بچھڑے تو سب! لیکن ،تحریر:سیم زہری

منگل 22 اگست, 2017

پہاڑوں کی دامن میں واقع ایک خوبصورت گاؤں جو دور سے جتنا خوبصورت نظر آتا ہے نزدیک جانے پر اس گاؤں کی خوبصورتی مزید نکھر کر سامنے آتی ہے. شاید زندگی میں کبھی بھی مشک جانا نہ ہوتا اگر یہ شھید امتیاز جان کا گاؤں نہ ہوتا، شھید امتیاز بلوچ کی شہادت کے بعد ایک عجیب سی خواہش دل میں پیدا ہوا کہ جس عظیم شخص کے ساتھ ہمسفر نہ ہو سکا کم سے کم اس گاؤں کو تو دیکھ آؤں جہاں شہید امتیاز کا جنم ہوا، جہاں وہ کھیل کود کر جوانی میں قدم رکھا اسی خواہش نے مجھے مشک تک کا سفر کروایا. وہ اسکول جس میں امتیاز جان نے شروع میں تعلیم حاصل کیا وہ میدان جہاں مٹی کی خوشبو سے امتیاز کو محبت کا درس ملا وہ انار کے باغ جسے شہید نے اپنے ہاتھوں سے اگایا تھا اب وہ سب پھل دار درخت بن گئے تھے جن پر انار کے پھل لال لال اپنے سنگت کےقربانی پر فخر کر رہے تھے وہ لوگ جو امتیاز کو یاد کر کے گلوگیر ہوتے ایک خوبصورت گاؤں جہاں سب تھے، نہیں تھا تو امتیاز نہیں تھا.
اس گاؤں سے کچھ دوری پر ایک قبر تھا جس میں سویا ہوا شخص کبھی ایک لیڈر ہوا کرتا تھا. بلوچستان کے لوگ جسے ایوب جتک کے نام سے جانتے تھے پورے بلوچستان کی طرح زہری کے لوگ بھی ایوب جتک کو اپنے لیے ایک مسیحا سمجھتے تھے اس کے ہر ایک آواز پر لبیک کہتے تھے لیکن شہید فدا کا یہ دوست اور لوگوں کا مسیحا جب پارلیمنٹ پہنچا تو اپنا رنگ ہی بدل دیا. بہک گیا. بہک گیا شہیدوں کے خون کا ارمان سے. قوم کے امیدوں کا بولی پارلیمنٹ میں لگا کر اپنے فرض مقصد اپنے زمہ داری سے راہ فرار ہوکر غداری کا مرتکب ہوا. لیکن جب اس جہان فانی سے گیا تو کسی نے ایک لفظ تک اس کے شان میں نہیں لکھا.

