بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء : بی ایچ آر ڈی کا کوئٹہ میں مظاہرہ

بدھ 25 نومبر, 2015

کوئٹہ( ہمگام نیوز)خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیم بلوچ ہیومن رائٹس ڈیفینس نے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بولان سے فورسز کے ہاتھوں اغواء ہونے والے 28 بلوچ خواتین کے عدم بازیابی پر احتجاجی مظاھرہ کیا ۔ اس موقع پر مظاھرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ موجود تھے جن پر لاپتہ بلوچ خواتین کے بازیابی کے حق میں اور ان کے اغواء کے خلاف نعرے درج تھے ، مظاھرے کے دوران شرکاء بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں ، خواتین پر تشدد اور بلوچ خواتین و بچوں کے اغواء کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔اس موقع پر بلوچ ہیومن رائٹس ڈیفینس کے کو آرڈینٹر نے مظاھرین اور صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں تمام انسانی حقوق عملاً معطل ہوچکے ہیں ، آپریشن کے نام پر سیکیورٹی فورسز کسی بھی شہری کو کسی بھی وقت اغواء کرکے لاپتہ کردیتے ہیں جن کی اب تعداد 20 ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے ، ان لاپتہ بلوچوں میں سے اکثر کی مسخ شدہ تشدد زدہ لاشیں ویرانوں سے ملتی ہیں ۔ آئے روز بلوچستان کے کسی نا کسی علاقے میں شدید پیمانے کا آپریشن کیا جاتا ہے جہاں ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ ، سول آبادیوں پربمباری و دورمار توپوں سے گولہ باری بلا امتیاز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں آئے روز معصوم شہری شہید ہوجاتے ہیں ۔ اسی کا تسلسل گذشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے بولان میں بھی جاری رکھا گیا جہاں تین ہفتے سے مختلف علاقوں میں شدید آپریشن کی گئی اس دوران کئی لوگ جانبحق و زخمی اور کئی لاپتہ کردیئے گئے ۔ اسی دوران بولان کے علاقوں لکڑ ، بر بڑی ، بزگر ، سنجاول اور گردونواح سے 40 سے زائد بلوچ خواتین و بچوں کو بھی سیکیورٹی فورسز اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال 18 دن گذرنے کے باوجود لاپتہ ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف پوری دنیا میں آج خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن منایا جارہا ہے پاکستان میں بھی اس دن کے مناسبت سے کئی سرکاری و غیر سرکاری پروگرامات منعقد ہورہے ہیں لیکن دوسری طرح بلوچستان میں ریاستی سر پرستی میں بلوچ خواتین کے خلاف بد ترین تشدد بھی کیا جارہا ہے ، مکمل ریاستی سرپرستی میں فوج کے ہاتھوں 28 خواتین اور 13 سے زائد بچوں کا اغواء ہونا کسی طور بھی ایک معمولی واقعہ نہیں لیکن انتہائی مایوسی کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق اور حقوقِ نسواں کے نام پر یہاں کئی کئی این جی او ز چلانے والے بھی اس وقت لب با مہر ہوجاتے ہیں جب بات بلوچوں کی آجائے ، انہوں نے مزید کہا کہ خواتین پر گھریلو تشدد ہو یا پھر ریاستی تشدد یہ اپنے تئیں یکساں برائی اور گناہ ہے پاکستان سمیت کسی بھی ریاست کو یہ بالکل اختیار نہیں کہ وہ ریاستی سیکیورٹی کا نام دیکر یا کسی اور بہانے سے خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنائے ۔ پاکستان انسانی حقوق کے پامالیوں کے بابت پہلے سے ہی دنیا بھر میں ایک بدنام مقام رکھتا ہے لیکن 28 بلوچ خواتین کو اغواء کرکے 18 دن سے لاپتہ رکھنا پاکستان کو حقوقِ نسواں کے بابت بھی بدترین ملک بناتا ہے ۔ انہوں نے خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر مزید کہا کہ ہم اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کے دعویدار تمام عالمی و علاقائی تنظیموں اور حقوقِ نسواں کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں بدترین پاکستانی جارحیت اور بلوچ خواتین کے اغواء کے خلاف سراپا احتجاج ہوجائیں اور پاکستانی فوج پر دباو ڈالیں کے وہ بلوچ خواتین کو جلد از جلد منظر عام پر لے آئے ۔ یاد رہے کہ مورخہ 8 نومبر کو بلوچستان کے علاقے بولان میں فوجی آپریشن کے دوران 40 سے زائد بلوچ خواتین و بچوں کو اغواء کیا گیا تھا اطلاعات کے مطابق اغواء ہونے والوں کی حقیقی تعداد کئی گنا زیادہ ہے لیکن علاقے تک نارسائی کی وجہ سے محض ان خواتین و بچوں کے اعدادو شمار میڈیا میں پیش ہوسکے تھے د ر بی بی زوجہ وشو چلگری مری ،گل پری زوجہ دلوش مری تین بیٹیوں سمیت بخت بی بی زوجہ دلوش مری ایک بیٹے و تین بیٹیوں سمیت بی بی زر بخت زوجہ رحم دل مری چار بیٹوں سمیت بی بی زرمیدو زوجہ گزو مری ،ھتا بی بی زوجہ علی مری دو بیٹوں و دو بیٹیوں سمیت جار بی بی زوجہ کالو مری سترہ سالہ بیٹی بان بی بی اور چھ معصوم بچوں سمیت بی بی وائری زوجہ علی مری گل بی بی زوجہ تنگو مری دو بچوں سمیت جان بی بی زوجہ لال محمد مری، بی بی حانی زوجہ علی بخش مری 1 بیٹی سمیت بی بی نور بانو زوجہ ملا نظر محمد دو بچوں سمیت شامل ہیں اس دوران وشو مری کے 80 سالہ معذور والدہ بی بی ساھتو کو تشدد کے بعد شہید کردیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0