بولان آپریشن کے دوران درجنوں بلوچ خواتین کے اغواء کے خلاف بی بی سی آفس کے سامنے لندن میں مظاہرہ

اتوار 22 نومبر, 2015

لندن(ہمگام نیوز) گذشتہ دن برطانیہ کے دالحکومت لندن میں وہاں مقیم بلوچ کمیونٹی نے بلوچستان کے علاقے بولان سے سے فوجی آپریشن کے دوران لاپتہ کیئے گئے 28 خواتین سمیت 13 سے زائد بچوں کے پاکستانی فوج کے ہاتھوں اغواء اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خلاف بی بی سی لندن کے مرکزی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاھرہ کیا جس میں مختلف طبقہ فکر اور سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے آزادی پسند بلوچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ مظاھرے کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر مغوی بلوچ خواتین کے رہائی کے حق میں اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں اور جاری شدید ترین فوجی آپریشن کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر دیر تک بلوچ کمیونٹی پاکستان کو دہشتگرد تنظیم دولت اسلامیہ سے تشبیہہ دیکر اور بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ اس موقع پر مکررین نے مظاھرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان اپنے قبضے کے بعد سے لیکر ابتک کے دورانیئے کے بدترین ریاستی جارحیت کا شکار ہے۔ بلوچوں کو روزانہ کے بنیاد پر درجنوں کی تعداد میں اغواء کرنا اور بعد از تشدد انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا معمول بن چکا ہے۔ اب حال ہی میں پاکستانی قابض فوج نے بولان میں جاری بدترین فوجی آپریشن جس میں درجنوں شہادتیں ہوچکی ہیں کے دوران 40 سے زائد خواتین و بچے اغواء کرکے لاپتہ کرچکے ہیں اور اس دوران خواتین کے شہادتوں کے بھی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں شدت کے ساتھ بلوچ نسل کشی کے خلاف علاقائی میڈیا تو پاکستانی فوج کے زیر اثر ہر خبر کو چھپا رہا ہے لیکن اس دوران عالمی میڈیا کا کردار بھی انتہائی مایوس کن ہے، انہوں نے بی بی سی سمیت تمام عالمی نشریاتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان خود جاکرحقیقی حالات کا جائزہ لیں اور حقائق کو دنیا کے سامنے طشت ازبام کردیں ۔ انہوں نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں برائے انسانی حقوق سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے پامالیوں کے خلاف سخت ردعمل دِکھا کر عملی طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0