بولان آپریشن کے دوران بلوچ خواتین و بچوں کے اغواء کے خلاف پریس کانفرنس

جمعرات 19 نومبر, 2015

 کوئٹہ(ہمگام نیوز) معزز صحافی حضرات! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گذشتہ تین ہفتے سے زائد عرصے سے بلوچستان کے علاقے بولان اور اسکے گردو نواح کے علاقوں مارواڑ ، لکڑ، کورکری ، گوزی ، بزگر ، کلچ ، بربڑی،پلکڑی،سنجاول اورسھرکمب وغیرہ میں شدید نوعیت کا انسانیت سوز فوجی آپریشن جاری ہے جس میں اب تک درجنوں مردو خواتین اغواء ، سینکڑوں گھر و فصلات نظر آتش اور درجنوں بلوچ مرد و زن شہید کیئے جاچکے ہیں ۔ ان علاقوں میں لوگوں کے معاشی قتل کیلئے اب تک ہزاروں کی تعداد میں مال مویشیوں کو یا تو فائرنگ و بمباری سے مار دیا گیا ہے یا پھر لوٹ مار کرتے ہوئے انہیں فوجی گاڈیوں میں لاد کر منڈیوں میں فروخت کیا گیا ہے ۔ ایک ہزار ایکڑ سے زائد پر مشتمل جنگل اور فصلات کو آگ لگادی گئی ہے ۔ مسلسل جاری آپریشن کی وجہ سے متذکرہ علاقوں کے آمدورفت کے راستوں کو سِیل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کو علاج معالجے میں حد درجہ مشکلات کا سامنا ہے اور ساتھ میں بندش کی وجہ سے غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس علاقے میں بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طرح میڈیا بندش کی وجہ سے خبروں کی ترسیل میں حد درجہ مشکلات ہیں جس کی وجہ سے اب تک مکمل تفصیلات نہیں مل سکیں ہیں لیکن عینی شاھدین کے مطابق آپریشن کے شدت اور پہاڑی علاقوں میں مسلسل بمباریوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نقصانات موجود اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہیں اور آپریشن میں جانبحق ہونے والے افراد سینکڑوں میں ہوسکتے ہیں ۔ آپریشنوں کا یہ سلسلہ محض بولان تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے علاقے مند اور گردو نواح میں بھی شدید قسم کا آپریشن جاری ہے جس میں بلوچ فرزندوں کا اغواء ، خواتین و بچوں پر تشدد اور گھروں کو جلانے جیسے واقعات ایک بار پھر سے شدت کے ساتھ دہرائے گئے ہیں۔ محترم صحافی حضرات! میں آج جس سنجیدہ مسئلے کی جانب آپ حضرات اور آپ کے توسط سے دنیا کی توجہ مبذول کرانا چاہتی ہوں وہ نا صرف انسانی حقوق ، قانون اور جنگی اصولوں کی بد ترین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ مقدس اسلامی اور عظیم بلوچی روایات کی بھی بدترین پامالی ہے۔ بولان اور ملحقہ علاقوں میں جاری بدترین فوجی آپریشن کے دوران جہاں معمول کے مطابق درجنوں بلوچ مرد اغواء کرکے لاپتہ کیئے گئے ہیں وہیں ان علاقوں سے 40 سے زائد بلوچ خواتین و معصوم بچوں کو بھی فوج اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئی ہے جن کے بارے میں ابتک کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے ۔ خواتین و بچوں کے اغواء کے واقعات کی خبریں بہت زیادہ آرہی ہیں لیکن آپریشن کی وجہ سے مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوسکی ہیں ۔ اب تک کے اعداد و شمار و معلومات کے مطابق اغواء ہونے والوں میں در بی بی زوجہ وشو چلگری مری ،گل پری زوجہ دلوش مری تین بیٹیوں سمیت بخت بی بی زوجہ دلوش مری ایک بیٹے و تین بیٹیوں سمیت بی بی زر بخت زوجہ رحم دل مری چار بیٹوں سمیت بی بی زرمیدو زوجہ گزو مری ،ھتا بی بی زوجہ علی مری دو بیٹوں و دو بیٹیوں سمیت جار بی بی زوجہ کالو مری سترہ سالہ بیٹی بان بی بی اور چھ معصوم بچوں سمیت بی بی وائری زوجہ علی مری گل بی بی زوجہ تنگو مری دو بچوں سمیت جان بی بی زوجہ لال محمد مری، بی بی حانی زوجہ علی بخش مری 1 بیٹی سمیت بی بی نور بانو زوجہ ملا نظر محمد دو بچوں سمیت شامل ہیں اس دوران وشو مری کے 80 سالہ معذور والدہ بی بی ساھتو کو اغواء کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بناکر شہید کرکے اسکی لاش وہیں پھینکی گئی ۔ مذکورہ لوگ بولان کے علاقے لکڑ ،گوزو،پلکڑی،سنجاول اورسھرکمب اور کرب و جوار سے تشدد کے بعد اغواء ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی علاقوں سے اغواء ہونے والے خواتین و بچوں کے اعداد و شمار جمع کی جارہی ہیں، جو بہت جلد آپ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ حق و سچ کے پاسبانوں! بلوچستان میں لاپتہ بلوچوں کا مسئلہ پہلے سے ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے، اب جس طرح سے مردو ں کے ساتھ ساتھ بلوچ خواتین و بچوں کو اغواء کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ مسئلے کے حساسیت میں خطرناک اضافہ کرتا ہے ۔ جنگوں کے دوران بے گناہ معصوم لوگوں خاص طور پر خواتین و بچوں کی تحفظ کی وکالت نا صرف انسانی حقوق کے عالمی اصول کرتے ہیں بلکہ جنگی قوانین بھی انکے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں ۔ خواہ کیسے بھی جنگی حالت ہوں بلوچی و اسلامی روایات بھی خواتین و بچوں کو ضرر پہنچانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، لیکن جس طرح پاکستانی فوج انسانی حقوق ، جنگی اصول اور اسلامی و بلوچی روایات کو بری طرح سے پامال کررہا ہے یہ ہر با ضمیر شخص کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ سچ کے امین صحافی خواتین و حضرات ! میں آپ سے اپیل کرتی ہوں کہ آپ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سنگین مسئلہ کو عالمی و علاقائی میڈیا میں اجاگر کرکے ان اغواء شدہ بلوچ خواتین و بچوں کی فالفور رہائی کو یقینی بنائیں اور میں آپ کے توسط سے انسانی حقوق کے تمام علمبردار اداروں سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ ان خواتین و بچوں کی زندگیاں انتہائی خطرے میں ہیں ، ان کے رہائی کیلئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھا ئیں ۔ بلوچ سماج میں خواتین کو جو عزت اور احترام حاصل ہے وہ مثالی ہے ، فوج کے ہاتھوں بلوچ عزت و حرمت کو پامال کرتے ہوئے بلوچ خواتین و بچوں کو اغواء کرنا محض چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر بلوچ کا مسئلہ ہے میں تمام بلوچوں سے اپیل کرتی ہوں کے وہ اس مسئلہ پر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کراکے بلوچ خواتین کی بازیابی یقینی بنائیں ۔ شکریہ منجانب: اہلخانہ مغوی خواتین

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0