بی ایس او آزاد آواران زون جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا۔

جمعرات 13 اگست, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز )بی ایس او آزاد آواران زون جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خاص بی ایس او آزاد کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر عادل بلوچ تھے، اجلاس میں سابقہ زونل کارکردگی رپورٹ، مرکزی سرکُلر، تنظیمی امور، سیاسی صورتحال، تنقیدی نشست اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔اجلاس کی باقاعدہ شروعات بلوچ شہدا کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے ہوئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حالات بلوچ قوم سے ایک مضبوط تنظیم و پارٹی کا تقاضا کررہی ہیں۔ آزادی و قومی ریاست کی تعمیر جیسے عظیم مقاصد تنظیموں و پارٹیوں کے ذریعے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ بلوچ نوجوانوں میں بیدار ہوتی تنظیمی شعور اور وقت و حالات سے ہم آہنگ حکمت عملیوں کے خوف سے بچنے کے لئے ریاستی اداروں کی یہ دیرینہ کوشش رہی ہے کہ وہ بلوچ نوجوانوں کو تقسیم کرکے بلوچ سیاسی قوت و مستقبل کی لیڈر شپ تربیت دینے والے تنظیموں کو انتشار کا شکار کرے۔ نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، و دیگر مختلف باجگزار و نام نہاد پارلیمانی پارٹیوں کے ذریعے بلوچ طلباء کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود بھی جب آزادی کی جدوجہد کے لئے نوجوان بی ایس او آزاد کی پلیٹ فارم کا انتخاب کررہے تھے تو قابض ریاست نے ایک نئی پالیسی کے ذریعے بی ایس او آزاد کے خلاف بھرپور پروپگنڈے کا آغاز کیا۔ میڈیا میں تنظیم و تنظیمی لیڈر شپ کے خلاف بے جا الزامات لگانا شروع کیے تاکہ کارکنان کو مایوس کرکے تحریک آزادی سے دور کیا جا سکے۔ لیکن بلوچ نوجوان تمام تر سازشوں و پروپگنڈوں کے خلاف نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ بلوچستان بھر میں تنظیمی سرگرمیوں کو بہتر طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے دائرہ کار میں رہ کر سرگرم ہونے سے کسی بھی معاشرے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشرے کے تمام طبقوں میں انقلاب برپا کرنے کے لئے وسیع الذہن کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ایک تنظیم ہی مہیا کر سکتی ہے۔ بلوچ نوجوان قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے اور تنظیم کی تعمیر کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مطالعہ و نئی دنیا کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو کر سرگرم رہیں۔ تاکہ بدلتی سیاسی صورتحال کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تربیت پر بھی توجہ مرکوز رکھ سکیں۔ سیاسی صورت حال کے ایجنڈے پر مباحثہ کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ قومی آزادی کے لئے سب سے بنیادی شرط اپنی عوام کی سیاسی قوت پر بھروسہ کرنا ہے، اگر بلوچ نوجوان جہدِ مسلسل کے بجائے خیالی باتوں میں کھو کر کسی بیرونی قوت سے امید لگائے بیٹھیں کہ وہ بلوچ قوم کو آزادی دلائیں گے، تو یہ عمل خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔ کیوں کہ کوئی بھی ریاست اپنے مفادات کو قربان کرکے دوسرے قوموں کی مدد نہیں کرتا۔ بلوچ نوجوان جہد مسلسل اور مضبوط سیاسی قوت سے ہی دنیا کو باور کرا سکتے ہیں کہ وہ بلوچ قومی جغرافیائی حدود میں ہونے والی سرگرمیوں میں پاکستان کے بجائے بلوچ قوم کی برابری کو تسلیم کرکے بلوچ قوم سے معاہدات کریں۔لیکن سیاسی طاقت کے حصول اور بلوچ سرزمین پر ہونے والی سرمایہ کاری و مقامی آبادیوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بلوچ نوجوان سیاسی حوالے سے متحرک ہوکر جدوجہد کریں۔ خیالی و خوش کُن نعروں سے قومی آزادی جیسے عظیم مقاصد کو پائیہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اجلاس میں تنقیدی نشست و آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈوں پر مباحثے کے بعد تنظیمی کامو ں میں وسعت لانے کے لئے مختلف کمیٹیاں بنائی گئیں۔ 

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0