بولان آپریشن میں زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال جاری ہے۔ بی این ایم

ہفتہ 15 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے مقبوضہ بلوچستان میں جاری ریاستی فرعونیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز نے گزشتہ روز سے بولان میں آپریشن شروع کرکے سینکڑوں مویشیوں کو جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نشانہ بنا کر ہلاک کیا اور درجنوں گھروں کو جلایا گیا۔تاحال بولان کے کئی علاقوں سنی ،شوران و گرد نواع فورسز کے گھیرے میں ہیں اور کئی فرزندوں کو اغوا بھی کیا گیا ہے۔ بولان آپریشن میں زمینی فوج کے ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال جاری ہے اور اسی طرح ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ روز وحشی فورسز نے تین خواتین کو چار کمسن بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت اغوا کرکے تمام انسانی حقوق و قوانین کی دھجیاں اُڑا دیں ۔ اغواء ہونے والوں کی شناخت زوجہ رکھیا بگٹی، زوجہ سوالی بگٹی دو بچیوں سمیت اور زوجہ جلنب بگٹی دو بچیوں اور ایک بیٹے سمیت ہوئی ہے ۔ان کاروائیوں میں ریاستی نام نہاد حکومت میں بلوچیت کے دعویدار براہ راست ملوث ہیں ۔اسی طرح آج فورسز نے مشکے میہی میں بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے بھائی ، خاندان اور رشتہ داروں کے گھر وں میں لوٹ مار کی اور گھر میں موجود ضرورت زندگی کے سامان سمیت برتن تک اپنے ساتھ لے گئے اور وہاں موجود مکینوں کو کل تک میہی گاؤں خالی کرنے کے لیے وارننگ دی ،ایسا نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔واضح رہے کہ میہی گاؤں میں کئی آپریشنوں اور فورسز کی آئے روز چادر و چار دیواری کی پامالی کی وجہ سے صرف چند خاندان باقی ہیں اور آج فورسز کی لوٹ مار کے بعد وہ کھلے آسمان تلے سخت سردی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،اسی طرح آواران کے علاقے پیراندر اور بیدی میں گھروں پر چھاپے مار کر نہتے عوام پر بد ترین تشدد کرکے خواتین و بچوں کو حراسان کیا۔ مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ آبادیوں پر حملے چادر وچادیواری کی پامالی اور خواتین و بچوں کا اغوا سنگین انسانی جرم ہے اقوام متحدہ سے اپیل ہے کہ وہ قابض ریاست پاکستان سے عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا نوٹس لیکر اقدامات کرے ۔

 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0