بی آر پی جرمنی کا فرینکفرٹ میں احتجاجی مظاہرہ

ہفتہ 8 نومبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ ری پبلکن پارٹی جرمنی کی جانب سے جرمنی کے دارلحکومت فرینکفرٹ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بلوچستان میں جاری ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ بی آر پی کی جانب سے منعقد ہونے والے مظاہرے میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے کارکنان اور بلوچ کمیونٹی اورکُرد کمیونٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔مظاہرہ دارلحکومت فرینکفرٹ کے مصروف ترین اور مرکزی پوائنٹ  میں کیا گیا اور لوگوں کو بلوچ جہد آزادی اور پاکستانی ریاست کی بلوچستان میں جنگی جرائم کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ کارکنوں نے لوگوں کو بلوچستان کے حالات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لئے ہاتھوں میں بیننرز اورپلے کارڈ اٹھارکھے تھے اور بلوچ رہنماؤں اور شہدا ء کی تصویریں آویزاں کی گئی۔ کارکنوں سے بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ریاست بربریت زور و شور سے جاری ہے اور آئے روز بلوچستان کے طول و عرض میں فوجی آپریشن کے دوران بے گناہ اور معصوم بلوچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بلوچ کارکنان کی اغواہ نما گرفتاریاں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان تمام ریاستی مظالم میں بین الاقوامی برادری سوالیہ نشان بن چکی ہے۔اس کے علاوہ بی آر پی جرمنی چیپٹر کے صدر اشرف شیرجان بلوچ اور دیگر کارکنان نے بھی خطاب کیا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اور اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی کہ بلوچستان میں جاری پاکستانی جارحیت کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچ قوم کی نسل کشی کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والی مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید حق نواز بگٹی کی دوسری برسی کی مناسبت سے بلوچستان بھر میں مرکزی اور زونل سطح پر ریفرنسز کا انعقاد کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا جائیگا اور ساتھ ساتھ کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ 14 نومبر کو تقریبات اور سرکلز منعقد کرتے ہوئے شہید حق نواز بگٹی سمیت تمام بلوچ شہیدوں کو یاد کرتے ہوئے ان کی قربانیوں سے بلوچ جہد آزادی میں پیدا ہونے والی قومی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے جہد کو مزید منظم اور تیز کرنے پر کام کریں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0