بھارتی آرمی سے نمٹنے کیلئے پاکستان دہشت گردوں کو پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ پینٹاگون

منگل 4 نومبر, 2014

واشنگٹن(ہمگام نیوز) امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے امریکی کانگریس کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پراکسی کے طور پر ان سے طاقتور بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کیلئے استعمال کررہا ہے۔ پینٹاگون نے افغانستان کے صورتحال پر اپنی شش ماہی رپورٹ امریکی کانگریس کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” افغانستان اور بھارت میں دہشت گردی کے کاروائیوں میں ملوث زیادہ تر گروہ پاکستان میں منصوبہ بندی کرتے اور وہیں سے آتے ہیں جس کی وجہ سے اس خطے میں استقامت کی کوششوں کو شدید دھچکا لگتاہے ، پاکستان ان گروہوں کو اس لیئے استعمال کررہا ہے تاکہ افغانستان میں اپنے ختم ہوتے اثر کو سنبھال کر بڑھایا جائے اور بھارتی فوج سے نمٹا جائے “۔ انہوں نے اپنے 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ” دہشت گرد تنظیموں سے پاکستان کے اس نوعیت کے تعلقات پاکستان کے ان یقین دہانیوں سے بالکل بر عکس ہیں جن میں انہوں نے یقین دلایا تھا کہ وہ افغانستان میں ہونے والے مصالحت کی کوششوں کی حمایت کریں گے ، پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ بھی ایسے ہی پراکسی دہشت گرد تنظیمیں ہیں “ ہرات میں بھارتی قونصلیٹ پر حملے کو نریندر مودی کے حلف برداری سے جوڑتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ” مئی کے مہینے میں ہرات افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پر اسی طرح کے ایک گروہ نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ یہ حملہ نریندر مودی کے حلف برداری سے تین دن پہلے ہوا، پاکستانی شدت پسندوں کے اس حملے کی بنیادی وجہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ نریندر مودی کا ہندو انتہا پسند جماعتوں سے قریبی تعلقات ہیں ، جون کے مہینے میں امریکی ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ نے لشکر طیبہ کو اس حملے کا ذمہ دار ٹہرایا تھا ، اس حملے کے بعد افغان صدر نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت سے مضبوط تعلقات کے حق میں ایک بیان جاری کیا تھا “ یاد رہے لشکر طیبہ کو ماضی میں پاکستانی خفیہ اداروں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0