بی آر ایس او کے مر کزی رہنماء کے گھر پر فورسز کا چھاپہ

جمعرات 8 جنوری, 2015

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سینٹرل کمیٹی کے رکن سنگت جواد بلوچ نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15نومبر 2014کو ریاستی اہلکاروںنے تربت کے علاقے ناصر آباد میںمیری عدم موجودگی میں میرے گھر میں گھس کر چادر اور چار دیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھر میں تھوڑ پھوڑ کیا اور گھر والوں کو حراساں کیا اورگھر والوںکو سنگین قسم کی دھمکیا دیتے ہوئے مجھے تحریک ِ آزادی سے دور رہنے کی دھمکی بھی دیئے ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ سلسلہ بلوچستان کی جبری الحاق سے تاحال جاری ہے کہ پاکستانی فورسز بلوچ سیاسی ورکرز ، اساتذہ، ڈاکٹرز سمیت تمام بلوچ جہد کاروں کے گھروں میں چھاپے مارتے ہوئے انہیں اغواءکر کے لے جاتے ہیں جن کہ بارے میںوہ بعد میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق سال 2014میں 435 بلوچ لاپتہ کیے گئے اور 455 بلوچ شہید کیے جا چکے ہیں جن کا تعلق مختلف آزادی پسند سیاسی پارٹیوں سے تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہیں جو اپنے حقوق اور اپنے مادرِ وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کی پاداش میں شہید کیے گئے ۔ریاستی فورسز بلوچ فرزندوں کے غواءمیں برائے راست ملوث ہے اور اغواءبعد انہیں مختلف قسم کے تشدد کے مراحل سے گزار کر انکے جسم کے مختلف اعضے بھی دورانِ تشدد نکال دیے جاتے ہیں اور انہیں شہید کرکہ کسی ویرانے میں پھینک دیا جاتا ہے ۔بلوچستان کے علاقے توتک سے اجتماعی قبروں نے پاکستان کی بلوچ دشمنی کا ثبوت پوری دنیا پر عیاں کر دیا ۔توتک سے بر آمد ہونے والی تین اجتماعی قبروں میں لگ بھگ 169 بلوچ فرزندوں کی مسخ شد ہ لاشیں ملیں ۔ریاست پاکستان بلوچ قوم کے قتلِ عال میںکوئی کثر نہیں چھوڑرہا اگر بلوچستان میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں لاپتہ افراد کے حوالے سے چھان بین کی جائے تو ہو سکتا ہے بلوچستان سے مزید اجتماعی قبریں دریافت ہوں کیونکہ اب تک 20000 کے قریب بلوچ لاپتہ ہیں جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔
اس سے پہلے بھی بی آر ایس او کے مر کزی رہنماﺅں کو ریاستی فورسز اغواءکرچکے ہیں جن کے بارے میںاب تک وہ لا علمی کا اظہار کرتے ہیں بی آر ایس او کے قومی کونسل سیشن کے بعد بی آر ایس او کے دوستوں پر ریاستی کریک ڈاﺅن جاری ہے جس میں اب تک مرکزی رہنماءلاپتہ ہیں۔بلوچ ری پبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک طلبہ تنظیم ہے جس کا مقصد بلوچ نوجوانوں اور بلوچ یوتھ میں علم کی شعور کو اجاگر کرنا ہے اور ایک تعلیم یافتہ معاشرے کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے لیکن چونکہ پاکستان اور اسکے خفیہ ادارے ہمیشہ سے بلوچ قوم کو علم سے دوررکھنے کے لیے اپنے مذموم ہتکنڈے استعمال کرتے آرہے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال مکران میں تعلیی اداروں کو نذر آتش کرنا اور بلوچ بچیوں کو تعلیم سے دور رہنے کی دھمکیاں دینا اور بلوچ استاتذہ کو نشانہ بنانا ہے۔لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ریاستی خفیہ ادارے ہوں یا کوئی اور ریاستی آلہ کار میں ان سب پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری جدوجہد اپنی منزل تک جاری رہیگی اور ہم اپنے قوم و وطن کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہما وقت تیار ہیں۔یاد رہے کہ صفیان بلوچ کے گھر پر رینجرز اہلکاروں نے چھاپہ مارا جہاں سے بی آر ایس او کی نمائندہ کتاب کشک کی کاپیاں بر آمد ہو ئے اور رینجرز اہلکار صفیان بلوچ کے بھائی کو شدید تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال لاپتہ ہے صفیان بلوچ بی آر ایس او کے کشک ©©”لٹریچر” کمیٹی کے ممبر ،کراچی زون کے صدر اور بلوچ ری پبلکن پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری شہید شیر محمد بلوچ کے کزن بھی ہے۔
سنگت جواد بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ایف سی کی صورت میں پاکستان ہر روز معصوم بلوچوں کے گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیوراری کی تقدس کو ماپال کرتے ہیں جبکہ کراچی میں بھی یہی صورت حال ہے کراچی میں ایف سی کا کام رینجرز اہلکار انجام دے رہے ہیں آئے روز کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں رینجرز اہلکار جرائم پیشہ افراد کے نام پر لوگوں کے گھروں میں چھاپہ مارتے ہوئے گھر میں موجود قیمتی اشیاءبھی لوٹ لیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رینجرز اہلکار اور پاکستانی خفیہ ادارے خود جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کر رہے ہیں بلوچستان ہو یا کراچی جہا ں کئی بھی بلوچ آباد ہیں وہاں ریاستی فورسز اور خفیہ ادارے جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے ہیں اور ان کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کے لیے سرگرم کار کنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0