اسی زہری کے چھوٹے سے گاؤں سلمانجو میں ایک نوجوان کا جنم ہوا جسے آج بلوچ اور بلوچستان بیرگیر کے نام سے جانتا ہے. جسے اس کے دوست نثار اور والدین حیو کے نام سے یاد کرتے ہیں. جس نے سوراب کی دھرتی کو اپنے خون سے آبیار کیا. تین شخص جن میں عمر کا فرق، تجربہ کا فرق، سیاسی بصیرت کا فرق، ایک بی ایس او کے عروج کے دور کا چیئرمین تو باقی دونوں پر آشوب حالت میں بلوچ قوم کے سپاہی. ایک جب چیئرمین بنتا ہے تو پارلیمنٹ کی وزارت کے بدلے قوم کی عزت کا سودا کرتا ہے. جبکہ باقی دونوں بندوق اٹھا کر قوم کی عزت بچانے کے لیے خود کو فنا کرتے ہیں. ایک رات کے اندھیرے میں دشمن کے کیمپ میں جا کر سلامی کرنے کے لیے پیسہ لیتا ہے تو باقی دو رات کے اندھیرے میں دشمن پر حملہ آور ہوتے ہیں. ایک قوم کے نوجوانوں کو مایوس کرتا ہے تو باقی دو اپنے بندوق کی آواز سے قوم کے نوجوانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کرتے ہیں. ایک جو آخر کار اپنے دوستوں کو چھوڑ کر سرکار او سردار کا ہم جھولی بنتا ہے تو باقی دو سرکار اور سردار کے لیے درد سر بنتے ہیں. ایک کے چلے جانے پر لوگ اسے بھول جاتے ہیں باقی دو کی شہادت کے بعد ان کے نغمہ گنگناتے ہیں. انکے قصے سنائے جاتے ہیں
دنیا سے چلے تو تینوں گئے ہیں لیکن بہترین موت دو ہی نے پائی، ایک کے جانے کے بعد اس کی تعزیت والے گنے چنے تھے باقی دو کی شھادت پر کہاں کہاں سے لوگ آئے. چلے تو تینوں گئے. ایک وطن بیچ کر گیا باقی دو اپنے آپ کو وطن پر قربان کر کے گئے. وہاں جب ملاقات ہو گی تو عجیب کیفیت ہوگی ایک کا سر شرم سے جھکا ہوگا باقی دو کے سر فخر سے بلند ہونگے.
مادر وطن سب کو یک نما چنتے ہیں اسکے لئے سب اسکے چکر کے ٹکڑے ہوتے ہیں. مگر حقیقی بیٹا وہ ہوتا ہے جو ماں کے قدموں تلے کانٹوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر رستہ بنائے جو اپنے ہر لمحے وطن کے دکھ درد کو جان کر اسے جڑہ سے نکال پھنکنے کے جہد میں اپنے آخری وار آخری قدم آخری سانس تک اس پر قائم رہتے.
مشک و سلمانجو میں حئی بلوچ و امتیاز کے ساتھ بچپن سے کھیل کود کرنے والے یا ان سے پہلے آنے والے بھی ایسے ہی اولاد ہیں اس لمحہ وطن کے لیے جیسا کے یہ تھے بس فرق اتنا ہے کہ ہم وہ سب بھول جاتے ہیں یا بھولنا چاہتے ہیں جن کا تقاضا ایک ماں اپنے لال سے تب سے کرتا ہے جب اسکے ننے پیر اپنے سینے پر محسوس کرتا ہے. جب وہ اپنے اولاد کا سر اپنے ہتھیلیوں پر رکھ کر اسے سکون کی نیند سلاتا ہیں.
تب وہ لوری سنا کر اپنے معصوم بچے کو اپنے درد اور اسکے فرض کا یاد دلاتی ہوگی. سنتے سمجھتے سب ہیں کون جو اپنے ماں کی چیخ پکار نہ سنتا ہو. بس کچھ بیرگیر بن کر قہر ڈھاتے ہیں کچھ پارود سے بولان تک رستوں پے قدموں کے نشان چھوڑ جاتے ہیں. اور کچھ مفاد میں غرق اپنے ذات تک محدود سرکاری تنخواہ خوری میں غداری تک کر گزرجاتے ہیں.
یہ تھے دھرتی کے یہ دو فرزند نام نہاد پارلیمنٹ پرست لیڈروں سے زیادہ زندہ رہینگے. کیونکہ زندہ وہ رہتا ہے جو دوسروں کے خاطر اپنے زندگی کو قربان کرتا ہے. وہ مرتے نہیں تاریخ بن جاتے ہیں اور تاریخ کبھی بھلایا نہیں جاتا.
اب بھی کہیں انار کے پیڑ کے نیچھے کسی میدان میں کسی کسی اسکول میں کسی ماں کی کوک میں کہیں ہواؤں کے آہٹ میں کہیں نہر کے شور میں حئی و امتیاز آجوئی کے خوبصورت گیت کو گاتے ہوئے بڑے ہو رہے ہیں.

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0