بی ایس او آزاد تمپ زون جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا

بدھ 29 جولائی, 2015

کوئٹہ (ہمگام نیوز )بی ایس او آزاد تمپ زون جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خاص بی ایس او آزاد کی مرکزی کمیٹی کے ممبر لکمیر بلوچ تھے۔ اجلاس میں مرکزی سرکُلر،سابقہ زونل کارکردگی رپورٹ، تنظیمی امور،سیاسی صورتحال تنقیدی نشست اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیربحث رہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنٹرل کمیٹی کے ممبر لکمیر بلوچ نے کہا کہ ریاستی اداروں و ان کے ہمنواؤں کی ہمیشہ سے کوشش یہی رہی ہے کہ بلوچ عوام مضبوط سیاسی پلیٹ فارم تلے کبھی بھی منظم نہ ہو۔ اپنے ان عزائم کی تکمیل کے لئے شروع سے ہی طلباء سیاست کو ریاستی ادارے و ان کے گماشتہ سردار تقسیم در تقسیم کا شکار کرکے کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں، کیوں کہ طلباء سیاست کے کمزوری کی صورت میں کسی معاشرے میں سیاسی ماحول و سیاسی پارٹیوں کے نشوونما پانے کی شرح انتہائی حد تک کم ہو جائے گی۔ زمانہ طالب علمی سے نوجوان جب سیاسی تعلیم میں عدم دلچسپی کے باعث بدلتی صورتحال سے نا واقف ہوں گے تو وہ سیاسی پارٹیوں میں شمولیت کرکے بھی مطلوبہ تجربہ نہ ہونے کی بنیاد پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ جب نئے صدی کی شروعات میں موجودہ تحریک میں افراد کے بجائے اداروں کی اہمیت و افادیت ،اور اداروں کے مضبوطی کی جانب عملی کام شروع ہوئی تو ریاستی اداروں و ان کے ہمنوا سرداروں نے تقسیم کرکے منتشر کرنے کی آزمودہ ہتھکنڈہ استعمال کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ تاکہ بلوچ نوجوان سیاست سے خود کو دو رکھ کر چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اطمینان ڈھوندنے کی کوشش کریں۔ بد قسمتی سے ریاستی سازشوں کو سمجھتے ہوئے بھی چند دوست ان سازشوں کا براہ راست حصہ ہیں۔ جس سے نہ صرف طلباء سیاست بلکہ بلوچ قومی تحریک میں موجود سیاسی پارٹیوں اور تحریک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گراؤنڈ پولیٹکس کو دروغ گوئی و بد نیتی پر مبنی پروپگنڈوں سے نقصان دینے کی پچھلے چار سالوں سے بھر پور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاکہ بلوچ عوام کے اندر رہ کر سیاست کرنے والی لیڈر شپ ،تنظیمیں و پارٹیاں متنازعہ ہو کر اپنا اعتماد کھو دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر سیاسی اعمال سے تحریک کو ایک حد تک نقصان ضرور پہنچا ہے مگر عوام میں موجود سیاسی کارکنوں کو سات سمندر پار سے ہونے والی تحریریں غیر متنازعہ نہیں بنا سکتیں ۔ کیوں کہ بلوچ عوام آزادی کے لئے قربانی دینے والے نوجوانوں اور روز و شب ایک کرنے والی سیاسی کارکنوں پر بھر پور اعتماد کرتی ہے، یہ عوامی اعتماد ہی ہے کہ ریاستی مشینری کا تنظیم و تحریک کے خلاف متحرک ہونے کے باوجود بلوچ تحریک آزاد ی اپنی تسلسل کو برقرار رکھ پائی ہے۔ بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی چینی سرمایہ کاری کے بعد سے ریاستی کاروائیوں میں آنے والی شدت سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ اس استحصالی منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے قابض ریاست کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ جس میں فوجی قوت کے بھر پور استعمال کے ساتھ ساتھ بلوچ معاشرے کو مذہبی جنونیوں کے زریعے پراگندہ کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں، بلوچ سیاسی تنظیموں کے خلاف پروپگنڈوں و ان کے خلاف کاروائیوں میں بھی مزید شدت لائے جائے گی۔ جس کے لئے سیاسی کارکن کی حیثیت سے بلوچ نوجوانوں کو پہلے سے ہی تیا ر و متحرک رہنا ہوگا۔ کیوں کہ سرمایہ کاری کے ان منصوبوں کی کامیابی غلامی کے طوالت اور قومی شناخت پر سنگین حملے کی مترادف ہے۔ قومی آزادی کی ضرورت کا احساس اور استحصالی منصوبوں کے خلاف عوام کو آگاہ کرکے ہی انہیں ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ موجودہ حالات نوجوان طبقے سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی زندگیوں میں مشغول ہونے کے بجائے قومی مستقبل و قومی آزادی کی بحالی کے لئے اس تحریک کا باقاعدہ حصہ بن جائیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0