بی آر ایس او کی جانب سے بالاچ مری کی برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

ہفتہ 22 نومبر, 2014

شہیدِ انقلاب نوابزادہ بالاچ خان مری کو انکی عظیم قربانی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں
فکرِ بالاچ کو ہر بلوچ کے گھر و گدان تک پہنچانے کی بھاری ذمہ داری بلو چ نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے

تربت(ہمگام نیوز) بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مر کزی ترجمان نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی آر ایس او ہوشاب زون کی جانب سے شہید ِ انقلاب نوابزادہ بالاچ خان مری کی ساتھوی برسی کے موقع پر ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا ۔ریفرنس میں بلوچ ری پبلکن پارٹی اور بلوچ نیشنل موونٹ کے رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔تعزیتی ریفرنس سے بی آر ایس او کے وائس چیئر پرسن بانک گوہربلوچ نے خطاب کرتے ہوئے شہید ِ انقلاب بالاچ خان مری کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید بالاچ خان مری ایک نظریہ ہے ایک ایسا نظریہ جس میں بلوچ قوم کو اپنی روشن مستقبل نظر آتی ہے ۔ شہید بالاچ مری نے اپنی زندگی بلوچ قوم کے لیے قربان کرتے ہوئے سرزمینِ بلوچستان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے شہید کا فکر و نظریہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا جس پر بلوچ فرزندان عمل کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب روا دواں رہیں گیں ۔ بانک گوہر بلوچ نے کہا کہ ریاست نے شہید بالاچ مری کو جسمانی طورپر تو ہم سے جُدا کر دیا لیکن ریاست شاید یہ بھول چکی ہے کہ نظریے کبھی نہیں مرتے بلکہ پروان چڑھتے ہیں آج نظریئے بالاچ بلوچ قوم کے ہر گھر میں پہنچ چکی ہے بلوچ قوم کا بچہ بچہ آزاد بلوچستان کا حامی ہے۔بانک گوہر نے مزید کہا کہ ریاست نے بالاچ خان کو شہید کر کے بلوچ قوم کو ایک عظیم رہنماءسے محروم کر دیا ہے جس کی کمی بلوچ قوم کی آنے والی نسلیں بھی محسوس کریگیں لیکن یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم فکرِ بالاچ کو بلوچستان کے ہر گھر میں پہنچائیں اور انکے بتائے ہوئے راستوں پر عمل کر تے ہوئے بلوچ قوم کو طویل غلامی سے آزاد کرا سکیں۔
ریفرنس سے بلو چ ری پبلکن پارٹی کے ایک مر کزی رہنما ءنے خطاب کرتے ہوئے شہیدِ وطن بالاچ خان مری کو انکی عظیم قربانی پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید بالاچ مری کا نظریہ و فلسفہ بلوچ نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جس پر عمل کر کے ہم جلد ہی اپنے منزل تک پہنچ سکتے ہیں ، شہید نے بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم اور بلوچ گلزمین کی غلامی کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے قومی تحریک کو مضبوط و منظم کیا اور بلوچ نوجوانوں کو تحریکِ آزادی میں شامل کرنے کے لیے اپنا بہترین کر دار اداکیا جس سے ریاست خوف محسوس کر رہی تھی اس لیے ریاست نے اپنی تمام تر مشینری کو بالاچ خان مری کو شہید کرنے پر لگا دیا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے جس سے بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑابلکہ اب بھی ہم نقصان کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ بالاچ جیسا فرزند شاید کبھی پیدا ہو لیکن شہید بالاچ کا فکر و نظریہ ہر بلوچ کے گھر و گدان تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے شہید کے فکر و نظریے پر عمل کر کے ہمیں اپنی جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت ہے اور بلوچ قوم کو منظم اور بہترین حکمت عملی دینے کی ضرورت ہے جس سے دشمن کو شکست دیا جا سکے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0