء کیا، جنکے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں۔ 20نومبر 2017کو فورسز نے بلوچستان کے ایک اور طالبعلم صغیر احمد ولد غلام قادر کو کراچی یونیورسٹی کے مین کیمپس سے اغواء کیا۔ عینی شاہدیں کے مطابق جوں ہی صغیر احمد اپنا امتحانی پرچہ دینے کے بعد وی ایس کینٹین میں آیا تو سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگوں نے اسے پکڑ کر اپنے ساتھ سفید کرولا گاڑی میں لے گئے۔ دسمبر کو فورسز نے 197لوگ مختلف عسکری آپریشنوں میں اغواء کئے۔ 48لوگوں کا قتل کیا گیا۔ 2دسمبر 2017کو فورسز نے ضلع واشک کے علاقے راغے میں ایک بھاری عسکری آپریشن کیا، 60سے زیادہ لوگوں کو اغواء کیا گیا جنکی اکثریت خواتین اور بچے تھے جنکو فورسز نے ملٹری بیرکوں میں منتقل کیا۔ اس آپریشن میں 6لوگ فضائی بمباری میں مارے گئے۔ مواصلاتی نظام کی بندش کی وجہ سے ہلاکتوں کی اصل تعداد ا تک ابھی تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی م۔ 16دسمبر کو فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے دشت سے 37لوگ اغواء کیا اور کچھ دنوں بعد 20لوگوں کو رہا کیا گیا جبکہ 17ابھی تک فورسز کی تحویل میں ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی کی وجہ سے سیکورٹی فورسز انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقو ق کونسل کی رکن منتخب ہونے کی صورت میں پاکستان کو چائیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور انسانی حقوق کے قوانین اور بلوچستان کے لوگوں کا انسانی حقوق کا احترام کریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0