بی ایس او آزاد اور بی این ایم خلیل کے کارکنان تحریر۔نود بندگ بلوچ

جمعہ 31 اکتوبر, 2014

اگر جرات گفتار ہے تو ایک بار اپنے لیڈروں کے سامنے کھڑے ہوکر ان سے پوچھو کہ یہ کیا گورکھ دھندا ہے ، 13 نومبر ایک مختص دن ہے ، اس دن بلوچ شہیدوں کو بلا امتیازِ رنگ ، نسل ، علاقہ اور گروہ یاد کیا جاتا ہے تاکہ شہیدوں کو گروہوں اور درجات کے خانوں سے نکال کر برابر حیثیت دی جائے اور گروہی سوچ کے خاتمے کی جانب پیشقدمی کی جائے لیکن بی ایس او اور بی این ایم نے اسی 13 نومبر کے دن ہی لاپتہ افراد کیلئے ڈیڑھ ماہ پہلے ہی کیوں ہڑتال کا اعلان کردیا؟ ، کیا انہیں پتہ نہیں تھا کہ یہ پہلے سے مختص شدہ دن ہے اور ضرور منایا جائے گا یا پھر اسلیئے کہ وہ نہیں چاہتے کہ شہیدوں کو گروہی بندر بانٹ سے نکالا جائے ؟ کیا لاپتہ افراد کیلئے اور کسی بھی دن ہڑتال نہیں ہوسکتا تھا سوائے اس مختص دن کے ؟ 13 نومبر تو سال میں ایک دفعہ آتا ہے اور آپ لاپتہ افراد کیلئے سال کے کسی بھی اور دن ہڑتال کرسکتے تھے لیکن کیا وجہ ہے کہ ڈیڑھ ماہ پہلے ہی آپ نے 13 نومبر کا دن چنا کوئ دلیل، کوئ منطق ؟ اگر آپ میں تھوڑا بھی شعور ہے تو یہ بات سمجھنے کیلئے آپ کو نا لمبی دلیلوں کی ضرورت ہے اور نا ہی مباحثہ کا کہ بی ایس او اور بی این ایم نے اسیران کے ہڑتال کیلئے 13 نومبر کا انتخاب صرف اسلیئے کیا تاکہ اس دن کو کاوئنٹر کیا جائے کیونکہ شہیدوں کے لاشوں پر جو گروہی سیاست چمکائ جاتی رہی ہے وہ اسی طرح جاری رہے اور لوگوں کی توجہ اس بات پر مبذول نا ہو کہ تمام شہیدوں کو برابری کے ساتھ یاد کیا جائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس دن کا ذکر کیوں بلوچستان لبریشن چارٹر میں ہے ۔ جب بی ایس او پر تھوڑا دباو پڑا تو بعد میں اس نے 13 نومبر کے دن شہیدوں کیلئے ریفرنسس کا بھی اعلان کردیا ، بی ایس او کے کارکنان! دنیا کے سیاسی پارٹیوں کی تاریخ کو کھنگال کر دیکھیں کہ کیا آج تک ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی دن ایک ہی علاقے میں ایک ہی پارٹی نے دو بالکل مختلف نوعیت کے پروگراموں کا اعلان کیا ہے ؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ کیا یہ بی ایس او کیلئے عملی طور پر ممکن ہے کہ اسی دن وہ ہڑتال بھی کرے اور ریفرنس بھی منعقد کرے ؟ مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ اس تنقید نے ہمیں اجتماعی پاگل پن کا شکار کردیا ہے ورنہ یہ برائے نام اعلانات اور کیا ظاھر کرتے ہیں ؟ اسکے علاوہ اسی 13 نومبر کو جب یہ اعلان ہوا کے ٹوئٹر پر شہیدوں کے اس دن کو عالمی طور پر اجاگر کرنے کیلئے ‪#‎BalochMartysDay‬ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا جائے گا تو بی ایس او آزاد نے اسکا توڑ کرنے کیلئے ‪#‎BalochMissingPersons‬ کا ہیش ٹیگ میدان میں لے آیا اور پرچار کررہا ہے ، آپ خود فیصلہ کریں کے اس دن جب ٹوئٹر پر بلوچوں کے دو الگ گروہ مہم چلاتے نظر آئیں گے ، آپ غور کریں جب 14 نومبر کے اخبارات میں دو الگ بیانات آئیں گے ایک کہے گا کہ شٹرڈاون ہڑتال اسیران کیلئے تھا ایک کہے گا شہیدوں کیلئے اور ہر کوئ اس ہڑتال کے وراثت کیلئے لمبی سی لمبی بیان لکھے گا تو دنیا کے سامنے کیا ” قومی تحریک ” کا تصور باقی رہے گا یا پھر “گروہی رسہ کشی” کا ، ۔ بلوچ سیاست ہمیشہ سے گروہیت کا شکار رہا ہے لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ایک ہی دن ایک دوسرے کو کاوئنٹر کرنے کیلئے اس حد تک جائیں ، اب بی ایس او آزاد بلوچ سیاست میں گروہیت کی ایک نئ تاریخ رقم کرنے جارہا ہے ۔ کیا آپ کو اب بھیسمجھ نہیں آیا کہ تنقید کیوں کی جاتی ہے ؟ یہ تو ایک ظاہری اور بھونڈی حرکت ہے ان کا دامن ایسی ہی پوشیدہ حرکتوں سے اٹا ہوا ہے جن سے تنگ آکر ہی آج کچھ دوست قوم کے سامنے انکی یہ حرکتیں لانے کیلئے لکھ رہے ہیں۔
بی ایس او آزاد اور بی این ایم خلیل کے کارکنان! میرا ایمان ہے کہ بلوچ سیاست کا رخ یہ قدآور لیڈران نہیں بلکہ میرے اور آپ کے جیسے عام سیاسی کارکنان ہی بدلیں گے ، آپ ایک مشینی پرزے نہیں کہ آپ کو کہیں فِٹ کرکے جس طرح چلایا جائے گا آپ بغیر سوچے سمجھے اسی طرح چلیں گے ، آپ کولہو کا بیل نہیں کہ آپ کو باندھ کر ایک ہی دائرے میں گول گول گھمایا جاتا رہے گا اور آپ گھومیں گے ، آپ باشعور انسان ہیں اور حضرات انسان کی بنیاد صفت یا خطا ہی یہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے ۔ آپ پر پارٹی نہیں بلکہ قوم سے وفاداری فرض ہے ، سوچیں کیا آپ کا پارٹی قوم مفادات سے وفادار ہے کہ آپ اس سے وفاداری کریں ۔ پوچھیں ، سوال کریں ، پھر سوال کریں ، خدایا ہر عمل پر سوال کریں ، اس تاثر کو غلط ثابت کریں کہ ان تنظیموں میں جو صاحبِ شعور تھے وہ نکل گئے اب صرف جوتے سیدھے کرنے والے رہ گئے ہیں ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0